
کالم نمبر4
مطبوعہ روزنامہ ”جسارت” کراچی، 25/ستمبر1981ء
سُخن دَرسُخن۔۔۔خامہ بگوش کے قلم سے
نشہ کی حالت میں کلام سنانے والے شاعر
ترقی پسندی کا نشہ
وہ اردو پڑھنے کےلیے جاپان جارہے ہیں
قاسمی صاحب کے خطوط منٹوکے نام
اس ہفتے کی سب کی اہم خبر یہ ہے کہ سندھ کے صوبائی محکمہ تعلیم نے اسکولوں اور کالجوں میں مشاعروں اور رقص و موسیقی کی تقریبات پر پابندی عائد کردی ہے۔ اس خبر کا روشن پہلو یہ ہے کہ شاعری،رقص اورموسیقی کو برابر کی اہمیت دی گئی ہے ورنہ شعرا حضرات تو اپنے آپ کو رقاصوں اور موسیقاروں سے برترسمجھتے ہیں حالانکہ بعض شاعر صرف رقص اور موسیقی کے ماہر ہوتے ہیں لیکن حقیقت پر شاعری کا پردہ ڈال لیتے ہیں۔ پھر یہ بات بھی ہے کہ شعر کہنے کے لیے کسی محنت کی ضرورت نہیں ہوتی (پہلے موزونیء طبع کی شرط ہوتی تھی، اب یہ بھی نہیں رہی کہ نثری نظم ایجاد ہوچکی ہے) اور رقص و موسیقی کے فنون میں نام پیدا کرنے کے لیے زندگی پھرریاضت کرنا پڑتی ہے۔ ہمیں خوشی ہے کہ یہ تینوں فنون یکساں طور پر مخرب اخلاق قراردئیے گئے ہیں۔
مشاعروں پر پابندی عائد کرنے کے سلسلے میں خبر میں بتایا گیا ہے کہ ”بعض شعرا نشے کی حالت میں ایسا کلام سناتے ہیں جو مخرب الاخلاق ہوتا ہے اور جس سے بے راہ روی کے رجحان کو تقویت ملتی ہے۔“ بات درست ہے، لیکن ہمیں اس سے اتفاق نہیں کہ شعرا نشے کی حالت ہی میں مخربِ اخلاق کلام سناتے ہیں۔ وہ بعض اوقات نشے کے بغیر بھی یہ فریضہ انجام دے لیتے ہیں اور ”ایسا ایساکلام“ سناتے ہیں کہ سننے والوں کا سارا نشہ ہرن ہوجاتاہے۔
خبر میں یہ نہیں بتایا گیا کہ شعرا کس قسم کا نشہ کرتے ہیں۔شراب ممنوع ہے، ہاں بعض شعرا چرس کا دم لگالیتے ہیں خصوصاً نئی نسل کے وہ شعرا جو اپنا سلسلۂ نسب میر تقی میر(1)کے والد سے جوڑتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ موصوف کے گھر میں پہلے میرؔ پیدا ہوا اور پھر ہم۔ لیکن ہمیں یقین ہے کہ خبر ساز ادارے کا اشارہ شراب،چرس،افیون اور اس قسم کی دوسری چیزوں کی طرف نہیں ہے۔ شاعر حضرات کچھ اور قسم کے نشے کرتے ہیں مثلاً شہرت کا نشہ، خودی کا نشہ، جدیدیت کا نشہ، ترقی پسندی کا نشہ، لسانی تشکیلات کا نشہ۔ اس قسم کے نشوں سے شاعری تو کیا خود شاعر بھی مخربِ اخلاق ہوجاتا ہے۔ ہمیں خوشی ہے کہ مشاعروں پر پابندی بروقت لگائی گئی ہے۔ اُمید ہے اس پابندی کی وجہ سے تعلیمی اداروں کا تعلیمی معیار نہ سہی، اخلاقی معیار ضرور بلند ہوگا۔
خبر میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ تعلیمی نصاب سے ایسی نظمیں اور غزلیں بھی خارج کی جارہی ہیں جن سے نوجوانوں کا اخلاق خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔ ہم نے اس تشویش ناک صورتِ حال کا اندازہ کرنے کے لیے ایک نصابی کتاب پر طائرانہ نظر ڈالی۔ کچھ نہ پوچھےہ کہ ہمارا حال کیا ہوا۔ ہر صفحے پر نہیں، ہر سطر پر ہمارا اخلاق خراب ہوتے ہوتے رہ گیا۔ طائرانہ نظر ڈالنے سے ہمارا یہ حال ہوا ہے تو جو لوگ ”غائرانہ“ نظر ڈالتے ہیں، خدا جانے ان پر کیا گزرتی ہوگی۔ وہ کتاب جو ہماری نظر سے گزری ہے اُس کا نام ”جدید ادبیاتِ اُردو“ ہے اور یہ بی اے سال دوم میں پڑھائی جاتی ہے، اور اس کتاب کو مرتب کیا ہے ڈاکٹر ابواللیث صدیقی (2)نے(یہ وہی ڈاکٹر ابواللیث ہیں جو ”جسارت“ میں اپنے خیالاتِ تازہ کی آمد آمد کو ”رفت و بود“ کے نام سے پیش کرتے ہیں)۔ ڈاکٹر صاحب کی مرتبہ کتاب مخربِ اخلاق شعروں سے بھری ہوئی ہے بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ از اول تاآخر اخلاقیات کی نفی کرتی ہے۔ بھلا بتائیے اس قسم کے شعر بی اے کے طالب علموں کو پڑھانے چاہیں:
جسے عشق کا تیر کاری لگے
اُسے زندگی کیوں نہ بھاری لگے
ولی دکنی (3)
دل سے شوق رخ نکونہ گیا
تاکنا جھانکنا کبھو نہ گیا
میر تقی میرؔ
برقع اٹھتے ہی چاند سا نکلا
داغ ہوں اس کی بے حجابی سے
میر تقی میرؔ
کس پہ بگڑے تھے کس پہ غصّہ تھا
رات تم کس پہ تھے خفا صاحب
مومن خان مومنؔ
پوچھئے مے کشوں سے لطفِ شراب
یہ مزا پاکباز کیا جانیں
داغؔ دہلوی (5)
عاشقو! حُسنِ جفا کار کا شکوہ ہے گناہ
تم خبردار خبردار نہ ایسا کرنا!
حسرت موہانی (6)
قارئینِ کرام سے درخواست ہے کہ ان شعروں کو پڑھتے وقت ان کے معنوں پر غور نہ کریں ورنہ اخلاق کی خرابی کے ہم ذمہ دار نہیں ہوں گے۔ یہ اشعاراُردو کے بڑے شاعروں کے ہیں۔ ممکن ہے بعض عاقبت نااندیش یہ سوال کریں کہ اگر ان بڑے شاعروں کا کلام خارج از نصاب کردیا گیا تو پھر کس کا کلام مدرسوں میں پڑھایا جائے گا۔ ان پوچھنے والوں کی آگاہی کے لیے عرض ہے کہ خارج از نصاب کی جگہ خارج از آہنگ کلام شاملِ نصاب کیا جائے گا۔ خدانخواستہ ہمارا اشارہ فہمیدہ ریاض(7)،پروین شاکر، سحر انصاری(8)،محسن بھوپالی اور اسی قبیل کے دوسرے شعرا کی طرف نہیں ہے۔یہ سب تو آنے والے دور کے میرؔو غالبؔ، آتش(9) و مومنؔ اور ناسخؔ(10) و منسوخ ہیں۔ ان کی جگہ نصابوں میں نہیں ادبی تاریخوں میں ہوگی۔ یہ دوسری بات ہے آئندہ کاغذ کی قلت کی وجہ سے ادبی تاریخوں کے لکھنے اور شائع کرنے کا کام بند ہوجائے۔
اوپر ہم نے ترقی پسندی کے نشے کا ذکر کیا ہے۔ پرانی شراب کی طرح پرانی ترقی پسند ی کا نشہ بھی دیرپا ہوتا ہے۔ محترم احمد ندیم قاسمی لاکھ اب اپنا رشتہ تحریکِ پاکستان سے جوڑیں بلکہ شعلہؔ آسیونی(11) کی طرح یہ دعویٰ دائر کردیں کہ ”پاکستان کا مطلب کیا“ والا ترانہ انوحں نے لکھا تھا، اور عبدالمتین عارف (12)کا نام بھی گواہی میں لے دیں کہ ان کی موجودگی میں یہ ترانہ لکھا گیا تھا لیکن قاسمی صاحب کے ترقی پسند ہونے میں کوئی غیر ترقی پسند ہی شبہ کرسکتا ہے۔ یہ بات ہم نے اس لیے عرض کی ہے کہ دو ہفتے قبل اسی کالم میں ہم نے قاسمی صاحب کے دو خطوں کے اقتباسات شائع کیے تھے۔ ا ب کے دو مکمل خط شائع کرنے کی سعادت حاصل ہورہی ہے۔ یہ خط ہمیں بہاولپور سے ہمارے ایک کرم فرما محمد خالد اختر(13) صاحب نے بھیجے ہیں۔ ان خطوں کا پس منظر یہ ہے کہ 1949ء میں انجمن ترقی پسند مصنفین نے محمد حسن عسکری(14)، سعادت حسن منٹو(15)، عزیز احمد(16) اور ممتاز شیریں (17) جیسے ادیبوں پر ”پابندی“ لگائی تھی یعنی فیصلہ کیا تھا کہ ان رجعت پسندوں کی تحریریں ترقی پسند رسالوں میں شائع نہیں کی جائیں گی۔ ان دنوں قاسمی صاحب ”نقوش‘(18)‘ کے ایڈیٹر تھے۔ انجمن ترقی پسند مصنفین(19) کے فیصلے سے پہلے قاسمی صاحب نے منٹو سے ”نقوش“ کے لیے افسانہ مانگا تھا اور جب انجمن کا فیصلہ ہوگیا تو اپنی اس درخواست کو خود ہی رد فرمادیا۔ اس سلسلے میں انو ں نے منٹو کو جو خط لکھے وہ منٹو مرحوم نے اپنے رسالے”اُردو ادب“ (20)کے دوسرے شمارے(1949ء) میں شائع کیے تھے۔ اب یہ خط ملاحظہ فرمائیے:
پہلا خط
سعادت بھائی! سلام محبّت!
یہ تو آپ کو معلوم ہی ہے کہ میں 24/اپریل سے علیل ہوں۔ آپ کی مجوزہ دوا کا اشتہار مجھ تک پہنچ گیا تھا۔ بہر کیف اس امر کا مجھے افسوس رہا کہ آپ مجھے پوچھنے تک نہ آئے۔ آپ کو اس بات کاتو یقینا احسا س ہوگا کہ یہ شکایت کرتے ہوئے میں حق پر ہوں۔ 15/اگست کو نقوش کا ضخیم آزادی نمبر آرہا ہے۔ اگر اس کے لیے آپ کوئی کہانی مرحمت فرماسکیں تو یہ آ پ کا بہت بڑا کرم ہوگا۔ میں یہاں کوئٹہ (21)میں آپ کی تمنات کا منتظر ہوں۔
احمد ندیم قاسمی۔کوئٹہ
دوسرا خط
برادرم سعادت! سلام مسنون!
مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ میرا وہ خط جو میں نے کوئٹہ سے لکھا تھا، اپنے رسالے ”اُردو ادب“ میں شائع کررہے ہیں۔ میرے اس خط کی اشاعت روک لیں۔ جب میں نے آپ سے افسانہ طلب کیا تھا تو ہماری انجمن نے ایسی کوئی پابندی عائد نہیں کررکھی تھی کہ وہ رسالے جنہیں ترقی پسند ادب کی نمائندگی کا دعویٰ ہے، ایسے ادیبوں کی تحریریں شائع نہ کریں جنہیں ترقی پسند ادب کی تحریک سے اتفاق نہیں۔ اب یہ فیصلہ ہوچکا ہے اور میں انجمن کے منشور، آئین اور فیصلوں کا پابند ہونے کے باعث یہ نہیں چاہتا کہ میرا وہ خط پڑھ کر ہماری تحریک کے ہمدرد الجھن میں پڑ جائیں۔ امید ہے آپ میرا وہ خط روک لیں گے، اور اگر ایسا ناممکن ہواتو یہ خط بھی شائع کردیں۔
شکریہ
والسلام
احمد ندیم قاسمی، لاہور 19/ستمبر1949ء
قاسمی صاحب اور منٹو میں گہرے مراسم تھے۔ خط و کتابت بھی خوب رہتی تھی۔قاسمی صاحب اپنے نام منٹوکے خط کتابی صورت میں شائع کرچکے ہیں۔ ہم نے یہ مجموعہ اس خیال سے دیکھا کہ شاید اس میں قاسمی صاحب کے مذکورہ دونوں خطوں کے جواب بھی ہوں لیکن افسوس کہ قاسمی صاحب نے اس مجموعے میں منٹو کا کوئی ایسا خط شامل نہیں کیا جو فروری1948ء کے بعد کا ہو۔
اوپر ہم نے ایک گواہی کے سلسلے میں عارف عبد المتین صاحب کا نام لیا ہے۔ یہاں بھی ا ن کی گواہی کی ضرورت پڑ گئی ہے۔ عارف صاحب نے بھی منٹو کو ایک دل چسپ خط لکھا تھا جو ”اردوادب“ کے مذکورہ شمارے میں چھپاتھا۔ لگے ہاتھوں وہ خط بھی پڑ ھ ڈالیے:
بھائی جان!تسلیم!
میرا منظوم ڈرامہ کچھ مدت سے آپ کی تحویل مںی ہے۔ مںے متعدد مرتبہ مسودہ حاصل کرنے کے لےں چوہدری صاحب سے ملا مگر کامارب نہ ہوسکا۔ اس کے بعد مںی علل ہوگاد۔ براہ کرم ڈرامے کا مسودہ مجھے لوٹادیجئے۔اب ”اردوادب“ مںگ اسے شائع کرانا مراے لےد بالکل ممکن نہںد رہا کولنکہ مجھے صاف اطلاع ملی ہے کہ مرمی علالت کے دوران ہماری انجمن نے بعض ادبا سے عدم تعاون کا فصلہ کاد ہے۔ ذاتی طور پر مرہے دل مںج آپ کی بڑی عزت ہے اور مں آپ کا احترام کرتا ہوں لکن انجمن کے ایک ذمہ دار رکن کی حتا سے اس کے فصلوےں کا احترام مجھ پر فرض ہے۔ مجھے یناف ہے کہ آپ مر ے ڈرامے کی اشاعت رکوا کر مجھے اس فرض کی تکملک مںا مدد فرمائں گے۔شکریہ
عارف عبد المتین۔لاہور 9/ستمبر1949ء
اب آخر میں کچھ خبریں بھی سُن لجئے :
٭ لاہور کے ڈاکٹر تبسم کاشمرفی(22) بسلسلہ ترویجِ اُردو تن سال کے لےے جاپان جارہے ہں ۔ یہ معلوم نہںھ ہوسکا کہ وہ وہاں اردو پڑھںک گے یا پڑھائں4 گے۔قرین قاھس یی ہے کہ وہ وہاں اردو کی مزید تعلمی حاصل کریں گے کوونکہ بعض جاپانی بہت عمدہ اُردو جانتے ہںک۔ ہماری دعائںڑ اور نک۔ تمنائںھ ڈاکٹر تبسم کے ساتھ اور ہمدردیاں اہلِ جاپان کے ساتھ ہں ۔ خدا فرینصل کو خوش رکھے۔
٭ ڈاکٹر عبد السلام خورشد (23)نے اپنے ایک مضمون مںی انکشاف کا ہے کہ وہ مشہور افسانہ نگار غلام عباس(24) کے شاگرد رہ چکے ہںب غلام عبا س صاحب نے اس پر کہا ہے کہ کمانڈر انور نے مجھ پر مضمون لکھ کر اتنا ظلم نہں کار جتنا ڈاکٹر خورشدل نے یہ باگن دے کر کا ہے۔ ٭ رساؔ چغتائی(25) صاحب نے اخبارات و رسائل سے اپل کی ہے کہ اُن کا تخلص تشدید کے ساتھ نہ لکھا جائے۔ یہ رساؔ چغتائی وہی ہںا جن کا یہ شعر ضرب المثل بن چکا ہے:
اپنے پاس اک جان ہے سائیں
باقی یہ دیوان ہے سائیں
٭ شہزا د منظر(26) گزشتہ دس برس سے ”اردو افسانے کا منظر نامہ“ کے نام سے جو کتاب لکھ رہے تھے، وہ خدا خدا کرکے مکمل ہونے والی ہے۔ اب صرف اتنا کام باقی رہ گا ہے کہ جو کچھ لکھا گا: ہے، اس کے مطابق افسانہ نگاروں کے نام کتاب مںک داخل کےؔ جارہے ہںے۔اس کتاب مںص جدید افسانے پر جو باب ہے اُس مںک شہزاد منظر نے صرف اپنا ذکر کاہ ہے۔ کسی دوسرے افسانہ نگار کا نام نہںہ آنے دیا۔ اس احتااط کی وجہ یہ ہے کہ شہزاد صاحب یہ کتا ب خود اپنے خرچ پر چھپوارہے ہںم۔
٭ عبد الرؤف عروج (27)نے ایک مقامی اخبار مںہ مزاحہا نظمںک لکھنی شروع کردی ہںن۔ پہلی نظم گزشتہ ہفتے شائع ہوئی تھی۔ ادبی حلقوں کا خاسل ہے کہ یہ نظم ان کی ساری سنجدنہ شاعری پر بھاری ہے۔ اس غر معمولی اور غرت متوقع کاماپبی پر بلکہ عروج پر ہم عروج صاحب کودلی مبارکباد پشہ کرتے ہںپ۔٭ افسوس کہ صہبا لکھنوی کے بارے مں کوئی قابلِ اشاعت خبر کالم کے پریس جانے تک نہںو ملی۔ اگلے ہفتے تک انتظار فرمائےج۔
حواشی و تعلقاکت اور حوالہ جات کالم نمبر 4
1۔ مرس تقی مرر: اردو زبان کے مشہور شاعر ہںت۔ ان کا اصل نام محمد تقی اور مر ؔ تخلص تھا۔مرےتقی مرپ 1722ء میں اکبر آباد مںا پدتا ہوئے۔ بچپن کا زمانہ وہںا گزرا بعد از اں دلی کو اپنا وطن بنایا۔ 1782ء مںھ لکھنؤ چلے گئے۔ آپ نے چھے اردو دیوان قصائد، غزل، مراثی، رباعاات، مخمسات، سدسات، قطعات، مثنویاں، ترکبا بند، ترجعط، واسوخت، تضمینات،ایک ہفت بند اور فارسی دیوان موجود ہے۔مرو کی غزل کا اعتراف ہر بڑے استاد نے کاں۔ انھوں نے ایک تذکرہ نکات الشعراء بھی لکھا جو آج بھی بے حد مقبول ہے۔
(یاسر جواد انسائکلو پڈنیا ادبافت عالم،اسلام آباد: اکادمی ادباتت پاکستان، 2013ء، ص: 901)
2۔ ڈاکٹر ابو اللثا صدیی : اردو کے ادیب نقاد اور محقق تھے۔ 1916ء کو آگرہ مںت پد ا ہوئے۔پی ایچ ڈی کرنے کے بعد درس و تدریس کے شعبہ سے وابستہ ہوئے۔ 1950 تا 1956ء پنجاب یونو رسٹی مںم بھی پڑھاتے رہے پھر کولمبا یونو2رسٹی چلے گئے۔ معروف تصانفٹ مںہ ”آج کا اردو ادب“، ”تاریخ زبان و ادب اردو“، ”روایت اور تجربے“، جرأت اور اس کا عہد“،”مصحفی اور اس کا عہد“، ”نظر اکبر آبادی اور اس کا عہد“، ”لکھنؤ کا دبستان“، ”اقبال اور تصوف“، ”اردو کی ادبی تاریخ کا خاکہ“ کا چیان زبان مں ترجمہ بھی ہو چکا ہے۔
(یاسر جواد انسائکلوےپڈےیا ادباات عالم،اسلام آباد: اکادمی ادبالت پاکستان، 2013ء، ص: 508)
3۔ ولی دکنی: مختلف تذکرہ نویسوں نے ولی کے مختلف نام لکھے ہںا جن مں ولی لفظ مشترک ہے۔ مخزن الشعراء تذکرہ ریختہ گویاں اور چمنستان شعراء مںک ان کا نام ”محمد ولی“ بتایا گا ہے۔ آثار الشعراء مںا ولی گجراتی ہے، اور دیوان ولی کے پہلے صفحے پر مابں ولی محمد لکھاگاا ہے۔ ولی کے باپ دادا گجرات سے دکن ہجرت کر گئے تھے لکن جسےں غالب اکبر آباد سے اور ڈپٹی نذیر احمد بجنور سے دہلی آکر دہلوی ہوگئے تھے۔ اسی طرح ولی بھی گجرات سے تعلق رکھنے کے باوجود دکن مںج آکر دکنی ہوگئے تھے۔
(ہارون الرشدا تبسم، 100 عظم شاعر او رنثر نگار، لاہور: مقبو ل اکڈنمی اردو بازار2016ء، ص: 64)
4۔ مومن :حکمئ مومن خان مومن کی ولادت ۰۰۸۱ء مں دہلی کے کوچہ چلا ں مںا ہوئی ان کے والد حکمج غلام نبی خان کو حضرت شاہ عبدالعزیز دہلویؒ سے بڑی عقدنت تھی چنانچہ ان کی ولادت پر انھوں نے ہی اُن کے کان مںر اذان دی اور محمد مومن نام رکھا۔ مومن کے والد اور چچا سلطنت مغلہہ کے آخری دور کے شاہی طببل تھے۔ انھںے حکومت سے جاگر ملی ہوئی تھی جو بعد مںم ہزار روپے ماہانہ پنشن مںا بدل دی گئی۔ ابتدائی تعلمی کے بعد مومن نے شاہ عبدالقادر دہلوی سے عربی کی تعلمہ حاصل کی۔مومن کا حافظہ بہت تزا تھا۔شاہ عبدالعزیز ؒکی مجالس وعظ مں اکثر شریک ہو اکرتے اوران کے وعظ کے تمام نکات اور مطالب اُنھںم لفظ بہ لفظ یاد ہو جاتے۔ اپنے والد اور چچا سے مومن نے طب کی تعلمخ حاصل کی تھی۔ وہ رمل اور ریاضی پر بھی کامل دسترس رکھتے تھے۔1852ء مںل انتقال کر گئے۔
(ہارون الرشد تبسم، 100 عظم شاعر او رنثر نگار، لاہور: مقبو ل اکڈتمی اردو بازار2016ء، ص: 54)
5۔ داغ: نواب مرزا خان نام جب کہ داغؔ تخلص تھا۔ 25/ مئی 1831ء کو دہلی مںا پد ا ہوئے۔ والد کا نام نواب شمس الدین خان تھا۔ داغ ابھی سات برس کے تھے کہ والد کا انتقال ہوگان۔ والد کے انتقال کے بعد ان کی والدہ نے مرزا محمد سلطان ولی عہد شاہ دہلی سے شادی کر لی۔ ان کی والدہ کو شوکت محل بگمن کا خطاب ملا۔ داغ ؔ بھی والدہ کے ساتھ قلعہ معلیٰ چلے گئے اور وہںا تربتی پائی۔1887ء مںی نواب کلب علی خان کی وفات پر رام پور سے جی اچاٹ ہوگاؔ۔ لہٰذا داغؔ مختلف جگہوں پر پھرتے پھراتے بالآخر 1888ء مں۔ حدرر آباد پہنچے اور نظام دکن کے استاد مقرر ہوئے۔ یہاں پہلے ایک ہزار اور پھر ڈیڑھ ہزار ماہانہ وظفہ1 پانے لگے۔ دبرش الدولہ فصحم الملک نواب ناظم جنگ بہادر وغرپہ کے خطابات بھی داغ کو اسی زمانے مںی ملے۔ آخری عمر حدرر آباد دکن مںا بسر ہوئی۔ اور 1905ء مں یںم وفات پائی۔
(ہارون الرشد تبسم، 100 عظمئ شاعر او رنثر نگار، لاہور: مقبو ل اکڈ می اردو بازار2016ء، ص: 103)
6۔ حسرت موہانی: رئس المتغزلنی سدع فضل الحسن حسرت موہانی نے اردو غزل کا حسن سنوارنے کی ہر حسرت پوری کر لی۔ غزل کا سراپا، غزل کی روایت اور تغزل کا دامن بھرنے کے لےس مولانا حسرت موہانی کا نام ناقابل فراموش ہے۔ وہ 1875 ء مںس یوپی کے قصبے موہان ضلع اناؤ مںو پد0ا ہوئے۔ بی اے کرنے کے بعد حسرت ؔنے اردو ئے معلیٰ کے نام سے ایک رسالہ نکالا جس مںب ادبی مضامنش کے ساتھ سارسی مضامنئ بھی شائع ہوتے تھے۔ 1908ء مںا ان کے ایک باغاینہ مضمون کی وجہ سے یہ رسالہ بند کر دیا گام اور ان کو ڈیڑھ سال قدا بامشقت کی سزا دی گئی۔ 1947 ء کی تقسیم کے بعد اپنے دیگر مسلمان بھائوںں کی خاطر ہندوستان ہی مں مقمل رہے۔ 13/مئی 1951ء کولکھنؤ مںس انتقال ہوا اور یں47 دفن ہوئے۔ کلاکتِ حسرتؔ ‘ انتخاب ِسخن(گا3رہ جلدوں مںخ)، شرح دیوان غالب کے علاوہ ‘ اردو ئے معلیٰ‘ کے مضامنں نظم و نثر شامل ہں9۔
(ہارون الرشدہ تبسم، 100 عظمم شاعر او رنثر نگار، لاہور: مقبو ل اکڈکمی اردو بازار2016ء، ص: 116)
7۔ فہمدرہ ریاض اردو کی معروف شاعرہ 1946ء مںا مربٹھ مںِ پداا ہوئںس۔ باب کا نام ریاض الدین زبر ی تھا۔ ابتدائی تعلما مرلٹھ سے حاصل کی پھر اہل خانہ کے ہمراہ پاکستان آگئںو۔ 1988ء مںم بے نظرِ حکومت نے فہمد0ہ ریاض کو نشنل بک کونسل کی ڈائریکٹر جنرل تعینات کی گئیں۔ 2000-2011 ء کے دوران وہ اردو ڈکشنری بورڈ مںل منجنگر ڈائریکٹر رہںا۔ ان کی تصانفک ”پتھر کی زبان“ گلابی کبوتر، ”آدمی کی زندگی“ شامل ہںں۔ کئی سول و سرکاری ایوارڈ مل چکے ہںن۔
(یاسر جواد انسائکلوبپڈبیا ادبا ت عالم،اسلام آباد: اکادمی ادبا ت پاکستان، 2013ء، ص: 817)
8۔ سحر انصاری: آپ کا اصل نام انور مقبول انصاری ہے اور آپ1941 ء مںم اورنگ آباد دکن مںن پد1ا ہوئے۔ آبائی وطن امروہہ ہے۔ ابتدائی تعلم وہںن سے حاصل کی۔1954 ء مں1 والدین کے ساتھ کراچی آگئے۔ 1958 مںئ گورنمنٹ کالج ناظم آباد سے بی ایس سی کرنے کے بعد جامعہ کراچی سے انگلش ادب، اردو ادب اور لساناںت مںب ایم اے کا ۔ شاعری مں وہ جالب مراد آبادی کے شاگرد ہوئے۔ مندرجہ ذیل تصانفا شائع ہو چکی ہں ”خدا سے بات کرتے ہںھ“ ”دھنک تال،،اور دیگر شامل ہں ۔
(یاسر جواد انسائکلودپڈلیا ادبا ت عالم،اسلام آباد: اکادمی ادباات پاکستان، 2013ء، ص: 699)
9۔ آتش: خواجہ حدیر علی آتش1764ء کو فضم آباد مںو پدبا ہوئے۔ان کے بزرگ بغداد سے تلاشِ معاش مںر دہلی آئے اور یںشہ بس گئے تھے۔ ان کے والد خواجہ علی بخش پہلے دہلی مںد مقمد رہے مگر بعد ازاں شجاع الدولہ کے عہد مںس فضر آباد مں مقما ہو گئے۔حدےر علی آتش کو بچپن ہی مں داغِ ییضم لگ گاق۔ اس لےا ان کی تعلمی ادھوری رہ گئی لیکن اس کے باوجود انھوں نے فارسی اور عربی مں مہارت حاصل کر لی اُن کے مزاج مںے اپنے دور کی آوارگی، شوریدہ سری اور بانکپن پد ا ہوگال تھا۔ آتش کو شاعری کا خداداد ملکہ تھا۔ا س لےا اردو اور فارسی مں شعر کہہ لتےج تھے۔ آتش نے نواب محمد تقی خان کی ملازمت اختالر کر لی اور ان کے ساتھ غازی الدین حدار کے دور مںپ فضن آباد سے لکھنؤ چلے گئے۔ انھوں نے 1846ء مںی لکھنؤ مںی وفات پائی۔
) ہارون الرشدل تبسم، 100 عظم شاعر او رنثر نگار، لاہور: مقبو ل اکڈممی اردو بازار2016ء، ص: 38(
10۔ ناسخ: امام بخش ناسخ اردو کے ممتاز استاد شاعر جنھںا دبستان لکھنؤ کا بانی ۔ لکھنوی رنگ سخن کے موجد، لکھنوی اردو زبان کے مصلح، ممتاز زبان دان اور زبان شناس کہا گات ہے۔شخع امام بخش ناسخ کے آباؤ اجداد کا تعلق غالباً لاہور سے تھا بعض لوگ اس کو خدا بخش لاہوری خمہن دوز کا بٹاک اور بعض متبنٰی بتاتے ہں ۔ سن پد ائش مںے بہت اختلاف ہے۔ فضو آباد مںے پدسا ہوئے۔جب کہ 1838ء مںی انتقال ہوا۔
(یاسر جواد انسائکلو پڈ یا ادبایت عالم،اسلام آباد: اکادمی ادباںت پاکستان، 2013ء، ص: 905(
11۔ شعلہ آسیونیؔ: اصل نام چودھری احرار محمدعثمانی تھا۔پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الاللہ نعرہ کے خالق، کشمیر کے لیے اقوامِ متحدہ کے کراچی کے دفتر کے سامنے 100 گھنٹے (4دن) کی بھوک ہڑتال کی تھی۔ شاعری میں جگر مراد آبادی اور بہزاد لکھنوی کی شاگردی اختیار کی۔ 20/جولائی 1996 کو وفات پائی۔ مجموعۂ کلام، ‘شعلہ رنگ’ جسے اُن کے بیٹے چودھری شاہکار محمد نے مرتب کیا۔ نمونہۂ کلام کے لیے ایک شعر:
نہ غمِ حیات ہے مستقل، نہ مسرتوں کو دوام ہے
یہی زندگی ہے تو زندگی، تجھے دُور ہی سے سلام ہے
(مضمون: ‘شعلہ آسیونی۔ کچھ یادیں کچھ باتیں’ ازچودھری شاہکار محمد، مطبوعہ: بلاگرڈاٹ کام، 5/اپریل 2019)
12۔ عارف عبدالمتنھ: اردو کے شاعر، نقاد اور ادیب تھے۔1923 ء مں کٹڑہ جمل سنگھ ا مرتسر مںی پدتا ہوئے۔ قاکم پاکستان کے بعد مختلف جریدوں کے مدیر رہے۔ مثلاٰ ”ادب لطف۔“،”سویرا“،”جاوید“،”اوراق“ اور ”ماحول“۔ ان کے شعری مجموعے ”دیدہ دل“، ”آتش ساےل“، ”موج در موج“، شہر بے مثال“، ”امبر تر ی تھاں“ علاوہ ازیں تنقدلی مضامنا کے مجموعے ”امکانات“،”، پرکھ پڑچول“بھی شائع ہوئے۔ 1992ء مںو حکومت پاکسان نے انھںر تمغہ حسن کارکردگی سے نواز۔
) یاسرجواد انسائکلوھپڈےیا ادباےت عالم،اسلام آباد: اکادمی ادبا ت پاکستان، 2013ء، ص: 762)
13۔ محمد خالد اختر: پاکستان کے ممتاز مزاح نگار، ادیب 1919ء مںب سابق ریاست بہاول پور مںپ پدرا ہوئے۔ انھوں نے صادق ایجرٹن، بہاول پور سے گریجوایشن کا9۔ پنجاب کالج آف انجنئرپ نگ اینڈ ٹکنا لوجی سے الکڑنک انجنئرقنگ مںک بی اے کے بعداعلیٰ تعلمب کے لےا لندن روانہ ہوگئے۔ بہاول پورکے محکمہ پی ڈبلوی ڈی مں سب ڈویژن افسر کی حتں سے ملازمت اختامر کی۔ 1980ء مںٹ ریٹائرمنٹ کے بعد پہلے بہاول پور پھر کراچی سکونت اختارر کی۔ تصانفو مں1 ”چاکویاڑہ مںن وصال“ (ناول)، ”کھویا ہوا افق (ناول)،آدم جی ایوارڈ یافتہ۔ سفرنامے”تاترا اور ”د وسفر“ شائع ہوئے۔ ۲ فروری ۲۰۰۲ء مں انتقال کر گئے۔
(ایم آر شاہد، کراچی مںٹ مدفون مشاہرہ“لاہور:مقبول اکڈنمی اردو بازار، فروری 2012، ص: 121)
14۔ محمد حسن عسکری: آپ کا اصل نام محمد اظہار الحق تھا۔ اردو کے ممتاز افسانہ نگار، نقاد اور مترجم 1919ء مں۲ ضلع مرصٹھ ہندوستان کے ایک قصبے سراوہ مںٹ پد ا ہوئے۔ بغرض تعلم بلند شہر مر ٹھ او رالہ آباد مںر مقما رہے۔ 1936 ء مں مڑزک 1938ء مںد مرمٹھ کالج سے انٹرمڈنیٹ 1940 ء مںر الہ آباد یونو رسٹی سے بی اے اور وہں۰ 1942 ء مں1 انگریزی مںم ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔پہلی تحریر ایک ترجمہ ”محبوبہ امن آرا“ جو 1939 ء مںس ساقی مںم شائع ہوا۔ ”جزیرے“،”قا مت“ ”ہم رکاب آئے نہ آئے“ تنقدی مںل انسان اور آدمی ”ستارہ اور بادبان“ قابل ذکر مشہور تصانفی ہںم۔
(یاسر جواد انسائکلوحپڈنیا ادبا ت عالم،اسلام آباد: اکادمی ادبا ت پاکستان، 2013ء، ص: 635)
15۔ سعادت حسن منٹو: 1912 ء میں سمبرالہ ضلع لدھا نہ مںب پدنا ہوئے۔ والدما ں غلام حسن منصف کے عہدے پر فائزتھے۔ منٹونے1931ء مں: مڑنک پاس کاب۔ ایم اے او کالج مںم انٹر کے طالب علم کی حتن، سے پہنچے 1935ء مںا انٹر کے بعد منٹو علی گڑھ یونوارسٹی پہنچے مگرچند ماہ بعد یونوارسٹی سے نکال دیا گال۔ 1932 ء کے ہمایوں مںن پہلا افسانوی ترجمہ ”دست بریدہ بھوت“ شائع ہوا۔ پہلا افسانہ ”تماشا آدم کے فرضی نام سے شائع ہوا۔ تصانفا مںس ”آتش پارے“”منٹو کے افسانے“، ”دھواں“،”چغد“، ”ٹھنڈا گوشت“، ”بادشاہت کا خاتمہ“،”یزید“،”سڑک کے کنارے“، ”سرکنڈوں کے پچھےا“ ”پھندنے“،”بغر اجازت ”برقعے“ ”شکاری عورتںو“ وغر ہ شامل ہں سعادت حسن منٹو 1955 ء مں، انتقال کر گئے۔
(یاسر جواد انسائکلومپڈغیا ادبا ت عالم،اسلام آباد: اکادمی ادبا ت پاکستان، 2013ء، ص: 891)
16۔ عزیز احمد: 1914 ء مں حدور آباد دکن مںے پدباہوئے۔ گورنمنٹ کالج اورنگ آباد سے انٹر اور 1934 ء مں جامعہ عثمانہا حدار آباد سے بی اے کام۔ 1943 ء مں ان کی تنب اہم منظومات پر مشتمل ایک مجموعہ”ماہ لقا“اور دوسری نظمں“ منظر عام پر آیا۔ ان کی اہم تصانفز اور ترجم یہ ہںم ”ناول ”گریز“ خون، ہوس آگ“ ادبی تنقدپ“،”ترقی پسند ادب“،”اقبال نئی تشکلی، اقبال اور پاکستانی ادب“، اور اسلامی موضوعات پر بھی ان کی متعدد کتب ہںخ۔
(یاسر جواد انسائکلومپڈایا ادباھت عالم،اسلام آباد: اکادمی ادبایت پاکستان، 2013ء، ص: 778)
17۔ ممتاز شریں: ممتا ز افسانہ نگار او رمترجم 1924 ء مں ہندو پور آندھر پردیش مںک پدظا ہوئںء۔ مٹر7ک تک تعلمڈ مہارانی ہائی سکول مسو۔ر مںک پائی او رمہارانی کالج بنگلور مںس داخلہ لار 1942ء مںں بی اے کی سند لی۔ کراچی یونوارسٹی سے انگریزی ادب مںا ایم اے کی سند لی بنا الاقواما دبی کانفرنس مںن پاکستان کی نمائندگی کی۔ پہلا افسانہ ”انگڑائی“ 1942ء مں چھپا۔1944 ء مںس بنگلور سے ماہنامہ ”ناد دور“جاری کا اس مںا تنقد ی مضامنم بھی چھپنے لگے تومعلوم ہوا کہ وہ جتنی اچھی افسانہ نگار ہںو اتنی ہی اچھی نقاد بھی ہںپ۔ ان کے افسانوں کے دو مجموعے ”اپنی نگریا“اور ”’حدیث دیگراں“ بھی شائع ہوئے۔
(یاسر جواد انسائکلووپڈایا ادباات عالم،اسلام آباد: اکادمی ادبابت پاکستان، 2013ء، ص: 889)
18۔ نقوش: اردو کا بے مثال ادبی مجلہ ہے اس کاآغاز مارچ ۸۴۹۱ ء مں: محمد طفلا نے کاہ۔ نقوش ”کے ”جشن آزادی نمبر“ نے اسے شہرت دوام بخشی۔ ترقی پسند تحریک کا ترجمان اس پرچے کا پہلا دور مارچ 1948 ء سے اپریل 1950 ء پر محطو ہے۔ نقوش کا دوسرا دور مئی 1950 ء تا مارچ 1951ء تک یینہ شمارہ 11 سے 18 تک مشتمل ہے۔ سدں وقار عظمو نے ”نقوش“ کا رابطہ زندگی کے ساتھ قائم رکھا۔ وقار عظم1 نے اسے مکمل طور پر ایک ادبی مجلہ بنا نے مں4 کوئی دققہی فروگزاشت نہ رکھا۔”نقوش“کا تسرا ا او ر طویل دور اپریل 1951سے 1986تک پھلا1 ہواہے۔ ”نقوش“ کے خاص نمبروں نے بھی اس کی شہرت کو بام عروج تک پہنچایا ان نمبروں مںل خاص طور پر ”غزل نمبر“ شخصاےت نمبر“،”خطوط نمبر“، ”لاہور نمبر“،”آپ بی نمبر“ ”تنص غالب نمبر“، مر“ تقی مرھ نمبر“، معرکے نمبر“،”طنز و مزاح نمبر“،”پطر س نمبر“،”شوکت تھانوی نمبر“،”منٹو نمبر“،”مرنا نس نمبر“، دو ”اقبا ل نمبر“ اور سب سے اہم اور سب سے وقعن اور رفع الشان تر”ہ جلدوں مں” ”رسول ؐ نمبر“ کی اشاعت ہے۔
(انور سدید، ڈاکٹر، پاکستان مںح اردو رسائل کی تاریخ، اکادمی ادبانت پاکستان، اسلام آباد،1992ء،ص: 136)
19۔ انجمن ترقی پسند مصنفنس: سوشلسٹ (مارکسی) خابلات کے حامل ہندوستانی ادیبوں کی انجمن جس کا مقصد ایساادب تخلق کرنا تھا جو عوامی رنگ کا عکاس اور عوامی مسائل کے مطابق ہو۔ 1935 ء مں کموونسٹ رہنما سجاد ظہرس نے، ہم خا ل احباب کی مددسے، اس انجمن کی بنا1د رکھی او رمختصر سے عرصے مںو اس کی شاخں ہندوستان کے تمام صوبوں مںر قائم ہوگئںج۔ 1936ء مںی لکھنؤ مںک، انجمن کی پہلی کل کانفرنس ہوئی جس کی صدارت منشی پریم چند نے کی۔ ابتداء مں انجمن سے وابستہ سارے ہی ادیب سوشلسٹ نہ تھے البتہ نقادوں کی غالب اکثریت مارکسورں پر مشتمل تھی او ران کی تنقدن کا معاںر خالص مارکسی و جدلاصتی تھا۔ 1936ء تا 1946 ء کا زمانہ ترقی پسند تحریک کا سنہری دو رکہلاتا ہے۔ اس دہائی مں اردو ادب نئی جہت سے روشناس ہوا اور اردو افسانے نے خصوصاً بہت ترقی کی۔1947ء مں تقسمن ہند کے ساتھ، انجمن ترقی پسندمصنفنک بھی تقسمس ہوگئی۔21 جنوری 1950ء کو حکومت پاکستان نے انجمن کو ساقسی جماعت قرار دے کر اس پر پابندی لگا دی۔1985ء مں لندن مںد انجمن نے اپنی پچاسویں سالگرہ منائی۔
(اردو انسائکلوسپڈ یا، لاہور: فرنوز سنز پرائوسیٹ لمٹڈ ،2005ء، ص: 468)
20۔ اردو ادب: ادبی رسالہ جس کا سعادت حسن منٹو اور حسن عسکری کی زیر ادارت اجراء ہوا۔ پہلی اشاعت سے متنازعہ بن گاق۔ اس کو پولس نے اپنے قبضہ مں لے لا اور بھاری جرمانہ ہوا۔ دو شاندار پرچے چھپنے کے بعد یہ رسالہ بند ہوگائ۔ ”اردو ادب“ نے آزادیء اظہار، آزاد ی فن اور آزادی ادب کا ایک ناز انداز پدیا کا تھا۔منٹو اور عسکری نے ادیب کے لے جن آزادیوں کا تقاضا کاا تھا اس پرچے مںن ان کا عکس نظر آتا تھا۔”اردو ادب“ کے بند ہونے کے کئی سال بعد راولپنڈی سے بشر سیا۔ نے بھی اسی نام سے ایک ادبی پرچہ شائع کاا لکنا وہ بھی زیادہ دیر نہ چل سکا۔
(ڈاکٹر انور سدید، پاکستان مںن اردو رسائل کی تاریخ، اسلام آباد: اکادمی ادباست پاکستان، 1992،ص: 151)
21۔ کوئٹہ: کوئٹہ بلوچستان کا دارالحکومت ہے اسے باغوں کا شہر بھی کہتے ہںئ۔ سطح سمندر سے 5490 فٹ کی بلندی پر واقع کوئٹہ شہر بہترین مقامات مں سے ایک ہے۔یہاں سردیوں کا موسم سخت مگر گرمافں بہت خوش گوار ہوتی ہںب۔ یہاں کے پھل پوری دناا منر مقبول ہںم، انگور، سبو، خوبانی، او رکئی دیگر پھل کوئٹہ کی زینت ہںو۔ ییق کہ اہل کوئٹہ توانا، مضبوط اور سرخ رنگ کے حامل ہوتے ہںر۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ 31 /مئی 1935 ء کو یہاں زلزلہ نے تباہی مچادی۔ یہ شہر از سر نو تعمر5 ہوا۔ دفاعی اعتبار سے اپنی اہمتں کا حامل ہے۔ پاکستان، افغانستان بارڈر کے اعتبار سے بھی اس کی بہت اہمت ہے۔ یہ ایسا گٹا وے ہے جس تجارت کو فروغ ملتا ہے۔ کوئٹہ مںہ قبائلی لوگوں نے دفاع وطن مںب اہم کردار ادا کات۔ کوئٹہ کا ایک ضلع ژوب بہت مقبول ہے۔
(ہارون الرشدس تبسم، آؤ بچو سرے کریں ہم اپنے پاکستان کی، لاہور:مقبول اکڈسمی، 2016ء، ص: 242)
22۔ ڈاکٹر تبسم کاشمرتی: ممتاز محقق، نقاد کے ساتھ ساتھ اچھے شاعر اور استاد بھی ہںب۔ 1940ء مں امرتسر مں پدئا ہوئے۔ 14/اگست 1947ء کو خاندان کے ہمراہ پاکستان آگئے۔ باپ کا پشہا تجارت ہونے کی وجہ سے ان کا بچپن لاہور، راولپنڈی، اورکراچی شہروں مں/ گزرا۔ راولپنڈی سے مڑےک کا او رلاہور آکر تعلما کاسلسلہ جاری رکھا۔ پنجاب یونو6رسٹی سے 1964 ء مں ایم اے اردو جب کہ 1973ء مںو پی ایچ ڈی مکمل کی۔درس و تدریس کا شعبہ اپنایا۔ اوری ینٹل کالج یونو4رسٹی مںب پڑھاتے رہے۔ جاپان کی اوساکایونوٹرسٹی آف فارن سٹڈیز مں اردو پڑھائی۔تصانف ”جدید اردو شاعری مںٹ علامت نگاری“،”اقبال او رنئی قومی ثقافت“،”شعریات اقبال“، ”شاگردان مصحفی“، ”فسانہ آزاد کا تنقدسی جائزہ“ ”جاپان مںی اردو“، ادبی تحقق، کے اصول“، ”’اردو ادب کی تاریخ“، شعری مجموعوں ”کاسنی بارش مںک دھوپ“، ”نوحے تخت لہور کے“، ”بازگشتوں کے پل“ ”پرندے پھول، تالاب“ شائع ہوئے۔
(یاسر جواد انسائکلوتپڈعیا ادبا”ت عالم،اسلام آباد: اکادمی ادبانت پاکستان، 2013ء، ص: 600)
23۔ ڈاکٹر عبدالسلام خورشدت: 21 اگست 1919ء کا انبالہ ضلع گورداسپور مںں پدہا ہوئے۔ ممتاز صحافی، محقق، مصنف، کارکن تحریک پاکستان تھے۔ سابق صدر شعبہ صحافت پنجاب یونونرسٹی لاہور بھی رہ چکے ہںا۔ بانی سکرسٹری پنجاب مسلم سٹوڈنٹس فڈرریشن 1937ء، معروف تصانفن مںب ”رو مںن ہے رخش عمر“، ”سرگزشت اقبال“، ”وے صورتںی الہٰی“ ”دنادئے اسلام کی صحافت“ ”تاریخ نظریہ پاکستان“ ”آج کا مصر“ آپ11 فروری1995 ء کو لاہور مںو انتقال کر گئے مسلم ٹاؤن کے قبرستان مںم تدفنی ہوئی۔
(ڈاکٹر منرخ احمد سلیچ، وفاات ناموران پاکستان،لاہور:اردو سائنس بورڈ، 2005ء، ص: 497)
24۔ غلام عباس: 17نومر 1909 ء کو امرتسر (بھارت) مں پدڈا ہوئے۔ ان کے والد کا نام ما ں عبدالعزیز تھا۔ غلام عباس والدین کے اکلوتے بٹےق تھے۔ان کے والد کا آبائی وطن لدھاتنہ تھاشاید ییح وجہ ہے کہ 1925ء مں جب انواں نے ٹالسٹائی کے ناول کا اردو مںم ترجمہ کا تو یہ ترجمہ ”ہزار داستان“ مںہ ”غلام عباس لدھاحنوی“کے نام سے چھپا جب غلام عباس کی عمر چار سال کی ہوئی تو اپنے خاندان کے ہمراہ امرتسر سے لاہور چلے آئے،لاہور مںو بھاٹی گٹھ کے قریب ایک مکان مںن رہائش پذیر ہوئے اور یوں غلام عباس کا داخلہ دیال سنگھ ہائی سکول لاہور مںر ہوا۔ آل انڈیا ریڈیو اور پھر ریڈیو پاکستان سے بھی وابستہ رہے۔ 1949ء سے 1962ء تک بی بی سی ریڈیو سے بھی وابستہ رہے۔ 1966ء مںا حکومت پاکستان کی طرف سے ان کی بے پناہ ا دبی خدمات کے صلے مں انھںا ستارۂ امتایز سے نوازا گان۔افسانوی مجموعوں مںب ”جاڑے کی چاندنی“، ”آنندی“، اور ”کن رس“ شامل ہں ۔ کلامت ”زندگی نقاب چہرے“ کے نام شائع ہوا۔
( ذوالفقاراحسن، تنقد ی افق، راولپنڈی: نقش گر، 2013 ء، ص : 29-30)
25۔ رساؔ چغتائی:آپ کا اصل نام مرزا محتشم علی بگ۔ ہے۔ آپ 1929ء کو سوائے مادھو پور ریاست جے پور بھارت مںر پدںا ہوئے مڑشک کے بعد سلسلۂ تعلمز جاری نہ رہ سکا۔ مختلف اداروں مں2 ذمہ داریاں سنبھالتے رہے اور اب روزنامہ ”حریت“ سے وابستہ ہںئ۔ اڑتسا سال سے مشق سخن جاری ہے۔ حضرت بنشج سلیکا آپ کے استاد محترم ہں ۔ پہلا شعری مجموعہ ”ریختہ“ 1974ء مںہ شائع ہوا۔ دوسرا شعری مجموعہ ”زنجر ہمسائینش“ 1983 ء مںی منظر عام پر آیا۔ تقریباً چوبسع سال سے کورنگی مں مقمخ ہںا۔ رسا چغتائی سادگی پسند ہںن، ان کی داخلی و خارجی زندگی مںں یکسانتپ ہے۔ درویش صفت شخصتی کے حامل ہںم۔ شہرت اور مقبولتق کے باوجود عجز و انکساری رکھتے ہںں۔
(نور احمد مرنٹھی، اذکار و افکار، کراچی: ادارہ فکر نو، جنوری 1987ء، ص: 122)
26۔ شہزاد منظر: آپ کااصل نام ابراہمی عبدالرحمن عارف تھا۔ وہ 1933 ء مں: امرتلہ لنے، کلکتہ مںش پدلا ہوئے۔ وہ اردو کے افسانہ نگار، نقاد اورصحافی تھے۔ تقسما کے بعد 1964 ء مںر جب کلکتہ کے حالات خراب ہوئے تو وہ پہلے ڈھاکہ گئے پھر کراچی تشریف لائے۔ روزنامہ ”جنگ“ سے وابستگی اختا ر کی اورصحافت کے پشےں سے ہمشہہ وابستہ رہے۔ تصانفی مںہ ”جدید اردو افسانہ“ (1982ء)، ناول ”اندھرے ی رات کا تنہا مسافر“ (1984ء)، ”رد عمل“(1985ء)”ندیا کہاں ہے تردا دیس“ (1990ء) اور ”علامتی افسانے کے ابلاغ کا مسئلہ“ (1990ء) وغر4ہ شامل ہںں۔ شہزاد منظر 1997ء میں انتقال کر گئے۔
(یاسر جواد انسائکلواپڈبیا ادبا)ت عالم،اسلام آباد: اکادمی ادبا1ت پاکستان، 2013ء، ص: 739)
27۔ عبدالرؤف عروج: 1932 ء کو اورنگ آباد، مہاراشٹر مںا پدسا ہوئے۔ اردو کے ممتاز شاعر او رمحقق تھے۔ قایم پاکستان کے بعد لاہوراو رپھر کراچی مں3 سکونت اختادر کی۔ کئی اخبارات مںئ کام کاع ”امروز“، ”مشرق“،”انجام“،”حریت“،”ناو راہی“، ”تصانفہ مںا ”اردو مرثہ کے پانچ سو سال“، ”بزم اقبال“، ”رجال اقبال“،”خسرو او راہل خسرو“ ”اقبال اوربزم اقبال“،”مرد اوراہل مرر“ اور ”فارسی گو شعرائے اردو“ ان کا شعری مجموعہ ”چرا غ آفریدم“ بھی شائع ہوا۔
(یاسر جواد انسائکلواپڈریا ادباےت عالم،اسلام آباد: اکادمی ادبایت پاکستان، 2013ء، ص: 769)