0

تعلیم کہانی۔۔۔بڑے عہدے چھوٹے لوگ

Mujeeb Niazi
صاحبِ تحریر: مجیب اللہ خان نیازی

حافظ مشتاق خان کو میں 1999ء سے جانتا ہوں۔ اور ہر وہ شخص جو انھیں جانتا ہے وہ انھیں خوش اخلاق، خوش گفتار، وضع دار، با کردار، دیانت دار، حیادار، صاحبِ علم، اعلیٰ درجے کا معلم اور باکمال انسان کہے بغیر نہیں رہے گا۔ میں حافظ مشتاق خان کا سب سے بڑا ناقد ہوں۔ ان پر لاکھ تنقید کرنے کے باوجود یہ کہوں گا کہ ان سے نفیس انسان میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا۔

حافظ محمد مشتاق خان

آج انھیں ایک کم ظرف افسر نے محض اس لیے معطل کر دیا کہ حافظ مشتاق خان نے ان کی چاپلوسی نہیں کی۔

مشتاق خان! ہمیں تم پر فخر ہے کہ تم نے چاپلوسی کے بجائے غیرت کا راستہ اپنایا ہے۔ تم اساتذہ کمیونٹی کے ساتھ روا رکھے جانے والے ذلت آمیز رویے کے خلاف باغی ثابت ہوئے ہو۔ آج تمہارا دوست ہونے پر ہمارے فخر کا دن ہے۔

مشتاق خان جو تمہیں جانتے ہیں اور جو اس غلیظ ذہنیت کے حامل افسر کو بھی جانتے ہیں وہ تمہاری انکوائری سے قبل اس بدطینت افسر کو نکیل ڈال دیں گے۔ان شا اللہ۔

پوری اساتذہ کمیونٹی کو تمہارے ساتھ کھڑے ہونے میں عزت اور فخر محسوس ہوگا۔ میں بحیثیتِ استاد تمہارے کارنامے نہیں گنواؤں گا کہ تم بحیثیت استاد چھوٹے چھوٹے کارناموں سے بہت بلند ہو۔

آپ سے محبت ہے ہمیں اور ہم تو محبت کا حق ادا کریں گے ان شا اللہ۔

غالبا حبیب جالب نے کسی ایسے ہی موقع پر کہا تھا:

 

خاک میں مل گئے نگینے لوگ

حکمران بن گئے کمینے لوگ

 

10/اپریل 2019ء

 

ضمیمہ:

سی ای او ایجوکیشن!!!

سن لو! حافظ مشتاق خان اور تمہیں جو لوگ جانتے ہیں انھیں سمجھانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

حافظ مشتاق بذات خود ایک حوالے کانام ہے. اور تم۔۔۔

اور تمہارا حوالہ بھی تمہارے یہاں جوائن کرنے سے پہلے پہنچا ہوا تھا۔

اعظم کاشف، سی ای او ایجوکیشن، میانوالی

ہمت کرو۔ اپنا زور آزماؤ۔اب ہمت نہ ہارنا۔

ہم بھی دیکھتے ہیں کہ کس کے حصے میں عزت اور کس کے حصے میں ذلت آتی ہے۔ان شا ء اللہ

10/اپریل 2019ء

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں