
مطبوعہ روزنامہ ”جسارت” کراچی، 11ستمبر1981ء
سُخن دَرسُخن۔۔۔خامہ بگوش کے قلم سے
پھر وہی نظیر بے نظیر:
ہمارے کالم کی بسم اللہ ہی غلط ہوئی ہے پہلی مرتبہ نظیر صدیقی کے بارے میں جو کچھ لکھاتھا اس میں ہمارے کاتب صاحب نے خاصی گل افشانیاں کی ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی ہماری طرح نظیر صاحب سے خاصے بے تکلّف ہیں۔ انھوں نے دوران کتابت بعض واقعات حذف کردئیے اور بعض واقعات کی درمیانی کڑیاں اسی طرح حذف کردیں جس طرح خو دنظیر صاحب اپنے تنقیدی مضامین سے بعض اہم غزل گو شعراء کے نام حذف کردیتے ہیں۔ اب اس کا موقع تو نہیں ہے کہ ہم اپنا پوراکالم دوبارہ شائع کرائیں صرف ایک واقعہ صحیح صورت میں سنادینا ضروری ہے کہ اس کاتعلق مستقبل کی تاریخ سے ہے۔ غلط اور ناتمام واقعہ آپ پچھلی مرتبہ پڑھ چکے ہیں۔ صحیح اور مکمل واقعہ یوں ہے: نظیر صدیقی کے دوستوں نے ٹھٹھہ جانے کا پروگرام بنایا جس کا مقصد یہ تھا کہ مَکلی کے قبرستان میں نظیر صاحب کے مجموعۂ کلام ”حسرتِ اظہار“ کا ایک نسخہ دفن کردیاجائے تاکہ ادب کی تاریخوں میں نہ سہی،آثارِ قدیمہ کی تاریخوں میں اس مجموعے کا ذکر ضرور آجائے۔
احمد ندیم قاسمی اور ہمارے نقاد:
ایک مشہو ر ادیب جو اپنا نام ظاہرنہیں کرنا چاہتے،انھوں نے جناب احمد ندیم قاسمی (1)کے دونوں خطوں کے اقتباس بھیج کر ان کے بارے میں سوال کیا ہے۔ سوال آپ بعد میں پڑھیئے گاپہلے خطوں کے اقتباس ملاحظہ کرلیجئے:
قاسمی صاحب نے مدیر”الفاظ“(2)(علی گڑھ) اطہر پرویز(3) کے نام ایک خط لکھا تھا جو”الفاظ“کے اکتوبر 1980 ء کے شمارے میں صفحہ 90پر شائع ہو ا ہے۔ اس خط میں وہ فرماتے ہیں:
”میں ایک شاعر اور ادیب کی حیثیت سے تنظیمی سطح پر یقینا سرگرم عمل رہا ہوں مگر اپنی تخلیقات کے بارے میں مجھے یہ اعتماد رہا ہے کہ کبھی نہ کبھی ناقد حضرات متوجہ ہوں گے۔ سو اس طرح سےگوشہ نشین رہا ہوں۔ اس سے پہلے محترم اسلوب احمدانصاری (4) اور ڈاکٹر قمر رئیس صاحب(5) میرے افسانوں کے بارے میں لکھ چکے ہیں انھوں نے ازخود لکھا اس لیے خوشی ہوئی۔ یہی مسرّت یہ سن کرحاصل ہوئی کہ آپ نے بھی اس موضوع پر لکھا ہے سو اس مضمون کی نقل بھجوانے کی استدعا کررہا ہوں۔“
دوسرا اقتباس خلیل الرحمن اعظمی مرحوم(6) کے نام کے خط سے ہے۔ یہ خط یکم جنوری 1968ء کو لکھاگیاتھا اور رسالہ ”شاعر“ (7)بمبئی کے خلیل الرحمن اعظمی نمبر میں صفحہ 256پر شائع ہوا ہے۔ قاسمی صاحب فرماتے ہیں:
”میرے متعلق طفیل صاحب (8)اور دیگر احباب جو کتاب مرتب کررہے ہیں،اس میں آپ کی شمولیت ضروری تھی۔ دراصل میری خواہش تھی کہ آپ میری شاعری کے بارے میں لکھیں۔ اردو کے بزرگ نقادوں نے شاعری کے سلسلے میں میرے ساتھ بے انصافی کی ہے اور مجھے حیرت ہوتی ہے کہ یہ حضرات خود غور سے کسی کا کلام شاید ہی پڑھتے ہیں بلکہ تنقید کی جو لائن ایک بار مقرر ہوگئی، اس کو مسلسل پیٹتے چلے جارہے ہیں۔ میں اپنے آپ کو اول و آخر شاعر قرار دیتا ہوں۔مگر اس ضمن میں میری خاصی حق تلفی ہوتی رہی ہے اور ہورہی ہے۔ آپ سے مجھے انصاف اور غیرجانبداری کی توقع تھی۔ مگر آپ وقت نہ نکال سکے۔ اب برادرِ عزیز شہریار(9) کے خط سے معلوم کرکے کہ میری شاعری کے بارے میں آپ دونوں کے درمیان بعض حوصلہ افزا باتیں ہوئی ہیں، پھر سے یہ حسرت بیدار ہوئی کہ کاش آپ وقت نکال سکتے۔“
ان اقتباسات کے بارے میں ہم سے جوسوال کیا گیا ہے وہ یہ ہے: ”یقین نہیں آتا کہ قاسمی صاحب جیسا بڑا ادیب اس قسم کے خطوط بھی لکھ سکتا ہے۔ لوگ تو شاعر اور افسانہ نگار بننے کے لیے قاسمی صاحب سے سر ٹیفکیٹ لیتے ہیں، اور خود قاسمی صاحب کا یہ حال ہے کہ وہ دوسروں سے سرٹیفکیٹ مانگتے پھرتے ہیں۔ 1968ء میں اگر قاسمی صاحب کسی سے اپنی شاعری پرمضمون لکھنے یا شاعری سے انصاف کرنے کے لیے کہتے ہیں تو بات سمجھ میں آتی ہے کہ قاسمی صاحب نے خود شاعری سے انصاف نہیں کیا تو دوسرے ہی کریں۔لیکن1980ء میں ناقد حضرات سے شکوہ کرنا ایک سمجھ میں نہ آنے والی بات ہے۔ ”ندیم نامہ“ (10) اور ”افکار“ (11)کے ندیم نمبر کی اشاعت کے بعد تو قاسمی صاحب کو اس طرح نہیں سوچنا چاہیے۔ اس سلسلے میں آپ کی رائے کیا ہے؟“
ہم کیا اور ہماری رائے کیا۔ بس یہی کہا جاسکتا ہے کہ قاسمی صاحب بڑے شاعر اور بڑے افسانہ نگار تو تھے ہی، اب انھیں بڑا مکتوب نگار بھی کہاجاسکتا ہے۔ ہمیں مذکورہ دونوں اقتباسات میں کوئی بات قابلِ اعتراض نظر نہیں آتی۔1968ء میں اگر انھوں نے مرحوم خلیل الرحمن اعظمی سے اپنی شاعری پر لکھنے کی درخواست کی اور 1980ء میں یہ فرمایا کہ ”کبھی نہ کبھی ناقد حضرات متوجہ ہوں گے۔“ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ قاسمی صاحب نقادوں سے مایوس نہیں ہیں۔ یہ دوسری بات ہے کہ خلیل الرحمن اعظمی انتقال فرماچکے ہیں اور متوجہ ہونے والے ناقد ابھی پیدا نہیں ہوئے۔ سچ تو یہ ہے کہ قاسمی صاحب کاپُر امید ہونا ہی اصل بات ہے۔ نقادوں کی طرف سے قاسمی صاحب کی مایوسی یانقادوں کی قاسمی صاحب سے مایوسی کچھ اہمیت نہیں رکھتی۔ نقادوں کاکیا ہے وہ تو بطور فیشن بھی قاسمی صاحب کی شاعری سے مایوسی کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ خداانھیں نیکی کی توفیق دے۔
احمد ہمیش بزعم خویش:
احمد ہمیش (12)پاکستان (13)کے وہ خوش قسمت ادیب ہیں جن کی شہرت پاکستان سے زیادہ غیر ممالک میں خصوصاً ہندوستان (14)میں ہے۔گھر میں تو وہ احمد ظفر(15) کے برابر بھی مشہور نہیں ہیں لیکن باہر ان کی شہرت احمدفراز(16) تو کیا پروین شاکرسے بھی زیادہ ہے۔ ان کے افسانے ”مکھی“ کا انگریزی ترجمہ ایک عالمی انتخاب میں شامل ہوچکا ہے۔ ہندوستان کے کئی نقادوں نے انھیں اردو کاایک اہم افسانہ نگارقرار دیا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان کے نقادوں میں سے بیش تر ان کے نام سے بھی واقف نہیں ہیں۔ اور جو نام سے واقف ہیں انھیں موصوف کے کام سے آگاہی نہیں ہے اور جو ایک آدھ نقاد کام سے بھی تھوڑا بہت واقف ہے وہ منہ میں گھنگھیاں ڈالے اور قلم کو پھپھوندی لگائے بیٹھا ہے۔ ہم اس صورتِ حال کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہیں اور احمدہمیش صاحب کونصیحت بلکہ وصیّت کرتے ہیں کہ وہ نقادوں سے مایوس نہ ہوں۔آج نہیں تو سودو سوسال بعد ان کے فن کی قدر کم از کم اتنی ضرورہوگی جتنی آج انتظار حسین (17)کی ہورہی ہے۔
آمدم برسرِمطلب، گزشتہ سال مارچ میں دہلی میں اردو افسانے پر ایک سیمینار ہوا تھا جس میں احمد ہمیش کوشرکت کی دعوت ملی تھی (ہمیں بعض حاسدوں کی اس رائے سے اتفاق نہیں کہ دعوت نامہ احمد ہمیش صاحب نے خود منگوایا تھا) ہندوستان جانے کے اخراجات پاکستان کی اکیڈمی آف لیٹرز (18)نے برداشت کیے تھے(دو ہزار ایک سو چوراسی روپے کا ٹکٹ اور ساٹھ ڈالر نقد بطورزادراہ)۔ روانگی کے وقت احمد ہمیش نے جوخبر چھپوائی تھی اس کے مطابق موصوف کے ساتھ ڈاکٹر وزیر آغا (19)اور انتظار حسین بھی تھے۔ گویا تقریب کے اصل دولہا احمد ہمیش تھے اور باقی دونوں براتی یا بینڈ بجانے والے تھے۔
احمد ہمیش نے اپنے دورۂ بھارت کا سفر نامہ بھی لکھا ہے۔اور اسے اس قابل نہیں سمجھا کہ پاکستان میں چھپوایا جائے۔ یہ ایک ہندوستانی رسالے ”مفاہیم“(20) (گیا) (21)میں شائع ہوا ہے۔ یہ بہت ہی دلچسپ سفر نامہ ہے۔ اس کے چند اقتباسات قارئین کی تفریحِ طبع بلکہ عبرت کے لیے پیش ہیں:
اخباروں میں احمد ہمیش کی ہندوستان روانگی کی خبر اتفاق سے ایک روز پہلے چھپ گئی تو اس کا یہ رد عمل ہوا:
”میں سویرے اپنے محلے کی بیکری سے ڈبل روٹی خرید رہا تھا، بیکری والاجو خبر پڑھ چکا تھااور میری بدبختی سے مجھے پہچانتا تھا، میری صورت دیکھ کر بری طرح چونکا جیسے واقعی اس نے بھوت دیکھ لیا ہو۔ دوپہر ہونے تک کراچی کے ادیبوں کو پتہ چلا۔ خاص کر ان ادیبوں کوجنہیں پروفیسر نارنگ (22)نے دلّی(23) کے سیمینار میں شرکت کی دعوت نہیں دی تھی۔ وہ حسد سے پیدا ہونے والی تکلیف میں مبتلا ہوگئے۔ شام کو ایک بااثر اور متمول نقاد کے ڈرائنگ روم میں مقامی شاعر اور افسانہ نگارجمع تھے۔ بدبختی سے میں وہاں بھی جاپہنچا۔ بہتوں نے مجھے دیکھتے ہی ایک قسم کی مصنوعی لاتعلقی کاتاثر دینے کی کوشش کی۔۔۔ ایک کٹے ہوئے بالوں والی خاتون افسانہ نگار(ابتدائی عمر میں ضرور خوش شکل رہی ہوں گی) اپنے افسر شوہر کی موجودگی میں بھسم کردینے والے انداز میں گھورنے لگیں۔ پھر مجھے ستانے کے انداز میں۔۔۔ ایک مقامی نقاد سے مخاطب ہوئیں: ”میری سمجھ میں نہیں آتا کہ دلّی کے سیمینارمیں پاکستان سے کون جا رہا ہے۔۔۔ یہ ضروری تو نہیں بھارت سے جسے بلایا گیا ہو وہی جائے گا۔ میں نے اپنی عافیت اسی میں جانی کہ چپ چاپ وہاں سے کھسک آیا۔ ویسے بھی یہاں (پاکستان) کی عورتیں ایک قسم کی کٹاؤں مخلوق ہوتی ہے۔ ان کے اعضا محبت کرنے والے ___اعضا نہیں ہوتے ممنوعات کی ریاکاری نے انھیں عاشق اور شوہر دونوں کے لیے ناکارہ بنا رکھا ہے۔ خاص کر اُن میں جوشاعر اور افسانہ نگار ہیں۔وہ ہر اُس بے فیض بقراطی میں رنگی نظر آتی ہیں جو بیچارے مرد کوصرف فرسٹریٹ کرنے لیے ہی ہوتی ہے“
کراچی سے روانگی کے وقت احمد ہمیش نے صلاح الدین محمود (24)کو ٹیلی گرام دیا تھا کہ وہ لاہور(25) ایئرپورٹ (26)پرپہنچیں۔لیکن وہ حضرت دامن بچاگئے۔ پھر احمد ہمیش نے محبوب خزاں کو فون کیا کہ مجھے ایئر پورٹ سے لے جاؤ محبوب خزاں نے کہا کہ تم میرے دفتر آجاؤ۔ میں یہیں تمہارا استقبال کروں گا۔ بیچارے احمد ہمیش ہانپتے کانپتے ان کے دفتر پہنچے۔ اس توقع کے ساتھ کہ محبوب خزاں اُنھیں اپنے گھر لے جائیں گے اورمہمان بنا کر رکھیں گے۔ لیکن محبوب خزاں بھی کچی گولیاں نہیں کھیلے تھے اُنھوں نے موصوف کو ایک سستے سے ہوٹل میں ٹھہرادیا۔ (سفر نامے سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ہوٹل کا کرایہ کس نے ادا کیا، یاادا بھی کیا کہ نہیں) اہل لاہور کے طرز تباک کو دیکھ کر احمد ہمیش کا دل جل گیا۔ فرماتے ہیں:
”دوسرے دن لاہور میں بہتوں کو میری آمد کا پتا چلا لِیکن سب جانتے ہوئے انجان بن گئے ۔ ہاں وزیر آغا اور انتظار حسین مجھ سے رسمی طور پر محض اس لیے ملے کہ انھیں میرے ساتھ دلّی جانا تھا۔ ایئر پورٹ روانہ ہونے سے قبل نو بجے وزیرآغا نے مجھے انیس ناگی کاپیغام دیا کہ وہ مجھ سے ملناچاہتے ہیں۔ میں نے جواب میں ملنے سے بالکل انکار کر لیا اس لیے نہیں کہ میں مغرور اور خود سر تھا بلکہ اس لیے کہ ایک روز گزرے جو اجنبیت میرے ساتھ برتی گئی۔ وہ مجھے لاہور میں رہنے والے بلکہ پورے لاہور سے بددل اور بیزار کردینے کے لیے کافی تھی۔“
دہلی جانے کے لیے جب احمد ہمیش لاہور ایئر پورٹ پر پہنچے تو وہاں بھی کوئی اُن کا پرسان حال نہیں تھا۔کشور ناہید(27) موجود تھیں لیکن وہ انتظار حسین کو رُخصت کرنے آئی تھیں۔احمد ہمیش نے کشور ناہید کے بارے میں جو کچھ لکھا ہے وہ اس قابل تو نہیں ہے کہ نقل کیا جائے۔ لیکن نقلِ کفرکفر نباشد کے مصداق ملاحظہ ہو:
”۔۔۔مجھے دیکھتے ہی پلٹیں اور چلی گئیں۔ جب کہ یہ وہی ک۔ ن تھیں۔ جو چار برس قبل ایک رسالے کے لیے مجھ سے نظموں کی فرمائش یا تقاضا بے فیض و غیر نسوانی بے تکلفی سے کرتیں۔ مجھے ان کے غیر نسوانی نہیں بے فیض پہلو سے الرجی تھی انھیں اپنی نظمیں نہیں دیں۔میراخیال تھا کہ ان چار برسوں میں ان میں کچھ خوش گوار تبدیلی آئی ہوگی مگر معلوم ہواکہ دوبارہ ادیبوں کی ڈائریکٹر جیسی چیز ہونے کے بعد سے اُن میں ضرورت سے زیادہ اکڑفوں بھی آگئی ہے۔ ویسے بھی افسری ایک خوفناک چیز کا نام ہے۔اور پھر ک۔ن جیسی عورت کا افسر بن جانا تو خوفناک سے بھی بڑھ کر کوئی چیزہوگی۔“
ہم نے جب بذریعہ ٹیلی فون کشور ناہید کو احمد ہمیش کی اس تحریر کی طرف متوجہ کیا تو انھوں نے کہا کہ میں نے احمد جاوید(28)، احمد شمیم(29)، احمد ظفر، احمد داؤد(30)، احمد راہی(31)، احمد پرویز (32)وغیرہ کے نام سنے ہیں لیکن احمد ہمیش کا نام بھی نہیں سنا۔ مجھے تو یہ بھی معلوم نہیں کہ پاکستان میں اس نام کا کوئی شاعر موجود ہے۔ مجھے یاد نہیں کہ جب میں لاہور ایئر پورٹ پر انتظار حسین کو رخصت کرنے گئی تھی وہاں احمدہمیش نامی کوئی شخص موجود تھا۔ہاں اتنا یاد ہے کہ وہاں رنگین نسوانی کپڑوں میں ملبوس ایک شخص موجود تھا۔ جو کسی تھیٹریکل کمپنی کا ”کیدو“ (33)معلوم ہوتا تھا___ ہم نے پوچھا کہ ”کیدو“ کیاہوتا ہے۔ کہنے لگیں: قصہ ہیر (34)رانجھا(35) کا ایک مشہور کردار ہے اور اب کراچی میں رہتا ہے۔
دہلی میں احمد ہمیش کے قیام کے دوران بہت سے واقعات پیش آئے۔ صرف ایک واقعے کی تفصیل سن لیجئے:
”میں نے ایم ایم خاں مسٹر انڈیا(36) کو دیکھا جو ماہر فوٹوگرافر کی حیثیت سے اپناکیمرہ لیے ملاقات کے باریک اور لطیف گوشوں کی تصویر کھینچنے میں مصروف تھا۔ اُس وقت جب میں اور لنڈاوینٹک(37)بے اختیار ایک دوسرے کے گلے ملے۔یہ ایک بے غرض و بے لوث سادگی تھی حالانکہ یہی لنڈا وینٹک جب امریکہ سے دو سال قبل آئی تھی اور ایک ہفتہ قیام کے دوران اس سے میری کئی ملاقاتیں ہوئیں مگر کبھی ایساکوئی بے اختیار موقع ہی میسر نہیں آیا کہ ہم ایک دوسرے سے گلے ہی مل جاتے۔ اگر غلطی سے ایساہوا ہوتا تو اخباروں میں کالم کے اوچھے ہتھیار لیے فرسٹرٹیڈ صحافی میری پیٹھ پرکوڑے پڑواتے۔ میں نے خدا کا شکریہ ادا کیا کہ 27 مارچ کی شام کو میں فرسٹرٹیڈ صحافی سے بہت دور تھا۔“
احمد ہمیش کا سفر نامہ بہت دل چسپ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کا ایک باتصویر ایڈیشن پاکستا ن میں بھی چھاپا جائے۔ سرورق پر لنڈا وینٹک والی تصویر ہوتو سفرنامے میں توکیا دیکھنے والوں میں بھی جان پڑ جائے۔ اس سفرنامے کے بہت سے حصے اس لائق ہیں کہ ہمارے قارئین اُن سے مستفید ہو ں۔ مگر افسوس کہ ہمارے کالم میں مزید فکاہیت کی گنجائش نہیں ہے البتہ ہم ایک بات کہے بغیر نہیں رہ سکتے کہ اس سفر نامے کا حاصِل اس کا آخری حصَہ ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ احمد ہمیش کراچی واپس آئے تو اُن کے پاس اپنی بہت سی تصویریں تھیں جن میں ہندوستان کے بڑے بڑے ادیبوں کے ساتھ وہ محو کلام وطعام نظر آتے ہیں۔ وہ یہ تصویریں لے کر کراچی کے ایک کثیر الاشاعت اخبار کے دفتر میں گئے اور کہا یہ تصویریں چھاپ دیجئے۔ اخبار والوں نے صاف انکار کردیا۔ احمد ہمیش کو اس کابہت رنج ہوا۔ ہم بھی اس رنج میں اُن کے برابر کے شریک ہیں۔موصوف اگر چاہیں تو ان تصویروں کوہمارے اخبار میں چھپوا سکتے ہیں۔ ہمارا اخبار ادبی قسم کے اشتہارات نصف اُجرت پر چھاپتا ہے۔
حواشی و تعلیقات کالم نمبر۲
1۔ احمد ندیم قاسمی: آپ کا اصل نام پیرزادہ احمد شاہ تھا وہ ضلع سرگودھا کی تحصیل خوشا ب(موجودہ ضلع) کے ایک گاؤں انگہ میں 1916 ء میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام پیر غلام نبی تھا مگر چن پیر کے نام سے معروف تھے۔ 1935 ء میں بی اے کیا۔ اوکاڑہ میں کچھ عرصہ ٹیلی فون آپریٹر بھی رہے۔ 1939ء میں ملتان کے ایکسائز آفس میں سب انسپکٹر ہوئے۔ ”پھول“ اور ”تہذیبِ نسواں“ کے مدیر رہے۔ ”ادبِ لطیف“، ”سویرا“ اور ”امروز“ کے بھی مدیر رہے۔ 1963ء میں ”فنون“جاری کیا۔مجلس ترقی ادب لاہور کے ڈائریکٹر بھی رہے۔ 1980ء میں ستارۂ امتیاز عطا ہوا۔ 1997ء میں کمالِ فن ایوارڈ ملا۔ معروف تصانیف میں ”چوپال“، ”بگولے“، ”کپاس کا پھول“، ”گرداب“، ”سیلاب“،”آبلے“،”سناٹا“ اور”کوہ پیما“ شامل ہیں۔
(یاسر جواد انسائیکلوپیڈیا ادبیات عالم،اسلام آباد: اکادمی ادبیات پاکستان، 2013ء،ص: 518)
2۔ الفاظ: ایک ادبی رسالہ جوعلی گڑھ انڈیا سے شائع ہوتا تھا جس کے مدیر اطہر پرویز رہے۔
(راشد ہاشمی، ادب، ثقافت اور تہذیب، مشمولہ، روزنامہ، الشہباز ٹائمز، سرگودھا، 2 ستمبر 2016ء، 3)
3۔ اطہر پرویز: رسالہ ”الفاظ“ کے مدیر، شاعر اور دانش ور۔
(راشد ہاشمی، ادب، ثقافت اور تہذیب، مشمولہ، روزنامہ، الشہباز ٹائمز، سرگودھا، 2 ستمبر 2016ء، 3)
4۔ اسلوب احمد انصاری: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں انگریزی کے پروفیسر کی حیثیت سے معروف ہوئے۔ ممتا ز ادبی نقاد اور مدیر تھے۔ دہلی میں پیدا ہوئے۔1946 ء میں علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی میں انگریزی شعبہ کے لیکچرر مقرر ہوئے۔1951 ء میں طلعت آراء سے شادی کی۔ غالب کے حوالے سے ان کے کام کو پذیرائی ملی۔ 1985ء میں ریٹائر منٹ لی۔
(روشنائی نمبر23۔24 ، اکتوبر2005ء تا مارچ 2006ء،ص: 97)
5۔ قمر رئیس: اردو کے ممتاز شاعر، افسانہ نگار، محقق اور نقاد تھے۔ اصل نام مصاحب علی خاں تھا۔ شاہ جہاں پور یوپی میں 1932ء میں پیدا ہوئے۔ آگرہ یونی ورسٹی سے بی اے کیا۔ 1954ء میں لکھنؤ یونی ورسٹی سے ایل ایل بی پاس کیا۔ پھر ناگ پور یونی ورسٹی سے1956 ء میں ایم اے اردو اور 1958ء میں علی گڑھ یونی ورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری لی۔ درس و تدریس کا شعبہ اختیار کیا۔ معروف کتابوں میں ”پریم چند کا تنقیدی مطالعہ“، ”پریم چند فکر و فن“، ”اردو میں لو ک ادب“، ”نیا افسانہ مسائل اور رجحانات“، ”اردو ادب میں طنز و مزاح کی روایت“،”پریم چند شخصیت اور کارنامے“، ”اردو کے نمائندہ افسانے“۔ آپ کا 2009ء میں انتقال ہوا۔
(یاسر جواد انسائیکلوپیڈیا ادبیات عالم،اسلام آباد: اکادمی ادبیات پاکستان، 2013ء،ص:829)
6۔ خلیل الرحمن اعظمی: 1927ء میں اعظم گڑھ میں ایک ممتاز عالم دین کے ہاں پیدا ہوئے۔ اردو معلیٰ کے سیکرٹری اور علی گڑھ میگزین کے مدیررہے۔ بی اے اور ایم اے اردو کرنے کے بعد علی گڑھ یونیورسٹی سے ترقی پسند تحریک پر پی ایچ ڈی کی ڈگری لی۔اسی یونی ورسٹی میں پڑھانے لگے۔ پھر تاحیات یہیں رہے۔ تحقیقی و تنقیدی کتب میں ”فکر وفن“، ”مقدمہ: کلامِ آتش“ ”نوائے ظفر“، اور ”زاویۂ نگاہ“ شامل ہیں۔جب کہ شعری مجموعہ میں ”کاغذی پیرہن“، ”نیا عہد نامہ“، ”زندگی اے زندگی“ قابل ذکر ہیں۔
(یاسر جواد انسائیکلوپیڈیا ادبیات عالم،اسلام آباد: اکادمی ادبیات پاکستان، 2013ء،ص: 653)
7۔ شاعر: علامہ سیماب اکبر آبادی نے شاعری کے فروغ کے لیے ”قصرالادب“ کی بنیاد ڈالی اور اس کی اشاعتی
سرگرمیوں کے لیے اگست 1926ء میں لاہور سے ادبی مجلہ ”پیمانہ“ بھی جاری کیا۔ معاون مدیر کے طور پر ساغرنظامی ان کے ہمراہ تھے۔سیماب اکبر آبادی لاہور سے آگرہ منتقل ہوئے تو انھوں نے ایک نیا ادبی مجلہ ”شاعر“ جاری کیا۔ اس کا بنیادی مقصد بھی زبان و ادب کی خدمت اور قصر الادب سے منسلک شعراء کا تعارف تھا۔ ”شاعر“ اردو کا واحد ادبی جریدہ ہے جس کا سلسلہ اشاعت اب تیسری نسل میں پہنچ چکا ہے۔ علامہ سیماب اکبر آبادی کراچی منتقل ہوئے تو ”شاعر“ کی ادارت اعجاز صدیقی کے سپر د کر دی گئی۔ اب ”شاعر“ کی ادارت افتخار امام صدیقی سرانجام دے رہے ہیں ”شاعر“ کی منفر د خوبی یہ ہے کہ اس نے ہر عہد میں ادب کے نئے تقاضوں کو سمجھا،نئے تجربوں کا خیر مقدم کیا او رقدیم و جدید شعرا اور نظریات کو پیش کرنے میں سرگرم عمل رہا۔
(انور سدید، ڈاکٹر، پاکستان میں اردو رسائل کی تاریخ، اکادمی ادبیات پاکستان، اسلام آباد،1992ء، ص:62)
8۔ محمد طفیل: اردو کے معروف ادیب او رمدیر تھے۔ لاہور میں 1923 ء میں پیدا ہوئے۔ ابتداء میں خوش نویسی کی تربیت حاصل کی اور 1944 ء میں ادارہ فروغ اردو کے نام سے ایک پبلشنگ ہاؤس قائم کیا۔ 1948 ء میں لاہور سے ماہنامہ ”نقوش“ نکالا جو پاکستانی ادب میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ 18 شماروں کے بعد نقوش کی ادارت محمد طفیل نے خود سنبھالی۔ غزل، افسانہ، شخصیات، آپ بیتی، میر ؔ، غالبؔ، اقبال ؔ، ادب عالیہ، منٹو، شوکت تھانوی،، ادبی معرکے، لاہور، عصری ادب نمبر شائع کیے۔محمد طفیل کے خاکوں پر مشتمل کئی مجموعے شائع ہوئے۔ صاحب، جناب، آپ، محترم،مکرم، معظم، او رمخدومی کافی مشہور ہیں۔
(یاسر جواد انسائیکلوپیڈیا ادبیات عالم،اسلام آباد: اکادمی ادبیات پاکستان، 2013ء ،ص:453)
9۔ شہر یار: اصل نام اخلاق محمد خان تھا۔ آپ 1936 ء میں اُترپردیش کے ضلع بریلی میں ایک پولیس افسر کے گھر پیدا ہوئے۔ آپ کا خاندان بلند سہر ضلع میں چوڈیرہ سے یہاں آکر آباد ہوا۔ والد کی خواہش تھی کہ وہ پولیس میں بھرتی ہو۔ اس وجہ سے گھرسے بھاگ کھڑے ہوئے۔ معروف نقاد خلیل الرحمن اعظمی کو رہنمابنایا۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں اردو فکشن پڑھانے لگے۔ بعد میں وہیں سے پی ایچ ڈی کی ڈگری لی۔ فلموں کے گیت بھی لکھے۔ شعری مجموعوں میں ”اسمِ اعظم“، ساتواں در“ اور ”ہجر کے موسم“ شامل ہیں۔ اِن کی مشہور ترین کتاب ”خواب کے در بند ہیں“ جو 1987ء میں شائع ہوئی۔ شہر یار 2012 ء میں انتقال کر گئے۔
(یاسر جواد انسائیکلوپیڈیا ادبیات عالم،اسلام آباد: اکادمی ادبیات پاکستان، 2013ء ،ص: 739)
10۔ ندیم نامہ: محمد طفیل مدیر ”نقوش“ لاہور نے احمد ندیم قاسمی کے فکر و فن پر ایک خوبصورت کتاب مرتب کی جس کا نام
”ندیم نامہ“رکھا گیا۔ یہ کتاب مجلس ارباب فن لاہور نے 1976ء میں زیور طباعت سے آراستہ ہوئی۔
(محمد عباس طوروی ”احمد شاہ سے احمد ندیم قاسمی تک“ پاکستان رائٹرز کوآپرٹیو سوسائٹی، لاہور، 2010 ء، ص : 264)
11۔ افکار (ندیم نمبر): اپریل 1945ء میں بھوپال سے ماہنامہ ”افکار“ کا اجراء صہبا لکھنوی اور رشد ی بھوپالی نے کیا۔ ”افکار“
کا بنیادی مقصد اردو کی خدمت اور بھوپال کے جگمگاتے ہوئے ذروں کو مجتمع کرکے آفتاب بنانا تھا۔ آزاد کے بعد صہبا لکھنؤی بھوپال سے کراچی منتقل ہوگئے تو ”افکار“ کراچی سے جاری ہوگیا۔ ”افکار“ نے کئی یادگار نمبر شائع کیے ان میں ایک خاص نمبر ”ندیم نمبر“ بھی تھا۔ یہ پرچہ جنوری، فروری 1975ء (شمارہ نمبر ۔۔۔/۔۔۔) منظر عام پر آیا۔ یہ شمارہ تقریباً بارہ سو صفحات پر مشتمل تھا۔
(انور سدید، ڈاکٹر، پاکستان میں اردو رسائل کی تاریخ، اکادمی ادبیات پاکستان، اسلام آباد،1992ء، ص:114۔115)
12۔ احمد ہمیش: 1940ء میں بھارت کے ضلع بلیا میں پیدا ہوئے۔ 1950 ء میں کراچی آگئے۔ ان کی کہانیوں کا مجموعہ ”مکھی“ کے عنوان سے شائع ہوا۔ احمد ہمیش بلند پایہ شاعر اور افسانہ نگار ہیں۔ ان کا دوسرا مجموعہ ”مجھے کہانی لکھتی ہے“ احمد ہمیش نثری نظموں کی ابتدا کرنے والوں میں سے تھے۔ ان کی نثری نظموں کا مجموعہ ”ہمیش نظمیں“ 2005ء میں شائع ہوا۔ 1983 ء میں عالمی ہندی کانفرنس کے موقع پر اس وقت کی بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے سر سوتی سمان سے نوازا۔ وہ سنسکرت او رہندی کے استاد او رمترجم رہے۔
(یاسر جواد انسائیکلوپیڈیا ادبیات عالم،اسلام آباد: اکادمی ادبیات پاکستان، 2013ء ،ص: 518)
13۔ پاکستان: اسلامی جمہوریہ پاکستان 14 اگست 1947 ء کو معرض وجود میں آیا۔ پہلے گورنر جنرل قائد اعظم محمد علی جناح تھے۔ پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان بنے۔ مشرق میں بھارت، شمال مغرب میں افغانستان، شمال میں چین، جنوب میں بحیرۂ عرب مغرب میں ایران واقع ہے۔ اس کا رقبہ 839040 مربع کلومیٹر ہے۔ زمینی رقبہ 778720مربع کلو میٹر ہے۔ معروف شہروں میں کراچی، لاہور، ملتان، فیصل آباد، سرگودھا، حید ر آباد، اسلام آباد ہیں۔ اسلام آباد وفاقی دارالحکومت ہے۔ مذہب اسلام ہے۔ 96 فیصد سے زائد مسلمان جب کہ 3فیصد عیسائی، ہندو و پارسی وغیرہ ہیں۔
(مسعود مفتی / ولی محمد بھٹی، دنیا کے تمام ممالک کا انسائیکلوپیڈیا، لاہور:علم و عرفان، جولائی 2007ء، ص: 152)
14۔ ہندوستان (بھارت): 15 اگست 1947 ء میں برطانیہ سے آزاد ہوا۔ہندی قومی زبان ہے۔ جنوبی ایشیا میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان واقع ہے۔ شمال مغرب میں پاکستان شمال میں چین، تبت، نیپال او ربھوٹان، مشرق میں برما، جنوب مشرق، جنوب اور جنوب مغرب میں بحر ہند واقع ہے۔ رقبہ 3287590 مربع کلو میٹر ہے۔ بڑے شہروں میں دہلی، کلکتہ، ممبئی، بنگلور، احمد آباد، کانپور شامل ہیں۔ نیو دہلی دارالحکومت ہے۔
(مسعود مفتی / ولی محمد بھٹی، دنیا کے تمام ممالک کا انسائیکلوپیڈیا، لاہور:علم و عرفان، جولائی 2007ء، ص: 107)
15۔ احمد ظفر: اصل نام ظفر علی احمد تھا۔ 1926ء میں راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ احمد ظفر اردو اور پنجابی کے ممتاز شاعر ، ادیب، صحافی اور براڈکاسٹر تھے۔مختلف ادبی جرائد اور اخبارات میں کام کرتے رہے۔ انجمن ترقی پسند مصنفین کے ریجنل سیکرٹری اور ریڈیو پاکستان میں پروگرام مینیجر بھی رہے۔ پنجابی شعری مجموعوں میں ”بیلے بیلے“ ”پتن پتن“ ”اٹھ دریا وچ سورج بولے“،”وسدے بدل دا ہنیرا“، اور”یاداں دے بلدے دیوے“ شامل ہیں جب کہ اردو تصانیف میں ”حسن خزاں“، ”داستاں داستاں“،”نذر غالب“، ”مجسمے اور دریچے“، ”دل دو نیم“،”لازوال“اور ”حمدیں“ شامل ہیں۔
(یاسر جواد انسائیکلوپیڈیا ادبیات عالم،اسلام آباد: اکادمی ادبیات پاکستان، 2013ء ،ص: 516)
16۔ احمدفراز:12جنوری 1913ء کو نوشہرہ میں پیدا ہوئے۔ان کے والد گرامی سیدمحمد شاہ برق اردو اور فارسی کے معروف شاعر تھے۔ ان کے والدآغا برق کوہاٹی کے نام سے بھی لکھتے رہے ہیں۔پشاور یونی ورسٹی پشاورسے ایم اے اردو اور ایم اے فارسی امتیازی نمبروں کے ساتھ پاس کیے۔احمد فراز پشاور یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے سربراہ بھی رہے۔ حصول علم کے بعد انھوں نے سب سے پہلے1950ء تا 1951ء ریڈیو پاکستان کراچی میں بطور اسکرپٹ رائٹر کے ملازمت اختیار کی پھر 1952ء تا 1957ء ریڈیو پاکستان پشاور میں اسکرپٹ رائٹر تعینات رہے۔1959تا1961ء پر وگرام پر وڈیوسرمقررہوئے۔ ان کی تخلیقات میں ”تنہا تنہا“ ”درد آشوب“ ”نایافت“ ”جاناں جاناں“ ”خواب گل پریشاں ہے“ ”پس انداز موسم“ ”میر ے خواب ریزہ ریزہ“”بے آواز گلی کوچوں میں“”سب آوازیں میری ہیں“ ”شب خون“”نابینا شہر میں آئینہ“”غزل بہانہ کروں“”اے عشق جنوں پیشہ“،”بودلک“”شب خون“”اور ”شہر سخن آراستہ ہے“ (کلیات)۔احمد فراز 25اگست 2008ء کو انتقال کر گئے۔
(ذوالفقاراحسن، تنقیدی افق، راولپنڈی:نقش گر، 2013ء، ص: 53)
17۔ انتظار حسین: ؎1935ء میں یوپی کے ضلع بلند شہر کے گاؤں ڈبائی میں پیدا ہونے والے انتظار حسین کو تقسیم کے بعد ہجرت کرکے پاکستان آنا پڑا۔ہجرت کا کرب اور دکھ ان کے اندر سرایت کر گیا۔ وقفے وقفے کے بعد یہ دکھ اور کرب مختلف صورتوں میں صفحۂ قرطاس میں نمودار ہوتا رہا۔ کبھی افسانوں کی صورت میں اور کبھی کسی ناول کی صورت میں۔ انتظار حسین کا ناول ”بستی“ ان کا نقطۂ عروج سمجھا جاتا ہے۔ افسانوی مجموعوں میں ”گلی کوچے“، ”کنکر“، ”آخری آدمی“، ”شہر افسوس“، ”کھچوے“، ”خیمے سے دور“، ”خالی پنجرہ“، ناول اور ناولٹ میں ”چاند گرہن“،”دن اور داستان“، ”بستی“، ”تذکرہ،”آگے سمندر ہے“،شامل ہیں۔ ”بستی“ کو رائٹرز گلڈ آدم جی ادبی انعام برائے ناول دیا گیا۔ ڈراموں میں ٹی وی کے لیے ”نفرت کے پردے میں“، پانی کے قیدی“، جب کہ اسٹیج کے لیے ”خوابوں کے مسافر“ (سٹیج ڈراما) شامل ہیں۔
(ہارون الرشید تبسم، 100 عظیم شاعر و نثر نگار، مقبول اکیڈمی لاہور، 2016 ء،ص : 276)
18۔ اکیڈمی آف لیٹرز: ادب کو فروغ دینے والا اہم ادارہ، حکومت پاکستان کی وزارت تعلیم نے اکادمی ادبیات پاکستان کو
ایک خود مختار ادارے کی حیثیت سے 14جولائی 1976ء کو قائم کیا۔ اکادمی ادبیات نے ادب کے ذریعے قومی یکجہتی کو فروغ دینے کے لیے سہ ماہی جریدہ ادبیات جاری کیا۔ بیرونی دنیا میں پاکستانی ادب کو متعارف کرانے کےلیے اکادمی ادبیات کے نام سے انگریزی رسالے کا بھی اجرا کیا۔ اکادمی نے جولائی 1983ء میں خبرنامہ جاری کیا۔ کلچرل ایکسچینج پروگرام کے تحت ادیبوں کے بین الاقومی تبادلے بھی ہوتے ہیں۔ صدر دفتر اسلام آباد میں ہے۔ علاقائی دفاتر، لاہور، پشاور، کوئٹہ اور کراچی میں ہیں۔
(سید قاسم محمود، انسائیکلوپیڈیا پاکستانیکا، لاہور: الفیصل ناشران و تاجران،2004ء، ص: 230)
19۔ ڈاکٹر وزیر آغا: علم و دانش کا یہ آفتاب 18 مئی 1922ء کو طلوع ہوااورلاکھوں اذہان کو منور کرتا ہوا 7ستمبر 2010ء کو غروب ہوگیا۔1956ء میں پنجاب یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری بعنوان ”اردو ادب میں طنزو مزاح“ حاصل کی۔ان کے نگران ڈاکٹر عبادت بریلوی تھے۔ڈاکٹر وزیر آغا نے 1966ء میں عہد ساز ادبی جریدے ”اوراق“ کا اجرا کیا۔ جو 2006ء تک جاری رہا۔ان کی تصانیف کی تعداد 60 کے قریب ہے۔تنقید کی کتابوں میں ”اردو ادب میں طنز و مزاح”نظم جدید کی کروٹیں“،”اردو شاعری کا مزاج“،”تنقید اور احتساب“،”تخلیقی عمل“،”نئے مقالات“، ”تصور عشق و خرد اقبال کی نظر میں“،”نئے تناظر“،”دائرے اور لکیریں“،”تنقید اور جدید اردو تنقید ”انشائیہ کے خدوخال“،”ساختیات اور سائنس“،”مجید امجد کی داستان محبت“،”غالب کا ذوق تماشہ“،”معانی اور تناظر“، ”امتزاجی تنقید کا سائنسی اور فکری تناظر“کلچر کے خدوخال“شامل ہیں۔
(سید قاسم محمود، انسائیکلوپیڈیا پاکستانیکا، لاہور: الفیصل ناشران و تاجران،2004ء، ص: 959)
20۔ مفاہیم :ایک ہندوستانی اردو رسالہ ہے جو ”گیا“ سے شائع ہوتا رہا۔
(راشد ہاشمی، ادب، ثقافت اور تہذیب، مشمولہ، روزنامہ، الشہباز ٹائمز، سرگودھا، 2 ستمبر 2016ء، 3)
21۔ گیا: بھارت کی ریاست بِہار میں دریائے تَلگُو کے کنارے واقع ہے۔ ”گیا“کے ساحلوں، عبادات گاہوں اور عالمی ثقافتی ورثہ کے فن تعمیرکو دیکھنے کے لیے ہر سال ڈھیروں سیاح یہاں کا رخ کرتے ہیں۔یہ ایک قدیم شہر ہے۔ ضلعی صدر مقام بھی گیا ہے۔
(راشد ہاشمی، ادب، ثقافت اور تہذیب، مشمولہ، روزنامہ، الشہباز ٹائمز، سرگودھا، 2 ستمبر 2016ء، 3 اور ویکیپیڈیا ویب سائیٹ)
22۔ ڈاکٹرگوپی چند نارنگ: 1931ء میں دُکی بلوچستان میں پیدا ہوئے۔ دہلی یونیورسٹی سے ایم اے اردو اور پی ایچ ڈی مکمل کی۔ درس و تدریس کے شعبہ میں ملازمت اختیار کی۔ مختلف یونی ورسٹیوں میں اردو ادب پڑھاتے رہے۔ معروف کتب”اقبال کا فن“، اسلوبیات میر“، ”اردو افسانہ، روایت اور مسائل“، ”سانحہ کربلا بطور شعری استعارہ“، ”ادبی تنقید اور اسلوبیات“، ”ساختیات پس ساختیات اور مشرقی شعریات“ ”ترقی پسند، جدیدیت مابعد جدیدیت“،”اردو زبان اور لسانیات“ اور دیگر شامل ہیں۔
(یاسر جواد انسائیکلوپیڈیا ادبیات عالم،اسلام آباد: اکادمی ادبیات پاکستان، 2013ء، ص: 848)
23۔ دِلّی: شمالی بھارت کا علاقہ 1981ء کے مطابق آبادی 50لاکھ تھی۔ متعدد حکمران خاندانوں کے مساکن کے آثار موجود ہیں۔مثلاً چوہان راجپوتوں کے ایک قلعے (بارہویں صدی عیسوی)کے کھنڈر موجود ہیں۔ لال کوٹ (1052ء) مشہور قطب مینار اور لوہے کی لاٹھ بھی یہاں ہیں، جو شہر کے جنوب مغرب میں واقع ہیں۔ 1206ء میں سلطنت دہلی کے پہلے دارالحکومت کی ابتدا یہیں سے ہوئی تھی۔ نئی دہلی کے قریب ہی مشرق میں اس علاقے پر، جو پانڈو خاندان کے روایتی دارالحکومت کا مقام بتایا جاتا ہے سوریوں کا تعمیر کردہ پرانا قلعہ ہے۔ خلجیوں کے علاوہ فیروز تغلق، مبارک شاہ، سید اور شیر شاہ سوری نے اپنی عمارتیں بنوائیں۔ پھر شاہ جہان نے دہلی کو دارالحکومت بنایا (1638ء) تو شاہجہان آباد کی بنیاد رکھی، جس میں لال قلعہ، دیوان عام، دیوان خاص، جامع مسجد بے مثال عمارتیں تھیں۔1912ء میں یہ ہندوستان کا دارالحکومت بنا۔1913ء میں نئی دہلی کی عمارتیں پایۂ تکمیل کو پہنچیں جن میں رومی کلاسیکی انداز پیش نظر رکھا گیا۔ یہی شہر بھارت کی آزادی (1947ء) کے بعد بھارت کا مرکزِ حکومت بنا۔ اس شہر کو غیر معمولی تاریخی اہمیت حاصل ہے۔
(جامع اردو انسائیکلوپیڈیا، ص: 608)
24۔ صلاح الدین محمود: اردو کے ممتا ز شاعر اور نقاد کے طور پر مشہور ہوئے۔ 1934ء میں دہلی میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد محمد عمر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں فلسفے کے استاد تھے۔ صلاح الدین محمود نے علی گڑھ یونیورسٹی سے انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی۔ اور قیامِ پاکستان کے بعد لاہور آگئے۔ ان کا شعری مجموعہ ”کشف قرص الوجود“ کے نام سے شائع ہوا۔ سعودی عرب کا ایک سفرنامہ ”خاک حجاز کے نگہبان“ کے نام سے لکھا۔ کچھ عرصہ ادبی جریدے ”سویرا“ کی ادارت بھی کرتے رہے۔ 1988ء میں انتقال کر گئے۔
(یاسر جواد انسائیکلوپیڈیا ادبیات عالم،اسلام آباد: اکادمی ادبیات پاکستان، 2013ء، ص: 749)
25۔ لاہور: صوبہ پنجاب (پاکستان) کا دارالحکومت او ربرعظیم پاک و ہند کا قدیم تاریخی شہر ہے۔ اس شہر نے بے شمار انقلابات دیکھے ہیں۔ یہ شہرتہذیب و تمدن کا او رعلم و فن کا مرکز او رحریت پسندوں اور آزاد روؤں کا گہوارہ بھی ہے۔ 1940ء میں قراردادپاکستان اسی شہر میں منظور ہوئی او ریہیں اسلامیان ہند کے لیے ایک الگ او رآزاد وطن کو منتہائے مقصود قرار دیا گیا۔ ایک روایت کے مطابق لاوہر رام کے لڑکے لایالو نے آباد کیا اور اسی کے نام سے موسوم ہوا۔ اسلامی عہد کی کتب میں سب سے پہلے مروزی کی تصنیف حدودالعالم میں اس شہر کا ذکر آیاہے۔ یہ کتاب 372ھ میں لکھی گئی۔ اس وقت لاہور امیرِ ملتان کے تحت تھا۔ سلطان محمد غزنوی نے 412ھ میں لاہور سمیت شمالی ہند کے بعض علاقوں کو فتح کیا اور اس فتح کی یاد میں اس شہر میں پہلی مسجد تعمیر کرائی۔ یہاں سید اسماعیل غزنوی بھی تھے، جو حدیث پڑھاتے تھے ان کا انتقال 448ھ میں ہوا۔ حضرت علی ہجویری (دانا گنج بخش) بھی یہی مقیم رہے۔ 465 ھ کو ان کا انتقال ہوا اور یہیں مدفون ہوئے۔ سلاطین غزنی کے زمانے میں لاہور کا باقاعدہ صوبیدار ایاز مقرر ہوا جو سلطان محمود غزنوی کا منظور نظر تھا۔
(اردو انسائیکلوپیڈیا، لاہور: فیروز سنز پرائیویٹ لمٹیڈ،2005، ص: 1226)
26۔ لاہور ایئر پورٹ: ایک جدید طرز کا نیا انٹرنیشنل ائیر پورٹ بنایا گیا جس کا نام ”علامہ اقبال انٹرنیشنل ائیر پورٹ“ رکھا گیا۔ یہ ائیرپورٹ مقامی پروازوں کے علاوہ غیر ملکی پروازوں کے حوالہ سے معروف ہے۔ بہت وسیع اور کشادہ ائیر پورٹ ہے۔
(راشد ہاشمی، ادب، ثقافت اور تہذیب، مشمولہ، روزنامہ، الشہباز ٹائمز، سرگودھا، 2 ستمبر 2016ء، 3)
27۔ کشور ناہید: اصل نام سیدہ کشور جہاں ہے۔ وہ 1940 ء میں بلند شہر یوپی کے ایک سید گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ آپ کے والد کا نام سید ابن حسن تھا۔ قیام پاکستان کے بعد ان کا خاندان ہجرت کر کے پاکستان آیا۔ 1954ء میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ تقریباً 1959ء میں شاعری کا آغاز کر دیا۔ کشور ناہید کی ادبی خدمات پر انھیں آدم جی ادبی انعام ملا۔ بچوں کے ادب پر یونیسیکو انعام، بہترین تراجم پر کو لمبیا یونیورسٹی ایوارڈ، جنوبی افریقہ کا منڈیلا ایوارڈ ملا۔ شعری مجموعوں میں ”لب گویا“، ”بے نام حاشیے“ شامل ہیں۔
(یاسر جواد انسائیکلوپیڈیا ادبیات عالم،اسلام آباد: اکادمی ادبیات پاکستان، 2013ء، ص: 838)
28۔ احمد جاوید:پروفیسر احمد جاوید 1948ء میں اٹک میں پیدا ہوئے۔ آ پ اردو کے ممتاز افسانہ نگار اور نقاد ہیں۔پنجاب یونی ورسٹی لاہور سے ایم اے اردو کا امتحان پاس کیا۔ درس و تدریس کا شعبہ اپنایا۔ آپ اسلام آباد کے مختلف کالجوں میں تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے۔ آپ لیکچرار، اسسٹنٹ پر وفیسر، پروفیسر اور پرنسپل کے عہدوں پر فائز رہے۔ ریٹائر منٹ کے بعد 2005ء سے 2009 ء تک نمل میں ایم اے، ایم فل او رپی ایچ ڈی کورسز کے لیے وزٹنگ پروفیسر رہے۔پہلا افسانوی مجموعہ ”غیر علامتی کہانی“ 1982ء میں منظر عام پر آیا۔اس کے بعد دومزید مجموعے شائع ہوئے۔ جن میں ”چڑیا گھر“(1997ء)، اور ”گمشدہ شہر کی داستان“ (2003ء) شامل ہیں۔ تنقید کی کتاب ”تیسری دنیا کا افسانہ“ (1982ء) میں شائع ہوئی۔
(یاسر جواد انسائیکلوپیڈیا ادبیات عالم،اسلام آباد: اکادمی ادبیات پاکستان، 2013ء، ص: 512)
29۔ احمد شمیم: اصل نام غلام علی زرگر تھا۔ آپ اردو کے ممتاز شاعر، ڈرامہ نگار، کالم نویس اور افسانہ نگار تھے۔ سری نگر کے ایک متوسط گھرانے میں 1927ء میں پیدا ہوئے۔ محکمہ اطلاعات میں اسسٹنٹ انفارمیشن آفیسر کے عہدے پر فائز رہے۔ دل کا دورہ پڑنے سے موت واقع ہوئی۔ احمد شمیم کے شعری مجمووں میں ”اجنبی موسم میں ابابیل“، ”ریت پر سفرکا لمحہ“، ”داغ“، ”ریگ زرد کے اس پار“ شامل ہیں۔ریڈیو اور ٹی وی کے لیے ڈرامے لکھے جن میں ”سیپ سمندر اور ساحل“، ”لمحہ بہ لمحہ“، اور”ریت پر سفر“ شامل ہیں۔ 2005 ء میں وزیر اعظم نے لائف ٹائم اچیو منٹ ایوارڈ سے نوازا۔ 1982ء میں انتقال ہوا۔
(یاسر جواد انسائیکلوپیڈیا ادبیات عالم،اسلام آباد: اکادمی ادبیات پاکستان، 2013ء، ص: 515)
30۔ احمد دؤاد: 1951ء میں راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ 1978ء میں پولیٹیکل سائنس میں ایم اے کیا۔ کاشت کاری، پرنٹنگ، پرائیویٹ پروڈکشن اور مختلف کاروبار کے علاوہ ریڈیو، ٹی وی اور اسٹیج کے لیے کھیل لکھے۔ پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس اسلام آباد میں ملازمت اختیار کی۔ ترکی، ایران، شام، عراق، اور بھارت کی سیر کی۔ ناول ”رہائی“ 1991ء میں شائع ہوا۔ افسانوی مجموعوں میں ”مفتوح ہوائیں“ 1980ء، ”دشمن دار آدمی“ 1983ء، ”خواب فروش“ 1996ء شامل ہیں۔
(یاسر جواد انسائیکلوپیڈیا ادبیات عالم،اسلام آباد: اکادمی ادبیات پاکستان، 2013ء، ص: 514)
31۔ احمد راہی: پنجابی اور اردو کے ممتاز شاعر اور کامیاب فلمی نغمہ نگار تھے۔ ان کا اصل نام غلام احمد تھا۔ احمد راہی 1923 ء میں امرتسر میں پیدا ہوئے۔ ایم اے او کالج امرتسر میں داخلہ لیا لیکن جلد ہی تعلیم ادھوری چھوڑ دی۔ شاعری شروع کی اور ماموں صادق امرتسری سے اصلاح لینے لگے۔ منٹو، سیف الدین سیف اور اے حمید کی صحبت رہی۔ رسالہ ”سویرا“ کے مدیر بھی رہے۔ 1952 ء میں پنجابی مجموعہ ”ترنجن“ شائع ہوا۔ ترنجن کا فلیپ منٹو نے پنجابی میں لکھا۔
(یاسر جواد انسائیکلوپیڈیا ادبیات عالم،اسلام آباد: اکادمی ادبیات پاکستان، 2013ء، ص: 514)
32۔ احمد پرویز: احمد پرویز 1926 ء میں راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ احمد پرویز پاکستان کے ایک جدید طرز کے پینٹر تھے اور ایک عرصہ لندن میں مقیم رہے۔ وہ لند ن میں لاہور کی ٹیم کے ایک اہم رکن تھے اور پاکستان گروپ کے بانی بھی تھے۔ احمد پرویز 1979ء میں دارفانی سے کوچ کر گئے۔
(راشد ہاشمی، ادب، ثقافت اور تہذیب، مشمولہ، روزنامہ، الشہباز ٹائمز، سرگودھا، 2 ستمبر 2016ء، 3)
33۔ کیدو: مہر چوچک کابھائی ۔لنگڑا کیدو ہیر کا چچا تھا۔ قصہ ہیر رانجھا میں کیدو کا ایک اہم کردار ہے۔
(لوک داستانیں، اسلام آباد: مقتدرہ قومی زبان 2008، ص: 24)
34 ہیر: اسم مونث، لکشمی، مایہ، دولت یہاں مراد رانجھا کی معشوقہ کا نام جس کا افسانہ پنجاب بلکہ تمام ہند میں زبان زدِ خاص و عام ہے۔
(مولوی سید احمد دہلوی،فرہنگ آصفیہ جلد دوم (لاہور:مرکزی اردو بورڈ، گلبرگ)، ص : 1495)
35۔ رانجھا: اسم مذکر، پنجاب کے ایک شخص کانام جو ہیر پر عاشق تھا۔
(وارث سرہندی، لاہور: علمی کتاب گھر اردو بازار، 1985ء، ص : 560)
36۔ ایم ایم خاں مسٹر انڈیا: ایک بھارتی کیمرہ مین۔
(راشد ہاشمی، ادب، ثقافت اور تہذیب، مشمولہ، روزنامہ، الشہباز ٹائمز، سرگودھا، 2 ستمبر 2016ء، 3)
37۔ لنڈاوینٹک: 1931ء میں ملبون فلپائن میں پیدا ہوئیں۔لنڈا امریکہ میں مقیم رہیں۔ والد فلپائن ریلوے میں ملازم تھے جب کہ والدہ ایک پبلک سکول میں استاد تھیں۔ لنڈا نے ہارڈوڈ فلپائن یونیورسٹی سے لاء کیا اور بوسٹن یونیورسٹی کے ایک استاد سے 1956 ء میں شادی کر لی۔لنڈا اپنے افسانوں او رناولوں کی وجہ سے مشہور ہوئیں۔اس کے تاریخی ناول دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ اس کا ایک ناول Dream Eden بہت مشہور ہوا۔
(راشد ہاشمی، ادب، ثقافت اور تہذیب، مشمولہ، روزنامہ، الشہباز ٹائمز، سرگودھا، 2 ستمبر 2016ء، 3)