0

تعلیم کہانی۔۔۔ اب انھیں ڈھونڈ چراغِ رخِ زیبا لے کر

Mujeeb Niazi
صاحبِ تحریر: مجیب اللہ خان نیازی

 

 

مکرر وضاحت:اگست2017 میں میں نے اس بات کی خواہش کی تھی کہ مقامی سطح پر تعلیمی اداروں، تعلیمی شخصیات اور ہمارے معاشرے میں ان کے کردار اور اثرات پر مستقلاً لکھوں گا۔ ظاہر ہے یہ ایسا موضوع ہے جس میں مقامی افراد کی تو دل چسپی ہو سکتی لیکن فیس بک کے ہمارے دیگر(بیرون میانوالی) دوستوں کی دل چسپی نہ ہونے کے برابر ہو گی۔ اسی لیے میں نے لوکل تحریروں کو ایک مستقل عنوان ”تعلیم کہانی” دے دیا ہے تا کہ عنوان دیکھ کر ہی قاری یہ فیصلہ کر لے کہ آیا اس نے یہ تحریرپڑھنی بھی ہے یا نہیں۔

زیرِ نظر تصویروں میں سے ایک تصویر ہمارے ایک مقامی گاؤں محمد یار والا کی ایک گلی کی ہے۔ گلی کے جس طرف دیوار پر آپ کو کچھ اشتہارات نظر آرہے ہیں اس کی مخالف سمت میں 15-10فٹ کے فاصلے پر محورِ سائنس ہائی سکول کی عمارت ہے۔ گویا یہ اشتہار محورِ سائنس ہائی سکول کے مرکزی دفتر سے چند فٹ کے فاصلے پراس کے بالکل سامنے موجود ہے۔

پینا فلیکس پر مبنی یہ اشتہار موچھ کے سب سے پہلے اورعظیم سکول منہاج القرآن سکول کا اشتہار ہے۔ منہاج سکول نے نہ صرف موچھ کے نوجوانوں کو معیاری تعلیم سے آراستہ کیا بلکہ کئی بار ضلع بھر میں موچھ کی عزت و وقار بڑھانے کا سبب بھی بنا۔ اس اشتہار میں سکول کے بانی جناب غلام جعفر خان مرحوم و مغفور کی تصویر بھی نظرآرہی ہے۔ غلام جعفر خان موچھ کی تعلیمی دنیا کا عظیم کردار ہے۔ اس کی لازوال قربانیوں، کامیابیوں، اخلاص اوردانائی پر کتاب لکھی جا سکتی ہے لیکن اس وقت میرا موضوع کوئی اور ہے (تاہم ایک بات بتا دوں کہ غلام جعفر خان کی زندگی پر ایک اخباری آرٹیکل فروری 2018ء سے میرے پاس لکھا پڑا ہے لیکن اسے ٹائپ کرنے کی فرصت نہیں مل رہی۔ ان شا اللہ بہت جلد تمام لوکل اخبارات میں شائع ہوگا)۔

زیرِ نظر تصاویر میں سے دوسری تصویر ایک نوجوان، شاہ نواز خان کی ہے جو ریاضی میں ایم ایس سی ہیں اور جنہیں اپنے زمانۂ  طالب علمی میں ضلع بھر میں اول پوزیشن حاصل کرنے کا اعزازبھی حاصل ہے۔ اوریہ ایک حسین اتفاق ہے کہ میں نے اپنے مختصر دورِ سرکاری ملازمت میں گورنمنٹ ایلیمینٹری سکول محمد یار والا میں اس نوجوان کو کچھ عرصہ پڑھایا بھی ہے۔ اورمزید ایک حسین اتفاق یہ ہے کہ یہ نوجوان غلام جعفرخان مرحوم و مغفور کے مذکورہ سکول منہاج سکول موچھ میں بھی پڑھا ہے۔

شاہ نواز خان نیازی

آج کل جس قدر ہم پڑھے لکھے لوگوں کے اندر تنگ نظری، کم ظرفی، خود پسندی اور جھوٹی انا کی غلامی جیسی بیماریاں پیدا ہو چکی ہیں وہ معاشرے کے ان پڑھ یا کم پڑھے لکھے لوگوں کے اندرموجود نہیں۔ آپ ہمارے سامنے کسی دوسرے پڑھے لکھے شخص کا اچھے لفظوں میں نام لےلیںٗ غصے اور جھلاہٹ سے ہمارے چہرے کا رنگ سرخ ہو جائے گا۔ ہمارے منھ سے آگ اور جھاگ نکلنا شروع ہو جائے گی۔ اسی سوچ اور کم ظرفی کے شاخسانے ہیں کہ آج کسی بھی دوسرے سکول کی ہزاروں روپے کی قیمتی، خوب صورت اور بے ضرر پینا فلیکسز کو راتوں رات ہم ”معمارانِ قوم” یا ہمارے گائیڈڈ میزائیل دیواروں سے اتار پھینکتے ہیں یا انھیں پھاڑ دیتے ہیں۔ اس طرح کے عدمِ برداشت کے ماحول میں شاہ نواز خان آپ کو میں سلام پیش کرتا ہوں کہ آپ سے محض چند فٹ کے فاصلے پر کئی دنوں سے لگی منہاج سکول کی پینا فلیکس صحیح وسالم اور ثابت موجود ہے۔ خوش نصیب ہیں وہ اہلِ علاقہ جس کے بچوں کو تم پڑھا رہے ہو۔ ہمارے لیے بھی دعا کرو کہ ہمیں بھی ایسے مخالفین مل جائیں جو ہم سے آمنے سامنے بات چیت کر کے اور تعلیم کے میدان میں مقابلہ کریں۔ اس وقت تک تو ہمارے شہر میں بعض ”معمارانِ قوم” اور ان کے چیلوں کا سارے کا سارا زوردوسرے سکولوں کی پینا فلیکسز پھاڑنے پرہے۔

20/اپریل 2018ء

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں