
اگلے روز مجھے جی پی ایس جھنڈی خیل (مرکز سوانس تحصیل و ضلع میانوالی) جانے کا موقع ملا، اساتذہ کی تعلیم، پیشہ ورانہ مہارت اور تعلیم سے والہانہ وابستگی کا تو مجھے پہلے ہی پتا تھا کہ اُن میں سے اکثریت کو میں پہلے سے ہی جانتا تھا لیکن سکول کو پہلی بار دیکھنے کا موقع ملا.
تمام ہی کلاسز کچے پکے فرش پر بیٹھی تھیں۔ بلڈنگ انھی دو سرکاری کمروں پر مشتمل تھی تاہم چیئرمین یوسی جناب طارق خان اور اساتذہ کی اپنی مدد آپ کے تحت دو پختہ اور صاف ستھرے برآمدے بھی تھے جو نونہالانِ وطن کے لیے دھوپ اور بارش سے تحفظ فراہم کررہے تھے۔
میں نے ایک ٹیچر سےتصویر بنانے کی اجازت طلب کی جو انھوں نے بخوشی دے دی۔ تصویر لینے کا میرا مقصد یہ تھا کہ میں اِس ملک کے بڑوں، جن کے بارے میں ہمارے وزیرِ اعظم نے بجا طور پر کہا ہے کہ میں نے عمر بھر بڑے عہدوں پر چھوٹے لوگوں کو دیکھا ہے؛ کی منافقت، دوغلی اور ناقص پالیسی کی نشاندہی کروں گا کہ کس طرح آپ خود منافقت اور دو رنگی کا شکار ہو اور گھوم پھر کر سارا نزلہ اساتذہ پہ ڈال دیتے ہو۔
مقابلے کی اس فضا میں جہاں پرائیویٹ سیکٹر سرکاری سکولوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے وہاں آپ ایک پرائمری سکول کو کلاسز کی تعداد کے مطابق پورے سات کلاس رومز مہیا کیوں نہیں کرتے ہو؟ انھیں کم ازکم آٹھ اساتذہ کیوں نہیں دیتے ہو کہ ہر کلاس کے لیے ایک استاد ضرور ہو اور ایک آپ کی فضولیات پوری کرنے کے لیے سارا دن آپ کی کلرکی کرے۔ اگر پرائیویٹ سکول جسے آپ معمولی سی ٹیوشن فیس دے رہے ہو،اُس کے لیے بچے کو فرنیچر اور سیکیورٹی فراہم کرنا ضروری ہے تو آپ خود اس سے مستثنیٰ کیوں ہو؟

اس کے باوجود اس ملک کا ہر سرکاری استاد اپنی بساط سے بڑھ کر تگ و دو کر رہا ہے اور آپ کے بچوں کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کر رہا ہے۔ جی پی ایس جھنڈی خیل کے اساتذہ نے مستقبل قریب میں سکول میں ہونے والے ایک فنکشن کی تیاری کے کچھ حصے اُس موقع پر میرے سامنے بچوں سےادا (پرفارم) کروائے۔ میں حیران ہو گیا کہ کس باریک بینی سے یہ اساتذہ تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کو ہم نصابی سرگرمیوں میں بھی رہنمائی دے رہے اور ان کی مشقیں کروا رہے۔ ملی نغموں، ٹیبلو، تقاریراورکمپیئرنگ میں بچے اپنی مثال آپ تھے۔ ابھی تواس فنکشن کے انعقاد میں بہت سا وقت باقی بھی ہے:
ابھی تو اُس کو پانے میں عمر لگے گی پاگل دل
اس سے کیا کیا کہنا ہے وقت ملا تو سوچیں گے
میں اس سکول کے تمام اساتذہ:
جناب ہیڈماسٹرگل امیر خان صاحب
جناب سکندر خان صاحب
جناب آفتاب احمد خان
جناب مہرخان صاحب
جناب احمد نوازخان صاحب
محترمہ بنتِ حوا صاحبہ
کی کاوشوں اور لگن کو خراجِ تحسین اور سلام عقیدت پیش کرتا ہوں جن کا دعویٰ ہے کہ جی پی ایس جھنڈی خیل تعلیم کے ہر شعبے میں کسی بھی پرائیویٹ سکول کا چیلنج قبول کرنے کو تیار ہے۔
افسرانِ بالا (ضلع کے سب سے بڑے افسر سے لے کر اوپر پنجاب لیول کے تمام ذمہ داران) کے لیے اتنا عڑض کروں گا کہ اصل مسئلے کو سمجھ کر اس کا حل تلاش کیا جائے نہ کہ ٹیچر کو آسان ہدف سمجھتے ہوئے اُس کی تذلیل کا روز کوئی نہ کوئی نیا ڈرامہ رچایا جائے۔
گماں تم کو کہ رستہ کٹ رہا ہے
یقیں مجھ کو کہ منزل کھو رہے ہو
9/اکتوبر 2018ء