0

پہلا پڑاؤ. ہیر سیال… قمر الحسن بھروں زادہ

قمر الحسن بھروں زادہ

پہلا پڑاؤ۔۔ہیرسیال

چناب کے بائیں کنارے آباد ایک قدیم شہر اور شہر کے قدرے با رونق حصے میں گورنمنٹ گرلز ہائی سکول مائی ہیر جھنگ، مائی ہیر سٹیڈیم، مائی ہیر قبرستان، دربار مائی ہیر اور مائی ہیر ٹاؤن ۔ میں، شاہد رسول اور انعام اللہ سانول جھنگ کے جس ایریا میں گھوم رہے تھے وہ ساری آبادی ہیر کے رنگ میں رنگی ہوئی تھی اور یہاں پنجاب کے قلب میں واقع جھنگ بھی ، اب جھنگ نہیں رہا تھا بلکہ سراپا مائی ہیر ہوا پھرتا تھا۔

عید قرباں کے دوسرے دن سندھ کنارے سے میں منہ اندھیرے چلا تھا۔ جہلم کنارے سے انعام اللہ سانول کو ساتھ لے لیا تھا جبکہ چناب کنارے شاہد رسول ہمارا منتظر تھا۔طمانیت سے بھرپور چہرے کا حامل ، ہیر رانجھے کی محبت بھری سرزمین کا وارث شاہد رسول ہمارا رہبر بھی تھا، دوست بھی، میزبان بھی اور جھنگ شہر میں واحد شناسا بھی۔

مجھے جھنگ پہنچنے سے زیادہ ہیر سیال کے مزار کو اپنی جاگتی آنکھوں سے دیکھنے کی جلدی تھی۔پارکنگ میں بائیک پارک کی اور جلدی سے وہاں بڑھ گئے جہاں داستان گو کہتے ہیں کہ ہیر و رانجھا ایک ہی مرقد میں پہلو بہ پہلو ابدی نیند سوئے ہیں۔نیلے و سفید رنگ سے مزین ہیر کے مقبرے کو دیکھنے کا منظر اس خواہش کی تکمیل ثابت ہوا جس خواہش نے چڑھتی جوانی میں انگڑائی لی تھی۔

گرم ترین دن اور دن کے بارہ بجے، سورج عین سر پہ آگ پھینکتا ہوا چنگھاڑتا ہوا، ننگے پاؤں، تپتا ہوا فرش، جلتے تلوے، ہیر کے دربار میں ، میں رانجھا بننے آیا تھا اور وانگ سسی پھرتا تھا۔

فرشی سیڑھیوں کے چند زینے، ہیرسیال کے مقبرے کی چوکھٹ پار کرنے میں کتنا وقت لگنا تھا وہی لمحہ بھر، لیکن زمانے گزر گئے اور میرے قدم ڈگمگا گئے۔

میرے ساتھ وہ نہ تھی جس کے ساتھ یہ عہد و پیمان ہوئے تھے کہ سسی ہو یا پنوں، سوہنی ہو یا ماہی وال، عمر ہو یا ماروی، شیریں ہو یا فرہاد، لیلی ہو یا مجنوں، سمو ہو یا مست توکلی، رومیو ہو یا جولیٹ، کرہ ارض پہ رومانوی داستان سے وابستہ کوئی بھی کردار جہاں بھی دفن ہے تو ہم ساتھ جائیں گے۔ گر گردشِ دوراں نے دور کر دیا تو جو جائے گا وہ دوسرے کے سلام عرض کرے گا۔ میرے دوست فاتحہ پڑھ رہے تھے اور میں چناب کنارے دفن محبت کے کرداروں کو، عہد کے وفاداروں کو چپکے سے اس کے سلام عرض کر رہا تھا، برسوں پرانا معدوم ہوتا اپنا وعدہ وفا کر رہا تھا۔

مقبرے کے اوپر گنبد کی بجائے نیلگوں آسماں سائیہ فگن ہے تاکہ طائر بھی قبر کو تکتے رہیں اور خونخوار انسانوں کے درمیان محبت کا جام پینے والے دو انسانوں کا دم بھرتے رہیں نام جپتے رہیں۔

کسی مقبرے کے پہلو میں صدیوں سے لوگوں کو خوش آمدید کہنے والی جھاڑی کے سائے تلے جیٹھ کی دوپہر کو گر کچھ وقت کے لئے نہ سستایا جائے تو یہ اس ذوق کی ناشکری ہو گی جس کی خاطر کوچہ کوچہ چھانتا پھرتا ہوں۔

ہارمونیم لیے ایک ادھیڑ عمر شخص جھنگ کے خالص لہجے میں کافی گا رہا ہے۔ اس کے گرد نوجوان حلقہ باندھے یوں ادب سے سن رہے ہیں جیسے شیراز میں حافظ کے مزار پہ ایرانی دوشیزائیں آلتی پالتی مارے صاحب مزار کی برسوں قبل لکھی کوئی غزل سنتی ہیں سر دھنتی ہیں۔

عقب میں چٹائی پہ بیٹھی ایک کم سن لڑکی خاموش نظروں کی صدا لگائے رومان کے تعاقب میں آنے والوں سے پیسے مانگ رہی ہے۔ مقبرے کی دیوار پہ رنگ برنگی سیاہی سے اردو و انگریزی رسم الخط میں سیکڑوں نام رقم تھے۔ من حیث القوم ہم اپنے اندر موجزن محبت ہو یا پنہاں خباثت اس کی نشانی ضرور چھوڑتے ہیں۔

زائرین جوق در جوق آ رہے تھے۔ جن میں خواتین بھی شامل تھیں اور مرد بھی۔ نوجوان بھی اور کلکاریاں مارتے بچے بھی۔ سب مختلف ہوں گے ان کی زبان جدا، ان کے خون الگ لیکن یہاں سبھی پہ ایک ہی رنگ غالب تھا گویا رانجھے گھومتے تھے اور ہیر تپتے فرش پہ ایڑیاں اٹھائے تلوے لگائے ٹہلتی تھیں۔

تاریخی شہر کو آباد ہوئے صدیاں بیت گئی ہیں۔ زبان، ثقافت، پہناوے اور متانت و وقار میں یہ شہر خود کفیل ہے۔ جھنگ کا اخروٹی حلوہ جس کی مٹھاس گم ہونے میں صدیاں لیتی ہے۔جھنگ کی لنگی جہاں ستر چھپاتی ہے وہیں اس سے دھنک رنگ چھِنتے ہیں، پھولوں کے شگوفے پھوٹتے ہیں۔ جھنگ کی بولی جس سے سُر بولتے ہیں۔ جھنگ کا نفیس کھسہ پہن کر جب کوئی خاتون چلتی ہے تو اس کے تعاقب میں حسرتوں کے کارواں چلتے ہیں۔جھنگ کی چوڑیوں کی کھنک جب سمندر پار سنائی دیتی ہے تو یہاں کی کلائیوں کے حسن کا کیا عالم ہو گا۔ جہاں رانجھے جیسے خوب صورت جوان اپنی جوانیاں لٹاتے ہوں وہاں کی ہیر کیسی ہو گی؟

سلطان العارفین سلطان باہو رحمتہ اللہ علیہ کا جھنگ، شعر و سخن و علم کا جھنگ، طالب حسین درد کا جھنگ اور ہیر سیال کا جھنگ جسے دیکھنے کے لئے میں چند گھڑیوں کے لئے میانوالی کی سرزمین کو خیر آباد کہہ کر تھل کو چیرتا ہوا موٹر سائیکل دوڑائے ہیر کی درگاہ کے احاطے میں بیٹھا تھا۔

رش جوں کا توں تھا۔ سبھی اپنی اپنی باری آ رہے تھے اور محبت و انتظار کے پھول نچھاور کرکے جھنگ کی تاریخی گلیوں میں گم ہوتے جا رہے تھے۔ مجھے بھی واپس پلٹنا تھا کیونکہ میں تصور کی دنیا میں، خیالات کے سمندر میں لاکھ ٹامک ٹوئیاں مارتا رہوں، نہ میں رانجھا تھا اور نہ یہاں کوئی ہیر میری منتظر تھی۔

قمرالحسن بھروں زادہ

11/جون 2025ء

(مصنف کی اجازت سے اُن کی فیس بک وال سے منقول۔ ایڈمن تِریاق)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں