سلسلۂ خود نوِشت؛ میں تو جیسے پتھر تھا! از مجیب اللہ خان نیازی

اس کیٹا گری میں 20 خبریں موجود ہیں

چار سال بعد دوبارہ تعلیم کا آغاز… سلسلہء خود نوِشت؛ میں تو جیسے پتھر تھا!

1992ء میں میٹرک کرنے کے بعد بارانی ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ داہگل (راولپنڈی) میں فیلڈ اسسٹنٹ کے کورس کے لیے میرے والد صاحب نے میرا داخلہ کرایا تھا۔ داہگل انسٹی ٹیوٹ کے سامنے ہی مشہورِ زمانہ اڈیالہ جیل ہے۔ میں وہاں…

بٹیر اور پنجاب یونیورسٹی کے امتحانات کا ہال… سلسلہ ء خود نوِشت؛ میں تو جیسے پتھر تھا!

جب ذکر چل پڑا ہے مرغوں اور تیتروں کا تو کیوں نا آج آپ کو قصہ سنائیں ایک ایسے بٹیر کا جو پنجاب یونیورسٹی کے امتحانی سنٹر پر بی اے کے ایک پرچے میں کمرہ ء امتحان جا پہنچا تھا۔…

بے خطر کود پڑا نہرِ تھل میں عشق… سلسلہ ء خود نوِشت؛ میں تو جیسے پتھر تھا!

ایک بار جون 1996ء میں ہم دلیوالی میں کرکٹ میچ کھیل کر نہر کنارے (تھل کینال) گھر واپس آرہے تھے۔ ہماری ٹیم کے کھلاڑیوں میں سے ایک کھلاڑی (کلیم اللہ خان ایلیٹ فورس میانوالی) کا کزن (خالد حمید خان پاک…

میرا نام ڈاکٹر کاشف ہے… سلسلہء خود نوشت؛ میں تو جیسے پتھر تھا!

ہماری والدہ فروری 2006ء سے اپنی وفات‘ 25 فروری 2012ء تک تقریباً بستر پر رہیں۔ یہ سارا عرصہ انھوں نے گردوں کی مشینی صفائی (ڈائیلاسس) اور علاج میں گزارا۔ مائیں تو پھر مائیں ہوتی ہیں۔ جب معلوم ہوجائے کہ اُن…

میری نظر کی کمزوری کی پہلی بار تشخیص… سلسلہء خود نوشت؛ میں تو جیسے پتھر تھا!

میری نظر پیدائشی کمزور ہے اور اچھی بھلی کمزور ہے۔ اتنی کمزور نظر کے ساتھ شاید ہی کوئی فرد ہو جو اتنی بھرپور زندگی گزار رہا ہو جتنی اللہ نے میرے حصے میں لکھی ہے۔ جب کبھی اِس کمزوری کا…

ریل میں مفت سفر اور ”عزت افزائی”… سلسلہء خود نوشت؛ میں تو جیسے پتھر تھا!

میرے پھوپھو زاد بھائیوں کے سگے چچا پاکستان ریلوے میں ملازم تھے۔ اس طرح ان کا ریل کا سفر ہمیشہ مفت ہوتا تھا۔ جب کبھی اُن سے ٹکٹ کا پوچھا جاتا تو وہ اپنے انکل کا نام لے لیتے اور…

زندگی کا پہلا کاروبار… سلسلہء خود نوشت؛ میں تو جیسے پتھر تھا!

زندگی کا پہلا کاروبار   ہم جس آبائی رقبے میں رہائش پذیر ہیں (ڈیرہ نجیب اللہ) اِسے ہمارے دادا حاجی محمد خان صدر نے 1967ء میں بجلی کا ٹیوب ویل لگا کر آباد کیا تھا۔ غالباً 1980ء میں ہم تمام…

جب ایک فوجی افسر نے مرغا بنادیا… سلسلہ ء خود نوشت؛ میں تو جیسے پتھر تھا!

بچپن میں ایک بار گرمیوں کی چھٹیوں میں ننھیال جانا ہوا تو وہاں میانوالی مسلم کالونی میں رہائش پذیر خالہ اور ماموں(مرحوم کرنل ریٹائرڈ عبداللہ خان نیازی)بھی آئے ہوئے تھے۔اُن دنوں ماموں عبداللہ فوج میں شاید میجر تھے۔ وہاں جب…

زندگی کا پہلا فراڈ…سلسلہءخود نوشت؛ میں تو جیسے پتھر تھا!

مجھے بچپن سے ہی پالتو جانوروں سے بے حد اُنس رہا۔ اِن جانوروں میں مرغ، تیتر اور بٹیر سبھی شامل ہیں۔ جانوروں کے لیے چارا کاٹنا، کترا بنانا، اسے جانوروں کو ڈالنا، جانوروں کو نہلانا، انھیں پانی پلانا اور چارا…

سکول کا دوسرا دن اور راستے میں بابا سے چھترول…سلسلہء خود نوشت؛ میں تو جیسے پتھر تھا!

میں نے زندگی میں پہلی بار چوتھی جماعت میں لکھا تھا۔ کیا لکھا تھا اس کی تفصیل پھر کسی موقع پر لیکن اتنا بتاتا چلوں کہ وہ ایک ”حزنیہ“ تھا اور قلم دوات کی مدد سے لکھا گیا تھا اور…