
اردو ادب سے معمولی سا واسطہ رکھنے والا شخص بھی بخوبی جانتا ہے کہ منیر نیازی مرحوم ومغفور کے ہاں ہمیشہ دیر ہو جاتی ہے اور اس بات کا اقرار وہ خود اپنی شاعری میں بھی کرتے ہیں۔ بندۂ نا چیز کی بھی یہ عادت منیر نیازی سے ملتی ہے کہ اسے بھی ہمیشہ ہر معاملے میں دیر ہو جاتی ہے۔
17فروری 2009ء سے لے کر 9اگست2010ء کے مختصر سے عرصے میں اپنے سات پیاروں کو لحدمیں اتار ا اور ہر ایک کی موت نہ صرف یہ کہ اس کے خاندان اور اس کے چاہنے والوں کے لیے بہت بڑے صدمے کا باعث بنی بلکہ پورے علاقے کو سوگوار کر گئی۔ ان اموات میں سے پہلی ہی موت سے دل میں خیال تھا کہ اِس شخصیت پر کچھ لکھ کرنہ صرف اپنے دل کا بوجھ ہلکا کریں گے بلکہ اس طرح اس کے چاہنے والوں کی طویل قطار میں کھڑے لوگوں کے جذبات کی ترجمانی بھی ہو جائے گی، مگر حسبِ سابق ایک مرتبہ پھر مجھ سے دیر ہوگئی تا آنکہ یہ سلسلۂ اموات سات افرادپر جا پہنچا۔
17 فروری 2009ء کا دن موچھ اور میانوالی کے تعلیمی حلقوں میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا کہ اُس دن ایجوکیشن کی دنیا کی ایک نام ور شخصیت اِس جہانِ فانی سے کوچ کر گئی تھی۔ میری مراد عبد الغنی خان ؒ ہیں۔ ویسے تو عبد الغنی خان ایک بزرگ شخصیت تھے اور اُن کی عمر 75 سال سے بھی تجاوز کر چکی تھی مگر وہ شخص بوڑھا نہیں تھا۔کیا آپ یقین کریں گے کہ جگر کے کینسر میں مبتلا یہ شخص، جس کے بارے میں ڈاکٹرز نے بھی کہہ دیا کہ اب اِن کی موت نا صرف یقینی ہو چکی ہے بلکہ قریب بھی آچکی ہے پھر بھی اپنے دفتر جانے پر مُصِر رہا اور دفتر میں تمام اُمور بھی بخوبی سرانجام دیتارہا؟ اُن کی زندگی پر علامہ کا یہ شعر کس قدر صادق آتا ہے:
جہاں میں اہل ِ ایمان ما نندِ خُو رشید جیتے ہیں
اِدھر ڈوبے اُدھر نکلے، اُدھر ڈوبے اِدھر نکلے
اور یہ بھی کہ:
مُیسر آتی ہے فرصت فقط غلاموں کو
نہیں ہے بندۂ حُر کے لیے جہاں میں فراغ

WhatsApp Unknown 2025-07-04 at 20.15.46
عبد الغنی خان بہت ہی سادہ، بارعب اور دل کو موہ لینے والی شخصیت کے مالک تھے۔ غریب گھرانے میں آنکھ کھولی اور جب اپنے رب سے ملاقات کی تو ایک زمانہ تھا جس کے لیے وہ سرمایہ دار نہ ہونے کے باوجودبذات ِخود سرمایہ بن چکے تھے۔ خدمت ِخلق پر اس قدر یقین رکھنے والے شخص تھے کہ مجھے کوئی ایک واقعہ بھی یاد نہیں جب میں نے کسی حق دار بچے کی فیس معافی کی درخواست کی ہو اور انھوں نے بخوشی یہ کہہ کر قبول نہ کی ہو کہ بیٹا تم بِلاجھجک ایسے لوگوں کی خود فیس معاف کر دیا کر وکیونکہ یہی تو ہماری آخرت کا سامان ہے۔
عبد الغنی خان جھوٹی انا کی غلام گردشوں سے بالکل آزاد شخص تھے اور ایسے ایسے دل چسپ واقعات سناتے کہ آدمی قہقے لگا لگا کر لوٹ پوٹ جاتا اور مزے کی بات یہ ہے کہ اُن دل چسپ واقعات میں وجۂ دل چسپی اور وجۂ مزاح و تمسخر اُن کی اپنی ذات ہوتی۔ جیسے اردو ادب میں اطہر شاہ خان اور احمد شاہ پطرس بخاری خود کو پیش کرتے ہیں۔ عبد الغنی خان صاحب انتہائی عمر رسیدہ ہونے کے باوجود اس قدر ہمہ گیر شخصیت تھے کہ نوجوان اُن کی محفل میں بیٹھ کر مجال ہے کہ ایک لمحہ کو بھی بور ہوں۔ مجھے یاد ہے جب تک وہ زندہ رہے ہم نے اُن کے بیٹوں کے بجائے اُن کے ساتھ گپ شپ کو ترجیح دی حالانکہ اُن کے تمام بیٹوں سے ہمارے بے حد دوستانہ، بے تکلفانہ، برادرانہ اور گھریلو تعلقات تھے۔
عبد الغنی خان مرحوم موچھ کے اُن چند افراد میں شامل ہیں جن کو موچھ کی تاریخ میں تقریباً غیر متنازعہ شخصیت ہونے کا اعزاز حاصل ہے حالانکہ سوشل سیکٹر اور سیاست کے میدان میں سرگرم تقریباً تمام ہی شخصیات اس بات پر متفق ہیں کہ موچھ میں سوشل ہونا خود کو بارودی سرنگوں کے حوالے کرنے کے مترادف ہے۔ یہ عبد الغنی خان کی شخصیت، اُن کا تقویٰ، اُن کا کردار اور اُن کا اخلاق تھا جس نے انھیں سوشل شخصیت ہونے کے با وجودغیر متنازعہ ہونے کااعزازبخشا۔
پِیرانہ سالی کے باوجود اس قدر سوشل اور ملنسار تھے کہ مجھے یاد نہیں پڑتا کہ کبھی ہم اُن کے آفس گئے ہوں اور وہ ہمیں کھڑے ہو کر نہ ملے ہوں۔ ہم نے دفتر میں کبھی اُن کو اخبار پڑھتے نہیں دیکھا، بس اپنی فائیلوں میں گم یہ شخص ہر وقت کسی نہ کسی طالب علم (چاہے وہ ضلع کے جس علاقے اور جس سکول کا بھی ہوتا) کی بورڈ کی سند میں نام کی درستی، ولدیت کی درستی یا تاریخ پیدائش ٹھیک کروانے کے سلسلہ میں رہنمائی کرنے میں مصروف ہوتا اورہر بار ہمیں یہی کہتا کہ:”بس بیٹے!آئندہ میں نے یہ کام کسی کو کر کے نہیں دینا۔ دیکھتے نہیں کہ اس کا سارا ریکارڈ الف تا ے غلط ہے۔ پچھلے چھ دن سے میں اس کی درستیاں کر رہا ہوں۔۔۔“ مگر اشفاق احمد کی طرح یہ بات اگلی فائل کے آنے تک خان صاحب بھول چکے ہوتے۔ اُن کی زبان پرانکار نہ آسکتا تھا۔ جب بہت زیادہ غصے میں ہوتے تو زیادہ سے زیادہ ”الو کا پٹھا“ کہتے اور یہ جملہ شاید مجھے سب سے زیادہ سننے کا موقع ملا ہو کیونکہ میرا اور اُن کا ہر وقت جھگڑا ہوتا تھا۔ میں اُن کے سکول میں ایک ادنیٰ سا ملازم تھا لیکن میری حیثیت اس اعلیٰ ظرف شخصیت نے یہ بنا دی تھی کہ سکول میں جس قدر خالی آسامیاں ہوتیں وہ میں ہی پُر کرتا، سکول کے بجٹ کو جتنے”منی بجٹ“ لگنے ہوتے وہ بھی میں ہی لگاتا تو پھر انھیں بار بار کہنا پڑتا:”تم بہت الو کے پٹھے ہو۔ تمہیں میں نے اب تھپڑ مارنے ہیں۔۔۔“
عبد الغنی خان صاحب نہ صرف پانچ وقت کے نمازی بلکہ تہجد گزار شخصیت تھے اور اپنے رب سے اس قدر تَوکَل اور اُمید کا رشتہ تھا کہ حج کے موقع پر حطیم شریف میں بھی بہت کشادہ جگہ پر نفل پڑھنے کا موقع ملا اور دو نوافل سے زیادہ اس لیے ادا نہ کیے کہ اس طرح دیگر لوگوں کی حق تلفی ہوگی، اِسی طرح حِجرِ اَسود کو بوسہ دینے کے مراحل بھی بڑھاپے کے باوجود انتہائی آسانی سے طے ہوئے اور انتہائی اطمینان سے حجرِ اسود کو بوسہ دیا اور حج کے موقع پر جو دعائیں کیں اللہ تعالیٰ نے انھیں بہت جلد شرف قبولیت بخشا (اُن دعاؤں میں سے ایک دعا برادرم محمد طاہر غنی خان کے صاحبزادے محمد اسامہ غنی خان بھی ہیں)۔
ایک مرتبہ اساتذہ کی یونین کے ایک الیکشن میں دور درازکا سفر کیا اور وہاں پرووٹ مانگے، اُن لوگوں نے کہا کہ ہم آپ کو تب ووٹ دیں گے اگر اللہ تعالیٰ آج ہمارے گاؤں پر رحمت کی بارش برسا دے۔ ظہر کا وقت تھا، شدید گرمی تھی، سورج اپنی پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا دور دور تک بادلوں کا نام و نشان تک نہ تھا مگر یہ مردِ درویش گاؤں کی مسجد کا رُخ کرتا ہے، نماز پڑھتا ہے اور اپنے رب سے گڑ گڑا کر بارش کی دعا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اُن کی دعا کو فوراً قبول کرتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے کالی گھٹا چھا جاتی ہے اور رحمت کی بارش برستی ہے اور تھوڑی ہی دیر میں جل تھل ہو جاتا ہے۔
عبد الغنی خان گورنمنٹ سنٹرل ماڈل سکول میانوالی کے ہاسٹل کے وارڈن بھی رہے۔ راتوں کو اُٹھ کر ہاسٹل میں مقیم طلبا کی اپنے بچوں کی طرح نگرانی کی۔اُن کے کمروں میں جا کر اُن کی سرگرمیاں دیکھیں اور جہاں کہیں اصلاح کی خاطر طلباکو سزا دینا پڑی تو بغیر کسی مُداہنت کے خوف سے اُن کو کڑی سے کڑی سزاد ی۔
عبد الغنی خان نے تمام عمر محبتیں اور آسانیاں بانٹی ہیں، ایسے ایسے غریب خاندانوں کے ذہین طلبا کے تعلیمی اخراجات اٹھائے ہیں کہ اگر عبد الغنی خان ایسا نہ کرتے تو وہ طلبا معاشرے کے قیمتی افراد نہ بن سکتے تھے۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے فرزندان کو بھی والد صاحب کے نُقوش پا پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے،آمین!
اس مردِ درویش کا جنازہ 18 فروری2009ء کو موچھ میں ادا کیا گیا اور چشمِ فلک نے دیکھا کہ جنازے کے لیے منتخب کیا گیا وسیع میدان بھی کم پڑ گیا اور ضلع کے شرق و غرب اور شمال و جنوب سے ہر شعبۂ زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا سمندر امڈ آیا اور موچھ کی تاریخ میں شاید اب تک سب سے بڑا جنازہ عبد الغنی خان کا ہی دیکھا گیاہو۔ اِس بزرگ کی موت پر جس قدر لوگ دھاڑیں مار کر رو رہے تھے تو صاف معلوم ہوتا تھا کہ لوگوں کو اُن سے کس قدر محبت تھی۔ اُن کی نمازِجنازہ اُن کے روحانی پیشوا جناب چراغ محمد شاہ مرحوم ؒکے بیٹے حافظ محمد طیب شاہ نے پڑھائی۔
ع آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
(اگست/ستمبر 2010ء میں قلبی تسکین اور روزنامہ ”نوائے شرر” میانوالی کے لیے لکھی جانے والی سات تحریروں میں سے ایک)