0

تعلیم کہانی۔۔۔میرے مطابق

Mujeeb Niazi
صاحب تحریر: مجیب اللہ خان نیازی

میں ایک ادنیٰ سا سیاسی کارکن ہوں اور ہمیشہ شدید خواہش رہتی کہ ہر طرح کی اختلافی بحثوں سے مجتنب رہوں لیکن بعض اوقات ایک موضوع پر لکھی جانے والی تحریر جس کا ہم سے بالواسطہ تعلق ہی کیوں نہ ہو، ایسا رخ اختیار کر جاتی کہ اس میں بہت سے نئے سوالات جنم لے لیتے اور بحث یا گفتگو بہت مبہم اور گنجلک ہو جاتی، اس تحریر یا تقریر کا چونکہ ہم بھی بالواسطہ ہی سہی، حصہ ہوتے اس لیے اس موضوع پراپنا تفصیلی مؤقف دینا مجبوری بن جاتا۔

اس وقت زیرِ بحث موضوع میرے انتہائی باہمت اور پر عزم شاگرد محمد شعیب خان کی ایک تحریر ہے جس پر میں نے غالباً دو تین کمنٹ کیے، وہیں پر کچھ افراد اس پوسٹ پر گمراہ گن کمنٹس پاس کر رہے تھے جن کے نتیجے میں شعیب خان بھی انھیں اینٹ کا جواب پتھرسے دے رہے تھے(واضح رہے کہ شعیب خان پُر امن موچھ کے بھی بقولِ خود سب سے بڑے داعی ہیں) اور انھیں کھری کھری بھی سنا رہے تھے، حتیٰ کہ ان کے کمنٹس پر انھیں کھری کھری سنانے کے بعد اپنی وال سےشاید ڈیلیٹ کرنے کا بھی کہہ رہے تھے۔ یہ وہ موقع تھا جہاں بندۂ ناچیز بھی کہہ بیٹھا کہ دونوں ہی غلط رخ اختیار کر رہے اور اس پر ہم اپنا مؤقف اپنی وال پر جا کر دیں گے۔ جس پر شعیب خان نے اپنے اشتیاق اور انتظار کا اظہار کیا۔ ان کے انتظار اور اشتیاق کی گھڑیاں ختم ہوئیں اور ذیل میں ہم اپنا مؤقف پیشِِ خدمت کرتے ہیں:

شعیب خان کی وال پر جو موصوف گمراہ کن کمنٹس دے رہے تھے کہ پیف ہر بچے کا فنڈ دیتی ہے تو یہ ایک مبہم اور لغو بات ہے۔ پیف ہر بچے کی فیس دیتی ہے اور بعض اوقات تو ہم سے جبراً مفت میں بھی بچے پڑھواتی ہے۔ فیس کے بدلے میں ادارہ بچے کو تعلیم، فرنیچر، چھت، بجلی اور پانی مہیا کرتا ہے۔ اب کوئی یہ سمجھےکہ شاید پیف یونیفارم اور دیگر تعلیمی ضروریات بھی دیتی ہے تو یہ غلط ہے۔

شعیب خان کے طریقۂ کار پر مجھے جو اختلاف ہے اب ذرا اس کا بیان ہو جائے۔ مجھے پورا اندیشہ ہے کہ موصوف ناراض بھی ہو سکتے ہیں اور میں نے محض اشارے میں طریقۂ کار کی تبدیلی کی بات کی تو جناب نے میرا مؤقف آنے کا انتظار کیے بغیر ایک مزید پوسٹ لکھ ڈالی اورراہ میں روڑے اٹکانے والوں کی فہرست میں ہمیں بھی شامل کر لیا۔

کوئی بات نہیں ۔ ہمارا معاملہ بھی یہ ہے کہ:

 

اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں، بیگانے بھی ناخوش

میں زہرِ ہلاہُل کو کبھی کہہ نہ سکا قند

 

موچھ اور گردونواح میں پہلی بار پیف 2006ء میں متعارف ہوئی جب ہمارے علاقے کے دو سکول؛ الصفہ ماڈل سکول (بوائز) موچھ اورالعلیم سکول بستی اس کا حصہ بنے۔ دوسری باراس کے تقریباً 4 سال بعد 2010ء میں تین؛ سکول العرفان سکول وٹوانوالہ، الصفہ سکول دلیوالی اور الصفہ گرلز سکول موچھ بھی پیف کے ساتھ منسلک ہو گئے۔ تیسری باراس کے ٹھیک 2سال بعد2012 میں تین سکول؛ اسلامک آکسفورڈ سکول موچھ، جناح گرلز سکول خان محمد والا اور سلطان پروگریسو سکول دلیوالی اس کا حصہ بنے۔ اس کے ٹھیک 2 سال بعد2014 ء میں تین سکول؛ النور سکول، العلیم سکول محمد یار والا اور بسم اللہ سکول موچھ اس گروپ میں شامل ہو گئے اور اس سلسلے کی آخری کھیپ 2015 میں دو سکول؛ منہاج سکول موچھ اورالصفہ سکول بستی کی تھی۔

اس کے بعد ہمارے قرب و جوار میں کوئی سکول پیف کا حصہ نہیں بنا۔ اس مختصر تاریخ کا مقصد قارئین کو یہ دکھانا ہے کہ کس سکول کو پیف کے ساتھ کام کرتے کتنا عرصہ گزرا ہے۔

محمد شعیب خان نیازی آف موچھ

پیف سے قبل ہم تمام سکولوں والے طلبا سے فیسیں لیتے تھے اور تقریباً ہر سکول میں نادار، یتامیٰ اور حفاظ قرآن کی مکمل فیس معاف ہوتی جبکہ ایک سے زیادہ بہن بھائیوں کے داخلوں کی صورت میں فیس میں کافی رعائتیں ہوتی تھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سو فیصد ریکوری بھی نہیں ہوتی تھی۔ بہت مشکل سے ادارہ اوراس کے اساتذہ اپنے دن گزارتے تھے۔ میں نے خود الصفہ ماڈل بوائزمیں 1500روپےماہانہ پر ڈیڑھ سال کام کیا۔ ڈیڑھ سال بعد اچھی کارکردگی کی بنیاد 300روپےاضافے ساتھ1800روپے ماہانہ پر لمبا عرصہ کام کیا اور اس تنخواہ پر مجھے اپنے ادارے سے کوئی گلہ نہ تھا کیونکہ مجھے ادارے کی آمدن اور وسائل کا خوب پتا تھا۔ اورتقریباً ہرادارےکی ایسی ہی کہانی تھی۔ بعض ادارے تو اس سے بھی کم تر حالات کا شکار ہوتے تھے۔

پیف میں آنے کے بعد ہر ادارے کو تمام طلبا کی مکمل فیس ملنا شروع ہو گئی۔ اس طرح امیر، غریب، لاچار، زیادہ بہن بھائی، یتیم ، آدھی فیس والے، ریکوری نہ ہو پانے والے الغرض تمام طلبا کی مکمل فیس ملنا شروع ہو گئی۔ اس طرح ادارے کی آمدن میں خاطر خواہ اضافہ ہو جاتا اور اساتذہ کو پہلے کی نسبت زیادہ بہتر تنخواہیں دینے کے باوجود ادارے کی بچت پیف میں آنے سے پہلے کی نسبت بہت زیادہ ہو جاتی ہے۔

اب میرا مؤقف یہ ہے کہ جب ہم پیف میں آنے سے پہلے بھی تو یتامیٰ اور ناداروں سے فیس نہیں لیتے تھے تو کیوں نہ اب ان کی ملنے والی فیس کو انھیں پر لگائیں، چلیں ان کی پوری فیس کو ان پر نہ لگائیں بلکہ آدھی فیس کو ہی ان پر لگا دیں تو اس طرح ہمیں ان کے لیے کسی سے مانگنے کی ضرورت بھی پیش نہیں آئے گی۔ ہم انھیں کہیں کہ بیٹا یہ جو پیسے ہم آپ کو دے رہے ہیں یہ ہمارا آپ پر احسان نہیں بلکہ آپ ہی کی فیس ہے جو پیف نے ہمیں دی ہے اور ہمارے ادارے کی پالیسی ہے کہ یتامیٰ کا خیال رکھے اس لیے ہم آپ سے آدھی لے رہے اور آدھی واپس کر رہے۔ اس طرح ان کی عزت نفس بھی بحال رہے گی اور ہمارے اوپر بھی کوئی خاص بوجھ نہیں پڑے گا۔ ہائی سکول کے ایک بچے کی ہمیں1100روپے ماہانہ فیس ملتی ہے اگر اس میں سے 500روپے ماہانہ بھی اسے واپس کر دیے جائیں تو سالانہ یونیفارم، سکول بیگ اور کاپیوں کے لیے اس بچے کو6000روپے دستیاب ہو جائیں گے۔

محمد شعیب خان جوش اور جذبوں کا بحرِ بیکراں اپنے سینے میں رکھتا ہے، ہم اس کے جذبوں کی قدر بھی کرتے ہیں اور اُن جذبوں کو کبھی ٹھنڈا بھی نہیں پڑنے دیں گے بلکہ اس کے سینے کی آگ سے مزید کئی ہزار چراغ جلائیں گے۔ شعیب خان آپ نے اور ہم نے ایک لاکھ یا سوا لاکھ اکٹھا نہیں کرنا، یہ بہت معمولی ٹارگٹ ہے۔ ہمارے اداروں اور اساتذہ کے اندر الحمدللہ اب اتنی جان ہے کہ اس طرح کے پراجیکٹس کا بوجھ تنِ تنہا خود اٹھا سکتے۔ مجھے اور آپ کو اور بہت سے کام کرنے ہیں، ہم سسکتی انسانیت کے علاج کے لیے کام کریں گے، ہم ان ذہیں بیٹیوں کو ایم بی بی ایس کروائیں گے جو محض اس وجہ سے دوسرے شعبوں میں چلی جاتی ہیں کہ انھیں پتا ہوتا کہ ان کا والد ان کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا، ہم ان بیٹوں کو ڈاکٹر بنوائیں گے جن کی آج کے دور میں بھی پاکٹ منی امیرزادوں کے نرسری کے بچے کی پاکٹ منی سے بھی کم ہوتی، ہم انجینئرز بنوائیں گے۔ میں نے زندگی میں کبھی بھی چھوٹے خواب نہیں دیکھے بلکہ چھوٹے خواب دیکھنے کو جرم سمجھتا۔ تم بھی چھوٹے خوابوں کو چھوڑو۔ ہم اپنے پیارے موچھ اور اس کے گردونواح کے نوجوان کو بامقصد، معتدل اور تحمل و برداشت والی زندگی گزارنا سکھائیں گے، بغض وعناد اور حسد سے پاک معاشرے کو جنم دیں گے۔

اور ایک آخری بات کہ اپنے اندر مخالف رائے کو سننے کا حوصلہ پیدا کرو، جس طرح تم چاہتے ہو کہ تماری ہر بات اور رائے کا احترام کیا جائے اور تمہاری نیت پر لوگ شک نہ کریں اسی طرح جو لوگ آپ کی اور میری کسی رائے یا عمل سے اختلاف رکھتے ہیں تو آپ کو اور مجھے بھی حق نہیں پہنچتا کہ ہم فوراً ان پر حاسد ہونے اور روڑے اٹکانے والے کا فتویٰ چسپاں کر دیں۔

طوالت کی معذرت

والسلام

25/مارچ 2018ء

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں