
کالم نمبر:7
مطبوعہ روزنامہ ”جسارت” کراچی، 23/اکتوبر 1981ء
سُخن دَرسُخن۔۔۔خامہ بگوش کے قلم سے
ڈاکٹر عبادت بریلوی کا ارتقا
مضبوط اعصاب کا شاعر
ناموں کا مسئلہ
میرؔ جملہ لاہور ی
دبستانِ سرگودھا کی شَاخیں
صدی وار”معاصر“
ان پڑھ افسانہ نگاروں کا تذکرہ
ڈاکٹر عبادت بریلوی (1)نے اپنی مشہور تنقیدی کتاب اُردو تنقید کا ارتقاء(2) 35برس پہلے لکھی تھی جو ہندوستان اور پاکستان کی تقریباً تمام یونیورسٹیوں کے نصاب میں ہے، جسے پڑھ کر بہت سے لوگ نقاد بنے ہیں اور اس طرح اردو تنقید کے ارتقا کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ کتاب بارہا شائع ہو چکی ہے لیکن ڈاکٹر صاحب نے کبھی اس پر نظر ثانی کی ضرورت محسوس نہیں کی اس لیے کہ ڈاکٹر صاحب کااصول یہ ہے کہ کسی پرانی کتاب کی نظرثانی پروقت ضائع کرنے سے بہتر ہے کہ کسی نئی کتاب کے لکھنے میں وقت ضائع کیا جائے (اپنا وقت نہیں)۔مذکورہ کتاب کا ایک نیا ایڈیشن حال ہی میں شائع ہوا ہے اس کے دیباچے میں ڈاکٹر صاحب نے اپنی روایت کے خلاف کتاب پر نظر ثانی کرنے کا ذکر کیا ہے اور بتایا ہے کہ انھوں نے ا س میں جابجا ترمیم اور اضافے بھی کئے ہیں _____لیکن کتاب پر ایک نظر ڈالنے ہی سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ ترمیم واضافہ تو کیا، ڈاکٹر صاحب نے کتابت کی سابقہ غلطیوں کو بھی مطابقِ اصل برقرار رکھا ہے۔ صرف ایک مثال ملاحظہ ہو: ایک جگہ ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں۔ ”مغرب کے زیر ِاثر اس وقت بہت سے نقاد لکھ رہے ہیں جن میں زیادہ کے یہاں تنقید کے سائنٹیفک رجحاجات کی کار فرمائی ہے۔“اور پھر ناموں کی ایک فہرست دی ہے۔ اس فہرست میں جن لوگوں کے نام شامل ہیں۔ ان میں سے اکثر کا انتقال ہوچکا ہے اور بعض وہ ہیں جنہوں نے 40-35برس پہلے ایک آدھ تنقیدی مضمون لکھا تھا اور پھر اس کو چے کو خیر باد کہہ دیا۔ اس فہرست میں کرشن چندر (3)کا نام بھی شامل ہے۔
ڈاکٹر صاحب نے دیباچے میں یہ بھی بتایا ہے کہ انھوں نے جب یہ کتاب لکھی تھی تو ان کی عمر 24-23سال تھی۔ اس لیے ظاہر ہے کہ اس میں پختگی نہیں تھی۔“ہم یہ تو نہیں کہیں گے کہ نئے ایڈیشن میں پختگی نہیں ہے، تاہم یہ ضرور عرض کریں گے کہ ”نظرثانی“ کے بعد کتاب کی حالت ایسی ہوگئی ہے جیسے یہ18-17سال کی عمر میں لکھی گئی ہو۔
پچھلے دنوں نوجوان شاعر سلیم کوثر (4)کے مجموعۂ کلام کی تقریب رونمائی منعقد ہوئی جس کے صدر اور مہمان خصوصی پروفیسر کرار حسین(5) اور ڈاکٹر جمیل جالبی(6)تھے۔یہ دونوں حضرات تقریب میں نہیں آئے اس سلسلے میں سلیم کوثر نے یہ وضاحت کی ہے: ”اس تقریب رونمائی کے سلسلے میں بعض باتیں سمجھنے سے قاصر ہوں۔ میں خود تمام اخبارات میں تقریب کے انعقاد کی خبریں دےکر آیا تھا۔ مگر سوائے ایک آدھ اخبار کے کسی نے یہ خبرشائع نہیں کی۔ تقریب کے صدر کرّار حسین کے یہاں میں کشفی صاحب(7)کے ساتھ اور مہمانِ خصوصی جمیل جالبی کے یہاں پیر زادہ قاسم (8)کے ساتھ پروگرام کنفرم کرکے آیا تھا۔ مگر یہ دونوں حضرات تشریف نہیں لائے جس کی وجوہ سمجھنے سے میں قاصر ہوں۔ مگر مجھے کوئی ملال نہیں۔ میں بہت مضبوط اعصاب کا آدمی ہوں۔“
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ صدر اور مہمان خصوصی کو پہلے سے معلوم تھا کہ سلیم کوثر کے اعصا ب بہت مضبوط ہیں۔ اسی لیے وہ جلسے میں نہیں آئے اور ہم جیسے عامیوں پر اُس وقت یہ حقیقت ظاہر ہوئی جب جلسے کے دوران بروشر تقسیم کیا گیا۔ اس میں پچاس سے زیادہ افراد نے سلیم کوثر اور اس کی شاعری کے بارے میں تعریفی کلمات لکھے ہیں۔ اتنی بہت سی تعریف کوئی کمزور اعصاب کا آدمی برداشت ہی نہیں کرسکتا۔ مذکورہ بروشر میں جو ”تنقیدی آرا“ درج ہیں۔ ان کا اندازہ اس مثال سے کیا جاسکتا ہے:
”سلیم کوثر کی شاعری وہ کلام ہے جو زمین سے درد کی طرح اُگتا ہے۔اور آسمان سے الہام کی صورت نازل ہوتا ہے۔ زمین اور آسمان کے اس ملاپ نے سلیم کوثر کے شعری اظہار کو زندہ تہذیب کی کتاب بنادیا ہے۔“
ہم نے پچھلے کسی کالم میں اپنے ایک قاری محمد خالد اختر کا ذکر کیا تھا جنہوں نے بہاولپور سے احمد ندیم قاسمی صاحب کے دو خط برائے اشاعت بھیجے تھے۔ بعض لوگوں نے استفسار کیا ہے کہ یہ محمد خالد اختر وہی ہیں جو طنز ومزاح نگار کی حیثیت سے جانے پہچانے جاتے ہیں اور ہمارے ملک کے ادیبوں میں بہت اونچا درجہ رکھتے ہیں؟____ اطلاعاً عرض ہے کہ ہمیں جن صاحب نے خطوط بھیجے تھے،ان کا مشہور ادیب محمد خالد اختر سے کوئی تعلق نہیں سوائے اس کے کہ دونوں کا نام ایک ہی ہے، ناموں کی یکسانیت اور مماثلت بھی بعض اوقات غلط فہمی کا باعث بن جاتی ہے اور آج کل تو عام رواج ہوگیا ہے کہ لوگ دوسروں کی شہرت سے فائدہ اٹھانے کے لیے ملتے جلتے نام رکھ لیتے ہیں۔ ایک زمانے میں مشہور شاعر اختر انصاری(9) کے نام پر استاد اختر انصاری اکبر آبادی نے ہاتھ صاف کیا تھا تو لوگوں نے اس کی سخت مذمّت کی تھی۔ خود اصلی اختر انصاری بھی بہت پریشان ہوئے تھے اور انھوں نے اپنے نام کے شروع میں ”پروفیسر“ او رآخر میں ”دہلوی“ لکھنا شروع کردیا تھا۔ اس سلسلے میں ایک لطیفہ بھی سننے میں آیا تھا۔ اصلی اختر انصاری سے ان کے کسی ہمدرد نے کہا۔ ”یہ بہت افسوس کی بات ہے کہ آپ کا کلام اکبر آبادی صاحب کے نام سے منسوب ہورہا ہے۔“پروفیسر صاحب نے جواب دیا۔” اس میں افسوس کی کوئی بات نہیں۔ افسوس کا مقام تویہ ہے کہ ان کا کلام میرے نام سے منسوب کیا جارہا ہے۔“
لیکن اب دوسروں کے ناموں پر ہاتھ صاف کرنے والوں کو کوئی نہیں ٹوکتا۔ مشہور فلم سٹار ندیم (10)نے بھی ایک مرتبہ شکایت کی تھی کہ ان کا نام ایک شاعر نے بطور تخلص استعمال کرنا شرو ع کردیا ہے حالانکہ یہ شکایت ہی تھی۔ فلم سٹار ندیم کی پیدائش سے پہلے بزرگ شاعر احمد ندیم قاسمی یہ تخلص اختیار کرچکے تھے۔ ادیبوں میں یکساں نام کا رواج اس حد تک بڑھتا جارہا ہے کہ بعض لوگوں نے یہ سوچنا شروع کردیا ہے کہ اداروں کی طرح ناموں کا رجسٹریشن بھی ہونا چاہیے۔ اگر ایساہو بھی گیا تو صرف پاکستان کی حد تک لوگ ناموں کی چوری سے محفوظ رہیں گے، ہندوستان میں اگر کوئی کسی معروف پاکستانی نام کو اختیار کرے گا تو اس سے باز پرس نہیں کی جاسکے گی۔مثلاً پاکستان کے مشہور ادیبوں شمیم احمد(11)، نعیم صدیقی (12)اور مجتبیٰ حسین(13) کے ناموں سے ہندوستان میں ادیب موجود ہیں۔ہندوستانی شمیم احمد بھی نقاد ہیں۔ ہندوستانی نعیم صدیقی صرف نثر نگار ہیں۔ ہندوستانی مجتبیٰ حسین مزاح نگار ہیں اور کئی کتابوں کے مصنّف ہیں اور مرحوم ابراہیم جلیس (14)کے حقیقی بھائی ہیں۔ وہ ہندوستان کے ادبی حلقوں میں بے حد مقبول ہیں۔ پچھلے دنوں ایک ناشر نے پاکستانی مجتبیٰ حسین کے تنقیدی مضامین کا مجموعہ ”نیم رخ“ یہ سمجھ کر شائع کردیا کہ یہ مزاح کی کتاب ہے لوگوں نے بھی اسے مزاح کی کتاب سمجھ کر پڑھا اور بہت محظوظ ہوئے۔ سننے میں آیا ہے کہ اتر پردیش اُردو اکیڈمی اس کتاب کو گزشتہ 25برس کی بہترین مزاحیہ کتاب کا انعام بھی دے رہی ہے۔واللہ اعلم بالصواب
ہمارے قارئین میر جملہ لاہور ی سے واقف ہوں گے۔ کچھ عرصہ قبل موصوف ”جسارت“ میں کالم لکھتے تھے۔ اب انھوں نے ”جنگ“لاہور (15)کے ادبی صفحے پر کالم نگاری شروع کی ہے۔ پہلے کراچی والوں کو یہ شبہ تھا کہ یہ کراچی ہی کے کسی شخص کاقلمی نام ہے ا ب لاہور والے بھی اس شبے میں مبتلا ہو گئے ہیں کہ لاہور ہی کا کوئی شخص یہ کالم لکھ رہا ہے حالانکہ میرجملہ کا تعلق لاہور سے ہے نہ کراچی سے۔ میر صاحب کسی شہر کے پابند نہیں۔ وہ پابند ہیں تو صرف ادیبوں کے کیونکہ ہر ادیب کے اندر ایک میرجملہ ضرور موجود ہوتاہے۔
اس مہینے کی اہم ترین خبر یہ ہے کہ دبستان سرگودھا کی دو نئی شاخیں قائم ہوگئی ہیں۔ ایک شاخ کوٹ ادو میں قائم ہوئی ہے جس کے صدر اور سیکریٹری ڈاکٹر انور سدید ہیں جو آج کل بسلسلۂ ملازمت کوٹ ادو میں موجود ہیں۔اس شاخ کی ایک مجلس اِنتظامیہ بھی تشکیل دی گئی ہے جو صدر، سیکریٹری اور خازن پرمشتمل ہوگی۔ خازن کا عہدہ بھی فی الحال ڈاکٹر انور سدید ہی کے پاس ہے۔
کراچی میں دبستانِ سرگودھا کا کام مشفق خواجہ نے سنبھالا ہے۔ وہ اپنے رسالے ”تخلیقی ادب“ کا ایک حصّہ ڈاکٹر وزیر آغا کے فن اور شخصیت کے لیے مخصوص کررہے ہیں۔ احمد ہمدانی ”تخلیقی ادب“ کے لیے ڈاکٹر وزیر آغا کے بارے میں ایک مقالہ لکھ رہے ہیں۔ اس کے بعد وہ دبستان سرگودھا سے اپنی وابستگی کاباقاعدہ اعلان کردیں گے۔
بعض رسالے ماہوار ہوتے ہیں۔ بعض سہ ماہی اور بعض سال میں ایک بار چھپتے ہیں۔عطا الحق قاسمی نے اعلان کیا ہے ان کا رسالہ معاصر ”صدی وار“ ہوگا۔ یعنی ہر صدی میں ایک پرچہ شائع ہوگا۔ بیسویں صدی کاشمارہ تین برس قبل شائع ہوا تھا، اکیسویں صدی کے شمارے کی ترتیب کا کام تیزی سے ہورہا ہے۔ توقع ہے یہ شمارہ 2001ء کی پہلی سہ ماہی میں شائع ہوجائے گا۔ اس شمارے کے مہمان مدیر بھی سراج منیر (16)ہی ہوں گے۔ البتہ انتساب پاشا رحما ن کی بجائے ان کے بیٹے کے نام ہوگا کہ وہ بھی اس وقت تک بالغ ہوچکے ہوں گے۔
پچھلے ہفتے ہم نے یہ خبر شائع کی تھی کہ اَن پڑھ شاعروں کا تذکرہ مرتّب کرنے والے محقق شاہ عزیز الکلام اَن پڑھ افسانہ نگاروں کا تذکرہ بھی مرتب کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں یہ خبر پڑھ کر کراچی کے فکشن گروپ کے سیکریٹری نے ہمیں فون پر بتایا ہے کہ شاہ عزیز الکلام صاحب کو یہ کام نہیں کرنا چاہیے۔ فکشن گروپ ایک عرصہ سے اس موضوع پر کام کررہا ہے اور اب تک دودرجن سے زیادہ افسانہ نگاروں کے حالات جمع کئے جاچکے ہیں ______ہم بھی شاہ عزیز الکلام صاحب سے درخواست کریں گے کہ وہ صرف شاعروں کے تذکرے پر کام کریں۔ باقی تذکرے متعلقہ لوگوں ہی کو لکھنے دیں۔ افسانے پر فکشن گروپ والے کام کررہے ہیں، تنقید پر اگر اکیڈمی آف لیٹرز کام کرے تو بہت اچھا ہوگا۔ ملک کے بہترین نقاد آج کل اسلام آباد اور راولپنڈی ہی میں ہیں جب کہ کراچی اور لاہور کے نقادوں کو مشورے کے لیے (کرایہ بھیج کر) طلب کیا جاسکتا ہے۔
حواشی و تعلیقات مع حوالہ جات کالم نمبر7
1۔ ڈاکٹر عبادت بریلوی: 1920ء میں بریلی یوپی میں پیدا ہوئے۔ آپ کا اصل نام عبادت یار خان تھا۔لکھنؤ یونیورسٹی سے 1942 ء میں ایم اے اور 1946ء میں پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کرنے کے بعد تدریس کا پیشہ اختیار کیا۔لکھنؤ اور دہلی یونیورسٹی میں خدمات انجام دیتے رہے۔ ان کی تصانیف میں ”اردو تنقید کا ارتقا“، ”تنقیدی زاویے“، ”غزل اور مطالعۂ غزل“، ”غالب کا فن“، ”غالب او رمطالعۂ غالب“، ”تنقیدی تجربے“،”جدید اردو تنقید“،”جدید اردو لغت“، ”اقبال کی اردو نثر“ اور ”شاعری اور شاعری کی تنقید“ شامل ہیں۔
(یاسر جواد، انسائیکلوپیڈیا ادبیات عالم، اسلام آباد: اکادمی ادبیات پاکستان، 2013ء، ص: 765)
2۔ اردو تنقید کا ارتقا: ڈاکٹر عبادت بریلوی کی ایک مشہور کتاب ہے۔
(یاسر جواد، انسائیکلوپیڈیا ادبیات عالم، اسلام آباد: اکادمی ادبیات پاکستان، 2013ء، ص: 765)
3۔ کرشن چندر: اردو کے نہایت کامیاب ادیب اور افسانہ نگار۔ کرشن چندر وزیر آبا (پاکستان) میں1914ءمیں پیدا ہوئے۔ 1930ء میں میٹرک کیا اور پھر لاہور چلے گئے۔ فورمین کرسچین کالج سے انٹرپاس کیا پھربی اے کرنے کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے انگلش کی ڈگری حاصل کی پھر یونیورسٹی لا کالج سے ایل ایل بی کی ڈگری بھی حاصل کر لی۔ کرشن ترقی پسند مصنفین میں شامل ہوگئے۔ لاہور شاخ کے سیکرٹری مقرر ہوئے۔فلموں کے سکرپٹ بھی لکھے، کہانیاں بھی لکھیں۔ پہلی شادی لاہو رمیں 1940ء میں ہوئی جو ناکام ہوئی۔ پھر سلمی صدیقی سے شادی ہوئی کرشن چندر نے اپنا اسلامی نام وقار ملک رکھا اور سلمٰی صدیقی سے نکاح کر لیا۔ 80کے قریب کتب شائع ہوئیں۔ 8 مارچ 1977 ء کو وہ اپنی میز پر مردہ پائے گئے۔
(یاسر جواد، انسائیکلوپیڈیا ادبیات عالم، اسلام آباد: اکادمی ادبیات پاکستان، 2013ء، ص: 837)
4۔ سلیم کوثر: اصل نام محمد سلیم ہے۔ اردو کے ممتاز شاعر 1947ء پانی پت ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ہجرت کر کے جھنگ آئے اور یہیں سکونت اختیار کی پھر خانیوال چلے گئے۔ سلیم کوثر نے خانیوال سے بھی1965 ء میں میٹرک کیا۔ شعری صلاحیتیں اجاگرہوئیں اور جلد بڑے مشاعروں میں شرکت کرنے لگے۔سلیم کوثر نے مقامی شعرا کے ساتھ ”انجمن ایوان ادب“ بنائی اور اس کے جنرل سیکرٹری بنے لیکن پھر ہجرت کر کے کراچی چلے گئے۔ وہاں اخبار ”ا علان“ میں بطور پرو ف ریڈر ملازمت اختیار کی۔ پھر روزنامہ آغاز، امن، حریت، راز دان، میں مختلف خدمات انجام دیں۔1975ء میں ٹیلی ویژن میں ملازمت اختیار کی۔ اولین شعری مجموعہ ”خالی ہاتھوں میں ارض و سما“ پھر ”یہ چراغ ہے تو جلا رہے“۔ 1990ء میں ”ذرا موسم بدلنے دو“ 1994ء میں ”محبت ایک شجر ہے“ اور 2007 ء میں ”دنیا مری آرزو سے کم ہے“ شائع ہوئیں۔
(یاسر جواد، انسائیکلوپیڈیا ادبیات عالم، اسلام آباد: اکادمی ادبیات پاکستان، 2013ء، ص : 709)
5۔ پروفیسر کرار حسین: معروف ماہر تعلیم، دانش ور، مذہبی عالم اور مصنف، کوٹ راجپوتانہ1911 ء میں پیدا ہوئے۔ تعلیم کے بعدکالج میں انگریزی کے استاد مقرر ہوئے۔ میرٹھ سے خاکسار جماعت کی ترجمانی کرنے کے لیے ایک اخبار بھی جاری کیا۔ 1947ء میں پاکستان آئے اور اسلامیہ کالج کراچی اور گورنمنٹ کالج میر پور خاص میں تدریسی خدمات انجام دینے لگے۔1972 ء میں بلوچستان یونیورسٹی کے وائس چانسلر بنا دئیے گئے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد اسلامک ریسرچ سنٹر کراچی سے وابستہ ہوگئے۔ تصانیف میں ”مطالعۂ قرآن و تلخصیات“ اور ”قرآن اور زندگی“شامل ہیں۔
(اردو انسائیکلوپیڈیا، لاہور:فیروز سنز پرائیویٹ لمٹیڈ، 2005ء، ص: 1123)
6۔ جمیل جالبی:محقق، نقاد، مؤرخ، منتظم 21جون 1928ء کو علی گڑھ میں پیدا ہوئے۔ اصل نام محمد جمیل خان تھا۔ اپنے والد مشہور صحافی جالب دہلوی کی نسبت سے جالبی ہوگئے۔1943ء میں گورنمنٹ ہائی سکول سہارن پور سے میٹرک،1947ء میں میرٹھ کالج سے بی اے پھر کراچی آکر سندھ یونیورسٹی سے یکے بعد دیگرے ایم اے انگریزی، ایم اے اردو، ایل ایل بی، پی ایچ ڈی او رڈی لٹ کی ڈگریاں حاصل کیں۔ آپ جامعہ کراچی کے وائس چانسلر بھی رہے۔ اہم تصانیف میں ”پاکستانی کلچر“، ”ایلیٹ کے مضامین“، ”ارسطو سےایلیٹ تک“، ”ادب، کلچر اور مسائل“،”کلیات میراجی“، ”تاریخ اردو ادب“ تین جلدوں میں۔ ایک بڑا کارنامہ ہے۔
(اردو انسائیکلوپیڈیا، لاہور:فیروز سنز پرائیویٹ لمٹیڈ،2005ء، ص: 508)
7۔ کشفی صاحب(ابو الخیر کشفی): اردو کے ممتاز تنقیدنگار، کانپور میں1932ء میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کی۔ انٹرمیڈیٹ کے بعد پاکستان آگئے۔ کراچی سکونت اختیار کی1952 ء میں جامعہ کراچی سے ایم اے اردو کیا۔ 1971ء میں پی ایچ ڈی کی ڈگری لی۔ ”اردو شاعری کا تاریخی و سیاسی پس منظر“ مقالے کا عنوان تھا۔کشفی صاحب نے تدریس کا شعبہ اپنایا۔1973ء میں داؤد ادبی ایوارڈ اور 1991 ء میں قومی سیرت ایوارڈ سے نوازا گیا۔
(سید قاسم محمود، انسائیکلوپیڈیا پاکستانیکا، لاہور: الفیصل ناشران وتاجران کتب اردو بازار،2004، ص: 384)
8۔ پیرزادہ قاسم: اصل نام قاسم رضا صدیقی ہے۔ وہ ماہر تعلیم اور شاعرکی حیثیت سے مشہور ہوئے۔ پیرزادہ قاسم 8فروری 1943 ء میں دہلی میں پیدا ہوئے۔ جامعہ کراچی سے بی ایس سی (آنرز) اور ایم ایس سی کی ڈگری لی۔ پھر برطانیہ سے پی ایچ ڈی کیا۔ جامعہ کراچی میں تدریس کے شعبہ سے منسلک ہوئے۔ علاوہ ازیں جامعہ کراچی کے وائس چانسلر بھی بنے۔ شاعری آپ کو اپنے دادا ریاض الدین بسمل اور والد ضیا صدیقی سے ورثے میں ملی۔ آپ کے گھرانے میں شاعری کے علاوہ تصوف کا بھی بہت گہرا اثر ہے۔ او ریوں آپ کی شاعری میں تصوف کی روشنی بھی جذب شدہ ہے۔
(یاسر جواد، انسائیکلوپیڈیا ادبیات عالم، اسلام آباد: اکادمی ادبیات پاکستان، 2013ء، ص : 519)
9۔ اختر انصاری: اختر انصاری دہلوی 1909ء میں بہ مقام بدایوں (بھارت)پیدا ہوئے۔ پہلے قدیم اینگلو عریبک ہائی سکول میں تعلیم پائی۔بی اے 1930ء میں پاس کیا۔ 1931ء میں اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلستان چلے گئے۔ والدہ کی وفات کے باعث تعلیم ادھوری چھوڑ کر واپس آگئے۔ 1934ء میں افسانہ نگاری شروع کر دی۔1947ء میں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے شعبہ اردو میں بطور لیکچرار تقرر ہوا۔ 1988 ء میں انتقال کر گئے۔چند معروف کتب میں ”نغمۂ روح“ شعری مجموعہ،”اندھی دنیا اور دوسرے افسانے“،”خوناب“ غزلیں ”روح عصر“ شعری مجموعہ،”یہ زندگی اور دوسرے افسانے“،”مطالعہ و تنقید“،شامل ہیں۔ ان کی کتب کی فہرست بہت طویل ہے۔
(سید قاسم محمود، انسائیکلوپیڈیا پاکستانیکا، الفیصل ناشران و تاجران لاہور،جولائی2004ء، ص: 427)
10۔ ندیم: معروف اداکار ہیں وہ فلم انڈسٹری میں پلے بیک سنگر کی حیثیت سے آئے او رہیر و بن گئے۔ ان کااصل نام نذیر بیگ ہے۔ ان کی پہلی فلم ”چکوری“تھی ان کی مزید معروف فلموں میں ”دل لگی“،”سنگ دل“،”تم میرے ہو“،’’دہلیز“، آسمان“، ”اناڑی“، سہرے کے پھول،“،”تہذیب،”آئینہ“، ”نادان“ اور دیگرشامل ہیں۔
(سید قاسم محمود، انسائیکلوپیڈیا پاکستانیکا، لاہور: الفیصل ناشران وتاجران کتب اردو بازار،2004، ص: 930)
11۔ شمیم احمد: کھیلولی ضلع بارہ بنکی میں پیدا ہوئے او رتقسیم ہند کے بعد کراچی میں سکونت اختیار کی۔ جامعہ کراچی سے اردو ادب میں ایم اے کی سند لی۔ چھوٹی موٹی ملازمتیں کرنےکے بعد بلوچستان یونیورسٹی میں شعبہ اردو سے منسلک ہوگئے۔ پھر کراچی یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں بھی خدمات انجام دیں۔ ان کی تصانیف میں ”‘2+2=5“،”سوال یہ ہے ”، ”زاویۂ نظر“، ”برش قلم“،”میری نظر میں“،”پاکستان کا فکری، تہذیبی او رثقافتی پس منظر“ شامل ہیں۔ شمیم احمد کراچی میں1993ء میں انتقال کر گئے۔
(یاسر جواد، انسائیکلوپیڈیا ادبیات عالم، اسلام آباد: اکادمی ادبیات پاکستان، 2013ء، ص: 733)
12۔ نعیم صدیقی: اصل نام فضل الرحمن تھا۔ ممتاز عالم دین، دانش ور، شاعر، ادیب مصنف، صحافی بانی رکن جماعت اسلامی، بانی تحریک اسلامی۔ مولانا مودودی کے قریبی ساتھی، مدیر اعلیٰ و نگران ماہنامہ ”سیارہ“۔ ماہنامہ ”ترجمان القرآن“ ان کی نثری کتب ”ذہنی زلزلے“،”معاشی ناہمواریوں کا اسلامی حل“ ”تخریب و تعمیر“ ان کی شعری کتب میں ”شعلۂ خیال“،”پھر کارواں کٹا،”وہ سورج بن کے ابھرنے والا“، ”نور کی ندیاں رواں” شامل ہیں۔
(ڈاکٹر منیر احمد سلیچ، وفیات ناموران پاکستان، اسلام آباد: اکادمی ادبیات پاکستان، 2005ء، ص: 897)
13۔ پروفیسر مجتبیٰ حسین:1921ء میں موضع سنجر پورتحصیل شاہ گنج ضلع جونپور (یوپی) میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام سید مجتبیٰ حسین زیدی تھا۔ مشن ہائی سکول سے آٹھویں جماعت پاس کرنے کے بعد اپنے بڑے بھائی مصطفی حسین زیدی کے پاس جھانسی چلے گئے۔ 1936ء میں میٹرک پاس کیا۔ الہ آباد یونیورسٹی سے بی اے پاس کیا۔ اور1945 ء میں ایم اے اردوکا امتحان پاس کیا۔ فراق گورکھپوری کے ساتھ مل کر ”سنگم“ اشاعتی ادارہ بنایا لیکن ناکامی ہوئی۔ بمبئی چلے گئے وہاں تدریسی کا شعبہ اپنایا۔ تقسیم کے بعد کراچی آگئے۔ پہلے چینی سفارت خانے میں ملازمت کی پھر نیشنل کالج میں شعبہ اردو کے صدر تعینات ہوئے۔آخر بلوچستان یونیورسٹی کے وائس چانسلر پر وفیسر کرار حسین نے انھیں اپنے پاس بلایا اور شعبہ اردو کا صدر مقرر کیا۔ تصانیف میں افسانے ”انتظار سحر“، تنقیدی مضامین”تہذیب و تحریر“،’ادب و آگہی“ ”نیم رخ“ اور آغا شاعر قزلباش حیات و شاعری“ شامل ہیں۔ 1989ء میں وفات پائی۔
(ڈاکٹر منیر احمد سلیچ، وفیات ناموران پاکستان، اسلام آباد: اکادمی ادبیات پاکستان، 2005ء، ص: 856)
14۔ ابراہیم جلیس: 22ستمبر 1923ء گلبرگہ (حیدر آباد دکن) میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام محمد ابراہیم حسن تھا۔ آپ ممتاز افسانہ نگار، ممتاز صحافی، ادیب، مدیر ”انجام“، ”مساوات“ کراچی رہے۔ فلمی کہانیاں بھی لکھیں۔ خاکہ نگاری بھی کی۔تصانیف میں ”زرد چہرے“،”الٹی قبر“،”پتے کی بات“،”جیل کے دن جیل کی راتیں“،”جنگل میں منگل“ شامل ہیں۔26اکتوبر 1977 ء کو کراچی میں وفات پائی اور وہیں دفن ہوئے۔ حکومت پاکستان کی طرف سے انھیں ان کی بے پناہ خدمات کے اعتراف میں صدارتی ایوارڈ بھی ملا۔
(ڈاکٹر منیر سلیچ، وفیات ناموران پاکستان، اردو سائنس بورڈ لاہور، 2005ء، ص: 88)
15۔ جنگ لاہور: روزنامہ جنگ اردو کا ایک کثیر الاشاعت اخبار ہے۔ جس کو میر خلیل الرحمن نے 1939ء میں دوسری جنگِ عظیم کے دوران جاری کیا تھا یہ روزنامہ اخبار جنگ گروپ نیوزپیپر ز کے زیر اہتمام شائع ہو رہا ہے۔ یہ روزنامہ آج کل کراچی، لاہور، راولپنڈی، کوئٹہ، ملتا ن اور لندن سے شائع ہو تا ہے۔
(راشد ہاشمی، ادب، ثقافت اور تہذیب، مشمولہ، روزنامہ، الشہباز ٹائمز، سرگودھا، 2/ستمبر 2016ء، 3)
16۔ سراج منیر: اردو کے شاعر، ادیب، دانش ور اور نقاد کی حیثیت سے معروف ہوئے۔ سراج منیر سید پور مشرقی پاکستان میں 1951ء میں پیدا ہوئے۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد لاہور میں سکونت اختیار کر لی۔لاہور کی علمی و ادبی محفلوں میں حصہ لینے لگے۔1985 ء سے وہ ادارہ ثقافت اسلامیہ کے ڈائریکٹر تعینات ہوئے اور تادمِ آخر اسی عہدے پر فائز رہے۔ ان کی تصانیف میں ”طب اسلامیہ“، ”تہذیب وتقدیر“،”اسلامی تہذیب“”مسلم ثقافت کی فلسفیانہ بنیادیں“ شامل ہیں۔
(یاسر جواد، انسائیکلوپیڈیا ادبیات عالم، اسلام آباد: اکادمی ادبیات پاکستان، 2013ء، ص: 700)