
کالم نمبر:6
مطبوعہ روزنامہ ”جسارت” کراچی، 19/اکتوبر1981ء
سُخن دَرسُخن۔۔۔خامہ بگوش کے قلم سے
ریڈیو کا تلقین شاہ، ٹی وی کا برنارڈ شااور اردب ادب کا واجد علی شاہ
اَن پڑھ شاعرو ں کا تذکرہ
دوہوں کے بعد تنقیدی مضامین کاکیسٹ
غزل کے گمشدہ معنی کی تلاش
آج کل ہم ایک دل چسپ کتاب پڑھ رہے ہیں کتاب کا نام ہے۔ ”سفر درسفر“(1) اور مصنف کا نام اشفاق احمد۔ وہی اشفاق احمد جو ریڈیو سننے والوں میں تلقین شاہ کے نام سے مشہور ہیں ٹی وی دیکھنے والوں میں برنا رڈ شا(2) کہلاتے ہیں اور ادب پڑھنے والوں میں واجد علی شاہ(3) کہے جاتے ہیں۔بانو قدسیہ(4)بھی اردو کی مشہور ادیبہ ہیں اور اشفاق احمد(5) کی بیگم ہیں۔ ان دونوں میاں بیوی نے مل کر ادب کی بیش بہا خدمت کی ہے۔ ہماری دُعا ہے کہ یہ جوڑی تادیر سلامت رہے اور ادب کی خدمت کرتی رہے۔ اشفاق احمد نے ادب کی ہرصنف میں طبع آزمائی کی ہے، بس تحقیق کے خشک کام کو کبھی ہاتھ نہیں لگایاتھا۔ مژدہ کہ وہ اِس وادیء پرخار میں بھی تشریف لے آئے ہیں جس کا ثبوت انھوں نے بانو قدسیہ کے تازہ ناول ”راجہ گدھ“ (6)کے فلیپ پر دیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
”بانو قدسیہ کے آباؤ اجداد سلطان بلبن (7) کے زمانے میں ماورا ء النہر سے آئے تھے اور کیلوکھڑی کے علاقے میں مقیم ہوگئے تھے۔ قطب الدین مبارک شاہ کے عہد میں اس کے جدّ ِامجد کو قاضی القضاۃ کا عہدہ پیش کیا گیا تھا لیکن انھوں نے معذوری کا اظہار کرکے گوشہ نشینی کے مسلک ہی کو پسند فرمایا۔ دلّی میں جب خسرو خان نے مسلمان علماء پر ظلم و ستم کے دروازے کھولے تو بانو قدسیہ کے بزرگ دلّی کی سکونت ترک کرکے دیپال پور میں آباد ہوگئے۔جہاں انھوں نے ایسی علمی درس گاہ کی بنیاد ڈالی جہاں دینی علوم کے علاوہ فلسفہ،مابعد الطبیعات اور فلسفۂ یونان کے انعقاد کا معنوی انتظام تھا۔ایران (8)،افغانستان(9) توران(10)،بلاد روم اور ترکستان (11) کے طالب علم ان درس گاہوں میں تعلیم کی غرض سے آتے تھے اور گوہرِ مقصود سے جھولیاں بھربھر کر واپس لوٹتے تھے۔“
انگریزی محاورے کے مطابق جس طرح خیرات گھر سے شروع ہوتی ہے۔ اُسی طرح اشفاق احمد نے تحقیق بھی گھر سے شروع کی ہے۔ اشفاق احمد کے مذکورہ بالا مختصر اقتباس میں بیک وقت برصغیر کی سیاسی،علمی اور معاشرتی تاریخ جلوہ گر نظر آتی ہے۔ انداز بیان خالص علمی ہے۔ کہیں افسانوی اسلوب کی جھلک نظر نہیں آتی۔ ہم اشفاق احمد کو تہہ دل سے مبارک پیش کرتے ہیں کہ وہ اردو تحقیق میں ایک نئے دبستان کی داغ بیل ڈال رہے ہیں ______بات کہاں سے چلی تھی اور کہاں پہنچ گئی۔عرض کرنا یہ تھا کہ ہم آج کل اشفاق احمد کی تازہ تصنیف ”سفر درسفر“ پڑھ رہے ہیں۔ ابھی تک صرف سو صفحے پڑھے ہیں۔یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ کتاب کا موضوع کیا ہے۔ یہ شایدکتاب ختم کرنے کے بعد بھی معلوم نہ ہوسکےلیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ بےحد دلچسپ کتاب ہے۔ابتدائی صفحات تو اتنے دلچسپ ہیں کہ جی چاہتا ہے انھیں لفظ بلفظ نقل کردیا جائے لیکن اس خیال سے ہم یہ جرأت نہیں کرسکتے کہیں ہم پر فحاشی کے الزام میں مقدمہ دائر نہ ہوجائے۔ چونکہ کتاب بازار میں عام بک رہی ہے، اس لیے ہم ان چارصفحوں سے قطع نظر کرتے ہوئے کچھ غیر دلچسپ ٹکڑے قارئین کی خدمت میں پیش کرتے ہیں:
اس کتاب میں جابجا اشفاق احمد نے روسو(12)کی طرح اپنے ”اعترافات“ پیش کئے ہیں۔ مثلاً ایک جگہ لکھتے ہیں:
”مجھے شروع ہی سے غیبت اور منافقت پسند ہے۔ اور میری انا نے آج تک کبھی یہ برداشت نہیں کیا کہ میرے ہوتے ہوئے کسی اور کی تعریف ہو، کسی اور کی بات ہواور اس گفت گو میں میرے ہی دوست شریک ہوں۔ میں جانتاہوں کہ اخلاقی طور پر یہ ایک بُری اور قبیح عادت ہے۔ لیکن یہ عادت میرے ساتھ پیدا ہوئی ہے عین اُس مسّے کی طرح جو میرے دائیں گال پر ہے اور جو وقت گزرنے کے ساتھ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔“
(صفحہ۔۵۔۹۴)
ایک جگہ اشفاق احمد نے اپنے چند بے تکلف دوستوں سے اپنی گفت گو درج کی ہے ایک دوست نے اشفاق احمد سے پوچھا: ”آپ اس قدر لالچی اور پیسے کے پُتر کیوں ہیں؟ اس کے جواب میں اشفاق احمد فرماتے ہیں:
دراصل یہ خاصیت میرے ساتھ پیدا ہوئی ہے چونکہ میں نے اسے دور کرنے کی کوشش نہیں کی اس لیےیہ اور بھی راسخ ہوگئی ہے۔ اب میں حصول زر کے چکر سے نہیں نکل سکتا۔۔۔احساس دو طرح کا ہوتا ہے۔ ایک اکتسابی اور دوسرا جذباتی۔ جب آدمی کو اکتسابی اور کتابی احساس ہے تو وہ ہرمسئلے کا تجزیہ کرکے اُسے اُسی طرح چھوڑدیتا ہے اور جب اس کی پیش قدمی جذباتی ہوتی ہے تو وہ اس مسئلے کے حل کرنے کے لیے جدوجہد کرتا ہے اور عام طور پر کامیاب ہوتا ہے۔ میں چونکہ حصولِ زر اور حصول منفعت کو کتابی طور پر برا سمجھتا ہوں۔ جذباتی طور پر نہیں، اس لیے اس چکر سے نہیں نکل سکتا۔“ (صفحہ۴۷۔۳۷)
اس دلچسپ کتاب میں اشفاق احمد نے اپنے اعترافات ہی پیش نہیں کئے، اپنے دوستوں کے کردار کی بھی نہایت عمدہ تصویر کشی کی ہے۔ ایک جگہ اشفاق احمد نے اپنی اور ممتاز مفتی (13) کی گفت گو درج کی ہے۔ یہ آپ بھی سنئے:
مفتی: میں نے زندگی میں جس آدمی کی بھی عزّت کی ہے،اس کے ساتھ کبھی نہیں چلا۔ میری عقیدت ضرور اس کے جلومیں رہی ہے لیکن میں کبھی اس کا ساتھ نہیں دے سکا۔
اشفاق: مفتی جی یہ عزّت بھی خوب چیزہے۔
مفتی: اللہ اُسے خوش رکھے، اُس نے زندگی کے ہر مشکل مقام میں میرا بڑا ساتھ دیا ہے۔ میں نے جس سے بھی تعلقات منقطع کرنے چاہے، فوراًاس کی عزّت شروع کردی۔ چند دنوں میں فریقین کی طبیعتوں پر بوجھ پڑے بغیر تعلق ٹوٹ گیا۔
اشفاق: اور وہ جودھرم پورہ کی۔ اُستانی تھی۔۔۔ کیا نام تھا اُس کا؟
مفتی: عالم بی بی
اشفاق: اُس سے تعلقات منقطع کرنے کا بھی یہی طریقہ اختیار کیا تھا تم نے؟
مفتی: ناں ناں ناں۔۔۔ اس میں میرا کوئی کمال نہیں تھا اس میں اُس ہستی کا کمال تھاجس نے یہ تعلقات ختم کروادئیے۔ دور بیٹھے بیٹھے یہاں سے پانچ ہزار میل دور۔
اشفاق: تم قدرت اللہ شہاب(14) کی بات کررہے ہو؟
مفتی: بالکل۔۔۔ میں اس کی بات کرتا ہوں اور بج بجا کر کرتا ہوں۔
اشفاق: لیکن تم لوگوں کی نظروں میں اُسے کتنا ذلیل کرتے ہو۔
مفتی: ہوا کرے،میں کوئی کم ہوتا ہوں۔تمہارا کیا خیال ہے لوگ مجھے ایک چھوٹے درجے کا خوشامدی ٹٹ پونجیا، مطلب پرست، افسر باز اور سائیکو فینٹ نہیں سمجھتے؟
اشفاق: سمجھتے ہیں۔
مفتی: لکڑی کے ساتھ جب لوہا لگتا ہے تو ساری لکڑیوں کو تیرنے نہیں دیتا۔ میں تو اس کو ذلیل کروں گا۔ اُس نے میرے ساتھ کون سی بھلائی کی ہے۔ (ص : 57-58)
”سفر در سفر“ کا ذکر فی الحال اتنا ہی کافی ہے۔ ابھی تو ہم نے اس کتاب کے صرف سو صفحات پڑھے ہیں۔ایک سو باسٹھ صفحات باقی ہیں، انھیں بھی پڑھ لیا جائے تو اس کتاب پر مزید گفت گو ہوگی۔ آئیے اس ہفتے کی تازہ خبریں بھی سن لیجئے:
جناب رئیس امروہوی (15) نے اپنے نفسیاتی کالم میں یہ اطلاع شائع کی ہے کہ شاہ عزیز الکلام صاحب اَن پڑھ شعرا کا تذکرہ مرتب کررہے ہیں۔ انھوں نے اَن پڑھ شعرا سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے حالاتِ زندگی اور نمونۂ کلام جناب رئیس امروہوی کی معرفت روانہ فرمائیں۔ شاعر عزیز الکلام صاحب کا ارادہ ہے کہ شعرا کا تذکرہ مکمل کرنے کے بعد وہ اَن پڑھ افسانہ نگاروں اور ان پڑھ تنقید نگاروں کے تذکرے بھی لکھیں گے تاکہ جدید اُردو ادب کی مکمل تاریخ منظر عام پر آجائے۔
رسالہ ”نقوش“ کا ادبی معرکہ نمبر شائع ہوگیا ہے جو ”قینچی“ کے کام کا بہترین نمونہ ہے۔ اس نمبر کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں کوئی ایسا مضمون شامل نہیں کیا گیا جو پہلے کم از کم دوبارہ شائع نہ ہوچکا ہو۔ دوسری خصوصیت یہ ہے کہ محمد طفیل نے پہلی مرتبہ اداریے میں دوسروں کی محنت کا اعتراف کیا ہے، ورنہ اس سے پہلے بزرگ ادیب محمد عبد اللہ قریشی(16) خود ہی اعتراف کرتے رہتے تھے کہ لاہور نمبر، خطوط نمبر اور آپ بیتی نمبر وغیرہ ”ان“ کی محنت کا نتیجہ ہیں (یہاں ”اُن“ سے مراد محمد طفیل ہیں)۔ نقوش کے ادبی معرکہ نمبر کے فلیپ پر یہ تو صیفی جملے بھی درج ہیں۔ ”نقوش نے فنِ صحافت میں اپنا سب سے اونچا مقام بنالیا ہے۔۔۔ ادبی خدمات کے سلسلے میں آخری حدوں کو چھولیا ہے۔“یہ جملے پڑھ کر بعض لوگوں کو ایسا محسوس ہو ا جیسے انھوں نے بجلی کے تار کو چھولیا ہو۔ اور بعض لوگوں کو یقین نہیں آتا کہ محمد طفیل نے یہ تعریفی جملے خود لکھے ہوں گے، اس لیے کہ ان جملوں کی کتابت بھی اچھی نہیں ہے۔
پرتوروہیلہ (17) کے دوہوں کا جو کیسٹ بازار میں آیا تھا، وہ بےحد مقبول ہوا ہے۔ اب اُن تنقیدی مضامین کا کیسٹ تیار ہورہا ہے جو ان دوہوں کے بارے میں وقتاً فوقتاً لکھے یا لکھوائے گئے ہیں۔ تنقیدی مضامین کے کیسٹ میں پس منظر کی موسیقی بھی ایک نقّاد ہی کوششوں کا نتیجہ ہے۔
رسالہ ”سویرا“(18) کے سابق ایڈیٹر صلاح الدین محمود کا مجموعۂ کلام ”کشفِ قرص الوجود“ چھ برس قبل شائع ہوا تھا۔یہ اُردو شاعری کا مختصر ترین مجموعہ ہے جس میں صرف دس غزلیں شامل ہیں۔ اس مجموعہ کی اشاعت کے بعد صلاح الدین محمود نے مزید شاعری نہیں کی۔ اس خاموشی کا سبب یہ معلوم ہوا ہے کہ موصوف گزشتہ چھ برس سے اپنے مجموعے کی شرح لکھ رہے ہیں۔ اس کام میں محمد سلیم الرحمن(19) ان کی معاونت کررہے ہیں۔ واضح رہے کہ ”کشف ِقرص الوجود“ کا انتساب محمد سلیم الرحمن کے نام ہے۔ محمد سلیم الرحمن نے اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اُردو کے اساتذہ سے اپیل کی ہے کہ وہ اس اہم کام میں مصنف اور ان کے معاون کاہاتھ بٹائیں۔ اگر کسی شعر میں مفہوم کا سراغ مل جائے تو فوری طور پر مطلع کریں۔(قریبی تھانے میں رپورٹ درج کرانے کی ضرورت نہیں)۔
قارئین کرام کی ضیافت طبع کے لیے صلاح الدین محمود کی ایک غزل بطور نمونہ درج کی جاتی ہے:
عرصۂ رنگ رات کا چہرہ
وجۂ شنگ سات کا چہرہ
نغمۂ احمر یں میں وقتِ اصیل
لحظۂ رنگ ذات کا چہرہ
لہجۂ د ر چراغ میں جلتا
شعلۂ سنگ بات کا چہرہ
دارِ یک رنگ میں سیاہ حرکت
خارِبے رنگ مات کا چہرہ
برگ چُپ چاپ نالۂ نو خار
نوحۂ انگ پات کا چہرہ
جنسِ ساکن پناہ اک مہتاب
دیدۂ ننگ ہات کا چہرہ
شجرِ آخری فنا خاموش
درۂ دنگ رات کا چہرہ
حواشی و تعلیقات مع حوالہ جات کالم نمبر6
1۔ ”سفر در سفر“ اشفا ق احمد کی کتاب کا نام ہے۔ یہ کتاب 1981ء میں منصۂ شہود پر آئی۔
(ڈاکٹرہارون الرشید تبسم، 100 عظیم شاعراور نثر نگار، لاہور: مقبول اکیڈمی 2016ء، ص: 386)
2۔ برنارڈ شا: (1856ء-1950ء) آئرش نژاد ڈرامہ نگار او رنقا د۔ آپ 1856ء میں ڈبلن میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد غلے کے ایک ناکام سوداگر تھے۔ انھوں نے ویسلیان کنکشنل سکول سے تعلیم حاصل کی جہاں وہ سب طلبا سے پیچھے رہے۔ ان کے اساتذہ کاتاثر ہے کہ ایسے مضامین کی تدریس کے وقت جو انھیں پسند نہیں تھے، وہ بہت سستی اور عدم دلچسپی کا مظاہرہ کرتے تھے۔ شاہ کی والدہ کو موسیقی سے بہت لگاؤ تھا۔ شا ہ بھی 1876ء میں کلرکی چھوڑ کر اپنی والدہ اور بہنوں کے پاس آگئے۔شاہ آئندہ نو برس تک مکمل بیروز گاری کا شکار رہے۔ا س کے پاس کپڑوں کا ایک جوڑا ہوتا تھا 1879سے1883ء کے عرصے میں انھوں نے پانچ ناول لکھے۔ ان میں وکٹورین اخلاقیات او رمعیار عزت کو ہدف تنقید بنایا گیا تھا۔ شاہ کی بڑی وجہ شہرت ڈرامہ نگاری ہے۔ ڈراموں کا پہلا مجموعہ 1898ء میں ”خوشگوار اور ناخوشگوار ڈرامے“ کے عنوان سے شائع کیا۔ دوسرا مجموعہ 1900 ء میں ”پیورٹینوں کے لیے تین کھیل“ کے عنوان سے شائع ہوا۔ شاہ کو 1925 میں ادب کا نوبل پرائز دیا گیا۔ شاہ نے 1882 میں آکر اشتراکیت کی حمایت شروع کر دی تھی۔ ان کی طویل تصنیف ”ذہین خواتین کے لیے سرمایہ داریت اور اشتراکیت کے متعلق معلومات (1928ء) ہے۔ چورانوے برس کی عمر میں ان کا انتقال ہوا وہ ایک طربیہ کھیل پر کام کر رہے تھے۔
(کوامے انتھونی اپیاہ اور ہنری لوئی گیٹس جونیئر،عالمی ثقافت کی لغت، (اردو ترجمہ: پر وفیسر حنیف کھوکھر)، ص: 187)
3۔ واجد علی شاہ: جان عالم واجد علی شاہ،آخری تاجدار اودھ، امجد علی شاہ والیء اودھ کے بیٹے تھے۔ بیس سال کی عمر میں باپ کی وفات کے بعد تخت نشین ہوئے۔ واجد علی شاہ 1827ء کو پیدا ہوئے۔ فن تعمیر سے بڑی دل چسپی تھی، تخت پر بیٹھتے ہی باغ کی تعمیر شروع ہوئی جس کی عمارات، ایوان اور دلکشا کو بارہ دری، نہر، پل، سنگ مرمر اور تصاویر سنگ سے مزین کیا گیا۔ دو کروڑ روپیہ اس عمارت پر صرف ہوا یہاں برسات میں میلہ لگتا ہے۔ 13/جنوری 1856ء میں اودھ کو انگریزوں نے اپنی سلطنت میں شامل کرلیا اور شاہ کو معزول کرکے کلکتہ بھیج دیا، معزولی کے بعد دو سال فورٹ ولیم (کلکتہ) میں نظر بند ہے۔ اس کے بعد 1887ء میں انتقال ہوا۔
(اردو انسائیکلو پیڈیا۔ لاہور: فیروز سنز پرائیویٹ لمیٹڈ،2005،ص: 1448)
4۔ بانو قدسیہ 28 نومبر 1928ء کو مشرقی پنجاب کے شہر فیروز پور میں پیدا ہوئیں۔ بانو قدسیہ کے والدین نے اِن کا نام قدسیہ بانو رکھا تھا مگر اردو ادب میں آنے کے بعد بانو قدسیہ کے نام سے معروف ہوئیں۔بانو قدسیہ ابھی چار برس کی تھیں کہ اُن کے سر سے والد کا گھنا سایہ 1932ء میں اُٹھ گیا۔افسانوی مجموعوں میں ”کچھ اور نہیں“،”دوسرا دروازہ“، ”آتش زیر پا“، ”امربیل“، ”ناقابل ذکر“، ”دست بستہ“، ”راجہ گدھ“ کو سب سے زیادہ شہرت ملی۔انھیں ستارۂ امتیاز، کمال فن ایوارڈ، اور بہت سے سرکاری ایوارڈ مل چکے ہیں۔
(یاسر جواد انسائیکلوپیڈیا ادبیات عالم،اسلام آباد: اکادمی ادبیات پاکستان،2013ء،ص: 781)
5۔ اشفاق احمد:۔22/اگست 1925ء مکتسر ضلع فیروز پور میں ڈاکٹر محمد خان کے گھر میں پیدا ہوئے۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے اردو کیا او ر دیال سنگھ کالج میں لیکچر ر مقرر ہوئے۔ وہاں اطالوی زبان میں ڈپلوما حاصل کیا۔ فرانسیسی زبان کا ڈپلوما ینوبل یونیورسٹی، فرانس سے حاصل کیا۔ نیو یارک سے ریڈیائی نشریات کی تربیت حاصل کی۔ وطن واپسی پر اپنا اشاعتی گھر ”داستان سرائے“ قائم کیا اور رسالہ ”داستان گو“ جاری کیا۔ 1958ء میں جب مارشل لاء کے ایک حکم کے تحت پر وگریسو پیپر ز لمیٹڈ کو سرکاری تحویل میں لیا گیا تو ہفت روزہ ”لیل ونہار“کے مدیر مقرر ہوئے۔ ایک سال تک پنجاب یونیورسٹی اورینٹل کالج میں پنجابی کے اعزازی لیکچرر رہے۔ آرسی ڈی کے علاقائی ثقافتی انسٹی ٹیوٹ میں چار سال تک ڈائریکٹر کی حیثیت سے فرائض انجام دیئے۔ تقریبا ًتیس سال تک اردو سائنس بورڈ کے ڈائریکٹر رہنے کے بعد ریٹائر ہوئے۔ان کی تصانیف یہ ہیں۔”ایک محبت سو افسانے“ سنگ میل پبلی کیشنز لاہور 1951ء ، 13 افسانے ہیں۔ ”اجلے پھول“ بک لینڈری مال لاہور فروری 1957ء، 8 افسانے اور ایک رپورتاژ شامل تھی۔”توتا کہانی“، ٹاہلی دے تھلے (شاعری) شہر کنارے، اچے برج لاہور دے، کاروان سرائے، حیرت کدہ ، قلعہ کہانی۔”زاویہ“ کے نام سے ٹی وی پر وگرام مشہور ہوئے۔تلقین شاہ کے نام سے ریڈیو پر بھی خوب پذیرائی حاصل کی۔ ”سفردر سفر“1981ء میں شائع ہوئی۔ 7/ستمبر 2004 ء کو انتقال کر گئے۔
(ہارون الرشید تبسم، 100 عظیم شاعراور نثر نگار، لاہور: مقبول اکیڈمی 2016ء، ص: 386)
6۔ راجہ گدھ : بانو قدسیہ کا سب سے زیادہ شہرت پانے والا ناول۔
(یاسر جواد انسائیکلوپیڈیا ادبیات عالم،اسلام آباد: اکادمی ادبیات پاکستان، 2013ء،ص: 781)
7۔ سلطان بلبن: (دور حکومت 1266۔1287ء) سلطان غیاث الدین بلبن خاندان غلامان کے آٹھویں سلطان ہوئے ہیں۔ بطور غلام ہندوستان لایا گیا۔ سلطان التمش کی نگاہ مردم شناس نے اس کو خرید لیا۔ اس نے اپنے دور حکومت میں امرا اور سرداروں کا زور توڑ کر مرکزی حکومت کو مضبوط کیا۔ بغاوتوں کو سختی سے کچل کر ملک میں امن و امان قائم کیا اور سلطنت کو تاتاریوں کے حملے سے بچالیا۔ شراب اور رنگ رنگ کی محفلوں کی اجازت نہ تھی، انصاف کا دور دورہ تھا، مجرموں کو سزائیں دیتا، رعایا سے بڑا فیاض اور روشن خیال سلطان تھا۔
(اردو انسائیکلوپیڈیا، لاہور: فیروز سنز پرائیویٹ لمٹیڈ،2005،ص: 330)
8۔ ایران : جمہوری اسلامی ایران دارالحکومت تہران ہے۔ قومی پرچم سبز، سفید او رسرخ رنگوں میں ہے۔ سبز او رسرخ حصوں کے نیچے گیارہ گیارہ مرتبہ اللہ اکبر کا لفظ کوفی رسم الخط میں لکھا ہوا ہے۔ مجموعی طور پر 22 اللہ اکبر بنتے ہیں۔ جو 22بہمن کی تاریخ ظاہر کرتے ہیں۔ جس دن انقلاب اسلامی کا میاب ہوا تھا (11/ فروری 1979ء) سفید کے وسط میں سرخ رنگ کا مونو گرام ہے اب اس مونو گرام کا رنگ سیاہ کر دیا گیا ہے۔مشرقی وسطیٰ میں واقع ہے۔ شمال میں آرمینیا، آذربائیجان، ترکمانستان او ربحیرۂ عرب، مشرق میں افغانستان اور پاکستان، جنوب خلیج اومان اور خلیج عرب (فارس)، مغرب میں عراق او رترکی آباد ہیں۔مشہور شہر تہران، اصفہان، مشہد، خرم آباد، کرمان، زنجان، ہمدان ہیں۔
(مسعود مفتی، ولی محمد بھٹی، دنیا کے تمام ممالک کا انسائیکلوپیڈیا، لاہور: علم و عرفان اردو بازار،2008 ء، ص: 89)
9۔ افغانستان: جمہوریہ افغانستان کا دارالحکومت کابل ہے۔جنوبی ایشیاء میں واقع ہے۔ ایران اور پاکستان کے درمیان ہے۔شمال میں ترکمانستان، ازبکستان، او رتاجکستان، مشرق میں چین، مشرق او رجنوب میں پاکستان، مغرب میں ایران واقع ہیں۔رقبہ652090مربع کلو میٹر ہے۔ بلند چوٹی نوشاک پہاڑی چوٹی ہے جو 392 میٹر (24518 فٹ) بلند ہے۔ آبادی 27837886 (2004ء کی مردم شماری کے مطابق) نفوس پر مشتمل ہے۔
(مسعود مفتی، ولی محمد بھٹی، دنیا کے تمام ممالک کا انسائیکلوپیڈیا، لاہور: علم و عرفان اردو بازار،2008 ء، ص: 68)
10۔ توران: اس نام کا اطلاق اصلاً تو اس علاقے پر ہوتا تھا جو دریائے جیجوں کے مشرق میں واقع ہے اور ہمارے جغرافیہ نویس اسے ماوراءالنہر“ لکھتے رہے، یعنی دریا پار کا علاقہ۔ یہی توران ہے جس سے ایران کی لڑائیاں خاصی مدت تک جارہی رہیں۔ زمانہ گزشتہ میں بلوچستان کا ایک علاقہ توران کہلاتا تھا یہ مکران کے مشرق و شمالی حصے میں واقع تھا۔
(جامع اردو انسائیکلوپیڈیا، ص: 397)
11۔ ترکستان : دارالحکومت اشک آباد ہے۔ قومی پرچم سبز ہے۔ بالائی حصہ پر ایک پٹی بنائی گئی ہے جس پر سیاہ اورنج او رسفید رنگوں میں قالین کے نمونے دکھائے گئے ہیں یہ پانچ مختلف قبائل کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ایک سفید رنگ میں چاند بناہوا ہے جس کے ساتھ پانچ ستارے ہیں جو قالینوں کے نشانات کے دائیں طرف ہیں۔ وسطی ایشیاء میں ایران اور ازبکستان کے درمیان موجود ہے۔ شمال میں ازبکستان، شمالی مغرب میں قازقستان، مغرب میں بحیرۂ عرب، جنوب میں ایران، جنوب مشرق میں افغانستان ہے۔ رقبہ 488100 مربع کلومیٹر ہے۔
(مسعود مفتی، ولی محمد بھٹی، دنیا کے تمام ممالک کا انسائیکلوپیڈیا، لاہور: علم و عرفان اردو بازار،2008 ء، ص: 183)
12۔ روسو : فرانس کا مشہور سیاسی فلسفی اور انشاء پرداز جن کی تحریریں فرانس میں انقلاب برپا کرنے کا سبب بنیں۔ جینوا میں 1712ء میں پیدا ہوئے۔ ایک معزز خاتون مادام رانس کے زیر سرپرستی موسیقی، فلسفے اور سیاست کی تعلیم حاصل کی۔ اسے رومانیت کا بانی سمجھا جاتا ہے۔
(اردو انسائیکلوپیڈیا، ص: 757)
13۔ ممتاز مفتی: ابتدائی تعلیم بٹالہ، امرتسر، میانوالی، ملتان اور ڈیرہ غازی خان میں پائی۔ میڑک 1921 ء میں ڈیرہ غازی خان سے اور ایف اے1927ء میں ہندو سبھا کالج امرتسر سے کیا۔ اسلامیہ کالج، لاہور سے 1929 ء میں بی اے کرنے کے بعد سینٹرل ٹیچر ز ٹریننگ کالج میں داخلہ لیا جہاں سے ٹریننگ مکمل کرنے کے بعد محکمۂ تعلیم پنجاب کے سینئر انگلش ٹیچر کے طور پر خانیوال، دھرم سالہ، گوجرہ، چک جھمرہ، جام پور، ساہیوال، باغ بانپورہ، قصور، شیخو پورہ، سانگلہ ہل اور گورداس پور کے اسکولوں میں 1933ء تا 1945 ء پڑھاتے رہے۔ لاہور میں طالب علمی کے زمانے میں سید فیاض محمود اور مجید ملک کے ساتھ دوستی رہی جنھوں نے ادبی ذوق بیدار کیا۔ ”ان کہی“ (افسانے) 1943 ء،”گہما گہمی (افسانے) لاہور، 1944 ء، ”چپ“ (افسانے) 1947ء، اسمارائیں“(افسانے) 1953 ء، نظام ثقہ“ (ڈراما1953ء)، ”علی پور کا ایلی“، (سوانحی ناول) 1961 ”گڑیا گھر“(افسانے) 1965ء، ”پیاز کے چھلکے“ (خاکے) 1968 ء، ”لبیک“ (روداد حج) 1957، ”ہند یاترا“ (سفرنامہ ہند)1983 ء، ”روغنی پتلے“ (افسانے) 1984ء،”سمے کا بندھن“ (افسانے) 1986ء ”اوکھے لوگ“ (خاکے)1986ء، ”مفتیانے“ (افسانوی کلیات) 1989 ء،۔ وہ 27/ اکتوبر 1995ء کوافسانوی دنیا سے اپنے مالک حقیقی سے جا ملے۔
(یاسر جواد انسائیکلوپیڈیا ادبیات عالم،اسلام آباد: اکادمی ادبیات پاکستان، 2013ء،ص: 416)
14۔ قدرت اللہ شہاب: قدرت اللہ شہاب1920ءمیں گلگت (کشمیر) میں پیدا ہوائے۔ ابتدائی تعلیم سابق ریاست جموں و کشمیر اور موضع جمکور صاحب ضلع انبالہ (مشرق پنجاب) میں حاصل کی۔ پرنس آف ویلز کالج سے بی ایس سی اور گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے انگلش کیا۔ 1940ء میں انڈین سول سروس کا امتحان دیا اور دیرہ دون اکیڈیمی میں تربیت مکمل کی۔ 1941ء میں انڈین سول سروس میں شامل ہوئے۔ بہار اور اڑیسہ میں خدمات انجام دیں۔ 1943ء میں بنگال میں تعینات ہوئے۔ آزادی کے بعد حکومت آزاد کشمیر کے سیکرٹری جنرل مقرر ہوئے۔1958ء میں صدر ایوب کے سیکرٹری مقرر ہوئے۔ پاکستان رائٹر گلڈ کی تشکیل انھی کی کوششوں سے عمل میں آئی۔ تصانیف میں یا خدا (ناولٹ) نفسانے، ماں جی (افسانوں کا مجموعہ)، شہاب نامہ (سرگزشت) شامل ہیں۔ 1986ء میں انتقال کرگئے۔
(اردو انسائیکلو پیڈیا، فیروز سنز لاہور، 2005،ص: 920)
15۔ رئیس امروہوی: 1914ء میں پیدا ہوئے، اصل نام سید محمد مہدی نقوی تھا۔ آٹھ نو سال کی عمر میں شعر کہنے لگے۔ 1931ء میں ماہنامہ حیات امروہہ کے عملۂ ادارت میں شامل ہوگئے۔ 1943ء میں روزنامہ جنگ سے وابستہ ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد کراچی سکونت اختیار کی اور اکتوبر 1947ء سے روزنامہ جنگ سے پھر وابستگی قائم کی۔ کالم، قطعات لکھتے تھے۔ 1958ء میں منتخب قطعات کا ایک مجموعہ شائع ہوا۔ غزلیات اور نظموں کا مجموعہ ”الف“ کے نام سے چھپا۔ رئیس امروہوی قادر الکلام شاعر تھے۔ 1988ء میں انتقال کرگئے۔
(یاسر جواد انسائیکلوپیڈیا ادبیات عالم،اسلام آباد: اکادمی ادبیات پاکستان، 2013ء،ص: 765)
16۔ محمد عبداللہ قریشی: محمد عبداللہ قریشی 1905ء میں لاہور میں پیدا ہوئے، والد کا نام رحیم بخش تھا۔ ممتاز اردو ادیب، محقق، ماہر اقبالیات، سابق مدیر ماہنامہ ”ادبی دنیا“ لاہور۔ تصانیف: تاریخ اقوام کشمیر، آئینہ کشمیر، آئینہ اقبال، اقبال بنام شاد، غلامان رسول، حیات اقبال کی گم شدہ کڑیاں، تذکار اقبال، روح مکاتیب اقبال، حیات جاوداں، معاصرین اقبال کی نظر میں، باقیات اقبال، 21/ اگست 1994ء کو لاہور میں وفات پائی اور میانی صاحب کے قبرستان میں دفن ہوئے۔
(ڈاکٹر محمد منیر سلیچ، وفتات ناموران پاکستان، اردو سائنس بورڈ 2006ء، ص: 773)
17۔ پرتوروہیلہ: پرتو روہیلہ بھارت میں رام پور پوپی میں 1932ء میں پیدا ہوئے۔ اصل نام مختار علی خان تھا۔ ابتدائی تعلیم رام پور میں حاصل کی۔ قیام پاکستان کے بعد ہجرت کرکے بنوں میں سکونت اختیار کی۔ اسلامیہ کالج پشاور میں تعلیم پائی۔ بی اے اور ایل ایل بی کی ڈگریاں لیں۔ 1957ء میں اعلیٰ امتحان کے ذریعے پاکستان کی ٹیکسیشن سروس میں چلے گئے۔ 1993ء میں ممبر سنٹرل بورڈ آف ریونیو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ غالب کے فارسی خطوط کا اردو ترجمہ کرکے چھپوایا۔ ”نامہ ہائے فارسی غالب، ماثر غالب اور باغ درد“ اس کی ترجمہ کردہ ”کلیات مکتوبات فارسی غالب“2008ء میں شائع ہوئی۔ پرتو روہیلہ کے درج ذیل شعری مجموعے شائع ہوئے۔ غزلیں، پرتو شب، شکست رنگ، دوہے، رین اجیارا، غزلیں اور دوہے، نوائے شب، پشتو لوک گیتوں کا مجموعہ ہے۔ امریکہ کا سفر نامہ ”سفر گشت“، ٹپے پر پاکستان رائٹر گلڈ انعام جبکہ نوائے شب پر اسمادی ادبیات پاکستان ہجرۃ ایوارڈ سے نوازا۔
(یاسر جواد انسائیکلوپیڈیا ادبیات عالم،اسلام آباد: اکادمی ادبیات پاکستان، 2013ء،ص: 593)
18۔ سویرا: 1946ء میں چوہدری برکت علی اور چوہدری نذیر احمد کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے تو اس کی زد میں ماہنامہ ”ادب لطیف“ بھی آگیا۔ چوہدری نذیر احمد نے اپنا ”نیا ادارہ“ قائم کرلیا، اس کے تحت نیا رسالہ ”سویرا“ جاری کیا۔ پہلے شمارے کے مرتبین میں احمد ندیم قاسمی، فکر تونسوی اور نذیر احمد کے نام شامل تھے۔ ”سویرا“ کا تیسرا شمارہ آزادی کے بعد شائع ہوا۔ صلاح الدین محمود نے ”سویرا“ کو اپنی روح کی یاترا قرار دیا تھا۔ اس کی مجلس ادارت میں حنیف رامے، عارف عبدالمتین، ظہیر کاشمیری اور احمد راہی کے نام بھی شامل ہیں۔
(ڈاکٹر انور سدید، پاکستان میں ادبی رسائل کی تاریخ‘اسلام آباد: اکادمی ادبیات پاکستان، 1992ء، ص: 117-120)
19۔ محمد سلیم الرحمن: 1934 ء میں سہارن پور میں پیدا ہوئے۔ محمد سلیم الرحمن اردو کے ممتاز شاعر، افسانہ نگار، مترجم اور نعت نویس ہیں ان کا زیادہ وقت علی گڑھ میں گزرا۔ ان کے پردادا مولانا احمد علی حدیث کے استاد کی حیثیت سے مشہور تھے اور مولانا شبلی نعمانی کے علاوہ سید مہر علی شاہ گولڑہ شریف نے بھی ان سے حدیث کا سبق لیا۔ تقسیم کے بعد پاکستان آئے۔ کسی کالج میں داخلہ لینے کی بجائے ادب کو کیرئیر بنانے کا عزم کرلیا۔ ”آج کل“ اور ”امروز“ میں مضامین چھپتے رہے ”سویرا“ کے لیے نئے تراجم کئے۔ ایک شعری مجموعہ ”نظمیں“ کے نام سے چھپا۔ ہسپانوی ناول کا ترجمہ ”چلتا پرزہ“ کیا اور جوزف کونرڈ کے ہارٹ آف ڈارکینس کا ترجمہ ”قلبِ ظلمات“ کے نام سے کیا۔ قدیم یونانی ادب پر کتاب ”مشاہیر ادب“ لکھی۔
(یاسر جواد انسائیکلوپیڈیا ادبیات عالم،اسلام آباد: اکادمی ادبیات پاکستان، 2013ء،ص: 708)