
کالم نمبر:12
مطبوعہ روزنامہ ”جسارت” کراچی، 27/نومبر 1981ء
سُخن دَرسُخن۔۔۔ خامہ بگوش کے قلم سے
گلڈ انعامات دیتا ہے یاجرمانے کرتا ہے اس سال بعض جج بھی انعام لے اڑے
انعامات گلڈ کی انتخابی مہم کا حصّہ ہیں صہباؔ اختر پاکستان کے ممتاز ترین شاعر ہیں
افتخار عارف، احمد فراز سے بڑے شاعر ہیں
پاکستان میں ادبی انعامات کی روایت کا آغاز 24-23برس پہلے ہوا تھاجب مجلسِ ترقی ادب لاہور نے کتابوں اور علمی مقالوں پر ہر سال انعام دینے کا اِعلان کیا تھا۔ یہ سلسلہ تین برس سے زیادہ قائم نہ رہ سکا۔ اسی زمانے میں رائٹرز گِلڈ کے بانی جمیل الدین عالیؔ نے داؤد اور آدم جی دو بڑے صنعت کار گھرانوں کے تعاون سے دو ادبی انعام قائم کیے۔ رفتہ رفتہ تعاون کرنے والے ادارو ں کی تعداد بڑھتی گئی اور اب ہرسَال ادیبوں میں متعدد انعامات تقسیم کیے جاتے ہیں۔ ان انعامات کاقیام گلڈ ہی کی تاریخ میں نہیں، پاکستان کی ادبی تاریخ میں بھی یادگار کارنامہ ہے کہ اس طرح ادیبوں کی خدمات کے اعتراف کی شاندار روایت قائم ہوئی۔ گلڈ اور اس کے اربابِ کار کی اس خدمت کااِعتراف ضرورکرنا چاہیے کہ ابتدائی چندبرسوں تک یہ انعامات غیر جانب داری سے تقسیم کیے جاتے تھے اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ انعامات کی تقسیم میں سیکرٹری جنر ل یادوسرے عہدیدار دخل اندازی نہیں کرتے تھے اور ایسے جج مقرر کیے جاتے تھے جن کی ادبی حیثیت اور دیانت داری مسلم ہوتی تھی مگر اب چند برسوں سے صورتِ حال تبدیل ہوگئی ہے۔ پہلے انعام یافتہ ادیبوں کو عزّت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا اور اب شبہے کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔
صورت ِ حال کی اس تبدیلی کی ذمہ داری ادیبوں او رانعام دینے والوں دونوں پر ہے۔ ادیب انعام حاصل کرنے کے لیے سفارشوں اور ذاتی تعلقات کی بیساکھیاں استعمال کرتے ہیں۔ اپنی مرضی کے جج مقرر کراتے ہیں اور متوقع حریفوں کے خلاف طرح طرح کاپروپیگنڈہ کراتے ہیں۔ انعام دینے والے بھی کتابوں کی ادبی قدر وقیمت کی بجائے دوسری باتوں کازیادہ خیال رکھتے ہیں۔ کتابوں سے زیادہ ان کی نظر افراد پر رہتی ہے اور یہ دیکھا جاتا ہے کہ کسی کو انعام دینے کے ”مثبت“ نتائج برآمد ہوں گے یانہیں۔ مثلاً اس سال جو انعامات دئیے گئے ہیں۔ وہ اس خیال سے دئیے گئے ہیں کہ گلڈ کے آئندہ اِنتخابات میں کون کون معاون ثابت ہوسکتا ہے۔ گویا یہ انعامات گلڈ کی اِنتخابی مہم کا ایک حصّہ ہیں۔
گذشتہ چند برسوں سے یہ معمول ہوگیا ہے کہ ملک کے ادیب عام طور پر گلڈ کے انعامات کو شبہے کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ یہی صورت ِ حال اس سال بھی ہے ادیبوں کی بڑی تعداد انعامات کے اعلان سے غیرمطمئن ہے۔ اس سلسلے میں جو اعتراضات سُننے میں آرہے ہیں ان میں سے چند یہ ہیں:
1۔انعامات کے اعلان کے ساتھ ججوں کی فہرست اور ان کے فیصلوں کا متن شائع نہیں کیا گیا اس لیے یہ بھی نہیں معلوم ہوسکا کہ کن لوگوں نے انعامات کا فیصلہ کیا اور کس بُنیاد پر کیا ہے۔
2۔ ججوں کے تقرّر میں پہلی شرط یہ ہونی چاہیے کہ وہ سینئر ادیب ہوں، ان کی ادبی حیثیت مسلم ہو اور وہ گلڈ کے کسی اندرونی گروپ سے تعلق نہ رکھتے ہوں۔ لیکن گذشتہ چندبرسوں کی طرح اس برس بھی یہ شرط پوری نہیں کی گئی۔ بعض نوعمر ادیبوں کو جج بنایا گیا ہے جو گلڈ کی سیاست میں سرگرمِ عمل ہیں اور ایک خاص گروپ سے تعلق رکھتے ہیں۔ان ججوں کی ادبی حیثیت کے بارے میں دور ائیں تو کیاسرے سے کوئی رائے ہی نہیں پائی جاتی۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس سال چند سینیئر ادیبوں کو بھی جج بنایا گیا ہے لیکن ان کی حیثیت صرف آرائشی ہے۔
3۔ گذشتہ چند برسوں سے ججوں کے تقرر میں یہ عجیب و غریب طریقِ کار اختیار کیا جارہا ہے کہ ایک ادیب بیک وقت ایک انعام کے لیے جج ہوتا ہے اور دوسرے انعام کے لیے امیدوار۔ مثلاً ایک شخص داؤد انعام کاجج ہے اور اس نے آدم جی انعام کے لیے اپنی ایک کتاب بھی داخل کررکھی ہے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ان انعامات کے فیصلوں پر بھی اثر انداز ہوتا ہے جن کاوہ جج نہیں ہوتا۔ اس سال بھی یہی طریقِ کارتھا۔نتیجہ یہ نِکلا ہے کہ گلڈ کے انعامات بعض ایسے ادیبوں کو بھی ملے ہیں جو کسی دوسرے انعام کے جج تھے۔ اخلاقی نقطۂ نظر سے یہ طریق کار غلط بھی ہے اور افسوس ناک بھی حالانکہ ہونا یہ چاہیے کہ کسی ایسے شخص کوکسی بھی انعام کے لیے جج مقرّر نہ کیا جائے جس نے اپنی کوئی کتاب کسی انعام کے لیے داخل کررکھی ہو۔
4۔ ججوں کے تقرر میں بھی بعض مصلحتوں کو پیش ِنظر رکھا جاتا ہے۔ عموماً کسی ایسے شخص کو جج نہیں بنایا جاتا جس کے بارے میں یہ گمان ہو کہ وہ اپنی رائے پر اصرار کرے گا۔ یہی وجہ ہے کہ بعض ججوں کو امیدواروں کے ”ضرورت مند“ ہونے کا احساس دلا کر شیشے میں اتار لیا جاتا ہے۔
5۔بعض ایسے ججوں کا تقرر کیا جاتا ہے جو سودے بازی کے ذریعے اپنے اپنے منظورِ نظر مصنفوں کو انعام دلواتے ہیں۔ انعام الف کا جج انعام ب کے جج سے کہتا ہے کہ تم اگر میرے منظورِ نظر کو انعام دو تومیں تمہارے منظورِ نظر کو انعام دوں گا۔
6۔ انعامات کی تقسیم کے سلسلے میں اس قسم کے معاہدے بھی ہوتے ہیں کہ ایک انعام فلاں گروپ کے ادیب کو ملنا چاہیے اور دوسرا فلاں گروپ کے ادیب کو۔
ممکن ہے یہ تمام اعتراضات درست نہ ہوں لیکن ان کاکوئی جزو بھی اگر درست ہے تو پھر ہمیں تسلیم کرلینا چاہیے کہ صورت ِ حال خاصی تشویش ناک ہے۔ ضرور ت اس امر کی ہے کہ گروہی سیاست سے بلند ہوکر انعامات تقسیم کیے جائیں اور ایسے ادیبوں کو جج بنایا جائے جو اپنے اپنے شعبوں میں درجہء استناد رکھتے ہوں اورجن کی دیانت داری پر کسی کو شبہ نہ ہو۔ اگر ایسا نہیں ہوسکتا توبہتر ہے کہ گلڈ انعامات کا جھگڑا ہی ختم کردے اور یہ کام اکیڈمی آف لیٹرز کے سپرد کردے۔ اس سے یہ فائدہ بھی ہوگا کہ اکیڈمی کے پاس کرنے کو لیے ایک کام تو ہوگا۔
یہ سطور لکھی جاچکی تھیں کہ اِطلاع ملی ہے، کراچی سے مشفق خواجہ اور لاہور سے انتظار حسین نے انعام لینے سے انکار کردیا ہے۔ مشفق خواجہ نے وجہ یہ بتائی ہے کہ انھوں نے اپنی کتاب انعام کے لیے داخل نہیں کی تھی۔ انتظار حسین نے کہا ہے کہ ان کا انعام کسی اور مستحق کو دے دیاجائے۔ یہ دونوں ادیب گِلڈ کے انعام سے اِس طرح ڈرگئے ہیں جیسے انعام نہ ہو،جرمانہ ہو۔گھر آئی ہوئی دولت کوٹھکرانا دیوانگی نہیں تو کیا ہے۔ ایسے ادیبوں کو واقعی جرمانہ کرنا چاہیے۔ ویسے سچی بات تو یہ ہے کہ پاکستان کے بیش تر ادیب جو کچھ لکھتے ہیں۔ وہ اِنعام سے زیادہ جرمانے ہی کا مستحق ہوتا ہے۔
ش۔ فرّخ ”نئی دنیا پرانی دنیا“ کی مصنفہ اور ”اخبارِ خواتین“ کی کالم نگار کی حیثیت سے ادبی حلقوں میں معروف و مقبول ہیں۔ 2نومبر کے اخبارِ خواتین میں انھوں نے کراچی کے شب وروز کی روداد بیان کرتے ہوئے کچھ دل چسپ انکشافات کیے ہیں۔یہ انھیں کی زبانی اور بلاتبصرہ ملاحظہ کیجئے:
”جمیل الدین عالی گزشتہ دنوں صہبا اختر کے ساتھ امریکہ گئے تھے۔ میں نے یہ جملہ اسی طرح درج کیا ہے جس طرح اداکیا گیا تھا۔ ہوا یہ کہ ٹیلی ویژن اسٹیشن پر ایک روز صہبا اختر سے ملاقات ہوئی۔ کہنے لگے،امریکہ سے واپسی پر لندن رُکنے کا بڑا مُوڈ تھا لیکن چند مجبوریوں کی بنا پر ایسا نہ کرسکا۔ میں نے ان کی بات سن کر کہا: ”اچھا! آپ عالی جی کے ساتھ امریکہ گئے تھے؟ کیونکہ جمیل الدین عالی اپنے کالموں میں اپنے موجودہ سفرِِ امریکہ کا ذِکر کرچکے ہیں۔ صہبا اختر جھٹ سے بولے: ”عالی ہمارے ساتھ گئے تھے۔“
اپنے فقرے کی وضاحت انھوں نے کچھ اِس طرح کی کہ میں ممتازترین شاعر ہوں۔ امریکہ جانے سے قبل ممتازشعرا کی ایک فہرست پر مجھے دستخط کرنے کو کہا گیا تو میں نے کہا کہ یہ ملک ممتازشعرا سے بھراپڑا ہے لیکن میں تو ممتاز ترین شاعر ہوں آخر ان سے درخواست کی گئی کہ اپنے نام کے ساتھ ”ترین“ لِکھ کر دستخط کردیں۔
ادب،فن اور شاعری میں معاصروں کے درمیان چپقلش بلکہ سرد جنگ اندر ہی اندر ہوتی رہتی ہے۔ مثلاً افتخار عارف باربار یہی کہتے رہے کہ میں احمد فراز سے اچھا شاعر ہوں۔ کئی بار سن کر کہنا پڑا کہ ”فراز کی بہر حال اسٹینڈنگ زیادہ ہے۔“ افتخار عارف اس پر کہہ رہے تھے: ”اسٹینڈنگ سے کیا ہوتا ہے،ادا جعفری بہت سینئر شاعرہ ہیں جب کہ پروین شاکر جو نیئر ہوتے ہوئے بھی اداجعفری سے بہت اچھی شاعرہ ہے۔“ ادھر فراز کا یہ عالم ہے کہ منھ سے کچھ نہیں کہتے لیکن افتخار عارف کا تذکرہ ہو توکہہ دیتے ہیں۔ ”چھوڑو یار،کس کا نام لے دیا ہے۔“ معا ف کیجئے میں افتخار عارف،احمد فراز، پروین شاکر، جمیل الدین عالی اور صہبا اختر کو آپس میں بھڑانا نہیں چاہتی،ایسی باتیں ہوتی ہی رہتی ہیں۔ فن کار لوگ ایک دو سرے سے اسی طرح جلتے رہتے ہیں۔ عام سی بات ہے شاید نوواردوں کے لیے اپنے سے سینئرلوگوں سے آگے نکلنے کا یہی طریقہ ہے۔ وقت خود بتادیتا ہے کہ کون اچھا ہے اور کس کی صرف اسٹینڈنگ ہے یا وہ اچھا بھی ہے اور مستحکم بھی۔“
محترمہ ش۔ فرخ کی تحریر کااقتباس ختم ہوا۔ افسوس کہ اچھے برے کا فیصلہ انھوں نے وقت پر چھوڑ دیا۔اگر وہ ہم پر چھوڑ دیتیں تو ہم عرض کرتے کہ افتخار عارف اور صہبا اختر جو کچھ کہتے ہیں، سچ کہتے ہیں، بیچارے عالی اور فرازتوصرف شعرکہتے ہیں ظاہر ہے سچائی کا درجہ شاعری سے بہت بلند ہے۔