
کالم نمبر:5
مطبوعہ روزنامہ ”جسارت” کراچی، 12/اکتوبر1981ء
سُخن دَرسُخن۔۔۔خامہ بگوش کے قلم سے
جدیدیت کے خلاف مہم
چالیس کتابوں کا مصنّف
استفادہ، توارد اور سرقہ
انتظار حسین اور فضائی آلودگی
پاکستان میں ادبی معرکہ آرائیاں عموماً زبانی ہوتی ہیں۔ یا کبھی کبھار اخبارات کے ادبی صفحات پر ان کی گونج سنائی دے جاتی ہے لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ادیبوں کے ایک گروہ نے دوسرے گروہ کے خلاف کتابیں لکھی ہوں یا رسالے جاری کئے ہوں۔ ہندوستان سے آنے والے ایک دوست نے بتایا کہ وہاں ادبی اختلافات دل چسپ صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ ایک دوسرے کے خلاف برسرِ عام تقریریں کی جاتی ہیں۔ پوسٹر لگائے جاتے ہیں۔ کتابیں چھاپی جاتی ہیں اور رسالے نکالے جاتے ہیں۔ ایک ایسا ہی دل چسپ رسالہ ہمیں موصول ہوا ہے جو غیر جدیدیوں نے جدیدیوں کے خلاف نکالا ہے۔ رسالے کا نام ہے ”طرّہ“(1)۔ یہ سہ ماہی ہے اور دہلی سے شائع ہوتا ہے۔ اس کی دیگر تفصیلات رسالے کے پہلے صفحے پر ملاحظہ کیجئے جس کا عکس ہم اس کالم کے ساتھ شائع کررہے ہیں۔64صفحات کے اِس رسالے کا ہر صفحہ دل چسپ ہے یہاں تک کہ مضامین کے آخر میں جو جگہیں خالی بچ گئی ہیں۔ وہ بھی دل چسپی سے خالی نہیں ہیں۔ ایسی ہر جگہ پر یہ جملہ لکھا ہوا ہے۔ ”یہ خالی جگہ جدیدیت کےلیے ہے جو اسی کی طرح خالی ہے۔ رسالے کا بڑا حصہ مشہور نقاد اور شاعر شمس الرحمن فاروقی (2)کی ذات اور کربِ ذات کے مطالعہ کے لیے وقف ہے۔ فاروقی ہندوستان میں جدیدیت(3) کے سب سے بڑے علمبردار ہیں۔ وہ اپنے نظریاتی مخالفوں کو کبھی معاف نہیں کرتے۔ اس رسالے میں خود فاروقی صاحب کے لیے کسی قسم کی رعایت نہیں برتی گئی۔ رعایت نہ برتنے کا اندازہ اِس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ فاروقی صاحب کے ایک مضمون کا جواب اِس رسالے میں تین مرتبہ شائع کیا گیا ہے۔ یعنی ایک ہی مضمون لفظ بلفظ تین مرتبہ درج ہوا ہے اور اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے۔”آپ نے دیکھا ہوگا کہ اِس خصوصی شمارے میں ایک مضمون بار بار شائع کیا گیا ہے، گھبرائیے نہیں، ایسا صرف اس لیے کیا گیا ہے کہ آپ یہ مضمون بار بار پڑھ سکیں کیونکہ اِس ایک مضمون ہی کے لیے پورا شمارہ شائع کیا گیا ہے۔
رسالے کا اداریہ بہت مختصر ہے اور یہ ہے ”جیسا کہ ہم نے پہلے شمارے میں واضح کردیا تھا، ہم طرّہ پر کوئی ادارتی پالیسی لادنا نہیں چاہتے بلکہ یہ جیسے خود چلے گا، چلنے دیں گے اور آپ ہی آپ بند ہو جائے گا تو اسے زبردستی چلانے کی کوشش نہیں کریں گے۔“ اداریے کے اِس اختِصار کی وجہ یہ بتائی گئی ہے۔”اِس اداریے میں فرد،ذات اور اس کی تنہائی کے ذِکر سے پرہیز کیا گیا ہے۔ اس لیے زیادہ نہیں لکھا جاسکا۔
رسالے کا اِنتساب بھی معنی خیز ہے۔ ”یہ شمارۂ خصوصی ان تمام ادبا اور شعراکے نام معنون ہے جو اس کے پڑھنے کے بعد بھی ادب اور شاعری پر قائم رہ سکیں۔“
شمس الرحمن فاروقی کی مزاج پرسی ایک انٹرویو میں بھی کی گئی ہے جس کا عنوان ہے۔ ”خمس الرحمن معشوقی سے ایک ملاقات۔“ اس کا ابتدائی حصہ ملاحظہ کیجیے، اسی سے پورے انٹرویو کا اندازہ ہوجائے گا: ”میں وقت مقررّہ پر معشوقی صاحب کی کوٹھی پر پہنچا تو انھیں انٹرویو کے لیے پوری طرح تیار پایا یعنی ایک نئے چمکدار سوٹ میں ملبوس بھڑ کیلی ٹائی لگائے ہوئے، بال خلافِ معمول بہت اچھی طرح بنے سنورے ہوئے۔ انھوں نے چھوٹتے ہی مجھے یاد دلایا کہ میں نے کیمرہ لانے کا وعدہ کیا تھا اور ان کے کچھ فوٹو لیے جانے تھے۔ میں نے معذرت چاہتے ہوئے کیمرہ نہ لانے کو اپنی بھول پر محمول کیا اب میں انھیں کیا بتاتا کہ کیمرہ لانے کے وعدے سے تو میرا مقصد صرف اتنا تھا کہ وہ انٹرویو دینے کے لیے رضامند ہوجائیں اور وقت دے دیں اور میرا یہ مقصد حل ہو چکا تھا۔ اس سے پہلے کہ میں سوال و جواب کا سِلسلہ باقاعدہ طور سے شروع کرتا۔ معشوقی صاحب بولے: ”بھئی میں ابھی ایک سیمینار سے لوٹا ہوں۔“
میں: معاف کیجئے گا معشوقی صاحب۔ میں نے آپ سے پوچھا ہی نہیں کہ آپ کہاں سے لوٹے ہیں۔
معشوقی: (ناراض ہوتے ہوئے) مگر آپ کو پوچھنا چاہیے تھا۔
میں: چلئے ناراض نہ ہوئیے، میں اب پوچھ لیتا ہوں ہاں تو ابھی آپ کہاں سے لوٹے ہیں؟
معشوقی: بھئی میں ابھی ایک سیمینار سے لوٹا ہوں۔
”بزم طرّہ“ کے عنوان کے تحت قارئین کے سوالوں کے جواب دئیے گئے ہیں۔ سوال کرنے والوں کے نام اِس قسم کے ہیں۔ ہنس راج رہزن، کبھی کبھار وی، عبد القدوس مغموم۔ سوال کیا ہیں اور جواب کیا۔ اس کا نمونہ بھی ملاحظہ کیجئے:
سوال: کیا تنقید کی کمائی حلال ہے؟
جواب: اگر اس میں مغربی نقادوں اور ادیبوں سے استفاد ہ نہ کیا گیا ہوتو حلال ہے۔
سوال: جدید اردو ادب کے پس منظر پر روشنی ڈالئے؟
جواب: یہ کام ہمارے یہاں نہیں ہوتا۔
سوال: اردو ادب پر جمود کیوں طاری ہے؟
جواب: یہاں یہ حالت ہے کہ ڈاکیے تک تفہیم وتنقید لکھنے لگے ہیں اور آپ کہتے ہیں کہ اردو اد ب پر جمود طاری ہے (واضح رہے شمس الرحمن فاروقی محکمۂ ڈاک و تار میں ملازم ہیں)۔
سوال: کمار پاشی(4) کیسے شاعر ہیں؟
جواب: کمارپاشی کہاں کے شاعر ہیں؟
”ایک جدیدیے کی لغتِ جدیدہ“بھی اِس رسالے میں شامل ہے۔ چند الفاظ اور ان کے معانی یہ ہیں:
ایمانداری: ایک صفت جو جدید تنقید نگاری کا اُلٹ ہے جیسے سفید کا الٹ کالا۔ شاعر کا الٹ جدید۔
تنہائی: وہ صورتِ حال جو آج کے صنعتی دور میں نایاب ہے مگر جس کا وجود تنقیدی دباؤ میں آکر ماننا پڑتا ہے۔
جوتے اور چپل: پاؤں میں پہننے والی وہ چیزیں جو سیمینار میں افراتفری مچ جانے پر بڑے بڑے نقادوہیں چھوڑ جاتے ہیں۔
ذہانت: ایک ایسی پریشان کن دماغی صلاحیت جس کا صرف ذِکر جدیدیے کرتے ہیں مگر جس کو وہ اپنے پاس پھٹکنے تک نہیں دیتے۔
مشہور شاعر شہر یار(5) کی کتا ب ”ہِجر کا موسم“ (6)پر ایک طویل تبصرہ بھی ہے۔ اس کا آغاز اِس طرح ہوتا ہے۔ ”ہمارے مطبوعہ ادب کی چند بدعتوں میں ایک یہ بھی رہی ہے کہ شعری مجموعے کسی جانے مانے نقاد یا صائب الرائے ادیب کے پیش لفظ کی حفاظت اور نگرانی میں منظرِ عام پر لائے جاتے ہیں اور یہ پیش لفظ شعری مجموعے کو چاروں طرف سے گھیر ے رہتا ہے ۔۔۔ ’’ہجر کا موسم“ میں خلیق انجم(7) کا پیش لفظ۔۔۔ یہ حفاظتی کام نہیں کرتا کیونکہ خود اس کا لفظ لفظ حفاظت کا طلب گار دکھائی دیتا ہے۔ یہ شہر یار کی شاعری کے لیے ایک تناظر بناتا ہے جس میں کبھی شہر یار کی شاعری دکھائی دیتی ہے او رکبھی خلیق انجم خود۔یہ اور بات ہے کہ کبھی کبھی کچھ بھی دکھائی نہیں دیتا لیکن ایسا ہونا فطری ہے کیونکہ جب پڑھنے والا اپنی آنکھیں یا کتاب ہی بند کرلے تو دکھائی کیا دے گا۔
ہمیں افسوس ہے کہ اس مرتبہ ہماراسارا کالم ہندوستان کے رسالے”طرّہ“ کی نذر ہوگیا، حالانکہ پاکستان میں ایسے طرّہ بازوں کی کمی نہیں ہے جوبقول شخصے ”سرپرطرّہ ہار گلے میں“ کا مرقع نظر آتے ہیں ان کا ذکر ہم پھر کبھی کریں گے۔ فی الحال فوری توجہ کی مستحق چند خبریں سن لیجئے:
ایک اخباری انٹرویو میں جون ایلیا(8) نے انکشاف کیا ہے کہ وہ چالیس پچاس نثری کتابوں کے مصنف ہیں اس پر ادبی حلقوں میں بڑی حیرت کا اظہار کیا گیا ہے بعض عینی شاہدوں کا بیان ہے کہ جو ن ایلیا تو نثر میں گفتگو کرنے کے بھی عادی نہیں ہیں تو انھوں نے اتنی ڈھیر ساری نثری کتابیں کیسے لکھ لیں۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ نثری نظمیں لکھی ہوں گی۔ جو کتابت کی غلطی سے کتابیں بن گئیں۔
اطلاع ملی ہے کہ عنقریب لندن میں ”افکار“ کے خصوصی شمار ے ”برطانیہ میں اردو“ کی تقریب اجرا منعقد ہوگی جس میں صہبا لکھنوی شریک ہوں گے۔سننے میں آیا ہے کہ محمد علی صدیقی (9)اور شہزاد منظر بھی صہبا صاحب کے ساتھ اُن کی اخلاقی امداد کے لیے اپنے خرچ پر لندن جائیں گے۔ اس تقریب میں صہبا لکھنوی صاحب کو اہل برطانیہ(10) کی طرف سے جو سپاسنامہ پیش کیا جائے گا، وہ آج کل دفتر افکار میں زیرِ تحریر ہے۔ محمد علی صدیقی اس سپاسنامے کاانگریزی میں ترجمہ کریں گے اور شہزاد منظر انگریزی متن کو دوبارہ اردو میں منتقل کریں گے تاکہ اُردو متن دو آتشہ ہوجائے۔واضح رہے کہ ”افکار“ کی تقریب اجرا اُنھیں دنوں میں ہورہی ہے جب کہ لندن (11)میں مقابلۂ حسن بھی ہونے والا ہے۔ توقع ہے کہ صہبا لکھنوی اس مقابلے میں بھی شریک ہوں گے۔ ان کی شرکت بطور جج ہوگی۔ یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ محمد علی صدیقی اور شہزاد منظر اس معاملے میں بھی کوئی اخلاقی امداد کریں گے یا نہیں۔
پروفیسر عتیق احمد (12)نے پروگرام بنایا ہے کہ وہ ہر مہینے اپنی ایک کتاب شائع کرائیں گے۔ پچھلے مہینے ان کے تنقیدی مضامین کام کا مجموعہ ”استفادہ“(13) شائع ہوا تھا، اس مہینے ”مضامین پریم چند“ (14)کے نام سے ان کی ایک کتاب شائع ہوئی ہے۔پہلی کتاب کی مناسبت سے اگر دوسری کتاب کا نام ”توارد“ ہوتا تو اچھا تھا۔ اس لیے کہ یہی کام بہت پہلے ڈاکٹر قمر رئیس بھی کرچکے ہیں۔ واضح رہے کہ استفادہ توارد اور سرقہ علمِ معانی و بیان کی اصطلاحیں ہیں۔ جن کے معانی کسی بھی لغت میں دیکھے جاسکتے ہیں۔
کینیڈا (15)سے اطلاع آئی ہے کہ وہاں کے ایک مشاعرے میں صہبا اختر(16) نے اپنا کلام سنایا تو کئی خواتین خوف کے مارے بے ہوش ہوگئیں اور جب حمایت علی شاعر (17)نے اپنی غزل سنانی شروع کی تو سب کے ہوش ٹھکانے پر آگئے۔
ڈاکٹر وحید قریشی (18)کراچی آنے والے تھے، لیکن جب انھیں معلوم ہوا کہ انتظار حسین پہلے ہی کراچی پہنچ چکے ہیں تو انھوں نے کراچی آنے کا پروگرام ملتوی کردیا۔ اور یہ کہا کہ کراچی کی فضائی آلودگی (POLLUTION) میری صحت کے لیے مُضر ہوسکتی ہے۔
حواشی و تعلیقات مع حوالہ جات کالم نمبر5
1۔ طرہ: ایک ادبی رسالہ۔جو غیر جدیدیوں نے جدیدیوں کے خلاف نکالا ہے۔ یہ سہ ماہی ہے اور دہلی سے شائع ہوتا ہے۔
(راشد ہاشمی، ادب، ثقافت اور تہذیب، مشمولہ، روزنامہ، الشہباز ٹائمز، سرگودھا، 2 ستمبر 2016ء، 3)
2۔ شمس الرحمن فاروقی: اردو کے شاعر اور نقاد ہیں۔ شمس الرحمن فاروقی 30ستمبر 1935 ء اعظم گڑھ میں پیدا ہوئے۔ الہ آباد یونیورسٹی سے 1955 ء میں ایم اے انگریزی کا امتحان پاس کیا۔ دو سال تک تدریس کے شعبے سے وابستہ رہے۔ 1968ء میں انڈین پوسٹل سروس میں شامل ہوئے۔ 1966ء میں الہ آباد سے رسالہ ”شب خون“ جاری کیا ان کی تصانیف میں ”نئے نام نئی شاعری“، ”فاروقی کے تبصرے“، ”گنج سوختہ“،”عروض آہنگ اور بیاں“، وغیرہ ہیں۔آپ ان دنوں نئی دہلی میں مقیم ہیں۔
(اردو جامع انسائیکلوپیڈیا جلد اول،،لاہور:شیخ غلام علی اینڈ سنز (پرائیویٹ)لمٹیڈ پبلشرز، ص: 909)
3۔ جدیدیت: یہ تنقید کی اصطلاح ہے جس سے نیا پن، انوکھا پن، اچھوتا پن مراد ہے۔ وہ نقطہ نظر، طرز احساس، طرز فکر،
پیرایۂ اظہارجس کی بنیاد میں جدید عناصر پائے جائیں۔ جینئس کا شعلۂ تخلیق جسے اپچ کہنا چاہیے۔ یہ فن عام ڈگر سے ہٹ کر نئی راہ تلاش کر لیتا ہے ۔
(پروفیسر انور جمال، ادبی اصطلاحات، اسلام آباد: نیشنل بک فاؤنڈیشن،فروری 2015ء، ص: 89)
4۔ کمار پاشی: کا اصل نام شنکر دت کمار تھا وہ بہاولپور میں3جولائی 1935 ء کو پیدا ہوئے۔ تقسیم کے بعد ان کا خاندان دہلی میں منتقل ہوگیا اور پھر ساری عمر وہیں گزاری۔ انھوں نے ڈرامے، شاعری اورافسانے میں خوب نام کمایا ان کے کئی مجموعے بھی منظر عام پر آئے جن میں ”انتظار کی رات“،پرانے موسموں کی آواز،”شب کا منظر“،”چاندچراغ“ کمار پاشی نے ”سطور“ کے نام سے ایک علمی وادبی رسالہ بھی جاری کیا۔ 17ستمبر 1992ء کو انتقال کر گئے۔
(کمار پاشی، چاند چراغ، سطور پرکاشن، 3371، دہلی گیٹ، نئی دہلی،، فروری 1994ء، ص : 11۔12)
5۔ شہر یار: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں اردو فکشن پڑھاتے رہے بعد میں وہیں سے پی ایچ ڈی کی ڈگری لی۔ فلموں کے گیت بھی لکھے ۔”ہجر کا موسم“ کے علاوہ دیگر شعری مجموعوں ”اسم اعظم“، ساتواں در“ شامل ہیں۔ ان کی مشہور ترین کتاب ”خواب کے در بند ہیں“ 1987ء میں شائع ہوئی۔ شہر یار2012ء میں انتقال کر گئے۔
(یاسر جواد، ادبیات عالم انسائیکلوپیدیا، اسلام آباد: اکادمی ادبیات پاکستان، 2013ء، ص: 739)
6۔ ہِجر کا موسم: مشہور شاعر شہر یار کی کِتا ب ہے۔ جس کا خلیق انجم نے پیش لفظ لکھا ہے۔
(یاسر جواد، ادبیات عالم انسائیکلوپیدیا، اسلام آباد: اکادمی ادبیات پاکستان، 2013ء، ص: 739)
7۔ خلیق انجم: ممتاز محقق او رنقاد 22 دسمبر 1935 ء دلی میں پیدا ہوئے۔ اصل نام خلیق احمد خان ابتدائی تعلیم وہیں سے حاصل کی۔ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے بعد ازاں ایم اے اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں۔1958ء میں بطور استاد کڑوری مل کالج دلی میں صدر شعبہ اردو کی حیثیت سے تعینات ہوئے۔ 1971ء میں مرکزی وزارت تعلیم میں ڈپٹی ڈائریکٹر کی حیثیت سے تقر ر ہوا۔ ساہتیہ اکادمی کے چیئر مین کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کی تصانیف میں ”معراج العاشقین“، ”مرزا مظہر جان جاناں کے خطوط”جگن ناتھ شخصیت اور فن“ اور”غالب کی نادر“تحریریں شامل ہیں۔
(اردو جامع انسائیکلوپیڈیا جلد اول،،لاہور:شیخ غلام علی اینڈ سنز (پرائیویٹ)لمٹیڈ پبلشرز، ص: 899)
8۔ جون ایلیا: 1931ء کو امروہہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام سید جون اصغر تھا۔ اردو کے ممتاز شاعر اور دانش ور تھے۔ عربی، فارسی اور انگریزی میں عبور رکھتے تھے۔ جون ایلیا نے آٹھ سال کی عمر میں شاعری کا آغاز کیا۔ تقسیم کے بعد کراچی آگئے۔ یہاں آکر ایم اے اردو کیا۔ پیشہ ورانہ مصروفیات کا آغاز 1958 ء میں کراچی سے ماہنامہ ”انشاء“ سے کیا۔ 1964 ء میں یہی رسالہ ”عالمی ڈائجسٹ“ کے نام سے شائع ہونے لگا۔ 1976ء میں اردو لغت بورڈ میں ملازمت اختیار کی۔جون ایلیا نے نثر میں بہت کام کیا۔ شعری تصانیف ”شاید“، ”ممکن“، ”لیکن“ شامل ہیں۔ جون ایلیا 2002ء میں انتقال کر گئے۔
(یاسر جواد، ادبیات عالم انسائیکلوپیدیا، اسلام آباد: اکادمی ادبیات پاکستان، 2013ء، ص: 626)
9۔ ڈاکٹر محمد علی صدیقی: 1938ء کو امروہہ میں پیدا ہوئے۔ آٹھویں کلاس تک امام المدارس سکول امروہہ میں حاصل کی۔
تقسیم کے بعد کراچی چلے آئے اور 1953 ء میٹرک پاس کیا۔ 1960ء میں بی اے اور 1965 ء ایم اے انگلش اور 1992ء میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔وہ برٹش ریویو میں بحیثیت اسسٹنٹ ایڈیٹر مقرر ہوئے۔ 1988ء سے 1994ء تک کراچی یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر تعینات رہے۔روزنامہ ”ڈان“ میں ایریل کے نام سے 34 سال سے ایک کالم لکھتے رہے۔ تصانیف میں ”توازن“ (1976ء) میں شائع ہوئی۔ ”کروچے کی سرگزشت“(ترجمہ،1979ء)، ”نشانات“ (1981ء)، ”پاکستانیات“، ”مضامین (1991ء) ”اشارے“ 1994ء،”قائد اعظم کے شب و روز“، ”ذکر قائداعظم“ اور دیگر شامل ہیں۔ محمد علی صدیقی 2013ء میں کراچی میں انتقال کر گئے۔
10۔ برطانیہ: رقبہ 94525 مربع میل (244820مربع کلو میٹر)، 2004ء کی مردم شماری کے مطابق59987969 نفوس پر مشتمل آبادی ہے۔ آبادی ایک مربع میل: 632 ہے۔ دارالحکومت اور سب سے بڑا شہر لندن ہے جس کی آبادی 11860900 افراد ہے۔ دیگر بڑے شہروں میں برمنگھم، گاسگو، بریڈ فورڈ، مانچسٹر اور برسٹل ہیں۔ کرنسی پاونڈ سٹرلنگ ہے۔ تعلیم 99 فیصد ہے۔ جوزف روٹیلاٹ کو امن نوبل انعام ملا۔ 1950 ء میں برٹرینڈرسل کو بھی ادب کا نوبل انعام ملا۔ 1948ء میں تھا مس سٹمیز ایلٹ، 1953 ء میں سرونسٹ چرچل، 1983ء میں ولیم گولڈنگ اور 2001ء میں وی ایس نائیپاؤل کو لٹریچر میں نوبل انعامات ملے۔ 2002ء میں سنڈی بیرز کو میڈیسن میں نوبل انعام ملا۔ جان سکسٹن کو بھی میڈیسن میں نوبل پرائز ملا۔
11۔ لندن: برطانیہ کا سب سے بڑا شہر ہے۔ 2004ء کی مردم شماری کے مطابق جس کی آبادی11860900 نفوس ہے۔یہ برطانیہ کا دارالحکومت بھی ہے۔
12۔ عتیق احمد: 1942 ء کو اجین (ہندوستان) میں پیدا ہوئے۔ وہیں تعلیم حاصل کی اردو اور انگریزی میں ایم اے کیا۔
ادبیات اردو میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد درس و تدریس سے وابستہ ہوئے۔ ان کی اب تک تقریبا ً دس بارہ شعری مجموعے اور نثری کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ تصانیف ”ایک سو غزلیں“ (1972ء)، ”قدرشناسی“(1978ء)، ”تنقید کا نیا محاورہ“ (1981ء)، ”بین کرتا ہوا شہر“(1991ء) اور دیگر کتب شامل ہیں۔
13۔ استفادہ: پروفیسر عتیق احمد کی کتاب کا نام ہے۔
14۔ مضامین پریم چند: پر وفیسر عتیق احمد کی تازہ کتاب جو اکتوبر 1981ء میں منصۂ شہود پر آئی۔
15۔ کینیڈا: بر اعظم شمالی امریکہ میں واقع ہے۔ بحیرۂ اوقیانوس اور بحرالکاہل سے سرحدیں ملتی ہیں جو شمالی امریکہ کے شمالی حصوں تک پھیلی ہوئی ہے۔ رقبہ9976340مربع کلو میٹر ہے۔ مذہب مسیحت 46 فیصد رومن کیتھولک، 16 فیصد یونا ئیٹڈ چرچ، 10فیصد انگلیکن، دیگر 28 فیصد۔انگریزی سرکاری زبان ہے لیکن فرانسیسی بھی نیم سرکاری زبان ہے جسے عام لوگ بولتے ہیں۔معروف سیاسی جماعتیں لبر ل پارٹی، ریفارم پارٹی، نیو ڈیموکرٹیک پارٹی، پر ولر یس وکنز رو یٹو پارٹی ہیں۔
16۔ حمایت علی شاعر: 1930 ء میں اورنگ آباد میں پیدا ہوئے۔ حمایت علی شاعر ڈرامہ نگار، شاعر، اور نغمہ نگار تھے۔
1964 ء میں ایم اے کا امتحان سندھ یونیورسٹی سے پاس کیا۔ پاکستان آنے سے پہلے حیدر آباد دکن میں روزنامہ ”جناح“ میں کام کیا۔ ادبی ماہنامہ ”ساز نو“ اور ہفتہ وار ”پرواز“ کے شعبہ ادارت سے منسلک رہے۔ ان کے دو شعری مجموعے ”آگ میں پھول“، ”مٹی کا قرض“ شائع ہوئے۔ صدارتی انعام ملا۔
17۔ صہبا اختر: 1932 ء میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام اختر علی رحمت تھا۔ اردو کے مقبول شاعر تھے ان کے لکھے ہوئے قومی ترانے بہت مقبول ہوئے۔ تعلیم و تربیت بر یلی اور علی گڑھ میں ہوئی۔ ان کے والد منشی رحمت علی آغا حشر کے ہم عصر تھے۔اس لیے ڈرامہ نویسی میں طبع آزمائی کرتے رہے۔میڑک تک تعلیم حاصل کی1947ء میں کراچی ہجرت کر کے آگئے اور محکمہ فوڈ انسپکٹر کی ملازمت کرنے لگے۔ راشنگ کنٹرول کے عہدے تک پہنچے 1987ء میں ریٹائر منٹ لے لی۔ ”حریت“ میں ہر ہفتہ ایک نئی نظم لکھتے تھے۔ ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہونے کے بعد گیت نگاری کی طرف راغب ہوئے۔ فلموں کی نغمہ نگاری بھی کرتے رہے۔
(اردو جامع انسائیکلوپیڈیا جلد اول،،لاہور:شیخ غلام علی اینڈ سنز (پرائیویٹ)لمٹیڈ پبلشرز، ص: 536)
18۔ ڈاکٹر وحید قریشی: 1925ء میں میانوالی میں پیدا ہوئے۔ وہ اردو اور پنجابی زبان و ادب کے ممتاز محقق تھے۔ میڑک اسلامیہ ہائی سکول بھاٹی گیٹ لاہور سے 1940 ء میں کیا۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے فارسی میں آنرز ڈگری لینے کے بعد تاریخ میں ایم اے کیا۔ 1952ء میں فارسی شاعر ی پر پی ایچ ڈی مکمل کی اور میر حسن کی زندگی اور کام پر اردو میں ڈی لٹ کیا۔1962ء اوریینٹل کالج لاہو رمیں لیکچرر تعینات ہوئے پھر اسی کالج میں1980ء میں پرنسپل کے عہدۂ جلیلہ پر براجمان ہوئے۔ مقتدرہ قومی زبان کے چیئرمین بھی رہے۔ ان کی کتاب ”شبلی کی حیات معاشقہ“ نے بہت شہرت پائی۔ ان کی کتب کی تعداد بہت زیادہ ہے چند ایک یہ ہیں ”کلاسیکی ادب کا تحقیقی مطالعہ“، ”نذر غالب“، ”تحریک پاکستان کے ثقافتی عوامل“”جدیدیت کی تلاش میں“ وحید قریشی 2009ء میں انتقال کر گئے۔
(یاسر جواد، ادبیات عالم انسائیکلوپیدیا، اسلام آباد: اکادمی ادبیات پاکستان،2013ء، ص: 750)