
دوستو! تعلیم کہانی کے عنوان سے کچھ مقامی تعلیمی اداروں اور شخصیات کی کارکردگی پر لکھنے کا ارادہ ہے۔ اس کہانی میں ہمارے علاقے کے علاوہ دیگر لوگوں کی دلچسپی کا بہت کم سامان ہوگا۔ اس لیے اس سلسلے کومستقل عنوان دے رہا ہوں تا کہ جن لوگوں کی دلچسپی نہ ہو انھیں عنوان دیکھ کر ہی معلوم ہو جائے کہ یہ سلسلہ محدود تحریروں اور محدود موضوع پر ہے۔
ہم ایم فل اردو کی کلاس میں بیٹھے تھے کہ ہمارے ایک ٹیچرنے یہ شعر پڑھا تھا:
اُجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو
نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے
شعر پڑھنے والے خود بھی چونکہ بہت اعلیٰ پائے کے شاعر تھے تو انھوں نے اس شعر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بعض فن پارے اتنے اعلیٰ ہوتے ہیں کہ امر ہو جاتے ہیں۔واقعی ایسا ہی ہے۔ اسی طرح بعض سوال بھی امر ہو جانے کے قابل ہیں جیسے نواز شریف صاحب کا یہ سوال: مجھے کیوں نکالا؟بالکل اسی طرح امر ہو جانے والا ایک سوال مقامی پرائیویٹ سکول کے ایک مالک نےایک مقامی صحافی کے ذریعے ایک دوسرے معروف لکھاری سے کیا کہ آپ کیوں ہر وقت میرے سکول کے بچوں پر امتحان میں پیسوں کے بل بوتے پرنقل لگوانے اورزیادہ نمبر لے جانے کا الزام لگاتے رہتے ہیں؟ میرا آپ کو چیلنج ہے کہ ایک بچے کے 803 نمبر ہیں تو میں آپ کو 3 لاکھ روپے دیتا ہوں آپ اُس کا ایک صرف ایک نمبر ہی بڑھوا دیں۔
کیا سادہ سوال ہے اور کیا شاطرانہ آفر ہے!
جناب عالی!آپ ہر کسی کو تو اتنا سادہ اوربھولا نہ سمجھیں نا! نتیجہ آجانے کے بعد نمبر نہیں بڑھوائے جاتے۔ امتحانی سینٹر پر موجودعملہ اپنا لگوایا جاتا۔ ڈپٹی اور سپرنٹنڈنٹ خریدے جاتے۔ اوراگر کوئی ناقابل فروخت ہو تو اس کے خلاف اخبارات میں ان کی کردار کشی کرائی جاتی۔ ان پربچوں کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزام لگائے جاتے۔ عملے کو پن پیک موبائل سیٹ کے تحفے دیے جاتے(اس بات کے گواہ آپ کے وہ مہربان ہیں جنہوں نے آپ کو صحافی ہونے کے عظیم مرتبے تک پہنچایا)۔ یہ طریقۂ کار ہوتاہے نمبر بڑھوانے کا نہ کہ نتیجے کے بعد لوگوں کو کہا جاتا کہ آپ کو ہم اتنے پیسے دیتے ہیں اور آپ ایک نمبر ہی بڑھوا دیں۔ ویسے بھی جو الزام آپ پرکچھ دوست لگاتے ہیں وہ اب الزام تو رہا ہی نہیں وہ تو جیسے:
پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
کے مصداق ہے۔ آپ کے اساتذہ راہ چلتے بچے سے ملتے ہیں، اس کی وضع قطع دیکھ کر اسے پیشکش فرما دیتے ہیں کہ اگر آپ ہمارے سکول داخل ہوں تو ہم آپ کو اتنے نمبر دلوا دیں گے۔ گویا انھوں نے خود نمبر بانٹنے ہوتے ہیں۔ ہم سے درجنوں والدین ملتے ہیں اور ہمیں خود کہتے ہیں کہ ہم سے عملے کی خدمت کے عوض اتنے پیسے مانگے گئےہیں اور ہم نے بھی بخوشی دے دیے ہیں کہ بچوں کے واہ واہ نمبر آجائیں گے۔اور بچے تو پھر بچے ہوتے ہیں نا! بات کر دیتے ہیں۔ دوستوں کو خود آکر بتاتے کہ ہم کس طرح امتحانی سینٹر پر کرسیوں کا رخ ایک دوسرے کی طرف پھیر کر پرچے حل کرتے ہیں۔
یہ تو شکر ہے کہ ہر جگہ ایک جیسے حالات نہیں ہوتے جو انسان کی آنکھیں کھولنے میں معاون ثابت ہوتے۔ میٹرک میں1040سے زیادہ نمبر لینے والا بچہ ایف ایس سی پارٹ I میں 350 کے لگ بھگ نمبر لے، یہ سانحہ سے کم نہیں۔ اگر اس سے سبق سیکھ لیا جائے تو معصوم عوام اور اپنی آخرت سنوارنے کے لیے کافی ثابت ہو سکتا۔ یا پھراسی طرح سوال کیے جاتے رہیں:
مجھے کیوں نکالا؟
لوگ ہم پر نقل کروانے کا الزام کیوں لگاتے؟
26/اگست 2017ء