0

تعارف کتب…دل کو سکون روح کو آرام آ گیا

Mujeeb Niazi
صاحبِ تحریر: مجیب اللہ خان نیازی

فیض احمد فیض نے ایک جگہ لکھا تھا ، ہم آ گئے تو گرمئی بازار دیکھناٗ۔ ڈاکٹر حنیف نیازی کے بارے بھی یہی دعویٰ کیا جا سکتا ہے کہ جس بازار میں جائے اُس بازار کی گرمی اور تیزی دیکھنے والی ہوتی ہے۔ کھلنڈرے تھے اُس بازار کی رونق بڑھائی۔ مزدور بنے تو مزدوروں کی شان بڑھائی۔ سچے اور سُچے طالب علم بنے تو اساتذہ کو اپناگرویدہ بنا لیا۔ ڈاکٹر بنے تو اُن کے مریض، مریض کم اور مُرید زیادہ بن گئے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے سماج اور سماجی مسائل سے مخاطب ہوئے تو مداحوں کی لمبی قطار اپنے پیچھے لگا لی۔ایک تعلیمی ادارے کو چلانے کی ٹھانی تو ہزاروں طلبا، والدین اور علم دوست شخصیات کو اپنا گرویدہ بنا لیا ۔

آج مگر ہمارا موضوع یہ سب کچھ نہیں بلکہ ڈاکٹر صاحب کی زندگی کے ایک اور پہلو اور اُن کی زندگی میں نمایاں کردار ادا کرنے والے رول ماڈل سے تعارف مقصود ہے۔ اوروہ ہیں ڈاکٹر صاحب کی ْامّاںٗ۔

ڈاکٹر صاحب نے خواہ مخواہ ہی اپنی اماں پہ قبضہ جما رکھا ہے۔ بھئی یہ جو اماں، ماں، امی جی، اماں جی، امی جان اور ماں جی ہوتی ہے اِس کا تعلق کسی ایک بیٹے سے نہیں ہوتا اور نہ ہی اس پر کسی ایک ڈاکٹر حنیف کا اجارہ ہوتا ہے بلکہ یہ محبت کا ایسا لازوال چشمہ ہے کہ کم ہونے کی بجائے بڑھتا ہی بڑھتا چلا جاتا ہے۔ دنیا کی ہر ماں فقط ْماںٗ ہوتی ہے ۔

لہٰذا زیرِ تبصرہ  اماں؛ منور خاتون فقط ڈاکٹر صاحب کی اماں نہیں ہیں بلکہ ہم سب کی اماں ہیں۔ سر تا پا ماں۔۔۔ سر تا پا محبت۔۔۔

آئیں محبت کے اس زمزمے سے فیض پاتے ہیں:

ذرا ملیے ناں اُس ماں سے جس کا جوان صحت مند بیٹا ہے اس کے باوجود یہ ماں محنت مزدوری کر رہی ہے۔اُجرت پر جانور پال رہی ہے۔ کھیتوں کھلیانوں سے رزق تلاش کر رہی ہے۔ شادی بیاہ پر اپنے ہی وسیب میں جہاں  شہزادیوں کی طرح اُس کا بچپن گزرا ہو گا اور کس قدر چاؤ اور محبت سے دلہن بنی ہو گی؛ اُسی وسیب میں مگر دیکھو وہ برتن مانجھ رہی ہے۔پکوڑے بیچ رہی ہے۔ وہ اجرت پر گندم کاٹ رہی ہے کیونکہ اُس نے اپنی آنکھوں میں اپنے بیٹے کے بہتر مستقبل کا خواب جگا رکھا ہے۔ ایسا خواب جو اگرچہ بہت دھندلا  بھی ہے اور جسے  منور خاتوں کےآس پاس والا ہر بندہ مایوسی کی باتیں کر کے مزید دھندلا کر دیتا ہے مگر وہ کوہ ہمالیہ  کی طرح سینہ تان کر کھڑی  رہتی ہے۔ آج جب ہم یہ سطور لکھ، پڑھ اور برت رہے ہیں اِن میں اُس طویل رات کا کرب قطعاً محسوس نہیں کیا جا سکتا جو رات اُس لمحے کاٹی جا رہی تھی اور جس کی سحر ہونے سے پہلے بعض اوقات فولادی روحیں بھی  پگھل جاتی ہیں۔ لیکن وہ ماں اس لیے نہیں پگھلی کہ بقول ڈاکٹر حنیف نیازی:

وہ ایک بہادر عورت تھیں

وہ ایک خوددار بیوی تھیں

وہ ایک پرجوش ماں تھیں

وہ مشکل حالات سے لڑنا جانتی تھیں

وہ کسی صورت بھی

غربت سے

ہارنا نہیں چاہتی تھیں

اُس اماں جی کے ایمان و یقین سے بھی پر نم آنکھوں  کے ساتھ فیض پائیے جو آئینے کے سامنے بیٹھ کر ایک ایک کر کے اپنی بالیاں اتارتی جا رہی ہے اور ساتھ ساتھ اپنے شریکِ حیات کو بھی حوصلہ دے رہی ہے کہ تم فکر نہ کرو ہمارا بیٹا پڑھ لکھ جائے گا تو مجھے نئی بالیاں بنوا دے گا۔بھلا بتائیں ناں کہ اُس ماں کو یہ سب کچھ کس یونیورسٹی نے سکھایا تھا! اس ماں نے کس موٹیویشنل سپیکر کا سیشن لیا تھا!کس نے اُسے اِس ایثار کے لیے تیار کیا تھا! کس نے اُسے پر امید  رہنا سکھایا تھا! اقبال نے شاید ایسے ہی لمحوں میں کہا ہو گا:

ع                     فطرت خود بخود کرتی ہے لالے کی حنا بندی

اور آئیں اب اُس نفسیات دان اماں سے بھی مل لیں جو اپنے لختِ جگر کی فرمائش پر اسے ْبھونیٗ سے سالن (کاش ہر قاری کو بھونی کے سالن کا پتا ہوتا) بھی نکال کر دے رہی ہیں لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی سکھاتی جا رہی ہیں کہ اس عمل میں ایک خرابی بھی ہے۔ اور اس خرابی کو کس حسنِ بیان سے کام لیتے ہوئے کہتی ہیں کہ اس طرح کرنے سے ہنڈیا  ْخرابٗ  ہو جاتی ہے۔

اور وہ روایتی ماں جو اپنے بیٹے کو جب لمبا عرصہ ذاتی گاڑی استعمال کرتےدیکھتی چلی آ رہی ہیں اور آج جب اُس کا بیٹا  بوجہ مجبوری گاڑی فروخت کرچکا ہے اور وہ  اُس کی آنکھوں کے سامنے پیدل گھر سے نکل رہا ہے تو وہ مضبوط چٹان جو کل اپنی بالیاں اتارتے ہوئے اپنے خاوند کو حوصلہ دے رہی تھی آج اُس کی مامتا سے فقط چند دن کے لیے ہی سہی اپنے بیٹے کا گاڑی سے محروم ہونا  برداشت نہیں کر پاتی اور وہ اپنے بیٹے کو بانہوں میں بھینچ کر آنسوؤں کو روک نہیں پاتی۔ ۔۔ مائیں بھی کیا چیز ہیں !!! کبھی پتھر۔۔۔ کبھی موم۔۔۔

ہماری والدہ چھ سال ڈائیلاسس پر رہیں۔ ان کا بلڈ گروپ او نیگیٹو تھا۔ گھر میں سوائے ہمارے چھوٹے حبیب اللہ خان (اے ایس آئی پنجاب ہائی وے پٹرول) کے کسی دوسرے فرد کا  بلڈگروپ اُن کے خون کے گروپ سے میچ نہیں کرتا تھا۔ لہٰذا اُنھیں اکثر ہمارا چھوٹا بھائی حبیب اللہ خان خون عطیہ کرتا۔ وہ جب بھی عطیہ کرتا تو والدہ سے چھپ کر کرتا۔ اور جب بھی اُنھیں خون لگایا جاتا وہ بار بار حبیب اللہ سے کہتیں کہ تم نے تو خون نہیں دیا ۔ وہ ٹال جاتا تو کہتیں کہ تم جھوٹ بول رہے ہو۔ تمھارے چہرے سے کمزوری جھلک رہی ہے۔ حالانکہ جن لوگوں نے حبيب اللہ کو دیکھا ہوا ہےوہ قطعاً نہیں کہیں گے کہ حبیب اللہ کے چہرے سے کبھی بھی کمزوری جھلکی ہو۔اسی طرح ڈاکٹر حنیف نیازی کے چہرے سے بھی کبھی کمزوری جھلکی ہے اور نہ ہی کبھی وہ کمزور ہوئے ہیں لیکن ان ماؤں کا کیا کیجئے کہ ایک کو حبیب اللہ کمزور لگتا ہے تو دوسری کو ڈاکٹر حنیف نیازی!

ڈاکٹر صاحب کے فن پارے  ْوہ بھینس نہیں امید تھیٗ میں آپ کو جو کچھ نظر آتا ہے وہ فقط ماں کی عقیدت و محبت تک موقوف نہیں۔ اس فن پارے میں ہم غریبوں کے گھروں کی، ہماری ثقافت کی،  ہمارے شب روز کی، ہمارے معاشی مسئلے اور ہماری روزی روٹی کے بارے سوچ بچار کی اورہم پینڈوؤں کی اپنے مستقبل بارے تشویش(concern)کی عکاسی موجود ہے۔ایک قناعت پسند، غریب  مگر اعلیٰ ظرف ماں کس طرح اپنے بچوں کا منہ کا نوالہ، اپنی محبت اور اپنی سہیلی گنوا چکنے کے باوجود اپنے بھتیجوں اور بھائیوں کو دعا دیتی نظر آتی ہے۔یہ الگ بات کہ  بالآخر  وہ نا صرف خودضبط کا بندھن توڑ دیتی ہے بلکہ اس فن پارے کو پڑھنے والا ہر فرد ضبط کے اس بندھن سے آزاد ہو جاتا ہے۔ شاید فراز نے کسی ایسے ہی لمحے کے لیے کہا تھا:

؎            ضبط لازم ہے مگر دکھ ہے قیامت کا فراز

ظالم اب کے بھی نہ روئے گا تو مرجائے گا

ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ انسان کا ایمان گھٹتا اور بڑھتا رہتا ہے۔ اسی طرح انسان کی قلبی کیفیات، اس کے ارادوں کی طاقت،ارادوں کا ضعف یہ سبھی گھٹتے بڑھتے رہتے ہیں۔ انسان اللہ تعالیٰ کی حسین ترین مخلوق اور اِس مخلوق کا دل اور احساسات انسان کی حسین ترین متاع ہیں۔ یہی معاملہ ہماری پیاری ماں کے ساتھ بھی ۔۔۔ بیٹے کو ذرا سی مشکل میں محسوس کیا تو جھٹ سے اپنے کڑے بیچنے کے درپے ہو گئیں۔ ذرا چشم تصور سے ایک ماں کے ان جذبات کو دیکھیے اور دل سے محسوس تو کیجئے! آنکھیں اشکبار نہ ہو جائیں، دل بے قرار نہ ہو جائے تو پھر بتائیں۔

ہم نے شروع میں عرض کیا کہ سبھی مائیں ایک جیسی ہوتی ہیں۔ سراپا محبت۔ بلاتخصیص محبت، ایثار، وفا، شکر، بلند حوصلگی اِن کا وصف ہوتا ہے۔ ڈاکٹر حنیف نیازی ہم سے زیادہ کامیاب بہت جلد ماں ڈھونڈ لیتے ہیں۔ بہت جلد بیٹے بن جاتے ہیں۔ اِن تحریروں ڈاکٹر صحب اپنی کئی دوسری ماؤں سے بھی ہمیں ملواتے ہیں۔ شکیل خان کی اماں سے پرفیوم، ایک اور ماں سے دودھ کی بوتل، داؤد خیل کی اماں سےگھنگڑیاں اور کھباڑاں والا سے ایک ماں کی طرف سے بھیجے گئے انڈوں اور دیسی مرغ کے سالن سے مجھے پروین شاکر کا شعر اور اس شعر سے ایک اور واقعہ یاد آ گیا ہے۔آپ بھی سن لیجئے:

؎            میں تیرا نام لے کے تذبذب میں پڑ گئی

سب اپنے اپنے عزیزوں کو رو لیے

ہمیں بھی اپنی بیگم یاد آ گئیں جو الحمد للہ ایک ماں بھی ہیں۔ ہمارے اکلوتے 13 ماہ کے  بیٹے؛عمر نجیب کی وفات پر جو بھی تعزیت کے لیے آتا تو میں بیگم کو حسب موقع چائے/کھانے کا کہتا کہ عمر کے مہمان آئے ہیں۔ وہ اپنے مرحوم بیٹے کا غم بھول جاتیں اور خوشی خوشی اپنے اُس بیٹے جو منوں مٹی تلے جا سویا تھا؛ کے مہمانوں کے لیے چائے پانی کا انتظام کرنے لگ جاتیں۔ ایک دن خدا کی کرنی ایسی ہوئی کہ ہم گھر نہ تھے اور حاجی منظور احمد خان، تری خیل(المعروف حاجی شیکا خان)  عمر بیٹے کی تعزیت کے لیے تشریف لائے۔ فوتگی کو کافی دن گزر چکے تھے۔ میری بیگم نے دستک کا جواب دیا تو جناب منظور خان نے کہا کہ بھائی مجیب کو بتائیے گا کہ میں تعزیت کے لیے آیا تھا۔ ہم گھر پر آئے تو کیا تھا کہ بیگم کا ایک ہی اصرار تھا کہ وہ عمر کے مہمان تھے کچھ کھائے پیئے بغیر  چلےگئے ہیں۔ آپ خوداُن کے پاس جائیں اور انھیں شکریہ کہیں۔اُن سے معذرت کریں۔ یہاں ہماری کھباڑاں والا سے تعلق رکھنے والی ماں کی بھی اس لیے تسلی نہیں ہوتی کہ میرا بیٹا ڈاکٹر حنیف رمضان شریف میں آیا اور میرے گھر سے کچھ کھائے پیئے بغیر واپس چلا گیا۔ اور پھر یہ عظیم ماں دیسی انڈوں اور  دیسی مرغ کے سالن کے تحفہ بھیجنے سے کم پر راضی نہیں ہوتیں۔

ڈاکٹر حنیف نیازی بجا کہتے  ہیں کہ بھلا ماؤں کو راضی کرنا اور انھیں خوش رکھنا بھی کوئی مشکل کام  ہے!!! بس اس کے لیے کچھ عرصہ ڈاکٹر صاحب کی شاگردی کیجئے اور مائیں بناتے چلے جائیے۔ دعائیں سمیٹتے چلے جائیے۔

امید ہے اب آپ ہم سے اکتا بھی چکے ہوں گے اس لیے آخر پہ مختصراً صاحبِ کتاب کے بارے بھی بات کر لیتے ہیں اور پھر آپ کو ہم جانے کی اجازت دے دیتے ہیں۔

ڈاکٹر صاحب کوئی روایتی لکھاری نہیں اور ہم  فلیپ نگار ہیں اور نہ ہی دیباچہ نویس اس لیےآپ کہہ سکتے کہ:

؎                        قیس صحرا میں اکیلا ہے مجھے جانے دو

خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں دیوانے دو

اس وقت چونکہ آپ دو دیوانوں کے ہتھے چڑھ چکے ہیں اس لیے ہمیں کچھ دیر مزید برداشت کر لیں۔

ہم سمجھتے ہیں کہ صاحبِ کتاب کے ہتھے آبِ حیات چڑھ گیاہے اور وہ چاہتا ہے کہ معاشرے کا ہر جوان ، ہر بیٹا اور ہر بیٹی یہ آبِ حیات پیتا جائے اور لازوال بنتا جائے ، کامیاب قرار پاتا جائے۔وہ آبِ حیات ہے سو چ کی تبدیلی کا۔ ْوہٗ  والی تبدیلی نہیں بلکہ کوئی اور تبدیلی؛ قلوب و اذہان کی تبدیلی۔  سافٹ ویئر کی تبدیلی۔  کامیابی اور ناکامی کے معیارات (standards) کی تبدیلی۔ معاشرے کو لاحق بنیادی مغالطوں (misconception ) کی تبدیلی۔ غیرت اور بڑا آدمی کہلوانے کی بنیادی تعریف  (definition ) میں تبدیلی۔ اچھائی اور برائی کے تصورات کی یکسر تبدیلی۔

اگر ڈاکٹر صاحب کے دریافت کردہ اور جاری کردہ آبِ حیات کا نوجوان نسل کے منہ کو ذائقہ لگ جائے تو یہ جو حسین شہزادے وقت سے بہت پہلے تہہ خاک جا بستے ہیں۔ جن کی معصوم اور بد بخت بہنیں ، شہزادی بیٹیاں،  جوان سہاگنیں،  جوانی میں ہی مرجھا جاتی ہیں؛ جن کی مائیں جیتے جی ہی مر جاتی ہیں۔ جو جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے چلے جاتے ہیں۔ جو روزانہ اپنی عزتِ نفس کو  جیل کی بیرکوں،  جیل کے چکر ، جیل کی ڈیوڑھی اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے سامنے پیشی اور دورے پہ پامال ہوتا دیکھتے ہیں اور جن سے وابستہ ہر رشتے کی زیادہ تر زندگی کورٹ کچہریوں کی راہداریوں میں گزرتی ہے ؛وہ سارے حسین شہزادے ہمارے دائیں بائیں ہوں گے۔ ہمارے ساتھ خوب صورت زندگی جیئیں گے۔

ڈاکٹر صاحب کی اپنی قوم کو آبِ حیات پلانے کی شدید خواہش اِن تحریروں کا سبب بنتی ہے۔ انھیں ہر وقت اپنے ماں باپ کے قدموں میں رکھتی ہے۔ انھیں جا بجا اپنے مکرم سید عطا محمد شاہ کی قبر پر حاضری کے لیے مجبور کرتی ہے اور انھیں دعائیں دینے پر آمادہ کرتی ہے۔

یہی خواہش انھیں غریب بچوں کے ہاتھ میں بندوق کی بجائے کتاب اور قلم تھمانے کی  عملی کوشش پر مجبور کرتی ہے۔ انھیں رول ماڈل بن کر اپنی جیب سے ایثار کرنے پہ مجبور کرتی ہے۔ یہی خواہش ہے جو انھیں قول و فعل کے تضاد سے بچاتی ہے اور جب کوئی غریب اِن کی گائے اُجرت پر پالتا ہے تو اُس گائے کے بٹوارے کے وقت وہ گائے اپنے پاس لے آنے کے بجائے اُسے  پالنے والے مزدورکے حوالے کرنے پر آمادہ  کرتی ہے۔ انھیں جا بجا  ْاماںٗ کے ذکر کرنے اور جگر مراد آبادی کےاِس شعر کو  دن رات کاوظیفہ بنانے پہ مجبور کرتی ہے:

؎            جب کوئی ذکر گردشِ ایام آگیا

بے اختیار لب پہ تیرا  نام آگیا

مجیب اللہ خان نیازی

ڈیرہ نجیب اللہ، موچھ، میانوالی

24جنوری2025ء

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں