
ہماری سوچی سمجھی رائے ہے کہ اس ملک پر اگر کسی نے حقیقی حکمرانی کی ہے تو وہ سول اور خاکی بیورو کریسی ہی ہے۔ جن ادوار کو ہم سیاسی ادوارِ حکومت کہتے ہیں ان میں بھی ملک کے حقیقی حکمران یہی دو رہے ہیں۔ اور سیاست دانوں کی اکثریت تو فقط میرؔ کے شعر کی حقیقی تصویر بنی رہی ہے:
نا حق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی
چاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بد نام کیا
ہم اکثر نجی محفلوں میں سول بیورو کریسی جسے کچھ لوگ بجا طور پر بُرا کریسی بھی کہتے ہیں؛ کو سدا بہار بد عنوان یا ever green corrupt کہتے ہیں۔ اسے یہ اعزاز بھی حاصل کہ یہ محض کرپٹ ہی نہیں بلکہ اس کی اکثریت نا اہل، پست ذہن اور ذہنی معذور بھی ہے۔ کاش ماہرین نفسیات کسی ایسے ٹیسٹ کو متعارف کرا دیتے جس سے یہ پتا چل جاتا کہ زیر معائنہ شخص کتنا اذیت پسند اور گھٹیا ہے۔ اس کے بعد ذہنی پستی، اذیت پسندی اور گھٹیا پن کے حامل کسی شخص کو عمر بھر کم از کم سرکاری نوکری نہ دی جاتی۔
ہمارے ایک بھائی ہیں محمد مشتاق خان۔ اگر اُن کی ہم تعریفیں لکھنا شروع کریں تو کئی صفحات کا مضمون بن جائے لیکن آج اُن کی تعریف و توصیف کا کوئی ارادہ نہیں۔ موصوف کو اگلے روز ایک پست ذہن انتظامی افسر نے سکول سے غیر حاضر کر دیا۔ وجہ یہ تھی کہ وہ سکول حاضر تو تھے لیکن حاضری رجسٹر پر اُن کی حاضری نہ لگی تھی۔ حاضری نہ لگانے کی وجہ شاید یہ بنی کہ جس وقت وہ سکول پہنچے اُس وقت تک وہ ذہنی معذور افسر بھی سکول پہنچ چکا تھا۔ کم ظرف افسران نے چونکہ سکول وزٹ کے دوران ہر حال میں یہ باور کرانا ہوتا کہ وہ ناصرف دنیا جہان کے ایمان دار اور فرض شناس فرد ہیں بلکہ انھیں یہ بھی یقین دلانا ہوتا کہ وہ با اختیار بھی ہیں؛ اس لیے وہ آتے ساتھ ہی حاضری رجسٹر پر جھپٹتے ہیں۔ مشتاق خان ایک با وقار اور خوددار شخص ہیں تو انھوں نے حاضری لگانے کے لیے موصوف سے رجسٹر مانگنے کے بجائے اسمبلی جانے کو ترجیح دی ہوگی۔ گویا انھوں نے افسر کو کہا:
زندگی اتنی غنیمت تو نہیں جس کے لیے
عہدِ کم ظرف کی ہر بات گوارا کر لیں
پست مزاج افسر کو سکول کا شریف النفس اور فرض شناس ہیڈ ماسٹر کہتا رہا کہ جسے آپ غیر حاضر کر رہے وہ سامنے کھڑا ہے لیکن کالے وائسرائے صاحب نے ایک نہ سنی۔
اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا کہ اگر معلم کے حاضر ہونے کے باوجود رجسٹر پر حاضری ہی زیادہ اہم ہے تو پھر اِس استدلال کے مطابق اُس شخص کی تو عام معافی ہو گی جس کی رجسٹر میں حاضری تو لگی ہو لیکن وہ عملاً سکول حاضر نہ ہو؟ ایسا قطعاً نہیں۔ رجسٹر حاضری ایک سکول ریکارڈ ضرور ہے مگر وہ بے جان اور گونگا، بہرہ، اندھا ریکارڈ اتنا بھی اہم اور مستند نہیں کہ سامنے عاقل بالغ جاندار انسان موجود ہوں اور اُن کو سنا، دیکھا اور محسوس نہ کیا جائے۔
ہم مشتاق خان کی صفائی قطعاً نہیں دیں گے بلکہ اُن کی صفائی کے لیے کچھ نام پیش کریں گے۔ محکمہ تعلیم کے اذیت پسند اور بد طینت افسر کو چاہیے کہ وہ مندرجہ ذیل افراد سے مشتاق خان کے اخلاق و کردار اور فرض شناسی کی گواہی لے لے اور گواہی آ جانے کے بعد اپنے گریبان میں بھی جھانک لے۔
سب سے پہلے تحریک انصاف کی مقامی اور ضلعی قیادت کو لے لیتے ہیں۔ موصوف افسر مشتاق خان کے بارے تحریک انصاف کے سابق ضلعی صدر شاہد حمید خان سے گواہی لیں، سابق جنرل سیکرٹری اسحٰق خان عاصم کامری سے مشتاق خان بارے معلومات لیں، مزاحمت کی علامت اور ضلع کی معروف ترین سماجی شخصیت مولوی عظمت اللہ خان سے گواہی مانگیں۔ سابق ایم پی اے و سابق ضلعی صدر ڈاکٹر صلاح الدین خان سے مشتاق خان کی بابت پوچھیں۔ موچھ سے چیئرمین کے امیدوار طارق مجید خان سے مشتاق خان کے بارے پوچھیں۔ سوانس کے منتخب چیئرمین طارق اقبال خان سے حافظ صاحب کا احوال لیں۔

حافظ مشتاق خان کے سینکڑوں شاگرد اس وقت ملک کے طول و عرض میں کئی اہم عہدوں پر بیٹھ کر ملک و قوم کی خدمت میں مصروف ہیں، آپ اُن سے حافظ صاحب کے بارے معلومات لیں۔ اور اگر یہ سب گواہیاں غیر معتبر جانیں تو اپنے محکمے کے معتبر ترین نام جناب ساعد رسول ملک، ڈی ای او سیکنڈری و سابق سی ای او میانوالی سے مشتاق خان کا قد کاٹھ معلوم کر لیں۔
ہم آپ کی خدمت میں فقط اتنا کہیں گے کہ اگر ایک دن کے لیے آپ اور آپ کے کئی بڑوں کو حافظ مشتاق خان کی شاگردی نصیب ہو جائے تو آپ انسانیت، تہذیب، اخلاق، فرض شناسی، شائستگی، ایمان داری، کردار اور تعلیم و تدریس کے حقیقی معانی سے آشنا ہو جائیں گے۔
20/جنوری 2022ء