
9 /اگست 2010 ء بھی اہل موچھ اور میرے لیےانتہائی اِبتلا اور حُزن و مَلال کا دن تھا جب مجھے اطلاع ملی کہ چارپانچ روز قبل لاہور میں جس نوجوان کا ٹریفک حادثہ ہوا تھا وہ وفات پا گیاہے۔
میں اُس نوجوان کو جانتاتھا۔ اس کا نام سخی جان خان تھا۔ وہ موچھ کے محلہ کبیر خیل میں رہنے والے قبیلہ مندی خیل کا چشم وچراغ تھا۔ موچھ میں یہ قبیلہ سب سے چھوٹا قبیلہ ہے مگر انتہائی زرخیز دماغ رکھنے والا قبیلہ ہے۔ اسی قبیلہ کا ایک نوجوان سلیم اللہ خان سی ایس ایس کر کے فارن سروسز میں خدمات سر انجام دیتے ہوئے اپنے قبیلے، علاقے اور ضلع میانوالی کا نام روشن کر رہا ہے۔ ان دنوں سلیم اللہ خان ترکی میں پاکستانی قونصلیٹ سے وابستہ ہیں۔
سخی جان سے میر ا کوئی لمبا چوڑا تعارف نہیں تھا اس کے باوجود میں اس پر لکھنا اپنا فرض سمجھتا ہوں۔سخی جان سے میری اکتوبر 2008ء میں زندگی کی پہلی اور آخری ملاقات ہوئی تھی جب مینارپاکستان کے گراؤنڈمیں جماعت اسلامی پاکستان کا اجتماع عام ہو رہاتھا۔ شام کا وقت تھا۔ایک خوبصورت باریش نوجوان جس نے زلفیں رکھی ہوئی تھیں، موچھ کے نوجوانوں کے گروپ میں میری طرف بڑھتا آرہاتھا۔ میں اس نوجوان کو نہیں جانتا تھاجبکہ دیگر تمام نوجوانوں سے میرا تعارف تھا۔ یہ نوجوان مجھے اس تپاک اور محبت سے ملا جیسے میں اس کا واقف ہوں اور باقی لوگوں سے اس نے میرا تعارف کرانا ہو۔ میں نے دیگر نوجوانوں سے جب اس کا تعارف پوچھاتو وہ خود بولا: ”سر! میر ا نام سخی جان خان ہے اور میں موچھ ہی سے تعلق رکھتا ہوں اور میں آپ کو جانتاہوں۔ آپ میرے دوستوں کے ٹیچر ہیں اورآپ جماعت اسلامی کے کارکن ہیں۔“ اس قدر درست معلومات پر میں حیران ہو گیا۔

جتنی دیر وہ نوجوان ہمارے ساتھ رہا اُس کے چہرے سے نور برستا رہا اور اُس کی دھیمی دھیمی مسکراہٹ ماند نہ پڑی۔ وہ اس دل افروز انداز سے باتیں کرتا کہ دل کوموہ لیتا۔ اُس کا چہرہ اُس کی صداقت، اس کے خلوص، راست بازی،اس کے اجلے کردار اور من کی سچائی کی گواہی دے رہاتھا۔ وہ نوجوان چند گھنٹے ہمارے اجتماع میں حاضر رہا پھر غائب ہو گیا۔اگرچہ اس نوجوان سے اس سے قبل کوئی ملاقات ہوئی تھی اور نہ ہی کوئی تعارف تھا لیکن اس واحد ملاقات کے بعد جب کبھی اس نوجوان کا ذکر آتا یا مجھے یاد آتاتو اس سے ملاقات کی مجھے بے حد خواہش ہو تی کیونکہ شاید کچھ اس طرح کا معاملہ ہو گیا تھاکہ:
ہم تو سمجھے تھے کہ اِک زخم ہے بھر جائے گا
کیا خبر تھی کہ رگِ جاں میں اُتر جائے گا
(شاعر سے معذرت کے ساتھ کیونکہ شعر کی صحت کے بارے میں اطمینان نہیں ہے)
لیکن!
اس نفسا نفسی کے عالم میں جب اللہ تعالیٰ نے ہمارے وقت سے بر کت نکال دی ہے تو ہمارے پاس وہ گھڑیاں کہاں کہ ہم دل کی آواز پرفوراً لبیک کہیں۔ سو ہم نے بھی فیض کے غم روزگارکی طرح کہ جس میں وہ اپنے محبوب کی یاد سے بیگانہ ہو جا تا ہے، اپنے اس پیارے کو یاد نہ کیا۔
دنیا نے تیری یا د سے بیگانہ کر دیا
تجھ سے بھی دِلفریب ہیں غم رُوزگار کے
ہم نے اپنے دل پر ظلم اور جبر کیا اور کبھی اپنے اس عزیز سے ملاقات نہ کر سکے تاآنکہ اس کے آخری دیدار کا وقت آگیا اور ہم نے 9 /اگست 2010ء سوموار کے دن اس کی نماز جنازہ پڑھی۔
ان سات اموات پر لکھنے کی ایک غایت تو یہ تھی کہ ان کے جو قرض ہم وابستگان پر باقی ہیں کچھ ان کا ازالہ ہو اور دل پر موجود بوجھ میں بھی کچھ کمی ہو، اِس کے ساتھ ساتھ جو دوسری اور اہم وجہ ہے وہ یہ کہ ہمارے یہ پیارے بھائی ہم سے بھی زیادہ جوان،صحت مند اور کم عمر تھے لیکن اللہ تعالی کی طرف سے ان کو بلاوا آگیا جس کے لیے نہ وہ اور نہ ہی ان کے دوست،رشتہ دار اور والدین تیار تھے مگر اللہ کے آگے کس کی مجال تھی کہ وہ اُسے اپنے فیصلے سے روک لیتے؟
آج ہمارے ان بھائیوں کی مہلت عمل ختم ہو چکی ہے۔ کسی بھی لمحے ہماری مہلت عمل بھی ختم ہوجائے تو سوال یہ ہے کہ کیا ہماری تیاری مکمل ہے؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو پھر ہمیں کو ئی دکھ اور غم نہیں ہونا چاہیے اور اگر جواب نفی میں ہے تو ہمیں ابھی سے اس کی فکر کرنی چاہیے۔
نہ گورِ سکندر ہے نہ قبرِ دارا
مٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے
(اگست/ستمبر 2010ء میں قلبی تسکین اور روزنامہ ”نوائے شرر” میانوالی کے لیے لکھی جانے والی سات تحریروں میں سے ایک)