0

میرا میانوالی، ڈھکی کی کھجور… منور علی ملک

منور علی ملک

میرا میانوالی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہر سال اس موسم میں ہم پروفیسر لوگوں کا ایک قافلہ میانوالی سے پروفیسر فاروق صاحب کی گاڑی میں چشمہ بیراج کے پار بلوٹ شہر سے کچھ آگے ضلع ڈی آئی خان کے ڈھکی نامی گاؤں جایا کرتا تھا۔ پروفیسر فاروق, پروفیسر پیر محمد اقبال شاہ ، پروفیسر محمد سلیم احسن، پروفیسر مقصود احمد اور میں اس قافلے کے مستقل رکن تھے۔

ڈھکی کھجور کی مشہور و معروف منڈی ہے۔ یہاں کھجور کے کئی باغات ہیں۔ مقامی لوگ بتاتے تھے کہ یہاں 24 قسم کی کھجور پیدا ہوتی ہے۔۔لیکن ڈھکی کی سپیشل کھجور سائیز اور ذائقے میں سب سے اعلی تھی۔ لوگ دور دور سے یہ کھجور خریدنے کے لیے ڈھکی آتے تھے۔

کھجور کی شہرت بڑھی تو لاہور ، فیصل آباد اور سرگودھا سے تاجر یہاں سے ٹرکوں میں کھجور بھر کر لے جانے لگے۔ وہ چونکہ قیمت زیادہ دیتے تھے اس لیے ڈھکی کے تاجروں نے مقامی لوگوں کے ہاتھ کھجور فروخت کرنا بند کر دیا۔

کھجور کی تیاری اور فروخت کے مرکز کو کھوڑی کہتے تھے ۔ ہم لوگ شاہجہان خان کی کھوڑی سے کھجور خریدتے تھے ۔ شاہجہان خان سے ہماری دوستی ہو گئی ۔۔ بہت وضعدار اور مہمان نواز انسان تھے۔۔ چائے پانی سے ہماری خاطر تواضع بھی کرتے اور کھجور کی قیمت میں اچھی خاصی رعایت بھی کر دیتے تھے۔

جب ہم لوگ ریٹائر ہو کر ادھر ادھر بکھر گئے تو ڈھکی آنے جانے کا سلسلہ بھی ختم ہو گیا۔ اب تو صرف ان دنوں کی حسین یادیں ہی دامن میں باقی رہ گئی ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔ منور علی ملک ۔۔۔۔۔۔۔

9/جولائی 2025

(مصنف کی اجازت سے اُن کی فیس بک وال سے کاپی کی گئی)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں