
میرا میانوالی
برداشت کی کمی اس دور کا ایک اہم مسئلہ ہے۔ ذراسی بات پر بندہ مار دیا جاتا ہے۔ اسلام تو صبرو تحمل کا سبق دیتا ہے۔ مگر ہم ذاتی معاملات میں اسلام کو ایک سائیڈ پر رکھ کر اپنی مرضی کے مطابق عمل کرتے ہیں۔ نتیجہ سامنے ہے۔
قتل و غارت کی دوسری وجہ ڈھیلا ڈھالا قانون ہے۔ یہ قانون مجرم کوسزا سے بچانے میں سہولت کار کا کام دیتا ہے۔ اس لیے بہت کم مجرموں کو سزاملتی ہے۔ اگرسزا یقینی ہو تو لوگ قتل کا ارتکاب کرنے سے پہلے سو بار سوچیں گے۔
کچھ عرصہ پہلے سعودی عرب میں قتل کی سزا کی ایک ویڈیو دیکھی تھی۔ تین قاتلوں کو سر عام زمین پر بٹھا دیا جاتا ہے۔ جلاد لمبی سی تلوار لہراتا ہوا آگے بڑھتا ہے اور تینوں کے سر قلم کر دیتا ہے۔ وہاں لمبی چوڑی تفتیش اور جھوٹے گواہ نہیں ہوتے۔ قاتل پکڑا جائے تو اگلی جمعرات کو سر عام اس کا سر قلم کر دیا جاتا ہے۔
ہمارے ہاں تو سیشن جج سزا سناتا ہے۔ اس سزا کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل ہوتی ہے۔ وہاں سے اپیل خارج ہو جائے تو سپریم کورٹ میں اپیل ہوتی ہے۔ وہاں سے بھی اپیل منظور نہ ہو تو صدر مملکت سے رحم کی اپیل کی جاتی ہے۔ تفتیش کو مشکوک بتا کر سزا کا حکم کالعدم قرار دے دیا جاتا ہے۔
سزا سے بچ نکلنے کا ایک چور دروازہ راضی نامہ بھی ہے۔ پیسے والے لوگ مقتول کے وارثوں کو کچھ پیسے دے کر قتل معاف کروا لیتے ہیں۔
ان سہولتوں نے قتل کا ارتکاب آسان بنا دیا ہے۔ اگر سعودی عرب والا نظام انصاف یہاں بھی رائج ہو جائے تو قتل و غارت کا نام و نشان بھی باقی نہیں رہے گا۔
۔۔۔رہے نام اللہ کا ۔۔۔
۔۔۔منور علی ملک ۔۔۔
25/جولائی2025ء
(مصنف کی اجازت سے اُن کی فیس بک وال سے منقول۔ایڈمن تِریاق)