
سوات میں ایک بہت بڑا سانحہ ہوا جس میں پورا خاندان دریا کی طوفانی لہروں میں ڈوب گیا۔ یہ لوگ پنجاب سے سیروسیاحت کی غرض سے یہاں آئے تھے اور دریائی پانی کے راستے میں بنے ہوٹل پر بیٹھے ہوئے تھے کہ طوفانی ریلہ آگیا۔ اللہ تعالیٰ تمام مرحومین کی مغفرت فرمائے۔ آمین
بلوچستان میں کام کرتے ہوئےجون سنہ 2008ء میں میں خود بالکل اسی طرح کے حادثے کا شکار ہوا تھا لیکن اللہ نےحفاظت کی اور ہم ایک بیلے پر دریا کی طوفانی لہروں میں پوری رات گزارنے کے باوجود محفوظ رہے ۔ الحمدللہ
اس سانحے کا سبق یہ تھا کہ ہم نےاپنے مقامی دوستوں کے منع کرنے کے باوجود دریائے ناڑی کراس کرنے کی کوشش کی تھی لیکن دریا کے درمیان میں سیلابی ریلے نے ہمیں آلیا تھا۔پھر انھی مقامی دوستوں کی لوکل وزڈم پر عمل کرتے ہوئے ہم پانچوں نے ایک دوسرے کے ہاتھ مضبوطی سے پکڑتے ہوئے ایک انسانی گٹھا بنالیا تھا جس سے دریا کے پانی کے لیے ہمیں دھکیلنا مشکل ہوگیا تھا اور ہم دریا کے اندر ایک قدرتی بیلے پر پہنچنے میں کامیاب ہوگئے تھے جس کے ارد گرد ساری رات طوفانی ریلہ چلتا رہا تھا۔اس واقعے کی تفصیل میں #بیلے_پر_رات کے عنوان سے جون2020ء میں تین اقساط میں ایک پوسٹ لکھ چکا ہوں۔
میدانی علاقوں سے سیروسیاحت کی غرض سے پہاڑی علاقوں میں جانے والے بھائی بہنوں کو بھی مقامی افراد کی ہدایات پر ضرور عمل کرنا چاہیے۔سکولوں کالجوں میں زندگی بچانے والی ایکسرسائزز کی تعلیم ضرور ہونی چاہیے۔لیکن ان سب سے ضروری ہے کہ پانی کے راستوں میں ہوٹل بنانے پر سختی سے پابندی ہو اور سیاحتی علاقوں میں حکومتی سطح پر ریسکیو کا ادارہ انتہائی سریع الفعال ہو۔
سوات سانحے میں کافی ریسپانس ٹائم ہونے کے باوجود پھنسے ہوئے سیاحوں کو ریسکیو کرنے کے لیے حکومت بروقت کوشش کرنے میں کامیاب ہوسکی اور نہ ہی یہ اس طرح کا کوئی پہلا واقعہ ہوا ہے۔
تحریر: انجینیئر ظفر وٹو
27/جون 2025ء
(مصنف کی اجازت سے اُن کی فیس بک وال سے منقول۔ ایڈمن تِریاق)