
جون کی گرم رات میں بھی ہم سردی اور خوف سے کپکپکا رہے تھےـ دریا میں موجود چھوٹا سا بیلا اس وقت ہماری کل کائنات تھی جس پر قائم خان، میں اورناصرڈرائیور پناہ لیے ہوئے تھے۔ بیلے کے ہر طرف سیلابی پانی چکر لگا کر ہمیں ڈھونڈ رہا تھا۔ ہم نے بلوچستان کے نخریلے دریائے ناڑی سے ٹکر لی تھی اور وہ بہت غصے میں تھا۔ اس نے ہمارے پاؤں تلے سے زمین چھین لی تھی۔ کبھی کبھارپانی کی کوئی جوشیلی موج بلند ہو کے ہمیں یوں تلاش کرتی جیسے تیراکی کے مقابلے میں پانی سے سر اٹھا کر تیراک اپنے اور ہدف کے درمیان باقی رہ جانے والے فاصلے کا اندازہ کر رہا ہواور جلد اپنے ہدف کو پا لینا چاہتا ہو۔ “آبیات’’ کا ہر طالب علم یہ بات بخوبی جانتا ہے کہ “پانی سے لڑنا نہیں۔ ڈرنا ہے’’۔ لیکن اس دن ہم نے ناڑی کو آسان لے لیا تھا۔
محکمہ زراعت کے سیکریٹری کے حکم نامے کے تعمیل میں ہم پچھلے پندرہ دن سے شمالی بلوچستان کے اضلاع ژوب، موسیٰ خیل سے ہوتے ہوئے لورالائی کی تحصیل میختر میں صدارتی پروگرام کے تحت بنای گئی سکیموں کا معائنہ کر رہے تھے۔ صاحب لوگوں کی ناراضی سے بچنے کے لیے میں اپنی تین دن کی نومولود ”اریبہ” کو کوئٹہ میں چھوڑ کردورے پر نکلا تھا اور کام کو نپٹا کر جلدی واپس جانا چاہتا تھا۔
انامبار ندی کے دائیں کنارے پر آخری سکیم کو دیکھتے ہوئے مغرب ہو گئی جس کے بعد ہمارا قافلہ لورا لائی کی طرف روانہ ہوا۔ انامبار اور ناڑی کے سنگم سے پکی سڑک کا فاصلہ کوئی پچیس سے تیس کلومیٹر تھا جو سارے کا سارا پہاڑی ڈھلوان پر تھا اور جنگلی بوٹوں سے اٹا پڑا تھا۔
”فورٹ منرو جانے والی سڑک کے پل تک جانے والی سڑک تک پہنچنے میں گھنٹا لگ جائے گا۔ ناڑی کو کچے سے ہی کراس کر لو۔ دیکھو پانی نہ ہونے کے برابر ہے۔” ہم نے امیرِ کارواں کے اختیارات استعمال کرتے ہوئے ڈرائیور کو حکم دیا: پچھلی سیٹ پر بیٹھے احمد جان نے مخالفت تو نہیں کی لیکن گاڑی شیشہ نیچے کرکے باہر کی فضا میں ایک لمبی سانس لی اور پھر جلدی سے بولا: ”سر، اوپر کہیں بارش ہوئی ہے۔ دریا میں گاڑی نہیں ڈالنی چاہیے۔” اس کے برابر بیٹھے فیض اللہ نے بھی اس کی تائید کی۔ دونوں مقامی انجینیئر تھے۔ لیکن میں نے ان کی رائے نظر انداز کردی۔ انھوں نے صاحب کا موڈ بھانپتے ہوئے کہا: ”ٹھیک ہے سر۔ ہم دونوں گاڑی سے اتر کر پیدل دریا عبور کرتے ہیں۔ آپ کا ڈرائیور ہمیں غور سے دیکھتا رہے اور پھر گاڑی ہمارے پیدل چلنے والے رستے پر لے آئے۔”
رات کا اندھیرا پھیل چکا تھا اور ڈرائیور نے گاڑی کی بتیاں فل کرکے پانی پر ڈال دی تھیں جس کی روشنی میں وہ دونوں دریا میں زگ زیگ پیدل چلنے لگے۔ پانی سے منعکس ہوتی روشنی کا عکس ارد گرد کی پہاڑیوں پر پڑ کر ماحول کو اور ہیبت ناک بنا رہا تھا۔ اس سے پہلے کہ وہ دریا کو پار کر لیتے میرے ڈرائیور نے ماحول کی دہشت سے گھبرا کر گاڑی کو ان کے پیچھے پانی میں ڈال دیا۔انھوں نے حیرت سے مڑ کڑ دیکھا اور زور زور سے ڈرائیور کو رکنے کا کہا۔ ان کی آواز اتنی بلند تھی کہ پہاڑوں سے ٹکرا کر واپس گونج رہی تھی مگر ناصر اپنی پانچ دروازوں والی گہرے سبز رنگ کی پراڈو کو ان کی طرف بھگاتا ہی گیا۔ گہرے پانی میں جا کر گاڑی پھسلنےلگی۔ دوسری طرف احمد جان اور فیض اللہ دوڑ کر ہماری گاڑی کے پاس پہنچ چکے تھے۔ اور بار بار ڈرائیور کو ریس بند کرنے کا کہہ رہے تھے۔
پھر وہ ہوا جو صرف ڈسکوری چینل پر ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ ہماری پانچ دروازوں والی “ساوی گھوڑی “ کو کسی نے نیچے سے اوپر اچھا لا تھا اور اب یہ لٹو کی طرح پانی کی سطح پر تیزی سے دائرے میں گھوم رہی تھی- ہمیں لگ رہا تھا جیسے ہم بچوں کے پارک میں گھومنے والی پیالیوں پر جھولے کھا رہے ہیں۔ دائرے میں گھومتی اس کی روشنیاں کبھی پانی اور کبھی دور پہاڑوں پر پڑ رہی تھیں۔ اور اس کے پچھلے دروازے کے پائیدانوں کے ساتھ لٹکےہمارے دونوں مقامی دوست گاڑی سے یوں ٹکرا رہے تھے جیسے ڈگڈگی کی رسیاں اس کے تنے ہوئے چمڑے پر پڑ رہی ہوتی ہیں۔
پہاڑی پانی کے بڑے سیلابی ریلے نے ہمیں انجانے میں دبوچ لیا تھا۔ ہماری گاڑی تھوڑی دیر پانی پر لٹو کی طرح گھومنے کے بعد سیدھی ہو گئی تھی اور اب کشتی بنی تیزی سے پانی کے بہاؤ کے ساتھ رواں دواں تھی۔ایک دریائی انجینیئر کے طور پر مجھے اندازہ تھا کہ دریائے ناڑی کے اس حصے میں زمینی ڈھلوان بہت زیادہ ہے اور پانی تیز رفتاری سے نیچے کی طرف بہتاہے۔اور کچھ بعید نہیں کہ ہماری گاڑی ہرنائی کے پہاڑی راستوں سے ہوتی ہوئی صبح تک سبّی سے پہلے تلی تنگی کے مقام پر جاکر ملے گی- تاہم میں نے اپنے ذہن کو پیغام دیا کہ جیسے بھی حالات ہو جائیں بد حواس نہیں ہونا- حوصلہ نہیں ہارنا۔
ایک زوردار دھماکے کی آواز آئی اور ہماری کشتی نوح دریا کے درمیان رک گئی- ہم گاڑی کےاندر دم سادھے پھانسی کے قیدی کی طرح بیٹھے تھے اور سیلابی پانی چنگھاڑ تا ہوا اپنی پوری قوت سے اس سے ٹکرا کر اپنا راستہ بنا رہا تھا۔ پانی میں درخت ، جھاڑیاں اور پتھر کسی میراتھن ریس کے کھلاڑیوں کی طرح دوڑتے جا رہے تھے۔پانی اب گاڑی کے بونٹ کے اوپر تک گزر رہا تھا- اور تیزی سے بلند ہونا شروع ہو گیا تھا۔بند شیشے پر احمد جان نے باہر سےدستک دی اور بلند آواز سےہمیں گاڑی سے باہر نکلنے کا کہا۔ حالات کی سنگینی کے پیش نظر ہم نے وقتی طور پر کمان اس کے سپرد کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ اس نے سب ساتھیوں سے کہا کہ ایک دوسرے کے ہاتھ مضبوطی سے تھام لو۔ ہم لوگ کنارے پر پہنچنے کی کوشش کریں گے۔جو بھی ہو جائے کسی نے دوسرے کا ہاتھ نہیں چھوڑنا۔
کبڈی کے کھلاڑیوں کی طرح ہم پانچوں لوگ ایک دوسرے کے ہاتھ تھامے سیلابی پانی کا مقابلہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ساوی گھوڑی کو ہم نے الوداع کہہ دیا تھا- پانی کبھی ہم میں سے کسی ایک کو اوپر اچھال دیتا لیکن دوسرے لوگ اسے کھینچ کر واپس زمین پر لے آتے۔پانی کے ساتھ ہر قسم کے نمکیات ، مٹی، جھاڑیاں اور پتھر ہمارے جسموں سے ٹکراتے ہوئے گزر رہے تھے۔ ہم بظاہر کنارا نظر آنے والے زمین کے ٹکڑے تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے تھے اور وہاں پہنچتے ہی زمین پر لیٹ گئے تھے۔ ناصر ڈرائیور کو خوف سے شدید قسم کی قے شروع ہو گئی تھی۔ ساوی گھوڑی کی روشنیاں اب بھی پانی پر پڑ رہی تھیں اور وہ دور سے ہماری بے وفائی کا گلہ کر رہی تھی۔
میں اور قائم خان زمین پر لیٹے ہوئے تھے۔ذرا حواس بحال ہوئے تو ہم نے جگہ کا جائزہ لینا شروع کیا۔ پتہ چلا کہ ہم دریا کے کنارے پر نہیں بلکہ دریا کے بیچ ایک بیلے پر موجود ہیں جس کے ہر طرف پانی چل رہا ہے۔ یہ پتہ چلتے ہی احمد جان اور فیض اللہ بیلے کے کنارے پر بالکل چوکنا ہو کربیٹھ گئے۔ وہ پانی پر نظر رکھنے کے لیے ایک پتھر پانی کی سطح کے ساتھ کنارے پر رکھ دیتے۔ جب وہ ڈوب جاتا تو اس سے چار چھے انچ اوپر ایک اور پتھر رکھ دیتے۔ اسی طرح کے پانچ چھے پتھر ڈوب چکے تھے اور وہ پانی کی بلندی ماپتے ماپتے کنارے پر پیچھے کو کھسک رہے تھے۔ میرےپیشہ ورانہ کام کے دوران یہ سب سے سادہ اور سب سے مفید پانی کی سطح ماپنے کا طریقہ علم میں آیا تھا۔ہر ڈوبتے پتھر کے ساتھ ہماری امید کی ایک کرن بھی ڈوبتی جاتی تھی۔
فیض اللہ اونچے درختوں کی تلاش میں بیلے کا چکر لگانے نکل گیا تاکہ پانی بیلے پر آجانے کی صورت میں جان بچائی جا سکے۔ گھپ اندھیرے میں کچھ نظر نہیں آرہا تھا۔ ہر طرف حشرات نکل آئے تھے۔کوئی گھنٹے بھر کی آب پیمائی کے بعد پانی نیچے جانا شروع ہو گیا۔ ایک ایک کرکے درجن بھر سے زیادہ کنارے ڈوبے ہوئے پتھر واپس نظر آنا شروع ہوئے۔ اور ہم نے سکھ کا سانس لیا۔اس سے پہلے کہ پانی پھر سے ہمارے نیچے سے بیلہ نکال لیتا ہم فوری طور پر کبڈی کے طریقے سے ندی پار کرکے دائیں کنارے پر پہنچ گئے۔ جھاڑیوں کے درمیان نسبتاً ایک صاف جگہ تلاش کرکے ہمیں بٹھا دیا گیا ۔احمد جان نے کسی ساتھ والے گاؤں جاکر مدد حاصل کرنے کا فیصلہ کیا اور فیض اللہ کو ساتھ لے کر روانہ ہو گیا۔ ہمیں وہیں انتظار کرنے کا کہا گیا۔ کسی ایمر جنسی کی صورت میں ساتھ کھڑے درختوں پر چڑھنے کا مشورہ دیا گیا۔
ناصر کی قے ابھی نہیں تھمی تھی اور وہ زمین پر اوندھا ہوا پڑا تھا۔ میں زمین پر لیٹا دور سے اپنی ساوی گھوڑی پر نظریں جمائے ہوئے تھا جس کی چھت پر سے بھی پانی گزر گیا تھا لیکن اس کی روشنیاں ابھی تک جل رہی تھیں جیسے ہمیں کہہ رہی ہوں: “دیا جلائے رکھنا ہے۔” اس کا یوں سیلابی ریلے میں اپنی جگہ پر ڈٹ کر کھڑے رہنا ایک معجزہ تھا اور معجزے روز روز نہیں ہوتے۔ یہ پچھلے چار سالوں سے ہمیں اپنے اوپر لادے پورے شمالی بلوچستان میں گھما رہی تھی مگر مجال ہے جو ایک دفعہ بھی اس نے دھوکہ دیا ہو۔ یہ آج بھی شاید ہمیں چھوڑ کر نہیں جانا چاہتی تھی اس لیے فولاد بنی پانی میں جم کر کھڑی تھی۔ مجھے یاد آیا کہ ہماری ساری فائلیں جن میں پچھلے پندرہ دنوں کا کام تھا اور میرا لیپ ٹاپ تو گاڑی میں رہ گیا تھا۔

بھیڑیوں کے غول نے پاس ہی سے اونچی آوازیں نکالنا شروع کر دی تھیں- جیسے کہ رہے ہوں : “جہنم میں خوش آمدید۔” قائم خان پھرتی سے اٹھا اور اندھیرے میں خشک جھاڑیوں کی شاخیں توڑنا شروع کردیں۔ مجھے پتھر اکٹھے کرنے کا ٹارگٹ دیا گیا- ناصر کو ہم نے اس کے حال پر چھوڑ دیا تھا۔ قائم خان کہ رہا تھا کہ آگ جلانے سے جنگلی جانور قریب نہیں آئیں گے۔ لیکن “آگ جلائیں گے کیسے ؟” میں نےپوچھا: کیونکہ ہم میں سے کوئی بھی سگریٹ نوش نہیں تھا۔تب اس نے جیب میں ہاتھ ڈال کے گیلی ماچس کی ڈبیا کو یوں نکالا جیسے کہ رہا ہو: ”یہ راز راز ہی رہتا تو بہتر تھا۔” لیکن اس وقت جان بچانا پہلی ترجیح تھا۔
گیلی تیلیاں ہمارے کپکپاتے ہاتھوں کی بار بار کوشش کے باوجود آگ نہیں پکڑ رہی تھیں جبکہ جانوروں کی آوازیں تیز ہونا شروع ہو گئی تھیں۔ ہماری حالت اس کمزور کھلاڑی جیسی ہو رہی تھی جس پر آخری گیند پر چھکا لگا کر اپنی ٹیم کو جتوانے کی ذمہ داری ہو۔ بالآخر لاٹری کے ٹکٹ کے طرح ایک تیلی نے آگ پکڑ ہی لی جسے دونوں ہاتھوں کی زرہ کے درمیان ہم خشک جھاڑیوں تک لائے اور آگ سلگنا شروع ہو گئی اور ایک الاؤ کی شکل میں جھاڑیاں جلنا شروع ہو گئیں- قائم خان اس دوران ایک درخت کی موٹی شاخ لیے ہماری حفاظت کے لیےچوکنا کھڑا رہا۔ اس دن زندگی میں پہلی دفعہ سگریٹ نوشوں کی محبت دل میں محسوس ہوئی تھی۔
بڑا امتحان اس آگ کو صبح ہونے تک جلائے رکھنے کا تھا۔ جتنی دیر ہم نئی خشک جھاڑیاں اور شاخیں ڈھونڈ کر لاتے اس سے پہلے ہی پرانا ایندھن ختم ہو چکا ہوتا اور آگ مدھم پڑ رہی ہوتی۔ ہماری ساوی گھوڑی کی روشنیاں بھی اب مانند پڑ رہی تھیں شاید اس کی بیٹری ختم ہو رہی تھی۔ آسمان پر معمول سے زیادہ ستارے نظر آ رہے تھے۔ میں اور قائم خان فارسٹ مافیا بنے ارد گرد کا سارا ایندھن آگ میں جھونک چکے تھے اور اب ہمیں ایندھن کے لیے آگ سے کافی دورجانا پڑ رہا تھا جو بحر حال ایک خطرناک بات تھی۔ ساتھ ہی وقفے وقفے سے ہم اس پہاڑی راستے کی طرف بھی دیکھ رہے تھے جہاں سے احمد جان اور فیض اللہ کوئی دوتین گھنٹہ پہلے مدد کی تلاش میں یوں نکل گئے تھے جیسے قومی اسمبلی کا امیدوار بھاری دعووں کے ساتھ الیکشن جیت کر حلقۂ انتخاب سے نکل جاتا ہے۔ انتظار کا ایک ایک پل بھاری ہو رہا تھا۔
پہاڑی راستے سے دو انسانی سائے اچانک نمودار ہوئے تھے اور وہ سیدھا ہماری طرف بڑھ رہے تھے۔۔۔ان کے جسموں کے ساتھ لٹکتی بندوقیں دیکھ کر ہماری سانسیں بند ہو رہی تھیں۔ میں نے قائم خان سے اس خطرے سے نپٹنے کا مقامی طریقہ پوچھا تو اس نے فورا کہا: ”اب جو کرنا ہے انھوں نے ہی کرنا ہے۔” سائے قریب آنا شروع ہو گئے تھے۔ ہم یہ سوچ کر کچھ حوصلہ محسوس کر رہے تھے کہ ہمارے پاس لٹانے کو کچھ بچا ہی نہیں۔ یہ احساس کتنا طاقت ور ہوتا ہے آج اندازہ ہواتھا۔ انسان اسی احساس کے ساتھ جان پر کھیل جاتا ہے۔
قریب پہنچنے پر پتہ چلا کہ یہ ہمارے ساتھی ہی تھے جو پیدل چل چل کر بے حال ہو چکے تھے۔ راستے کا پہلا گاؤں چار سے پانچ کلو میٹر دور تھا اور گاؤں کےلوگوں نے دشمنی کی وجہ سے صبح تک خود آنے سے تو معذرت کر لی تھی مگر ہمارے ساتھیوں کو پہچان کروانے پرہتھیار دے کر واپس روانہ کیا تھا تاکہ وہ مہمانوں کی حفاظت کو صبح تک یقینی بنائیں۔
رات کا اندھیرا چھٹنا شروع ہوا اور اُس کے ساتھ ہی سامنے والے پہاڑ پر بنے گھر سے ایک مرد اور اس کا بیٹا ہمارے لیے قہوے کی چینک اور خشک میوہ جات لے کر آئے۔ انھوں نے رات کو ہمیں دیکھ لیا تھا لیکن ہمیں شغل کرنے والی پارٹی سمجھ رہے تھے اور ساتھ ہی خطرہ محسوس کرتے ہوئے صبح کی روشنی کا انتظار کر رہے تھے۔ وہ شرمندہ تھے کہ غلط فہمی کی وجہ سے رات کو ہماری مدد کو نہ پہنچ سکے تھے۔
دن چڑھتے ہی گاؤں سے کوئی دس پندرہ مرد ٹریکٹر اور موٹے زنجیر لے کر پہنچ گئے تھے انھوں نے ناشتے کا سامان اور قالین بھی ساتھ لیا ہوا تھا اور آتے ہی قالین بچھا کر دستر خوان سجا دیا۔ ہم زندہ لوگوں کی دنیا میں واپس آچُکے تھے۔ لوگوں کی دوسری ٹولی ہماری ساوی گھوڑی کو ٹریکٹر سے کھینچ کر پانی سے باہر نکالنے کی کوشش کر رہی تھی۔ کچھ من چلے موٹر سائیکلوں پر بھی ارد گرد کی آبادیوں سے پہنچ چکے تھے۔زور زور سے باتیں ہو رہی تھیں اور مشورے دیے جارہے تھے مگرساوی گھوڑی ایک انچ بھی اپنی جگہ سے نہیں ہل رہی تھی۔ اس کے ٹائروں کی بلندی تک ابھی بھی پانی چل رہا تھا۔
پھر کسی نے گاڑی کو ٹریکٹر سے پیچھے دھکیلنے کا مشورہ دیا کیونکہ اس گاڑی کا فریم دریا کے پیندے میں رکھے ایک بڑے بھاری نوکیلے پتھر (بولڈر) میں پھنسا ہوا تھا جو ہماری جان بچانے کا وسیلہ بنا تھا۔ گھنٹہ ڈیڑھ کی جدوجہد کے بعد گاڑی پانی سے باہر آچُکی تھی اور اسے ٹریکٹر سے کھینچ کر گاؤں تک لے جانے کا پروگرام بن رہا تھا۔ رات سیلابی ریلے میں جلدی سے گاڑی چھوڑنے کے دوران ناصر سے گاڑی کی چابی پانی میں گر گئی تھی اور گاڑی سٹارٹ رہ جانے کی وجہ سے بیٹری جواب دے چکی تھی۔ میں نے احمد جان سے کہا: ”ایسی صورت میں گاڑی سٹارٹ کرنے کا کوئی مقامی طریقہ تو آزماؤ!” اس نے سادگی سے جواب دیا: “کیوں نہیں سر!” اور پھر ایک اور گاڑی کی بیٹری اور چابی سے اس نے ناقابل یقین طور پر گاڑی پہلی سلف میں سٹارٹ کرلی تھی۔ ساوی گھوڑی ایک دفعہ پھر ہمیں بلوچستان کے پہاڑوں کی سیر کرانے کے لیے تیار تھی۔
تحریر: انجینیئر ظفر وٹو
(یہ تحریر مصنف کی فیس بک وال پر10سے16جون 2020ء کے درمیان تین اقساط میں شائع ہوئی)
(مصنف کی اجازت سے اُن کی فیس بک وال سے منقول۔ ایڈمن تِریاق)