0

ماسٹر عمر خان…اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں بیگانے بھی ناخوش

Mujeeb Niazi
تحریر: مجیب اللہ خان نیازی

ہم ایک دو مرتبہ پہلے بھی لکھ چکے کہ بھائی عمر خان سے ہمارا اُس وقت تعارف ہوا جب ہم چھٹی جماعت میں پڑھتے تھے اور یہ 1987ء کے بلدیاتی انتخابات میں ہمارے والد صاحب کے  پولنگ ایجنٹ بنےتھے۔ اُس وقت سے لے کر وقتاً فوقتًا بھائی سے میل ملاقات جاری رہی۔ میٹرک کے بعد راولپنڈی میں ایک کالج کو داغِ مفارقت دینے کے بعد ہم تعلیم سے تعلق ختم کر بیٹھے اور  گھر کے ہو رہےتو کبھی کبھار اپنے رقبے کے درمیان سے گزرتی ندی کے کنارے کنارے چل پڑتے اور بھائی عمر خان کے سکول (گورنمنٹ پرائمری سکول ڈیرہ عمر حیات) پہنچ جاتے۔ وہاں ماسٹر علی محمد صاحب، رفیع اللہ خان ہاتھی خیل صاحب اور غلام رسول انصاری صاحب سےبھی ملاقات رہتی اور بھائی سے بھی گپ شپ ہوتی۔ خوب صورت دور تھا، زیادہ ترسکول اُن دنوں  چاردیواری کے تکلف سے آزاد ہوتے تھے۔ گھنی بکائنیں، ٹھنڈی چھاؤں، سکول کی چھاؤں میں نلکا، سردیوں میں دھوپ والا صحن، اور سارا دن حافظ مطیع اللہ خان مدت خیل اور حافظ شعیب خان کے ہاتھ کی  تیز میٹھے والی دودھ پتی، اُبلے انڈے۔۔۔  اِن سب سوغاتوں کے ساتھ ساتھ بھائی عمر خان کی دِل چسپ گفت گو۔

اِس سب کچھ کے ساتھ ساتھ کھیلوں کے  سلسلے چل نکلے۔ ہم میانوالی اور دلیوالی میں اکثر  کرکٹ میچ کھیلنے جاتے۔ مشترک علاقہ، مشترک دوستیاں، مشترک دل چسپیاں ایسے عناصر تھے جو ہمیں قریب سے قریب تر کرتے چلےگئے۔ کبھی خواجہ آباد اڈا پرسرِ راہ ملاقات گھنٹوں طول پکڑ جاتی تو کبھی ندی کنارے بیٹھ کر گپ شپ  کئی کئی گھنٹے پر پھیل جاتی۔ کبھی اُن کے گھر محفل جم گئی تو کبھی ہمارے ڈیرے پر۔ سردیوں کی طویل راتوں میں گپ شپ کرتے بعض اوقات رات کے ڈھائی تین بج جاتے۔ سیاست، سماج، علاقائی تاریخ، دشمنیاں، دشمنیوں کے اسباب، تعلیم، سکولز، کھیلیں الغرض ہمیں موضوعات کی کبھی کمی محسوس نہ ہوتی بلکہ ہمیشہ وقت کا دامن تنگ پڑ جاتا۔

ہمارے شعبہ تعلیم کو جوائن کرنے اور اُس میں بے پناہ مصروف ہو جانے کی بنا پر ملاقاتوں کے طویل سلسلے سکڑ گئے۔  ہمیں یاد ہے کہ دسمبر 2003ء میں ہماری جس گورنمنٹ سکول میں تعیناتی ہوئی تھی ماسٹرعمرخان صاحب کچھ عرصہ قبل اُسی سکول سے پروموٹ ہو کر دلیوالی ہائی سکول آئے تھے۔ ماسٹر صاحب نے ہمیں ہمیشہ چھوٹا بھائی جانا اور ہمیشہ ایسا مشورہ دیا جس میں خیر کا پہلو ہوتا۔ انھوں نے  ہمیں اُس سکول کے ماحول سے قبل از وقت آگاہ کیا جس کی وجہ سے ہمیں نئے سرکاری سفر میں ایڈجسٹ ہونے میں بہت مدد ملی اور آسانی ہوئی۔

جب ہم نے سرکاری  ملازمت کو خیرباد کہا اور دلیوالی میں الصفہ کے نام سے سکول کھولا تو بھائی نے ہمیں دلیوالی کے ماحول اور مزاج سے خوب شناسائی دی۔ اور اِس بر وقت شناسائی سے بھی ہم خوب مستفید ہوئے۔

بھائی عمر خان صاحب، مطالعہ اور سماجی معاملات میں نا صرف گہری دل چسپی رکھتے ہیں بلکہ علاقائی تاریخ میں اُن کا حافظہ پتھر پر لکیر کا درجہ رکھتا ہے۔ اپنی گفت گو میں مجال ہے اپنے سامع کو اِدھر اُدھر ہونے دیں۔ گفت گو کا ربط، دل چسپی، موضوع پر دسترس اور کہانی کا انداز، اُس کی بُنت اور منطق سے بھرپور مدلل گفت گو سامع کو  سحر زدہ کر دیتی ہے۔

یونیورسٹی میں ایم فل کے دوران ہمارے ایک محترم ٹیچر جناب غلام عباس گوندل صاحب نے پی ایچ ڈی کے ایک سکالر کو اپنے مقالے کے موضوع کے دفاعی سیمینار میں گفت کی دعوت دی تو ساتھ یہ جملہ بھی اِرشاد فرمایا کہ آپ اگرچہ طول گو ہیں   لیکن ہم اُمید رکھتے ہیں کہ آج آپ اختصار سے کام لیں گے۔ ہمیں اِس جملے کے وقت بھائی عمر خان بہت یاد آئے تھے۔ بھائی عمر خان بھی قدرے طول گو ہیں۔

ساعد رسول ملک صاحب ہمارے بڑے بھائیوں جیسے دوست ہیں  اور وہ دلیوالی ہائی سکول میں بھائی عمر خان کے ہیڈ تھے۔ بھائی عمر خان  خوب جنگ جویانہ مزاج رکھتے تھے (الحمدللہ وقت کے ساتھ ساتھ کافی بدل گئے) ۔ بھائی عمر خان کا ہر وقت ساعد رسول صاحب اور دیگر اساتذہ کے ساتھ پنگا چلتا رہتا تھا۔ پنگوں کے وہ دن ہمارے لیے بہت بھاری تھے۔ دونوں طرف ہمارے جگری دوست ہوتے تھے لہٰذا دونوں ہی ہم سے ہلکے ہلکے ناراض رہتے تھے۔ بھائی عمر خان اگرچہ عمر، جہاں دیدگی، سماجی شعور میں ہم سے بہت آگے تھے لیکن کم عمری میں ہی ہمیں ہائی سکولز کو ہیڈ کرنے، بیک وقت تین چار ہائی سکولز کو چلانے، مشترکہ طور پر چالیس پچاس سے بھی زیادہ سٹاف کو ڈیل کرنے کا چونکہ موقع مل چکا تھا اس لیے ساعد صاحب اور اِن کے درمیان پانی پت کی لڑائیوں میں ہم فقط بھائی  عمر خان کو یہ کہتے تھے کہ جب ساعد صاحب ہیڈ نہ ہوں گے تو پھر آپ کو اندازہ ہو گا کہ ساعد صاحب کیسے تھے۔گویا بقول منور علی ملک:

 

یہ آنے والا زمانہ بتائے گا تم کو

میرا وجود زمیں پر خدا کی نعمت تھا

 

عمر خان بھائی کا جس طرح رنگ صاف ہے اسی طرح دل بھی صاف۔ ساعد صاحب کے چلے جانے کے بعد بھائی نے کئی بار اظہار کیا کہ ساعد صاحب کے ہوتے ہوئے ہمارا رویہ ٹھیک نہ تھا اور ہم غلطی پر تھے۔ ساعد صاحب کا خود ہی ہمیں جملہ سناتے اور خوب لطف اُٹھاتے کہ ساعد صاحب کہتے تھے کہ ہر وقت تمھاری زبان آگ اُگلتی ہے۔ باالفاظِ دیگر ساعدصاحب بھی ْچنگے چوکھےٗتھے۔

بھائی عمر خان نے ہمیشہ ہمارے والدِمحترم کو چچا کہہ کر مخاطب کیا۔ ہمارے تعارف سے پہلے بھائی  عمر خان اور  ہمارے والد صاحب کے درمیان چچا بھتیجا کا اور بہترین دوست کا تعلق تھا اور الحمدللہ آج بھی قائم ہے۔ اِس تعلق کی الگ سے خوب صورتی ہے۔ اِس خوب صورتی کو ہم نے چچا غلام جعفر خان نندھ گھریہ مرحوم کے ساتھ تعلق میں خوب انجوائے کیا۔ہم چچا جعفر کی وفات کے وقت تک دو بہترین دوست اور چچا بھتیجا تھے۔ مرتے دم تک اُن کا ہمارے اوپر رعب بھی رہا اور کمال کی بے تکلفی بھی تھی۔بھائی عمر خان بھی ہمارے والد صاحب سے بے تکلف بھی خوب ہیں اور رعب بھی ایسا کہ ہزار معاملات میں ہم انھیں کہیں کہ آپ بابا  کو یہ بات کہہ دیں تو کہتے ہیں کہ ہمارے پر جلتے  ہیں۔ ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ ایک بار جون 1996ء میں دلیوالی سے کرکٹ میچ کھیلنے کے بعد واپسی پر ہم نے کسی کے ساتھ چیلنج میں تھل کینال میں چھلانگ لگا دی تھی۔ چونکہ ہم اُس نہر میں پہلے کبھی نہائے تھے نہ کسی نے پہلے ہمیں نہاتے دیکھا تھا اس لیے سبھی تماش بینوں کو یہ لگا کہ یہ خود کُشی ہے اور لڑکا ابھی ڈوبا کہ ابھی۔ بھائی عمر خان بھی چونکہ موقع پر موجود تھے اس لیے اِن کی پریشانی کا ہمیں اُس وقت اندازہ ہوا جب ہم نہر کو دو بار پار کرنے کے بعدزندہ سلامت اِن کے ہتھے چڑھے تو اِنھوں نے ہمیں چچا مولوی غلام رسول خان کے ہوٹل سے چائے بھی پلوائی تھی اور خوب برا  بھلا بھی کہا تھا۔ اِن کا فقط ایک ہی کہنا تھا کہ میں چچا نجیب اللہ کو کیا جواب دیتا کہ میرے ہوتے ہوئے تم کیسے ڈوب کر مر گئے۔ یعنی انھیں ہمارے مرنے کی فکر کم اور اپنے چچا کو جواب دہی کی فکر زیادہ تھی۔ اُس دن واحد چائے تھی جو ہم نے گالیوں کے سائے میں نوش کی تھی۔چائے پینی اس لیے ضروری تھی کہ  کافی دیریخ پانی میں رہنے سے دانتوں میں ‘کڑکار’  شروع ہو گیا تھا۔

بھائی عمر خان ایک خاندانی اور ہنس مکھ انسان ہونےکے ساتھ ساتھ خوب خوش خوراک انسان بھی ہیں۔ ہمیشہ اپنے سے کم وسائل والے دوست کے ساتھ سفر کیا تو اُس کی جیب پر ذرا بھی بوجھ نہ پڑنے دیا۔ کھلے دل اور کھلے دستر خوان کے مالک ہیں۔ اللہ پاک اِس دل اور اِس دستر خوان کو ہمیشہ آباد اور کھلا رکھے۔

جس طرح ساعد رسول صاحب نے کہا تھا کہ تمھاری زبان ہر وقت آگ اُگلتی ہے؛ ہم یہ تو نہیں کہیں گے تاہم یہ ضرور کہیں گے کہ بھائی کی زبان بنا کسی مصلحت اور بنا کسی خوف، ہمیشہ سچ ہی اُگلتی ہے۔ اوربعض اوقات سچ کو کوئی فلٹر لگائے بغیر بلکہ پٹھانوں والے روایتی غصے کا تڑکا لگائے یوں بیان کرتے ہیں کہ سننے والے کی نسلیں بھی یاد رکھتی ہیں۔

ایک شعر ہے:

اُن کا تو غم کی بات پہ بھی قہقہہ ہوا

لائے کہاں سے خون کوئی کھولتا ہوا

ماسٹر عمر خان

بھائی عمر خان بھی وہ  زندہ دل  شخصیت جو مشکل سے مشکل صورتِ حال میں بھی ہنسی دل لگی کا ساماں کر لیتے ہیں۔

بھائی عمر خان انتہائی صاف گو اور اُصول پسند انسان ہیں۔ ہمیشہ اُجلی زندگی گزارنے کی خواہش رکھی اور بفضلِ تعالیٰ عمدہ زندگی ہی گزاری۔ منافقت سے پاک۔ بھلائی اور خیر خواہی والی زندگی۔ اللہ پاک نے حال ہی میں عمرہ کے مبارک سفر سے نوازا۔ عمرہ کے دوران ہمیں میسنجر پر بے پناہ دعاؤں سے نوازا۔ ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ ہمارے بیٹے کی وفات پر بھائی سخت بیمار تھے اور ہمیں فون کیا تھا اور دورانِ فون جس قدر روئے تھے وہ ہمارے لیے کسی خزانے اور دولت سے کم نہیں ہے۔

بھائی عمر خان اور ہم کبھی  کسی سرکاری سکول میں رفیقِ کار نہیں رہے لہٰذا اُن کی پیشہ ورانہ زندگی پر ہم خواہ مخواہ کا تبصرہ نہیں کرتے ہیں۔ ہم اُمید کرتے ہیں کہ بھائی جس طرح اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کے لیے قابلِ فخر اثاثہ ہیں یقیناً اپنے شاگردوں کے لیے اس سے کہیں بڑھ کر مفید رہے ہوں گے۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ بھائی عمر خا ن کی ریٹائرمنٹ والی زندگی کو سابقہ زندگی سے زیادہ خوب صورت، بابرکت، خوشیوں سے بھرپور اور منعم بنائے۔ آمین!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں