0

جامع ہائی سکول کے اساتذہ، قسط اول…مجیب اللہ خان نیازی

Mujeeb Niazi

 

اپریل1987ء میں میرا جامع ہائی سکول میانوالی میں چھٹی جماعت میں داخلہ ہوا تھا۔ یہ چونکہ ایک ہائی سکول تھا اس لیے یہاں پرائمری کی نسبت کئی گنا زیادہ اساتذہ ملے۔ چھٹی میں عبدالستار خان صاحب ہمارے پہلے کلاس انچارج تھے۔ جناب فاروق شاہ صاحب، قاری شیر محمد صاحب، حفیظ اللہ شاہ صاحب، قاری ظفر اقبال صاحب، مشتاق خان صاحب، ملک شہباز صاحب، ملک اسلم حیات صاحب، ملک صوفی رب نواز صاحب، اعجاز خان صاحب آف بیرولی، ملک عبدالرحیم صاحب، عبد القیوم خان صاحب، ثناء اللہ خان صاحب، ملک شیر عباس صاحب، ملک عبد الحفیظ صاحب، فخرالدین شاہ صاحب، عبدالکریم صاحب (شاید بھکر سے تھے۔ سائنس ٹیچر تھے اور انھوں نے کچھ دن ہمیں فزکس پڑھائی تھی)، یعقوب انصاری صاحب، میاں عالمگیر شاہ صاحب، محمد اکرم خان صاحب آف موچھ، اکبر خان صاحب، محمد اقبال خان صاحب آف موسیٰ خیل، ثناء اللہ شاہ جوئیہ صاحب، پی ٹی آئی سیف اللہ خان صاحب، ملک امیر نواز صاحب، ڈرائنگ ٹیچر عبد الحمید صاحب، چودھری محمد رضی صاحب (کبھی کوئی باقاعدہ کلاس نہ لی تاہم سکول اسمبلی یا سکول کی دیگر تقریبات میں انھیں سننے کا موقع ملتا رہتا تھا) ایسے اساتذہ ہیں جن سے جامع ہائی سکول کے ان پانچ سالوں میں میں نے فیض حاصل کیا۔ کچھ اساتذہ کا ہمیں پڑھانے کا دورانیہ طویل رہا اور کچھ کا انتہائی مختصر، حتیٰ کہ چند دن۔ ممکن ہے ان محترم ہستیوں کے علاوہ بھی کچھ نام ہوں جو اِس وقت مجھے یاد نہیں آرہے لیکن کسی بھی وقت اُن کا نام ذہن میں آیا تو فوراً اِس فہرست میں شامل کر لیا جائے گا۔

اساتذۂ کرام سے پڑھنے کا چونکہ دورانیہ مختلف رہا اسی لیے انھیں سمجھنے، انھیں یاد رکھنے اور ان سے سیکھنے کے مواقع بھی مختلف رہے۔ مڈل حصہ میں قاری ظفر اقبال صاحب نے اپنے حسنِ اخلاق سے اور مشتاق خان صاحب نے اپنی سحر انگیز شخصیت اور پڑھانے کے خوب صورت انداز سے اپنا گرویدہ کر رکھا تھا۔ قاری ظفر اقبال صاحب جامع ہائی سکول میانوالی سے ہی کالج کے لیکچرار منتخب ہوئے تھے۔

مشتاق خان سے زیادہ خوش لباس اور وجیہہ معلم شاید ہی کبھی میں نے اپنی زندگی میں دیکھا ہو۔ آپ حاضر جواب اور انتہائی ذہین معلم تھے۔ آپ نے ہمیں انگریزی پڑھائی۔ آپ کا انگریزی تلفظ بہت شاندار تھا۔ آپ کا پڑھانے کا انداز یہ تھا کہ پہلے خود سبق خوانی کرتے جاتے اور ساتھ ساتھ اس کا ترجمہ بھی بتاتے جاتے اور اس کے بعد کلاس کے طلبا کو سبق خوانی میں شامل کرتے جاتے۔ اس طرح ان کی کلاس کے اکثر طلبا کی انگریزی ریڈنگ اور تلفظ بہت اچھا ہو گیا تھا۔ آپ نے سبق خوانی میں میری اس قدر دل چسپی بڑھا دی تھی کہ میری کوشش ہوتی کہ جیسے ہی استادِ محترم سبق کے آخری الفاظ ادا کریں تو میں کھڑا ہو جاؤں اور اس سبق کو ٹیچر کے بعد پڑھنے والا پہلا لڑکا میں ہی ہوں۔ اور تقریباً ہر روز ہوتا بھی یہی تھا کہ جیسے ہی وہ سبق ختم کرتے تو میں سبق پڑھنا شروع کر دیتا۔ ایک دن یوں ہوا کہ ابھی میں کھڑا نہیں ہوا تھا کہ ہمارے ایک اور کلاس فیلو محمد عارف خان کھڑے ہو گئے اور اُس نے سبق پڑھنا شروع کر دیا۔مجھے بہت غصہ آیا اور بہت دکھ بھی ہوا کہ مجھ سے ایک آدھ لمحے کی تاخیر کیوں ہوئی اور میرے کلاس فیلو نے مجھ سے پہلے کیوں سبق پڑھنا شروع کر دیا۔ میں اور تو کچھ کر نہیں سکتا تھا بس اپنے غصے کو اس طرح ٹھنڈا کیا کہ جب اس نے سبق پڑھنا ختم کیا اور ساری کلاس اب یہ امید کر رہی تھی کہ دوسرے نمبر پر میں کھڑا ہوں گا تو میں دوسرے نمبر پر جان بوجھ کر نہ اُٹھا۔ اُس دن عارف کے بعد دوتین اور لڑکوں نے سبق پڑھ دیا مگر میں نے نہیں پڑھا۔ آپ میرے استادِ محترم کی اپنے طالب علم سے شفقت دیکھیے کہ مجھے مخاطب کر کے کہا: ”خان صاحب کیا آج آپ کی طبیعت خراب ہے؟“ میں نے شرمندہ ہو کر کہا: ”جی۔“ میں نے چونکہ جھوٹ بولا تھا اس لیے شرم سے آنکھیں نیچی کر لیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ انھیں بھی خوب پتا تھا کہ میں سبق کیوں نہیں پڑھ رہا لیکن مجھے اس لیے مخاطب کیا کہ مجھے یہ اندازہ ہو کہ وہ مجھ سے کیا توقع رکھتے ہیں۔ اب اس لڑکے کے بارے میں بھی بتا دوں جو اُس دن سبق پڑھنے میں مجھ سے بازی لے گیا تھا۔ محمد عارف خان اِن دنوں ایک جج ہیں۔ اللہ تعالیٰ انھیں چیف جسٹس آف پاکستان بنائے۔

مشتاق خان نے ایک بار کسی لڑکے کو کہا کہ اب آپ سبق پڑھیں۔ اس نے جواب دیا کہ میں نے پہلے کبھی نہیں پڑھا۔ استادِ محترم نے فرمایا کہ چھٹی جماعت پاس کرنے سے پہلے کبھی چھٹی پاس کی تھی۔ جب شادی کی نوبت آئے گی توکیا اُس وقت بھی کہو گے کہ میں شادی نہیں کرتا کیونکہ میں نے پہلے کبھی شادی نہیں کی۔ ساری کلاس ہنسنے لگی اور لڑکا مجبوراً کھڑا ہو کر سبق پڑھنے لگا۔

میرے محترم اور خوبرو استاد کو شاید کسی کی نظر لگی تھی کہ ایک رات کسی سفر سے گھر واپسی پر کسی ویران علاقے میں ڈاکے کے دوران بعض ظالموں نے فائر ماردیا۔ اُس واقعہ میں اگرچہ سر مشتاق خان کی جان تو بچ گئی لیکن اُن کا ایک ہاتھ ناکارہ ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ میرے استادِ محترم کو خوشیوں، ایمان اور صحت والی لمبی عمر عطا فرمائے۔ آمین!

اعجاز احمد خان صاحب ہمارے جامع سکول میں آنے کے بعد سکول ھٰذا میں آئے تھے۔ آپ اُن دنوں اپنی گفت گو میں انگریزی الفاظ کا استعمال کثرت سے کیا کرتے تھے (آج کل کیا کیفیت ہے نہیں معلوم)۔ میرا بڑا بھائی سنٹرل ماڈل سکول میں پڑھتا تھا اور بچوں کے اندر چونکہ اپنے اساتذہ کا ذکر اور تعریفیں کرنے کی عادت ہوتی ہے اس لیے اکثر وہ اپنے سکول کے اساتذہ کا ذکر اور تعریفیں کرتا جب کہ میں اپنے سکول کے اساتذہ کا ذکر اور تعریفیں کرتاتھا۔ اعجاز خان صاحب چونکہ انگریزی کے اس قدر زیادہ الفاظ استعمال کرتے تھے اس لیے ایک بار اساتذہ کے تذکرے اورتعریفوں کے دوران میں نے مبالغے سے کام لیا اور بھائی پر اپنے استاد کا رعب جمانے کے لیے کہا کہ ہمارے ٹیچر تو انگلینڈ سے پڑھ کر آئے ہیں۔

اعجاز احمد خان کے اکثر لیکچرز موٹیویشنل ہوتے تھے۔ زیادہ باتیں یاد نہیں رہ سکیں کیونکہ یہ باتیں چھٹی ساتویں کی ہیں اور اُس عمر میں لیکچر کو اُس کی پوری روح سے سمجھنا اور یاد رکھنا انتہائی غیر معمولی کام ہے۔ دسویں جماعت کے دوران ایک دن 12نومبر 1991ء بروز منگل ہمارے سکول میں بورڈ کی طرف سے منعقد ہونے والے پنجابی اور اردو مباحثے ہورہے تھے۔ اُس دن چونکہ کھیلوں اور دیگر ادبی سرگرمیوں کے مقابلے بھی تھے اس لیے آخری مقابلے کے انعقاد اور نتیجے میں تقریباً شام ہوگئی تھی۔ جیسے ہی مقابلہ ختم ہوا تواعجاز خان صاحب ہم چند طلبا کو بازار لے گئے اور ہماری پھلوں سے تواضع کی تھی حالانکہ اُن دنوں آپ ہمیں پڑھاتے نہ تھے۔آج تک آپ کی یہ بے غرض شفقت اور محبت میری یادوں کو منور کیے ہوئے ہے۔

ملک عبد الحفیظ صاحب نے ہمیں نہم دہم میں انگریزی پڑھائی تھی۔اپنے مضمون میں انھیں بہت زیادہ دسترس تھی اور اُن کا مطالعہ بھی وسیع تھا۔ ہماری خوش خطی کو بہتر کرنے کے لیے ان کا طریقۂ کاریہ تھا کہ اپنے پاس لکڑی کا ایک بڑا سا پیمانہ رکھتے تھے۔ اُس پیمانے سے تختۂ سیاہ پر چار لکیریں لگاتے تھے اور روزانہ انگریزی کی ایک ضرب المثل لکھتے تھے۔ اس طرح ہمارا دوہرا فائدہ ہوتا تھا کہ ہماری درست رموزو اوقاف کے ساتھ انگریزی لکھنے کی استعداد بھی بڑھتی گئی اور ہمیں انگریزی کی کئی ضرب الامثال بھی یاد ہو تی گئیں۔ آپ درسی کتاب کے ساتھ ساتھ گرائمر، ٹرانسلیشن اور اس کے قواعد کو بھی بہت محنت سے پڑھاتے تھے۔

ملک عبدالحفیظ صاحب چونکہ صاحبِ مطالعہ تھے اس لیے معاشرت اور سماج پر اُن کی نظر گہری تھی۔ میں سمجھتا ہوں کہ کسی بھی زبان کے معلم کے لیے باقی مضامین کے اساتذہ سے کہیں زیادہ ضروری ہے کہ اُس کا سماجی مطالعہ، کلچر اور روایات سے آگاہی بہت زیادہ ہو۔ سر ملک عبدالحفیظ صاحب اس معاملے میں بہت آگے تھے۔ ایک بار دورانِ تدریس بات چل نکلی شادی بیاہ پر خواتین کے ذریعے گائے جانے والے بولوں پر۔ عموماً شادی بیاہ پر ہوتا یہ ہے کہ لڑکیوں کے دو گروپ بن جاتے ہیں اور ان کے درمیان بولوں کا مقابلہ ہوتا ہے۔ پہلے ایک گروپ بول گاتا ہے پھر دوسرا۔ آپ کا کہناتھا کہ یہ بول عرصۂ دراز سے ہماری ثقافت کا حصہ ہیں اور ان بولوں کے دوران عموماً لڑکیاں خاندان میں سے اپنی پسند کے لڑکوں کے نام لے لیتی ہیں۔ وہاں پر جو بڑی بوڑھیاں بیٹھی ہوتی ہیں وہ لڑکی کی پسند کے اظہار کی صورت میں اس بات کی کوشش کرتی ہیں کہ اُس کی پسند کے مطابق ہی اس کی نسبت طے ہو۔ استادِ محترم کی بات سن کر ہمارے دل میں بھی شدید خواہش پیدا ہوئی تھی کہ آئندہ ہم بھی ایسی تقریبات میں کسی کونے کھدرے میں چھپ کر بیٹھیں گے تاکہ معلوم ہو سکے کہ کسی دوشیزہ کے بول میں ہمارا نام بھی تو شامل نہیں۔ ہماری بد قسمتی کہ شروع میں گھر کا ماحول ایسا تھا کہ ہم لڑکوں کو لڑکیوں کے ایسے اجتماعات سے بہت دور رکھا جاتا رہا اور بعد ازاں جماعت اسلامی کے ہتھے چڑھ گئے اور اُس نے بھی ہمارا خوب ”استحصال“ کیا۔

سر عبد الحفیظ زمانۂ سکول کے طویل عرصہ بعد ایک دن مجھے نیشنل بنک میانوالی مین برانچ میں مل گئے۔ حال احوال پوچھا تو میں نے یہ بھی پوچھ لیا کہ سر آپ کی مصروفیت کیا ہے اِن دنوں۔ فرمانے لگے کہ میں بالکل فارغ ہوتا ہوں۔ صرف مطالعہ کرنا ہی میری واحد مصروفیت ہے۔ میں نے کہا کہ سر آپ جیسے بندے کو فارغ نہیں رہنا چاہیے بلکہ آپ کو انگریزی کی ٹیوشن پڑھانی چاہیے۔ اس سے آپ کو بھی مصروفیت مل جائے گی اور طلبا بھی بہترین انگریزی سیکھ لیں گے۔ اس پر انتہائی طنزیہ انداز میں کہا کہ بیٹا اس قوم کو انگریزی آتی ہے۔ انھیں کچھ نہیں آتا تو وہ سائنس ہے۔ بورڈ کا انگریزی کا نتیجہ دیکھا ہے کبھی۔ میں چپ ہو گیا اور مسکرا دیاکیونکہ انگریزی کے نتیجے کا تو آپ سب کو پتا ہی ہوگا۔

ملک اسلم حیات صاحب نے ہمیں صرف چند دن اسلامیات اور مطالعۂ پاکستان پڑھایا لیکن اُن کا حسنِ اخلاق، لہجے کی مٹھاس اور نرم رویہ آج بھی ہمیں مسحور کیے ہوئے ہے۔

صوفی ملک رب نواز صاحب سے ہم کچھ پڑھے تھے یا نہیں یہ مجھے یاد نہیں تاہم اتنا ضرور یاد ہے کہ ایک دن اسمبلی سے پہلے ہم چند لڑکے اپنی کلاس میں موجود تھے۔ مجھے نہ جانے کیا سوجھی کہ میں اُستاد کی کرسی پر بیٹھ گیا۔ اچانک گیلری سے ملک صوفی رب نواز صاحب کا گزر ہوا، چونکہ استاد کی کرسی دروازے کے بالکل سامنے تھی اور کمرے کا دروازہ کھلا تھا اس لیے انھوں نے مجھے استاد کی کرسی پر بیٹھا دیکھ لیا۔ فوراً رکے، کمرے میں تشریف لائے، میرے کان میں دو عدد کرارے تھپڑ رسید کیے اور پوچھا: ”استاجی آئندہ تو اس کرسی پر نہیں بیٹھیں گے؟“ آپ کا کیا خیال ہے دو عدد نقد، تازہ اور کرارے تھپڑ کھانے کے بعد میں نے کیا کہا ہوگا؟

میاں عالمگیر شاہ صاحب نے ہمیں نہم دہم میں مختلف مواقع پر کیمسٹری اور بائیالوجی پڑھائی۔ اُن دنوں سر نئے نئے آئے تھے۔ اچھا پڑھا لیتے تھے۔ سزا بھی اچھی خاصی دیتے تھے۔ آپ کا کلاس کنٹرول بہت اچھا تھا۔ آپ اپنی وضع قطع اور لباس کا بہت خیال رکھتے تھے اس لیے آپ بہت پر کشش نظر آتے تھے۔ میاں عالمگیر صاحب کا ہیئر سٹائل کمال خوب صورت ہوتا۔ زُلفِ تاب دار اور اوپر سے خوب صورت کٹنگ۔۔۔ میں بہت متاثر ہوتا۔ میری خواہش ہوتی کہ میں بھی یہی ہیئر سٹائل اختیا کروں لیکن زمانۂ طالب علمی میں اس طرح کا ہیئر  سٹائل اختیار کرنے کی ہمیں اجازت نہ تھی۔ مجھے جہاں تک یاد پڑتا ہے عالمگیر شاہ صاحب نے اُنھی دنوں اپینڈکس کا آپریشن بھی کرایا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں