
23 جولائی2010ء کی شام کو میں میانوالی میں ایک میٹنگ سے فارغ ہو کر دوستوں کے ساتھ کھانا کھا رہا تھا کہ مجھے برادرم محمد مشتاق خان کا فون آیاکہ محمد عزیر خان کا حادثہ ہو گیا ہے اور اسے میانوالی ڈی ایچ کیو کے ٹراما سنٹر بھیجاجارہاہے آپ بھی ٹراماسنٹر پہنچیں۔ میں نے بائیک سٹارٹ کی تو جیسے میرے قدم جم گئے ہوں۔ میری آنکھوں کے سامنے عابد غنی بھائی کا واقعہ آگیا جب ہم بہت سے لوگ عبید نور ہسپتال میں موجود تھے لیکن ڈاکٹرز نے کہا تھاکہ عابد خان فوت ہو گئے ہیں۔ میرے کان مزید کسی ایسی بات کو سننے کے لیے تیار تھے اور نہ ہی مجھ میں مزید ایسا دکھ سہنے کی ہمت تھی۔میں رک گیا، ڈاکٹر صلاح الدین خان(اس کے تین سال بعد ڈاکٹر صاحب الیکشن2013ء میں ہمارے حلقے سے ایم پی بھی منتخب ہوئے تھے) کو فون کیا اور کہاکہ آپ پتاکر دیں کہ عزیر خان کی حالت کیسی ہے۔ میں تو ہمت نہیں کر پارہا کہ ہسپتال جاؤں۔ انھوں نے ٹراما سنٹر فون کر کے مجھے تسلی دی۔ پھر کچھ دیر بعد ہمت کو مجتمع کر کے ہسپتال پہنچاتو و ہی واقعہ رونما ہو چکاتھا جس سے میں خوف زدہ تھا۔ محمد عزیر خان اللہ کو پیارے ہو چکے تھے۔
محمد عزیر خان میراشاگردتھا۔اس نے 2004ء میں میٹرک کی۔ کلاس میں درمیانے درجے کے طلبامیں اس کا شمار ہوتاتھا۔ اس کی ہینڈرائیٹنگ بھی کافی شکستہ تھی۔ سکول میں کبھی تحریرو تقریر میں اس نے شرکت نہ کی۔ میٹرک کے بعد اس میں عجیب تبدیلی دیکھنے کو ملی جب 2006/2007ء میں اسے میں نے ایک تقریب کے سٹیج سیکرٹری کے طور پر دیکھا۔ مجھے تو یقین نہ آیا کہ یہ نوجوان وہی عزیرخان ہے جو 5 سال مجھ سے پڑھا ہے۔اس نے خود کو اس قدر نکھار لیا تھا کہ موچھ میں ہونے والے بڑی بڑی تقاریب میں اسے سٹیج سیکرٹری شپ کی پیشکشیں ہونے لگیں۔ اس نے میانوالی کے ایک مقامی اخبار میں لکھنا شروع کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ”گفتارمومن“ کے عنوان سے لکھنے والے اس نوجوان نے خود کو ایک مستقل لکھاری کے طور پر منوالیا۔ جب میں اس کی تحریروں کو پڑھتا تو رشک اور حیرت کا عجیب احساس مجھے گھیر لیتا کہ ماشا اللہ یہ نوجوان تو میانوالی کا ”جاویدچودھری“ بنتا جا رہا ہے۔
عزیر خان کے مؤقف اور اس کی تحریروں سے اختلاف کا پوراپورا سامان موجود ہوتاتھااور اُس نے کچھ ایسے موضوعات کو بھی اپنی تحریروں میں جگہ دی جن کو اگر موضوعِ تحریر نہ بنایا جاتا تو بہتر تھا لیکن یہ بھی تو حقیقت تھی کہ وہ کل کا بچہ تھا اور وہ اپنی عمر سے بہت آگے جا کر یہ سب کچھ کر رہاتھا لہٰذا کم عمری میں انسان سے غلطیاں ہوجاتی ہیں۔ وہ اپنی غلطیوں پر اصرار کرنے والا نوجوان نہیں تھابلکہ اصلاح کو برضاورغبت قبول کرتاتھا۔ اس عمر میں نوجوان لکھناکُجاپڑھنے کے لیے بھی وقت نہیں نکالتے جبکہ یہ نوجوان مطالعہ بھی کر رہاتھا اورلکھنے کو بھی وقت دے رہاتھا۔
سکول ٹیچنگ کے دنوں میں میرایہ طریقہ رہا کہ جب بھی دہم جماعت سکول کو الوداع کہنے والی ہوتی ہے تو میں اس سے سکول کے تمام اساتذہ پر مضمون لکھواتاتھا۔ یہی معاملہ محمد عزیر خان کی کلاس کے ساتھ بھی ہوا۔محمد عزیر خان نے میراتذکرہ کیاتو معلومات کی کمی کی وجہ سے میرے خلاف دفتروں کے دفترسیاہ کر ڈالے۔ اور نظم وضبط سے متعلق معاملات کو سختی سے نمٹانے پر مجھ بہت سخت الفاظ میں تنقیدکی تھی مگر جب وہ خود عملی میدان میں آیااور بطورٹیچر اُسی ادارے میں آکر کام کیا جس میں وہ طالب علم رہ چکا تھاتو پھر یہ بات کہنے میں اس کو قطعاً تأمل نہ ہوا کہ سر مجیب کے دور میں ہمار ا نظم وضبط زیادہ مثالی تھا۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ وہ ایسا نوجوان نہیں تھا جو جھوٹی اناکا شکارہو کر اپنی کسی غلط رائے پر ڈٹارہے۔ غلط اور نامکمل معلومات پر قائم ہونے والی رائے سے رجوع کر نا جرأت مند اور دلیر لوگوں کا کام ہے اور یہ دلیری عزیر خان میں بدرجہ اتم موجود تھی۔
محمد عزیر خان کا تعلق ایک مذہبی گھرانے سے تھاجہاں سے اسے دین سے محبت، بڑوں کااحترام اور مہمان نوازی جیسے اوصاف گھٹی میں ملے تھے۔ عزیر خان کی وفات پر اس کے والد کا حوصلہ اور رویہ بہت سوں کے لیے ہمت اور ایمان بڑھانے کا کام کر رہا تھا جو جوان بیٹے کی موت کو امرِربی جان کر مطمئن تھا حالانکہ ایسے موقعوں پر والدین اپنے حواس کھو بیٹھتے ہیں۔
عزیر خان ایک متحرک نوجوان تھا اور بھرپور انداز میں نوجوانوں میں کام کر رہا تھا۔ اس بات کا اندازہ ہمیں اس کی زندگی میں تو نہ ہو سکا لیکن اس کے حادثے کی خبر سنتے ہی ہسپتال میں آدھے گھنٹے کے اندر نوجوانانِ موچھ و موازوالا کی کثیر تعداد میں آمد، پھر جنازے میں نوجوانوں کی کثیر تعداد میں شرکت اور اسی طرح تعزیت کے لیے آ نے والے لوگوں کی لمبی قطار سے ہمیں اندازہ ہوا کہ یہ نوجوان اپنے والدین، دوستوں، اساتذہ،قبیلے اور علاقے کا کس قدر قیمتی سرمایہ تھا۔

معلوم نہیں ہم کیوں اتنے ظالم ہیں کہ جب کوئی ہمارے درمیان موجود ہوتاہے تو ہم اس کی قدر نہیں کر تے بلکہ بعض اوقات تواس کی ٹانگیں کھینچنے اور اس کے راستوں کو مسدودکرنے سے بھی گریز نہیں کرتے اور جب وہ نعمت اور سرمایہ ہم سے چھن جاتاہے تو ہم کفِ افسوس ملتے نہیں تھکتے اور زاروقطار روتے ہیں۔ شاید انھی رویوں کا سامنا کرتے ہوئے عیسیٰ خیل کے نامور نوجوان شاعر اسلم منہاس کو یہ کہناپڑا :
بے وفاکو ہو امیر احساس جب، تب تلک تو نشانِ قبر مِٹ چکا
جا کے ہر قبر پر پڑھی فاتحہ، میری آرام گاہ پوچھتا رہ گیا
میں نے 30جو ن 2010 ء کو الصفہ ایجوکیشن پروگرام (AEP) کے چیف ایگزیکٹوکی ذمہ داری سے استعفیٰ دیا تو یہ پہلا شخص تھا جس نے مجھ سے ملاقات کرنے کی غرض سے ٹیلی فون کیا اور معلومات جانناچاہیں کہ میں نے AEP کو کب جوائن کیا تھا،استعفیٰ کیوں دیا، استعفیٰ پر میرے محسوسات کیا ہیں وغیرہ وغیرہ۔۔۔ اس کی خواہش تھی کہ وہ میری AEP کے چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے گزری پیشہ ورانہ مدت پر کچھ لکھے۔ جب اُس نے اپنی اِس خواہش کا میرے دیگر شاگردوں سے تذکرہ کیا تو وہ بھی اس دوڑ میں شامل ہو گئے اور سب نے اپنے اپنے مضمون لکھ کر محمد عزیر خان کے حوالے کردیئے تاکہ وہ انھیں اخبار میں شائع کروائے لیکن تقدیر مسکراتے ہوئے یہ کہہ رہی تھی کہ تم کسی شخص کی کسی خاص ادارے میں ختم ہونے و الی مدت کو اس قدر اہمیت دے رہے ہو جب کہ تمہاری اس دنیا میں مدتِ عمل کا اختتام ہو رہاہے۔ اور تم جس شخصیت کے مختصر سے پیشہ ورانہ دور پر لکھنے جا رہے ہو وہی شخصیت تمہارے اس دنیا میں گزارے دنوں پر لکھ رہی ہو گی۔ واقعی اللہ کے کاموں کی حکمتیں انسانوں کی سوچ سے ماوریٰ ہیں۔
(اگست/ستمبر 2010ء میں قلبی تسکین اور روزنامہ ”نوائے شرر” میانوالی کے لیے لکھی جانے والی سات تحریروں میں سے ایک)