0

تعلیم کہانی۔۔۔جس طرح کا کہ کسی میں ہو، کمال اچّھا ہے

Mujeeb Niazi
صاحبِ تحریر: مجیب اللہ خان نیازی

بلدیاتی انتخابات 2015ء کی مہم کے دوران ایک شخص نے مولوی عظمت اللہ خان سے انتخابات کے متوقع نتائج کا پوچھا (اورراقم اس کا عینی شاہد بھی ہے) تو انھوں نے مختلف وارڈز اور محلوں کا متوقع جو رزلٹ بتایا تھا تقریباً 95 فیصد رزلٹ ویسا ہی آیا تھا۔ میں اس بات سے بہت متاثر ہوا کہ کس طرح ایک آدمی اپنے میدان میں پُراعتماد ہے کہ ایک ایک وارڈ کا ایسا رزلٹ بتایا جو بعد میں ہوبہو آیا۔ شایدغالب نے اسی کیفیت کے لیے ہی کہا تھا کہ:

 

ہم سخن تیشے نے فرہاد کو شیریں سے، کیا

جس طرح کا کہ کسی میں ہو، کمال اچّھا ہے

 

ایسا ہی ایک واقعہ حال ہی میں پیش آیا جب کلاس ہشتم کے پیک امتحانات کے بعد مجاہد ملت سکول کے منتظم آفتاب احمد خان کا کہنا تھا کہ ہمارا بچہ موجودہ امتحانات میں 460 سے470 نمبر لے گا۔ مجھے ہمیشہ پڑھنے پڑھانے، بچوں کے آگے بڑھنے، اساتذہ کے اپنے بچوں کے بارے اس قدر متفکر رہنےاور طلبا کی تعلیمی سرگرمیوں کو اس باریکی سے مانیٹر کرتے رہنے سے دل چسپی رہتی ہے، اس لیے میں بھی بہت مشتاق تھا کہ دیکھیں:

 

دیکھیے ،پاتے ہیں عشّاق بتوں سے کیا فیض

اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچّھا ہے

 

طے یہ ہوا کہ اگر آپ کا بچہ یہ ٹارگٹ حاصل کر لیتا ہے تو میں آپ کی کارکردگی کے اعتراف میں آپ کی ٹیم کو کھانا کھلاؤں گا اور اگر آپ یہ ٹارگٹ حاصل نہیں کر سکتے تو آپ کو غلط اندازوں کی سزا کے طور پر کھانا کھلانا ہوگا۔

آفتاب احمد خان

کل جب رزلٹ آیا تو ایسی حیرت ہوئی کہ نہ پوچھیں۔۔۔ طالب علم یاسر حمید نے 465 نمبر لیے۔ایک تویاسر حمید اور محمد ابو بکر(449)، ان کے والدین اوران کے تمام اساتذہ کو بے حد مبارک باد کہ آپ کے بچوں نے اس قدر شاندار مارکس لیے۔ دوسرا خصوصی خراجِ تحسین اور اعتراف آفتاب خان احمد کے لیے کہ پہلے میں جن باریک بین اساتذہ (جناب ملک محمد ممتاز، تعمیرِ نو سکول، محمد امیر شاہ دانش، سلطان پروگریسو سکول دلیوالی، ذکااللہ خان، جابر بن حیان سکول، تری خیل، عبد الکریم خان، لیڈر پبلک سکول سمندی والا،مواز خان، مثالی سکول غنڈی، حافظ محمد مشتاق خان، گورنمنٹ سکول سمند والا، محمد اسمٰعیل خان گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول موچھ، عشرت اللہ خان، الصفہ سکول بستی اور سب سے سرِ فہرست عزت ماب جناب محمد زمان ناصر صاحب اورکچھ خواتین اساتذہ جن کے یہاں نام لکھنا شاید ضروری نہیں) کے کام سے بے حد متاثر تھا، آپ اُن میں ایک خوب صورت اضافہ ہو۔ اور مجھے یہ کہتے ہوئے بھی کوئی تامل نہیں کہ آپ ان مذکورہ اساتذہ سے فی الحال زیادہ قابلِ تعریف ہو کہ آپ ایک مشکل وکٹ، طلبا کی کم تعداد، نسبتاً نو معروف یا کم معروف ادارے کے انتظامات سے برسرپیکارہو اور مزید یہ کہ آپ اس ادا رے سے جزوقتی منسلک ہو۔

میری خواہش ہو گی کہ نوجوان اساتذہ آفتاب خان اور مذکورہ بالا دیگر تمام اساتذہ سے مسلسل پیشہ ورانہ رہنمائی لیں۔ اس طرح نا صرف آپ کے بچوں کا معیارِ تعلیم بہترہوگا بلکہ آپ کی پڑھانےکی مہارتیں نکھریں گی اور آپ کی بحیثتِ معلم ذاتی کارکردگی بھی بڑھے گی۔ اور یہی چیز آج کے اس مقابلے کے دور کی اہم ضرورت بھی ہے۔

باقی۔۔۔ آپ سے کچھ گلے بھی ہیں وہ آپ بھی جانتے اور ہم بھی، اگر اس رزلٹ کی خوشی میں وہ گلے دور کر دو تو زیادہ اچھا لگے گا۔ اہلِ ذوق کی خاطر غالب کی پوری غزل نقل کی جا رہی ہے جس کا ایک مصرع اور شعر پوسٹ میں لکھا گیا ہے:

 

حسنِ مہ، گرچہ بہ ہنگامِ کمال، اچّھا ہے

اس سے میرا مہِ خورشید جمال اچّھا ہے

 

بوسہ دیتے نہیں، اور دل پہ ہے ہر لحظہ نگاہ

جی میں کہتے ہیں کہ مفت آئے تو مال اچّھا ہے

 

اور بازار سے لے آئے ،اگر ٹوٹ گیا

ساغرِ جم سے ،مرا جامِ سفال، اچّھا ہے

بے طلب دیں، تو مزہ اس میں سوا ملتا ہے

وہ گدا ،جس کو نہ ہو خوئےسوال، اچّھا ہے

ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق

وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچّھا ہے

 

دیکھیے ،پاتے ہیں عشّاق بتوں سے کیا فیض

اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچّھا ہے

 

ہم سخن تیشے نے فرہاد کو شیریں سے، کیا

جس طرح کا کہ کسی میں ہو، کمال اچّھا ہے

 

قطرہ دریا میں جو مل جائے تو دریا ہو جائے

کام اچّھا ہے وہ، جس کا کہ مآل اچّھا ہے

 

خضر سلطاں کو رکھے، خالقِ اکبر، سر سبز

شاہ کے باغ میں، یہ تازہ نہال اچّھا ہے

 

یکم اپریل 2018ء

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں