
جھنگ۔۔۔ایک جزیرہ
سڑک پہ صرف گرمی کا راج تھا، دھوپ کوتوال اور لو حکمران بنی ہوئی تھی۔ 8 جون کی دوپہر بائیک چلاتے ہوئے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے پاؤں تندور میں معلق ہوں اور تندور بھی اس دن والا جس دن میری بہن عابی اماں سے ڈانٹ کھانے کا سارا غصہ تندور میں ہفتے بھر کی لکڑیاں جھونک کر نکالا کرتی تھی۔
کسی سرد علاقے کی جانب سفر کرنے کی بجائے گرمی میں جھنگ کی طرف میرا رخ ، پشتو کے اس شعر کے مصداق تھا :
پہ جنت کے دَ جنت حورے بہ پریگدم
دَ دوزخ نہ کہ آواز دَ جانان راغے
(جنت میں جنت کی حوریں چھوڑ دوں گا اگر جہنم سے محبوب کی آواز آئی اور مجھے ہیر بلاتی تھی۔)
چناب، خود کو اپنی ہی بانہوں میں سکیڑ کر فقط سرگوشیاں کرتا تھا اور وہ دن ہوا ہوئے جب چناب کا شور فصیل بند جھنگ شہر کو سنائی دیا کرتا تھا۔
جھنگ جہاں جہلم، اپنا وجود چناب کے سپرد کرتا ہے۔ جہاں، سکندراعظم کے لشکر ٹھہرتے ہیں۔جہاں، ہیر اور رانجھا ملتے ہیں۔ جہاں،تھل اور میدان گلے لگتے ہیں۔جہاں، سُر اور درد اگلتے ہیں۔ جہاں، چوڑیاں صنف نازک کی بانہوں سے پہلے ہنر مندوں کے ہاتھوں میں کھنکتی ہیں۔ جہاں، کھڈیوں پہ تنی لنگیوں سے بن برسات دھنک رنگ جنم لیتے ہیں۔ جہاں، سات صدیاں قبل ابن بطوطہ گزرتا تھا۔ جہاں، سرائیکی پنجابی زبان آپس میں ایسے مدغم ہوتی ہیں کہ اپنا وجود بھول کر بس جھنگوچی بن کر رہ جاتی ہے۔ جہاں، ہو کی صدا یوں بلند ہوتی ہے کہ پورے خطے کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہے۔
میرے آباء کی جھنگ سے میانوالی ہجرت اور میری جھنگ آمد کے درمیان کئی صدیوں کا طویل وقفہ تھا۔ تاریخ کی طویل تر خندق حائل تھی جس کو وقت کے طوفانوں نے مزید گہرا کر دیا تھا لیکن میری وارفتگی کا یہ عالم تھا کہ شاید ان کا پتا پوچھنے والے اب بھی ان گلیوں میں آ نکلتے ہوں اور میرے چہرے کے خدوخال پڑھ کر اور میرے گھنگریالے بالوں سے مجھے پہچان لیں اور بھینچ کر گلے لگا لیں۔
شاہد رسول گوندل ، ایوب چوک پہ ہمارا منتظر تھا جب ہم جھنگ سرکلر روڈ کو نالے پہ بنے ایک پُل سے پار کرتے تھے۔ جھنگ اس دوپہر خاصا اداس تھا۔ شاید وہ ابھی تک شہنشاہ جوگ، طالب حسین درد کے سوگ سے باہر نہیں آیا تھا یا پھر مجھ پہ حیرت کی افسردگی طاری تھی کہ مجھے یہ یقین نہیں آ رہا تھا کہ میں واقعی جھنگ میں ہوں ۔
مؤرخین کہتے ہیں کہ جھنگ کو سیال قبیلے نے آباد کیا اور پھر یوں ہوا کہ کہ جھنگ سیال قبیلے کے دلوں میں بھی آباد ہو کر رہ گیا۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس سے پہلے کبھی یہاں جنگل ہوا کرتا تھا۔ جنگل اب بھی ہے لیکن درختوں کی جگہ تعميرات نے لے لی ہے۔ جھنگ کی مٹی بے انتہا زرخیز ہے اور یہاں سے اہل نظر، اہل قلم، اہل فکر، اہل دل، اہل محبت اور اہل سُر کا جنم بدستور ہوتا چلا آ رہا ہے جن کے نام دنیا ان کے کاموں سے جانتی ہے۔
زبانوں کے سمندر میں جھنگ ایک الگ تھلگ جزیرہ ہے۔لفظوں کے سُروں کو کھینچ کر جھنگ والے بولتے جاتے تھے اور میں راہ چلتا سنتا جاتا تھا۔ کوئی اجنبی اگر سیاح کے روپ میں جھنگ کریدنے آئے تو اسے میرا یہ مشورہ ہے کہ چند لمحے کسی رش والی جگہ پہ بیٹھ کر جھنگ والوں کو بولتا ہوا بس چپ چاپ سنتا رہے۔ یہ صوتی سیاحت اس کے سیاحتی البم میں محو نہ ہونے والا ایک دلکش اضافہ ہو گا۔
ہیر سیال و رانجھا کے مزار پہ ایک بھیڑ لگی ہوئی ہے اور ہم لوگ بھی اسی بھیڑ کا حصہ بن جاتے ہیں۔ پھر ہمارا تعارف قمر، انعام اور شاہد نہیں رہتا ہم زائر بس زائر کہلاتے ہیں۔ کائنات کے لامتناہی وجود کا ایک بے نشان ذرہ ہو کر بھی وقت، مقام اور اوقات ہمارے تعارف بدل دیا کرتے ہیں تو انا کا بھاری وجود ہم بے مقصد کیوں کر اٹھائے پھرتے ہیں؟
لعل ناتھ کا مندر ہمارا منتظر ٹھہرا، کھیبہ، ممنہ اور نور شاہ قدیمی دروازوں کی چوکھٹ بھی ہم سے پار نہ کی جا سکی، جب جھنگ سے چوڑیاں لینا بھی حسرت ہی رہ گئی تو شورکوٹ کے اجڑے قلعے کے نشان ہم کیونکر ڈھونڈتے۔ سخی سلطان باہو رحمتہ اللہ علیہ اور شاہ جیونہ رحمتہ اللہ علیہ کے مزارات پہ حاضری کی بال بھی آیند نصیب کے کورٹ میں ڈال دی گئی۔
ہم لوگ انڈر پاس کے پہلو میں شاہ جی جوس کارنر پہ بیٹھے ہیں۔باہر درجہ حرارت اپنی نصف سنچری مکمل کرنے کے لئے آخری رن لے رہا ہے۔ متواتر آگ برس رہی ہے۔ لیکن اس آگ کا توڑ ہے۔اندر کولر چل رہا ہے اور فالسے کے ٹھنڈے ٹھار جوس کے تین مگ سامنے رکھے ہیں۔جن کی بیرونی سطح سے ہوا سے کشید ہونے والے بخارات یوں میز کی طرف رواں ہیں جیسے، ساون کی جھڑی کے آخری لمحات میں بوندیں زمیں کی طرف لرزتی ہوئی گرتی ہیں۔ خبروں میں سنتے رہتے ہیں کہ دہائیوں سے محبت کے شہر جھنگ میں فرقہ واریت کی آگ دہکتی ہے۔ کبھی کبھار تو بلند بانگ شعلے بھی بھڑک اٹھتے ہیں لیکن راکھ میں نفرت کی چنگاریاں ہیں کہ بدستور سلگتی رہتی ہیں۔جس کے اندر کلمہ گو ہی جھلستے چلے آ رہے ہیں۔ اس آگ کا توڑ کون کرے گا؟
کاش وقت ٹھہر جاتا یا فرصت کے لمحات کی ڈور ہاتھ سے نہ چھنتی ، جھنگ کو جھنگ سے دیکھتے، ڈوب کر رنگوں میں، ہم اس کے سارے رنگ دیکھتے۔ میزبان کو کھانا کھلانے کی اور مہمانوں کو گھر جانے کی جلدی تھی اور اسی جلدی کی جلدی میں جھنگ ہم سے چھوٹتا تھا۔
قمرالحسن بھروں زادہ