0

جانے کون بشر ہے؟… قمر الحسن بھروں زادہ

قمر الحسن بھروں زادہ

جانے کون بشر ہے؟

آفرین ہے اس کے لئے جس نے پُل ایجاد کیا اور سلام ہے اس کو جو دو کناروں کے درمیان پُل بنا۔ انہی پُلوں میں سے ایک پُل، لنگر والا پل کی تصویر کھینچنے کے لئے دریائے جہلم کنارے بائیک روکی تو بھینسوں کو دریا کے نشیب کی طرف ہانکتا،کسی ہیر کا رانجھا میری طرف پلٹ آیا اور سوزوکی بائیک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا کہ یہ بہت تیز بھاگتی ہو گی؟ میں نے کہا کہ نہیں، بائیک ہو یا گھوڑا ،سوار کے حوصلے سے بڑھ کر نہیں بھاگ سکتا۔

یہ کہہ کر کہ ہاں یہ تو تم نے سچ کہا واپس مڑنے لگا تو میں نے آواز دی اپنا تعارف تو کراؤ۔

سیاہ رومال جس میں سرخ و زرد دھاریاں نمایاں ہیں سر پہ لپیٹا ہوا، سفید ہوتی گھنی داڑھی مونچھ، گریبان کے دو بٹن کھلے اور گلے میں تعویذ نما لاکٹ، ہاتھ میں موٹا ڈنڈا جس کے ایک سرے پہ پلاسٹک کی بوتل مڑھی ہوئی، وہ مجھ سے مخاطب ہوا کہ “اسی فقیر آں”۔

میں بھی تو فقیر ہوں کچھ اور بتاؤ۔

کہنے لگا “تم فقیر نہیں ہو”۔

کیسے؟

وہ میرے بہت قریب آ گیا جیسے کہ اس نے مجھ سے بہت کچھ کہنا ہو۔ یوں گویا ہوا کہ “تمھارا کوئی نام ہو گا، کہیں گھر ہو گا، کوئی قوم قبیلہ کوئی شناخت ہو گی۔ یہاں مسافر تو کہیں مقیم بھی کہلاتے ہو گے۔ کہیں پیسے تو کہیں معاملات کا لین دین ہو گا”۔

میں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔

“یہ سب ہمارے لئے بے معنی ہیں۔ ہم سندھ میں ہوں یا ہند میں ہم بس فقیر ہیں”۔

میں نے موٹرسائیکل ترچھے سٹینڈ پہ لگا لی اور فلسفے کا سہارا لیتے ہوئے اسے کہا کہ دنیا سے ترک تعلق کر لینا فقیری نہیں ، خدا کے بھی قریب ہونا پڑتا ہے۔

پہلے وہ مسکرایا اور پھر آنکھ بھر کر مجھے دیکھتا رہا۔ میں نے آنکھ جھپکی تو اس نے بولنے کے لئے دوبارہ لب کھولے۔

“خدا کی بہت ساری مخلوق کو فقط اپنے اکلوتے شکم کے رزق کے عوض کبھی میدانوں میں تو کبھی دلدل میں تنہا دندناتا پھرتا ہوں لیکن ان کو چراتا پھرتا ہوں۔ دریائی جھاڑیوں کی پناہ میں سال کے بارہ مہینوں میں کئی جوڑوں کو راز و نیاز میں مشغول دیکھتا ہوں ان کو شرمائے بنا، ستائے بنا، بتائے بنا، ڈرائے بنا راستہ بدل کر گزر جاتا ہوں۔ پیاز سے روٹی کھا لیتا ہوں لیکن چپے چپے پہ گھومتے جنگلی خرگوشوں کے لئے شکنجہ نہیں لگاتا۔ چرند ہوں پرند ہوں درندے ہوں یا انسان ایذا پہنچانے کی سکت میں نہیں رکھتا۔ پیسے کی حرص نہیں، جمع کرنا مشغلہ نہیں، تم مسکرا کے ملے یاد رہو گے، حقارت سے دیکھنے والوں کی نظریں بھول جاتا ہوں”

اور عبادتیں۔۔۔؟ میں نے اپنا آخری پتا پھینکا۔

“خدا کے معاملات میں کبھی ٹانگ نہیں اڑائی اور باقی عبادات میری راہ گذر میں نہیں ہیں”۔

گرچہ مجھے اس کے جواب سے اختلاف تھا لیکن اسں کا اتنا جامع، دوٹوک اور برجستہ جواب سن کر ششدر رہ گیا۔

مجھے حیران دیکھ کر کہنے لگا ” اب بتاؤ کون فقیر ہے؟”

میں نے بنا کسی تامل کے کہا کہ تسی فقیر ہو۔

کہتا ہے “تم جاؤ تمھیں کہیں جانا ہو گا ۔اور مجھے تو بھینسوں کی گھنٹیوں کے تعاقب میں شام ڈھلے تک یوں ہی پھرنا ہے”۔

چھیڑو کے روپ میں داد کی تمنا سے عاری جنگل کی خامشیوں میں گم ہونے کو فلسفی اور اپنی دنیا کا خطیب پھرتا تھا جس کو راہرو فقط علی شیر کہتے تھے اور دوسری طرف تعلیم و طرز سخن کے لبادے میں فنکار پھرتے ہیں جو ہال میں اپنے لئے تالیوں کی گونج سننے کی تمنا لئے ہر مائیک پہ تھرتھراتے ہیں اور دنیا انھیں دانشور کہتی ہے۔

قمرالحسن بھروں زادہ

20/جون 2025

مصنف کی اجازت سے اُن کی فیس بک وال سے منقول

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں