
میرے ایک شاگرد ہیں انجینئر محمد ثاقب توقیر شاہ۔ موچھ کے انتہائی معزز گھرانے سے اُن کا تعلق ہے۔ یو ای ٹی لاہور سے انھوں نے کیمیکل انجنیئرنگ کی ہے۔ اساتذہ کا احترام جیسے اُس کی گھٹی میں شامل ہو۔ زیادہ سوشل نہیں بس محدود تعلقات رکھتے ہیں۔ انجینئرنگ کے بعد واپس گھر آئے تو سب سے زیادہ وقت ہمیں دینے لگے۔ کچھ ہی عرصہ میں اُن کی پاکستان اٹامک انرجی کمشن (PAEC) میں جاب ہو گئی۔ پی اے ای سی میں ہفتہ اتوار چھٹی ہوتی ہے اس لیے یہ جاب کے باوجود بھی ہمیں بے پناہ وقت دیتے رہے جب تک کہ پیا گھر نہیں سدھار گئے۔ جی۔ پیا گھر ہی سدھار گئے۔ 2014ء میں ہم نے اُنھیں بیاہ دیا اور تب سے لا پتا ہیں۔
مجھے بعض اوقات کچھ ایسے لوگ ملتے ہیں جو ملاقات کے وقت بے حد محبت اور تپاک کا مظاہرہ کرتے ہیں لیکن میں اُنھیں پہچان نہیں سکتا۔ اس سلسلہ میں میں مزاجاً اتنا کمزور ہوں کہ اُنھیں کھل کر یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں آپ کو پہچان نہیں سکا۔ مجھے یہ جملہ ادا کرتے ہوئے بہت شرم آتی ہے کہ جو لوگ اتنی اپنائیت اور محبت سے مل رہے ہوں تو اُنھیں کیسے کہا جائے کہ میں نے آپ کو نہیں پہچانا۔ اپنی اِس کمزوری کو چھپانے کے لیے میں اُنھیں بہت توجہ اور پیار دیتا ہوں تاکہ اُنھیں یہ شک نہ ہو کہ میں اُنھیں پہچان نہیں سکا۔
ثاقب توقیر ایک ذہین اور انتہائی تیز قوتِ مشاہدہ کا حامل نوجوان ہے۔ میرے ساتھ بہت زیادہ وقت گزارنے کی وجہ سے اُس نے میری یہ کمزوری نوٹ کر لی۔ جیسے ہی ایسا کوئی ملاقاتی جسے میں پہچان نہیں سکتا تھا‘ ذرا سا دور ہوتا تو ثاقب مجھے کہتا کہ سر آپ نے اسے نہیں پہچانا تھا نا! میں پوچھتا کہ آپ کو کیسے پتا چلا کہ میں نے اُسے نہیں پہچانا تو کہتا کہ میں نے نوٹ کیا ہے کہ جس بندے کو آپ جتنے زیادہ تپاک اور چہرے پر مسکراہٹ سجائے ملتے ہیں دراصل آپ اُسے پہچان نہیں پاتے۔ میں اُسے کہتا کہ یار:
ع
بات تو سچ ہے مگر، بات ہے رسوائی کی
ویسے ایک بار فردِ متعلق سے تو نہیں البتہ ”جائے وقوعہ“ پر موجود قریب ترین فرد سے میں نے گرمجوشی سے ملنے والے ایسے ہی ایک فرد کا نام پوچھ لیا تھا۔ اُس وقت کیا پریشانی لاحق ہوئی تھی اور کس شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا تھا آئیں آپ کو بھی بتاتے ہیں:
اکتوبر 1998ء میں میں اپنے ایک دوست مقرب خان غلبلی کی شادی میں شریک تھا کہ وہاں ایک نوجوان نے مجھے گھیر لیا۔ بے حد آﺅ بھگت کرنے لگا۔ حال احوال پوچھا۔ مجھے ایک لمحے کے لیے بھی توجہ سے محروم نہ رکھا لیکن میں اُسے پہچان نہ سکا۔ اب میں اپنی بیان کردہ شرمیلی فطرت، رکھ رکھاﺅ اور وضع داری کی بنا پر براہِ راست اُس سے نام پوچھنے میں عار محسوس کر رہا تھا۔ جب اُس نے مجھے ذرا سی مہلت دی تو میں نے موقع پر دستیاب قریب ترین مقامی فرد‘ انسپکٹر عبدالمنان خان غلبلی کے سگے بھتیجے سے اُس نوجوان کی طرف ہلکا سا اشارہ کر کے پوچھا کہ یہ کون ہے۔ وہ لڑکا تو جیسے چھلاوہ تھا۔ ایک ہی لمحے میں اُسی کا ہاتھ پکڑ کر پوچھتا ہے کہ آپ کا نام کیا ہے؟ اُس نے آگے سے پوچھا کہ کیوں پوچھ رہے ہو توکہتا ہے کہ مجیب اللہ خان نے کہا ہے۔
جس لڑکے سے میں نے نام پوچھا تھا اُس کی عمر 10-14سال ہوگی۔ یعنی اگر سرائیکی میں کہیں تو وہ لڑکا بالکل ”چھور“ تھا۔ وہ توکافی عرصہ بعد سرائیکی کی زبان زدِ عام ضرب المثل میرے حاشیہء مطالعہ میں آئی تھی کہ جس میں ”چھوروں“ کی ایک خصوصیت بیان کی گئی ہے۔ اگر وہ ضرب المثل میں نے پہلے سن یا پڑھ رکھی ہوتی تو قطعاً اُس ”چھور“ کے ذمہ یہ کام نہ لگاتا۔ خیر! میں نے کمال ہوشیاری اور حاضر دماغی (حالانکہ ڈھٹائی سے ) سے اُس لڑکے کو کہا او بے وقوف! تم سے اِس کا نام پوچھنے کو کس نے کہا۔ میں نے دُور ایک بندے کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ وہ بندہ جو اُدھر جا رہا تھا میں نے اُس کا نام پوچھا ہے۔ بہر حال اُس جوان کو کچھ شک گزرا اس لیے اُس نے انتہائی حیرت سے مجھے دیکھ کر کہا کہ مجیب اللہ کہیں واقعی تم میرا نام بھول تو نہیں گئے۔ میں نے اُس کو گلے لگایا اور کہا بھلا میں آپ کا نام کیسے بھول سکتا ہوں! میرا انداز اس قدر بے ساختہ اور بے تکلف تھا کہ اُس نے یہ سوال نہ کیا کہ بھلا بتاﺅ تو میرا نام کیا ہے۔

اس دوران ہم کھانے کے روایتی دستر خوان پر بیٹھ گئے لیکن چور کی داڑھی میں تنکا کے مصداق اب بھی مجھے ڈر لگا ہوا تھا کہ یہ مجھ سے اپنا نام نہ پوچھ لے۔ میں نے پھر ایک چال چلی اور اُسے کہا کہ آپ بیٹھیں میں ہاتھ دھو کر آتا ہوں۔ اُس سے نظریں بچا کر میں نے اپنے دولہا دوست کے چھوٹے بھائی سلطان خان کا پہلے ہاتھ پکڑا ( کہ کہیں یہ بھی ”چھور“ ثابت نہ ہو) اور پوچھا کہ وہ جوان جو دستر خوان پر بیٹھا ہے اُس کا نام کیا ہے۔ اُس نے جواب دیا: ”کیوں لالا آپ نے واقعی اُسے نہیں پہچانا؟“ میں نے کہا: ”جی۔ نہیں پہچان سکا۔“ اُس نے بتایا کہ وہ آپ کا اور بھائی مقرب کا کلاس فیلو شفاءاللہ ہے۔ میں نے اپنا سر پیٹا۔ جلدی جلدی جھوٹ موٹ میں ہاتھ دھوئے اور واپس آتے ہی اُسے مخاطب کرتے ہوئے بہت اعتماد سے کہا:
”یار شفاءاللہ! میں ہاتھ بھی دھو آیا ہوں اور ابھی تک آپ نے سالن ہی نہیں منگوایا۔“
میں تو اب بھی نام پوچھنے کا رسک لینے کے بجائے مصنوعی مسکراہٹ اور ملنے والے کو پہچاننے کا جھوٹا تأثر دے کر وقت گزارنے کی پالیسی اختیار کرتا ہوں۔ کیا آپ بھی ایسا کرتے ہیں یا کسی ”چھور“ کی مدد سے نام پوچھتے ہیں؟