0

چار سال بعد دوبارہ تعلیم کا آغاز… سلسلہء خود نوِشت؛ میں تو جیسے پتھر تھا!

Mujeeb Niazi

1992ء میں میٹرک کرنے کے بعد بارانی ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ داہگل (راولپنڈی) میں فیلڈ اسسٹنٹ کے کورس کے لیے میرے والد صاحب نے میرا داخلہ کرایا تھا۔ داہگل انسٹی ٹیوٹ کے سامنے ہی مشہورِ زمانہ اڈیالہ جیل ہے۔ میں وہاں سے دوچار دنوں میں ہی اکتا گیا کہ بہن بھائیوں، والدین اور خاص طور پر والدہ کے بغیر زندگی بہت مشکل لگتی تھی۔
ہمارا ہاسٹل دو منزلہ تھا اور میرا کمرہ اوپر والی منزل پر تھا۔ اوپر والی منزل پر ہم ٹیرس کی فینس کے ساتھ جب کھڑے ہوتے تو ایک توت کے درخت کی شاخیں فینس کے ساتھ ٹکراتیں اور مزید بلندی کی طرف چلی جاتیں۔ دن تو اپنے جھمیلوں میں گزر ہی جاتا لیکن عصر کے وقت جب ٹیرس پر آتے اور توت پر بسنے والے پرندوں کو اپنے مسکن میں لوٹتا دیکھتے تو اُس وقت دل ڈوب جاتا اور بعض اوقات تو آنکھیں بھی بھیگ جاتیں کہ ہم سے تو یہ پرندے بھی خوش نصیب ہیں جو سرِ شام اپنے گھروں کو پہنچ گئے اور ہم بدنصیب ہیں کہ۔۔۔اس وقت یہ مشہور سرائیکی گانا بھی بہت یاد آتا:
وے دیگر ویلا جاں تھیندا
میڈا دلبر تیں کنڑ ہاں تھیندا
(میرے محبوب! جب بھی عصر کا وقت ہوتا ہے میرا دل تمہارے لیے بے تاب ہوجاتا ہے)
ہمیں بھی انھی دنوں خوب احساس ہوا کہ واقعی عصر کا وقت اپنے پیاروں کی یادوں کے حوالے سے خاص اہمیت رکھتا ہے.
اس لیے جلد ہی واپسی کا ارادہ کیا اور پہلی قسط کے طور پر چھٹی لے کر آیا اور آتے ہی والدہ محترمہ کے کان میں یہ بات ڈالی کہ وہاں کا پانی مجھے راس نہیں آرہا (حالانکہ یہ سفید جھوٹ تھا) اس لیے میں واپس آنا چاہتا ہوں۔ اُنھوں نے فوراً حامی بھر لی اور اس طرح میری واپسی کا راستہ ہموار ہوگیا۔
راولپنڈی سے واپسی کے تمام مراحل جب بخیر و عافیت انجام پائے تو اُس وقت میانوالی ڈگری کالج میں داخلوں کا عمل ختم ہوچکا تھا۔ لہٰذا میں پڑھنے لکھنے کے بجائے اپنے ازلی شوق (جانور پالنا) میں مصروف ہوگیا۔ میٹرک کے بعد مجھے والد صاحب نے پڑھائی پر کبھی اس لیے مجبور نہ کیا تھا کہ میری نظر بہت زیادہ کمزور تھی اور مجھے پڑھنے میں دشواری ہوتی تھی۔ اُن کی خواہش تھی کہ میں اپنی مرضی کی زندگی گزاروں۔ تاہم نومبر 1993ء میں انھوں نے عبد الغنی خان مرحوم و مغفور کے کہنے پر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں میرا پی ٹی سی میں داخلہ کرا دیا تھا۔
ماہ و سال یونہی چلتے رہے حتیٰ کہ 8 جنوری 1996ء آگیا۔ اُس رات ہم تینوں بھائی اپنے کمرے میں موجود تھے۔ میرا بڑا بھائی اپنے بی اے کے امتحان کی تیاری میں جبکہ چھوٹا بھائی جو سنٹرل ماڈل سکول میں پڑھتا تھا‘ میٹرک کی تیاری میں مصروف تھا۔ میں سرِ شام سو جاتا تھا۔ اُس رات نہ جانے نیند کیوں نہیں آرہی تھی۔ مجھے کوئی بات یاد آئی تو بڑے بھائی سے پوچھ لی۔ اُس نے کہا کہ یار اِن فضول باتوں کو چھوڑو اور سو جاﺅ۔ مجھے ڈسٹرب نہ کرو اور پڑھنے دو۔ میں چپ ہو گیا۔ پھر کچھ دیر خیالات کی وادی میں بہتے بہتے بھول گیا تھا اور اب کی بار چھوٹے بھائی سے متعلقہ کوئی بات یاد آئی اور اسے مخاطب کیا: ”حبیب اللہ!۔۔۔“ ابھی لفظ حبیب اللہ ہی منہہ سے نکلا تھا کہ اُس نے جواب دیا: ”یار ہنڑ جو تیکو بھائی سمجھایا اے کہ تنگ نہ کر تے ساکو پڑھنڑ دے تاں وت کیوں تنگ کرینا ایں۔ تیں تاں پڑھنا نیں ہونا تے ساکو تاں سکون نال پڑھنڑ ڈتا کر۔۔۔“ (یار ابھی بھائی نے آپ کو سمجھایا ہے کہ تنگ نہ کرو اور ہمیں پڑھنے دو۔ آپ پھر کیوں تنگ کر رہے ہیں۔ آپ نے تو پڑھنا نہیں ہوتا ہمیں تو سکون سے پڑھنے دیا کرو۔۔۔)۔
حبیب اللہ کان نیازی
بڑے بھائی کی بات تو میں جیسے تیسے برداشت کر گیا تھا لیکن چھوٹے بھائی کی بات تو گولی کی طرح لگی۔ میں اٹھا، چشمہ لگایا اور محمد طاہر غنی خان (جو اُس وقت بھی سنٹرل ماڈل سکول میں تعینات تھے) کے نام رقعہ لکھا اور اُسی بھائی کو دیا جس کے جملے پر مجھے تپ چڑھی تھی۔ اُس رقعے میں’ میں نے پوچھا تھا کہ ایف اے کے داخلے کب جا رہے ہیں۔ بھائی نے رقعہ طاہر غنی خان کو دیا اور جواب لایا کہ 20 جنوری آخری تاریخ ہے۔
محمد طاہر غنی خان نیازی
میں نے اپنا ایف اے کا داخلہ بھیجا اور داخلہ بھیجنے کے بعد کتابیں خریدنے کا مرحلہ آیا تو میری والدہ نے کہا کہ بیٹا آپ کا بڑا بھائی دو سال کالج پڑھا تو تب اُس نے ایف اے کیا اور آپ محض ضد کی وجہ سے یہ سب کچھ کر رہے ہو۔ ہم آپ کو روکتے نہیں ہیں کہ آپ کو یہ احساس نہ ہو کہ والدین باقی بھائیوں کی تعلیم پر تو خرچ کرتے ہیں اور میری باری آئی ہے توکہتے ہیں کہ یہ پیسوں کا ضیاع ہے۔ تاہم اتنا ضرور ہے کہ اِس طرح ایف اے نہیں ہوتا کہ دو ماہ بعد امتحان ہو اور بندہ کتابیں خریدتا پھرے۔ میں جنوری کے آخر میں کتابیں تو لے آیا لیکن جانور پالنے کے شوق میں اتنا مصروف رہا کہ ایک دن بھی کوئی کتاب نہ کھولی۔ پھر رمضان شریف آگیا، عید اور اُس کے ساتھ ساتھ کرکٹ ورلڈ کپ 1996ء ایسے عوامل تھے کہ جن کی بنا پر میں ایک گھنٹہ بھی کتابیں نہ کھول سکا۔ حتیٰ کہ ایک دن ڈیٹ شیٹ موصول ہوگئی۔ کیا آپ کو یقین آئے گا کہ میں نے ڈیٹ شیٹ آنے کے بعد کتب کھولی تھیں؟
پڑھائی کا سلسلہ جو 1992ء سے رکا پڑا تھا دوبارہ چل پڑا اور مختلف وقفوں اور رکاوٹوں کے باوجود بی اے، سی ٹی، ایم اے اردو، سرگودھا یونیورسٹی کے سپوکن انگلش شارٹ کورس ، بی ایڈ، ایم ایڈ، ایم اے انگلش اور ایم فل اردو سے ہوتا ہوا اب پی ایچ ڈی کی راہیں تلاش کر رہا ہے۔ اگر مجھ ایسے شخص‘ جس کی نظر کافی کمزور ہے اور جسے پڑھنے میں بے حد دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے؛ کے لیے یہ راستہ کھلا ہے تو پھر آپ تمام جو کسی بھی وجہ سے اس راستے کو اپنے اوپر بند کر بیٹھے ہیں؛ کے لیے تو بدرجہ اولیٰ کھلا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں