0

کالم نمبر3… خامہ بگوش (مشفق خواجہ) کے قلم سے

مشفق خواجہ

کالم نمبر3

مطبوعہ روزنامہ ”جسارت” کراچی،  18/ستمبر1981ء

سُخن دَرسُخن۔۔۔ خامَہ بگوش کے قلم سے

 

انیس ناگی(1): نثری نظم کا پریم راگی

نصر اللہ خان: یا نثر اللہ خان؟

اشفاق احمد(2) پر سپرٹیکس لگنے والا ہے۔

کراچی کے ایک شاعر نے ہمیں ایک ”نظمیہ نثر“ اشاعت کے لیے بھیجی ہے جس کا انتساب انھوں نے نثری نظم کے پریم راگی عرف انیس ناگی کے نام کیا ہے۔ اس سے پہلے کہ یہ”نظمیہ نثر“ ہم آپ کی خدمت میں پیش کریں، شاعرِ”پردہ نشیں“ کے الفاظ ہی میں یہ جان لیجئے کہ ”نظمیہ نثر“ کسے کہتے ہیں۔ موصوف فرماتے ہیں: ”نثری نظم کی تعریف یہ ہے کہ ایک ایسا مجموعۂ  الفاظ جسے کسی ترتیب کے بغیر متعدد سطروں میں تقسیم کردیا جاتا ہے۔ پھر ان سطروں میں کچھ فل اسٹاپ اور کامے جمع کیے جاتے ہیں اور آخر میں مفہوم کو منہا کردیا جاتا ہے۔ اس طرح ایک ایسا ادب پارہ وجود میں آجاتا ہے جو نظم و نثر دونوں کی خوبیوں سے عاری ہوتاہے۔ اس کے برعکس ”نظمیہ نثر‘‘ میں نظم و نثر دونوں کی خوبیاں ملتی ہیں اور مفہوم بھی باآسانی ہاتھ لگ جاتا ہے۔“ اس تمہید کے بعد اب ”نظمیہ نثر“ ملاحظہ کیجئے:

قول ِفیصل ہے کہ تم نثر نہیں لکھ سکتے

محال ہے کہ تم نظم لکھ سکو

ریشہ خطمی ہو مگر تم نثری نظم پر

جو اس بات کی دلیل ہے تم شاعر بھی نہیں ہو اور

ناثر بھی نہیں

میری دُعا ہے کہ تم نظم ونثر دونوں پر قادر ہو جاؤ

یہاں تک کہ تم نثری نظم کے

لایعنی عذاب سے چھوٹ جاؤ

 

ہم نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح اس ”نظمیہ نثر‘‘ کے مصنف کا نام معلوم ہوجائے۔ نظم جس خط میں لکھی گئی ہے وہ نصر اللہ خان کے خط سے ملتا ہے لیکن سطریں سیدھی ہیں اور نصر اللہ خان سیدھی سطر تو کیا سیدھی بات کے بھی عادی نہیں ہیں۔ اس سے شبہ ہوتا ہے کہ اس پردۂ  ز نگاری میں کوئی اور ہے۔ نصر اللہ خان صاحب پریوں بھی شبہ نہیں ہوسکتا کہ وہ بے تکلف احباب میں ”نثر اللہ خان“ مشہور ہیں اور نظم سے اُسی طرح پرہیز کرتے ہیں جس طرح محسن بھوپالی(3) سخن فہمی سے۔ ہم نے اس نظمیہ نثر کا مسودہ مشفق خواجہ صاحب (4)کو دکھایا جو صنائع بدائع اور علم بیان وغیرہ میں اس لیے مہارت رکھتے ہیں کہ کوئی دوسرا ماہر فی الوقت موجود نہیں ہے۔ انھوں نے اس نظمیہ نثر کو دو تین مرتبہ پڑھا اور پھر فرمایا: ”یہ صنعت ِتو شیح میں لکھی گئی ہے۔“ ہم کچھ نہ سمجھے۔ صنعت تو خیر انڈسٹری کو کہتے ہیں، لیکن یہ تو شیح کیا ہے، اور اس کا ہمارے مسئلے سے کیا تعلق ہے؟ پھر خواجہ صاحب نے خود ہی ہماری مشکل حل کردی اور فرمایا: ”یہ علم بیان کی ایک صنعت ہے جس میں کسی نظم کے تمام مصرعوں کے پہلے حرفوں کو جوڑا جائے تو کوئی نام بن جاتا ہے۔“ ہم نے ان حرفوں کو جوڑا تو ”قمر جمیل(5)“ بن گیا۔ لیکن ہمیں یقین نہیں آتا کہ قمر جمیل اس قسم کی نظم لکھیں گے۔ یہ کسی ایسے شخص کی طبع زاد معلوم ہوتی ہے جو قمر جمیل اور انیس ناگی کے تعلقات کی کشیدگی کو کم کرنے کے درپے ہے۔

ہمیں بتایا گیا کہ مذکورہ ”نظمیہ نثر“ کراچی کے ادبی حلقوں میں خاصی مقبول ہورہی ہے۔ بالکل اُسی طرح جس طرح خود انیس ناگی لاہور کے ادبی حلقوں میں نامقبول ہو رہے ہیں، اور ا ب یہ نامقبولیت،نامعقولیت کی حد تک دوسرے شہروں خصوصاً کراچی تک پہنچ گئی ہے۔ ہم سمجھتے تھے کہ لاہور میں انیس ناگی کے نامقبول ہونے کی وجہ یہ ہوگی کہ وہ نوجوانی بلکہ نوعمری ہی میں ڈیڑھ درجن کتابوں کے مصنف، مؤلف اور مترجم بن چکے ہیں، اگر لکھنے کی رفتار یہی رہی تو جناب ایم اسلم(6) دوسرے نمبر پر آجائیں گے۔ لیکن باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ جنا ب ناگی اپنی تصانیف کی کثرت کی وجہ سے نامقبول نہیں ہیں۔ اس کی وجہ کچھ اور ہے۔ آئیے یہ وجہ معلوم کریں:

لاہور کے ایک رسالے میں ناگی صاحب کا ایک با تصویر انٹرویو چھپا ہے۔ اس میں اُن کے بارے میں سنسنی خیز انکشافات کئے گئے ہیں۔ مثلاً:

”وہ روزانہ شام کو۔۔۔ ٹی ہاؤس (7) آتا ہے۔۔۔ لیکن جم کر نہیں بیٹھتا کیونکہ یہ اُس کا مزاج نہیں ہے۔وہ دو باتیں اِس میز پر کرے گا، دوباتیں اُس میز پر کسی کے خلاف کرے گا۔۔۔ و ہ تعلقات بنانے سے زیادہ بگاڑنے پر یقین رکھتا ہے۔“

”مقابلے کے امتحان میں کامیاب ہواتو دفتری نظام کے چکر میں جا پڑا۔۔۔ اس کے پاس ایک ٹائپ رائٹر ہے اور ٹائپ رائٹر سے آفس آرڈر نکلنے کی بجائے نظمیں نکلتی ہیں۔“

”سلیم اختر (8) کے متعلق مشہور ہے کہ جب وہ کسی ادیب یا شاعر سے ناراض ہوتے ہیں تو اُس کا نام اپنی کتاب اُردو ادب کی مختصر تاریخ (9) سے نکال باہر کرتے ہیں لیکن انیس ناگی اُن سے بھی دو قدم آگے ہے۔ وہ جب کسی کے خلاف ہوتا ہے تو اپنے مضامین یا دیباچوں میں اس کانام پریس روک کر پلیٹ سے کھرچوا دیتا ہے۔“

یہ تو ہوا انیس ناگی کے مزاج کا نظریاتی پہلو کہ وہ ایک جگہ جم کر نہیں بیٹھتے خواہ وہ ٹی ہاؤس میں ہو یا ایوان ادب(10)۔ مقابلے کا امتحان محض اس لیے پاس کیا کہ ٹائپ رائٹر کا استعمال سیکھ جائیں۔ طبیعت میں ناراضگی اور نازک مزاجی بلا کی ہے۔ اب ذرا مزاج کے اس نظریاتی پہلو کی عملی تشکیل بھی ملاحظہ کیجئے کہ وہ لوگوں سے اپنی ناراضگی کا اظہار کس طرح کرتے ہیں۔جیلانی کامران (11)کے بارے میں فرماتے ہیں:

”وہ ایک متعصب نقاد ہے جو اپنے نظریات وقت کے ساتھ بدلتا ہے۔ اس لیے اس کی رائے معتبر نہیں۔“

کشور ناہید کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے:

”خواتین شعراکو نثری نظم لکھنے سے گریز کرنا چاہیے۔ جو دل میں آتا ہے کہہ دیتی ہیں۔میرا اشارہ کشور ناہید کی طرف ہے۔“

انیس ناگی کی یہ بات سن کر انٹرویو لینے والے نے کہا:”کیا بات ہے آپ کشور ناہید سے اتنے ناراض کیوں ہیں؟“ ناگی نے جواب دیا: ”آپ کو پتہ نہیں وہ بہت چالاک خاتون ہے۔”

انتظار حسین کے بارے میں بھی ناگی کی رائےسن لیجئے:

”بستی(12) میں جس تجربے کو پیش کیا گیا ہے اُس کا تعلق ہمارے معاشرے سے نہیں ہے۔۔ اگر وہ مشہور صحافی نہ ہوتے تو اس ناول پر اتنی بات چیت نہ ہوتی۔“

گویا انتظار حسین کے ناول ”بستی“ پر اخبارات اور رسائل میں جو اتنا کچھ لکھا گیا ہے تو اس کا سبب یہ نہیں ہے کہ انتظار حسین ایک اہم ادیب ہیں، بلکہ لوگ اُن کے مشہور صحافی ہونے سے ڈرتے ہیں۔ اگر کالم نگاری ہی کسی کو مشہور صحافی بنا دیتی ہے تو پھر ہمارے شبنم رومانی (13)نے کیا جرم کیا ہے کہ ان کی کتاب ”جزیرہ“ (14)پر کسی نے کوئی بات چیت نہیں کی۔ حالانکہ شبنم صاحب گزشتہ دس بارہ برس سے ایک اخبار میں کالم لکھ رہے ہیں اور آئندہ بھی اتنے عرصے تک لکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔خیریہ تو ایک جملۂ معترضہ تھا۔ اب آپ دیکھیےکہ انور سجاد (15)کے بارے میں انیس ناگی کیاکہتے ہیں:

”وہ میرے دوست ہیں۔ گفت گو کے فن کے ماہر ہیں۔ میں نے ان کے ناول کا مسودہ دیکھا ہے جو بہت خوش نمائی سے لکھا گیا ہے۔“

ناگی چونکہ انور سجاد کے دوست ہیں، اس لیے اب آسمان کو ضرورت نہیں ہے کہ وہ انور سجاد کا دشمن ہو۔ اب آگے چلئے۔ بزرگ ادیب احمد ندیم قاسمی اور نیم بزرگ اشفاق احمد بھی انیس ناگی کی زد میں آتے ہیں:

”آج کل ہر دو بزرگ ادیب ادب کے حوالے سے تجارت میں مصروف ہیں۔ صرف آمدنیوں کا فرق ہے۔ اشفا ق احمد پر تو سنا ہے سپر ٹیکس لگنے والا ہے۔“

دیکھا آپ نے کہ جناب انیس ناگی نے ایک ہی سانس میں جیلانی کامران، انتظار حسین، انور سجاد، کشور ناہید، احمد ندیم قاسمی اور اشفاق احمد کا حساب کتاب برابر کردیا ہے۔ اوروں کوتو چھوڑیے، احمد ندیم قاسمی صاحب جیسے مرنجان مرنج ادیب کو ادب کے نام پر تجارت کا طعنہ دینا چھوٹا منھ بڑی بات ہے۔ انیس ناگی کو معلوم ہونا چاہیے کہ جتنا قاسمی صاحب نے لکھا ہے، اتنا تو لوگوں کو پڑھنا بھی نصیب نہیں ہوتا۔ ناگی صاحب اگر آج قاسمی صاحب کے لکھے ہوئے صرف فلیپ ہی پڑھنا شروع کردیں توانھیں اپنی عمر طبیعی بے انتہا مختصر معلوم ہوگی۔ناگی صاحب کی باتیں سن کر سوائے اس کے کیا کہا جاسکتا ہے کہ اشفاق احمد پر سپر ٹیکس لگے نہ لگے، خو د ناگی صاحب پر تفریحی ٹیکس ضرور لگ جائے گا۔

انیس ناگی اتنے بہت سے لوگوں کے خلاف ہیں، لیکن ایک خوش نصیب (تاد مِ تحریر) ایسا بھی ہے جس کے بارے میں ان کی رائے بہت اچھی ہے۔ اس کی تفصیل بھی سن لیجئے۔ انیس ناگی کا مذکورہ انٹرویو ایک ایسے رسالے میں چھپا ہے جو ”زرد صحافت“ کا علم بردار ہے۔ انیس ناگی چونکہ ”زرد آسمان“ (16)کا مصنف ہے اس لیے انٹرویو کا آغاز اس جملے سے ہوتا ہے کہ ”ادیبوں اور شاعروں میں بہت کم انیس ناگی کی طرح خوب صورت ہوتے ہیں۔“ انٹریو کا اختتام زاہد ڈار(17) کے تذکرے پر ہوتاہے۔ یہی وہ خوش نصیب شخص ہے جس کے بارے میں ناگی صاحب کی رائے فی الحال اچھی ہے۔ فرماتے ہیں: ”زاہد ڈار میرا پرانا رفیق ہے۔ وہ آج کل عورت کے عشق میں شدّت سے مبتلا ہے۔ نتیجتاً اس کی شاعری کا معیار پہلے جیسا نہیں رہا۔“ اس پر انٹرویو لینے والا پوچھتا: کسی زمانے میں وہ آپ پر بھی عاشق رہا ہے۔ ناگی جواب دیتے ہیں: ”جبھی تو اچھی شاعر ی کرتا تھا۔“ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ناگی کے نزدیک اچھی شاعری اور اچھے آدمی کا معیار کیا ہے۔

آج کل کراچی میں انیس ناگی کی اٹھارویں مار دھاڑ سے بھرپور تصنیف ”نثری نظمیں (18)“ کا بہت چرچا ہے۔ اس کتاب میں انھوں نے پہلے تو یہ بتایا کہ نثری نظم کیا ہے اور پھر اپنے چند احباب کی اور خود اپنی نظموں کا انتخا ب پیش کیا ہے۔ اس ساری تگ و دو کا حاصل یہ ہے کہ ناگی اپنے آپ کو اردو میں نثری نظم کا ”گل چین اوّل(19)“ اور دوسرے شاعروں کو اپنا خوشہ چین ثابت کرنا چاہتے ہیں۔(”گل چین اول“ کا لطف وہی اٹھا سکتے ہیں جنہوں نے ناول”امراؤ جان ادا(20)“ توجہ سے پڑھا ہے)۔کشورناہید کے تو وہ خیر ذاتی وجوہ سے خلاف ہیں، اس کتاب میں بھی اس عفیفہ کے بارے میں خوب جی کھول کر لکھا ہے لیکن معلوم نہیں قمر جمیل کو وہ کیوں نظر انداز کرگئے ہیں! تعریف تو الگ رہی، برائی تک نہیں کی۔ حالانکہ قمر جمیل نثری نظم کا باواآدم (21)ہے۔ ہمیں معلوم نہیں کہ انیس ناگی کی کتاب پر قمر جمیل کا کیا ردّ ِعمل ہے، لیکن ان کے قریبی جاننے والوں نے بتایا ہے کہ نثری نظم سے متعلق کسی کتاب میں قمر جمیل کا ذکر نہ ہونا ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص اپنا شجرۂ  نسب مرتّب کرتے ہوئے اپنے جدّ ِامجد کے نام کی جگہ بھی اپنا ہی نام لکھ دے۔ یا برصغیر(22) کے فنِ تعمیر پر کتاب لکھی جائے اور تاج محل (23)کا ذکر نہ کیا جائے۔ ہمیں معلوم نہیں قمر جمیل نثری نظم کے تاج محل ہیں یا نہیں،لیکن انیس ناگی کی کتاب سے یہ ضرور معلوم ہوجاتا ہے کہ پاکستان میں ایسے”اہلِ قلم“ (یاٹائپسٹ) موجود ہیں جنھیں طباعتی سہولتیں ان کے استحقاق سے زیادہ میسر ہیں۔

حواشی و تعلیقات مع حوالہ جات کالم نمبر3

1۔        انیس ناگی: اصل نام یعقوب علی ناگی تھا۔1939 ء میں شیخوپورہ میں پیدا ہوئے۔ مسلم ہائی سکول نمبر 2سے میٹرک اور گورنمنٹ کالج سے اردو میں ایم اے کیا۔ اردو ادب میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی حاصل کی۔ گورنمنٹ کالج لاہور، گورنمنٹ کالج فیصل آباد، میں ملازمت اختیار کی۔ انھوں نے نوبل انعام یافتہ شاعر جان پرس کی نظموں کا اردو ترجمہ کیا۔ ان کی تصانیف میں ناول ”دیوار کے پیچھے“، ”جنس اور وجود“ اپنی سوانح عمری ”ادھوری سرگزشت“ شامل ہیں۔

(یاسر جواد انسائیکلوپیڈیا ادبیات عالم،اسلام آباد: اکادمی ادبیات پاکستان، 2013ء، ص: 572)

2۔        اشفاق احمد: مشہور ڈرامہ نگار، شاعر، افسانہ نگار، صدا کار اور عظیم دانش ور، مکستر ضلع فیروز پور میں ڈاکٹر محمد خان کے ہاں 1925ء میں پیدا ہوئے۔1943 ء میں میٹرک پاس کرنے کے بعد گورنمنٹ کالج میں داخلہ لیا۔ ایم اے اردو کیا۔ قیام پاکستان کے فوراً بعد فیروز پور سے لاہور آگئے۔ دیال سنگھ اور روم یونیورسٹی میں لیکچرار رہے۔ اطالوی زبان میں ڈپلومہ کیا۔ پاکستان ٹیلی ویژن کے لیے متعدد ڈرامے لکھے۔ ان کی تصنیفات میں ”ایک محبت سو افسانے“”گڈریا“، ”من چلے کا سودا“، ”ہفت زبانی لغت“، ”اجلے پھول،“ کھٹیا وٹیا“ ”توتا کہانی، ”ٹاہلی دے تھلے“، شہر کنارے“،”اُچے برج لاہور دے“،”کاروان سرائے“،”حیرت کدہ، ”قلعہ کہانی“ 1979 میں اشفاق احمد کو صدارتی  ایوارڈ برائے حسن کارکردگی دیا گیا۔

(یاسر جواد انسائیکلوپیڈیا ادبیات عالم،اسلام آباد: اکادمی ادبیات پاکستان، 2013ء، ص: 539)

3۔        محسن بھوپالی:  اصل نام عبدالرحمن تھا۔ ریاست بھوپال ضلع ہوشنگ آباد کے قصبے سہا گ پور میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم حبیبہ مڈل سکول اور الیگز ینڈر ا ہائی بھوپال سے حاصل کی۔گورنمنٹ کالج لاڑکانہ سے انٹرمیڈیٹ کے بعدایل ای ڈی انجینئرنگ کالج سے ڈپلومہ حاصل کیا۔ جامعہ کراچی سے ایم اے اردو امتیازی نمبروں سے پاس کیا۔1948ء سے ان کا کلام مختلف ادبی رسائل اور اخبارات میں شائع ہوتا رہا۔ جنگ میں کالم بھی لکھتے رہے۔  ان کے شعری مجموعوں میں ”شکست“، ”مقتل جان“، ”جستہ جستہ“، ”نظانے“اور”ماجرا“ شامل ہیں۔

(یاسر جواد انسائیکلوپیڈیا ادبیات عالم،اسلام آباد: اکادمی ادبیات پاکستان، 2013ء، ص: 859)

4۔        مشفق خواجہ : اُردو کے محقق، ادیب و شاعر نقاد اور صحافی اصل نام خواجہ عبد الحئی تھا۔ 1935ء میں لاہور میں پیدا  ہوئے۔ ان کے اجداد کشمیر سے آئے تھے۔ انھوں نے 1957ء میں بی اے آنرز  1958ء میں ایم اے اُردو کے امتحانات کراچی یونیورسٹی سے پاس کئے۔ ابن انشاء اوار ان کی ادارت میں جامعہ کراچی کے پہلے میگزین کا اجراء ہوا۔ 1957ء سے 1973ء تک وہ انجمن ترقی اُردو سے وابستہ رہے۔ بحیثیت مدیر سہ ماہی اُردو، مدیر ماہنامہ قومی زبان، مدیر قاموس الکتب اور نگراں شعبہ تحقیق و مطبوعات خدمات انجام دیں۔ ان کی کتاب غالب اور صفیر بلگرامی 1981ء میں شائع ہوئی۔ ایک اہم تحقیقی کام جائزہ مخطوعات اُردو ہے تحقیقی مقالات کا مجموعہ تحقیق نامہ ہے۔ ان کا مجموعہ ادبیات 1987ء میں شائع ہوا۔ 1971ء سے 1997ء تک مختلف اخبارات کے لیے سینکڑوں کالم لکھے۔ جن کا انتخاب کتابی صورت میں شائع ہو چکا ہے۔ کلیات یگانہ مرتب کیے۔1998ء میں صدارتی ایوارڈ سے نوازے گئے۔

(یاسر جواد انسائیکلوپیڈیا ادبیات عالم،اسلام آباد: اکادمی ادبیات پاکستان، 2013ء، ص: 1979)

5۔        قمرجمیل: اصل نام قمر احمد فاروقی تھا۔ قمر جمیل کے والد کا نام جمیل احمد تھا آپ 10/ مئی 1927 ء کو حیدر آباد دکن میں پیدا ہوئے۔ ان کا آبائی وطن سکندر پور ضلع بلیا (یوپی) تھا۔ آپ معروف شاعر، نقاد، نثری نظم کے بانیوں میں سے تھے اردو ادب میں جدید تر رجحانات کے بانی اور ادبی کالم نویس، مدیر ماہنامہ ”دریافت“ کے بانی تھے۔ ان کی شعری کتب میں ”خواب نما“، چہار خواب“ شامل ہیں۔ ان کی تنقیدی کتاب ”ہیگل کی جمالیات اور جدید ادب کی سرحدیں“ ہے۔

(ڈاکٹر منیر احمد سلیچ، وفیات ناموران پاکستان، لاہور:اردو سائنس بورڈ، 2006، ص: 649)

6۔        ایم اسلم:اردو کے مقبول ناول نگار تھے۔ آپ کا اصل نام میاں محمد اسلم تھا۔آپ 1895ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ گورنمنٹ کالج لاہور کے زمانہ طالب علمی سے ہی شاعری کا شوق ہوا۔ علامہ اقبال وہاں اس وقت فلسفے کے پروفیسر تھے۔ اور اسلم کو عزیز رکھتے تھے۔ ادبی ذوق کی تربیت میں اقبال کا اہم کردار رہا ہے۔ علامہ اقبال نے ہی ایم اسلم کو نثر نگاری کی طرف توجہ دلائی تھی۔ ایم اسلم کی کوئی اولاد نہ تھی لہٰذا انھوں نے اپنی ایک بھانجی اصغری کو گود لے لیا۔ انھوں نے ادب کی تمام اصناف میں طبع آزمائی کی۔ ادبی زندگی کا آغاز شعر و شاعری سے ہوا لیکن انھیں شہرت ناول نگاری میں عطا ہوئی ان کے ناولوں میں ”شمسہ“، ”شام و سحر“، ”رقص بہار“، ”آخری رات“، بیتی باتیں“، ”حسن سوگوار وغیرہ اور افسانوں کے مجموعوں میں ”رین نظارے“، ”بادہ گل رنگ“، ”قاتل“، ”جام شکستہ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ ایم اسلم 1983 ء میں انتقال کر گئے۔

(یاسر جواد انسائیکلوپیڈیا ادبیات عالم،اسلام آباد: اکادمی ادبیات پاکستان، 2013ء، ص: 575)

7۔        پاک ٹی ہاؤس: پاک ٹی ہاؤس لاہور، پنجاب، پاکستان میں واقع ایک دانش وروں کے لیے چائے خانہ او رکیفے ہے جو مال روڈ کے ساتھ ملحق ہے۔ 1940ء میں ایک سکھ خاندان نے قائم کیا۔1947ء کے  بعد مقامی لوگوں کو لیز پر دیا گیا تھا۔ یہ پاک ٹی ہاؤس نئی انار کلی، اکبری منڈی روڈ پر واقع ہے یہاں صبح 10بجے سے رات 10 بجے تک ادبا و شعرا بیٹھتے ہیں۔

(راشد ہاشمی، ادب، ثقافت اور تہذیب، مشمولہ، روزنامہ، الشہباز ٹائمز، سرگودھا،  2 ستمبر 2016ء، 3)

8۔        سلیم اختر: اردو ادب کے مؤرخ، افسانہ نگار، نقاد اور متراجم 1943 ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ 1951 ء میں میٹرک  کے بعد گورنمنٹ کالج اصغر مال راولپنڈی میں داخلہ لیا۔ 1955ء میں بی اے کا امتحان پاس کیا۔1958 میں پنجاب یونیورسٹی سے سرٹیفکیٹ ان لائبریری سائنس حاصل کرنے کے بعد پنجاب یونیورسٹی لائبریری، پنجاب پبلک لائبریری لاہور میں تعینات رہے۔ 1961 ء میں ایم اے اردو کی ڈگری پنجاب یونیورسٹی سے حاصل کی۔ نفسیات پر ان کی کتب ”عورت، جنس اور جذبات“، ہماری جنسی اور جذباتی زندگی“، ”تین بڑے نفسیات دان“ اور خود شناسی شامل ہیں۔” اردو ادب کی مختصر ترین تاریخ“ان کی سب سے معروف تصنیف ہے۔

(یاسر جواد انسائیکلوپیڈیا ادبیات عالم،اسلام آباد: اکادمی ادبیات پاکستان، 2013ء، ص: 708)

9۔        اردو ادب کی مختصر ترین تاریخ: ڈاکٹر سلیم اختر کی سب سے معروف تصنیف ہے۔

(یاسر جواد انسائیکلوپیڈیا ادبیات عالم،اسلام آباد: اکادمی ادبیات پاکستان، 2013ء، ص: 708)

10۔     ایوانِ ادب:

11۔     جیلانی کامران:اردو کے ممتاز شاعر اور نقاد جنھوں نے 60ء کی دہائی میں نئی شاعری تحریک میں نمایاں کر دار ادا کیا۔ جیلانی کامران 1926ء میں پونچھ (جموں کشمیر) میں پیدا ہوئے۔ پنجاب یونیورسٹی اور ایڈنبرا یونیورسٹی سے ایم اے انگلش لٹریچر کی ڈگری حاصل کی۔ پھر انگلش کے استاد کی حیثیت سے کئی کالجوں میں تدریس فرائض انجام دیتے رہے۔ ان کے سات شعری مجموعوں پر مشتمل کلیات ”جیلانی کامران کی نظمیں“ 2002ء میں شائع ہوئی۔ پہلا شعری مجموعہ ”نقش کف پا“۔ دوسرا شعری مجموعہ ”استانزے“ کے نام شائع ہوا۔ دیگر کتب میں ”نئی نظم“، ”غالب کی تہذیبی شخصیت“”مغربی تنقیدی نظریات“ اور ”منفی اشارے“ تنقید میں اہم مقام رکھتی ہیں۔2003 ء میں یہ آفتاب ادب ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ڈوب گیا۔

(یاسر جواد انسائیکلوپیڈیا ادبیات عالم،اسلام آباد: اکادمی ادبیات پاکستان، 2013ء، ص: 627)

12۔     بستی: انتظار حسین کا ناول جس کے دو حصے ہیں۔ پرانے وطن کی یادیں اور نئے وطن کے مسائل۔ یہ ناول 1947ء کی ہجرت کے پسِ منظر میں لکھا گیا ہے۔

(بستی از اتظار حسین)

13۔     شبنم رومانی: ان کا اصل مرزا عظیم احمد بیگ چغتائی تھا۔ا ردو کے یہ مشہور شاعر 1928ء میں شاہ جہاں پور میں پیدا ہوئے۔ شہ سبھا ہائی سکول شاہد جہاں پور سے میٹرک او رانٹرکامرس جب کہ بریلی کالج سے بی کام کا امتحان پاس کیا۔1950ء میں پاکستان آئے اور کراچی میں مقیم رہے۔ سٹیٹ بنک میں ملازمت کی اس کے بعد منسٹری آف ڈیفنس میں ملازمت اختیار کی۔ 1989ء میں ریٹائر منٹ لی۔ ”مطبوعات اقدار“ کے نام سے اپنا کاروبار او رایک سہ ماہی رسالہ ”اقدار“ شروع کیا۔ ان کی تصانیف میں مثنوی میر کراچی (طنز و مزاح) شعر ی مجموعہ ”جزیرہ“ اور غزلیات ”تہمت“ شامل ہیں۔

(یاسر جواد انسائیکلوپیڈیا ادبیات عالم،اسلام آباد: اکادمی ادبیات پاکستان، 2013ء، ص: 839)

14۔     جزیرہ: اردو کے ممتازشاعر شبنم رومانی جن کا اصل نام مرزا عظیم احمدبیگ چغتائی تھا ان کا شعری مجموعہ ہے۔

(یاسر جواد انسائیکلوپیڈیا ادبیات عالم،اسلام آباد: اکادمی ادبیات پاکستان، 2013ء، ص: 726)

15۔     ڈاکٹر انور سجاد: اصل نام سید دلاور علی شاہ ہے۔آپ 1935 ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ گورنمنٹ سنٹرل ماڈل  ہائی سکول سے میٹرک، گورنمنٹ کالج اور ایف سی کالج لاہور سے ایف ایس سی او ربی ایس سی کیا اس کے بعد کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہو ر سے ایم بی بی ایس کی ڈگری او رلیور پول یونیورسٹی انگلینڈ سے پی ایچ ڈی کیا۔ ٹیلی سائن انٹرنیشنل کے چیئر مین اور ماہنامہ ”میڈیا“ کے چیف ایڈیٹر رہے۔ تصانیف میں ”رگ سنگ“، ”چوراہا“، ”استعارے“”خوشیوں کا باغ“شامل ہیں۔ 1989 ء میں اہیں صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی ملا۔

(یاسر جواد انسائیکلوپیڈیا ادبیات عالم،اسلام آباد: اکادمی ادبیات پاکستان، 2013ء، ص: 726(

16۔     زرد آسمان:انیس ناگی کی ایک کتاب

(یاسر جواد انسائیکلوپیڈیا ادبیات عالم،اسلام آباد: اکادمی ادبیات پاکستان، 2013ء، ص: 573)

17۔     زاہد ڈار:  زاہد ڈار اردو زبان کے یہ معروف شاعر 1936 ء میں لدھیانہ ہندوستان میں پیدا ہوئے انھوں نے بہت کم لکھا مگر ادبی حلقوں میں ہمیشہ سرگرم اور معتبر حیثیت کے حامل رہے۔ ان کی شاعری کے تین مجموعے شائع ہوئے۔ ”درد کا شہر“، ”محبت“،’مایوسی کی نظمیں“ اور ”تنہائی“ قابل ذکر ہیں۔

(یاسر جواد انسائیکلوپیڈیا ادبیات عالم،اسلام آباد: اکادمی ادبیات پاکستان، 2013ء، ص: 570)

18۔     نثری نظمیں: انیس ناگی کی ایک کتاب

19۔     گل چین اول:  مراد گوہر مرزا، ناول امراؤ جان ادا کا ایک کردار جوامراؤ جان کے  سب سے زیادہ  قریب اور اسے محبوب تھا۔

(امراؤ جان ادا از مرزا ہادی رسوا)

20        امراؤ جان ادا: مرزا محمد ہادی رسواکی شہرت ان کی ناول نگاری کی وجہ سے ہے۔ مرزا ہادی 1858ء کو لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے اور بھی ناول لکھے ”امراؤ جان دا“، ”شریف زادہ“، ”ذات شریف“ اور ”اختر بیگم“ مشہور ہیں۔ ”امراؤ جان ادا “ کو بعض نقاد اردو کے بہت اچھے ناولوں میں شمار کرتے ہیں۔

(جامع اردو انسائیکلوپیڈیا، ص: 664)

21۔     باوآدم:سب سے پہلے انسان اور سب سے پہلے پیغمبر، ان پر چند صحیفے بھی نازل ہوئے۔ صفی اللہ ان کالقب ہے جس نے صفی ہیں خدا کا برگزیدہ۔ حضرت آدم علیہ السلام پر جب شیطان کے دھوکا دینے سے عتاب الٰہی ہوا تو وہ جزیرہ سیلون یا سراندیپ میں اتارے گئے۔ اور ان کی زوجہ حضرت حوا جدہ میں اتاری گئیں۔ دو صدیوں بعد حضرت جبرائیل ؑ کی رہنمائی سے دونوں کی ملاقات جبل عرفات پر ہوئی۔ قرآن مجید میں کئی جگہ آپ کا ذکر آیا ہے۔

(عالم،منشی محبوب، اسلامی انسائیکلوپیڈیا،(اول)،ایضاً، ص: 24)

22۔      برصغیر: برصغیر پاک و ہند (برصغیر میں پاکستان، ہندوستان اوربنگلہ دیشں سمیت تمام علاقہ شامل تھا)پر مسلمانوں نے ایک ہزار سال سے زیادہ حکومت کی۔ برصغیر پا ک و ہند میں انگریزوں کی آمد سے پہلے عرب تاجر تجارت کے لیے آتے جاتے رہتے تھے اور اپنا تجارتی سامان بیچ کر یہاں سے مقامی اشیا خرید کر واپس جاتے تھے۔ اس تجارت میں ان کو کافی نفع ہوتاتھا۔ عر ب تاجر برصغیر کا سامان تجارت کی غرض سے یورپ بھی لے جاتے تھے۔یوں یورپی تاجروں کے دل میں یہ بات آئی کہ کیوں نہ خود جا کر برصغیر سے مال خریدا جائے اس طرح برصغیر میں پر تگالی تاجرآئے۔اس کے بعد انگریزوں، فرانسیسی تاجروں نے بھی تجارت کی۔ انگریز اس تجارت کی آڑ میں یہاں اپنے رہائشی علاقے، فوجی چھاؤنیاں بنانے لگے یوں انھوں نے برصغیر پر قبضہ کر لیا۔ جنگ آزادی میں تمام اقوام نے حصہ لیا۔مگرانگریزوں نے مسلمانوں سے بہت براسلوک کیا۔ ان کی جائیدادیں ضبط کر لیں ان کو ملازمتوں سے نکال دیا ان کے کاوربار بند ہوگئے اور وہ مفلسی اور بدحالی کا شکار ہوگئے۔

(پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ،لاہور، 17۔2016،ص: 1)

23۔      تاج محل:مغل بادشاہ شاہ جہاں کی ملکہ ممتاز محل کا مقبرہ ہے۔ یہ عمارت بائیس سال میں تیار ہوئی۔ اس کی تعمیر پر چارکروڑ روپیہ صرف ہوا اور بیس ہزار معمار وں اور مزدوروں نے اسے بنایا۔ تمام عمارت سنگ مرمر کی ہے۔ اس کی لمبائی اور چوڑائی ایک سو تیس فٹ اور بلند دو سو فٹ ہے۔ عمارت کی مرمری دیواروں پر رنگ برنگ کے پتھروں سے نہایت خوب صورت پچی کاری کی ہوئی ہے۔ مقبرے کے اندر اور باہر پچی کاری کی صورت قرآن پاک کی آیات منقوش ہیں۔ عمارت کے چاروں کونوں پر ایک ایک مینار ہے۔ عمارت کا چبوترا جو سطح زمین سے کئی فٹ اونچا ہے، سنگ سرخ کا ہے۔ اس کی پشت پر دریائے جمنا بہتا ہے اور سامنے کی طرف کرسی کے نیچے ایک حوض ہے جس میں فوارے لگے ہوئے ہیں او رمغلیہ طرز کا خوب صورت باغ بھی ہے۔ اس روضے کے اندر ملکہ ممتاز اور شاہجہا ں کی قبریں ہیں۔ تاج محل کا رنگ اب پھیکا پڑ چکا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تاج محل کے قریب جو کارخانے لگائے گئے ہیں ان کا زہریلا دھواں سنگ مرمر کو متاثر کر رہا ہے۔ ماہرین تعمیرات نے انکشاف کیا ہے کہ اگر یہ اور دوسرے کارخانے وہیں رہے تو زیادہ سے زیادہ تیس سال کے عرصے میں تاج محل گر کر شاید صرف کھنڈر کی صورت میں باقی رہ جائے۔

) اردو انسائیکلوپیڈیا، ص: 452(

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں