0

کالم نمبر 9… خامہ بگوش (مشفق خواجہ) کے قلم سے

مشفق خواجہ

کالم نمبر:9

مطبوعہ روزنامہ ”جسارت” کراچی، 6/نومبر 1981ء

سُخن دَرسُخن۔۔۔خامہ بگوش کے قلم سے

کچھ ”نقوش“ اور ”نقوش ایوارڈ“ کے بارے میں

جب سے نقوش ایوارڈ کا اعلان ہوا ہے، نیم خوابیدہ ادبی حلقوں میں بیداری کی لہر دوڑ گئی ہے۔ بیدار ہونے والے صرف بیدارہی نہیں ہوئے بلکہ ان کی آنکھیں بھی کھلی کی کھلی رہ گئی ہیں اور انھو ں نے دلی حیرت و حسرت کے ساتھ اس خبر کو سنا ہے۔ حیرت اِس بات پر کہ ہمارے ملک میں ایک ادبی رسالے کی خِدمات کا برملا اعتراف کیا گیا ہے اور مسرت اِس بات کی کہ محمد طفیل کو وہ اعزاز ملا ہے جس کی مثال اردو زبان کی تاریخ میں تو کیا اِس زبان کے جغرافیے میں بھی نہیں ملتی۔

محمد طفیل خود تو سلامت روی کے ساتھ اس خوش خبری کو برداشت کرگئے لیکن ان کے خیر خواہوں نے بڑے پیمانے پر شادیانے بجانے کا کام شروع کردیا ہے۔ ہم جس وقت یہ کالم لِکھ رہے ہیں عین اسی وقت کراچی میں ”نقوش“ کے انیس نمبر کی تقریب رونمائی ہورہی ہے اور ممکن ہے اِس کالم کے چھپتے چھپتے پاکِستان کے تمام شہروں،قصبوں، دیہاتوں اور محلّوں وغیرہ میں اِس قسم کی تقریبات منعقد ہو چکی ہوں۔

جیسا کہ رسمِ دنیا ہے، اِس واقعے پر، دوسرے تمام واقعات کی طرح ملا جلا ردِ عمل سامنے آیا ہے۔ جہاں بہت سے ادیب اس خبر سے ہی بجا طو رپر خوش ہوئے ہیں۔ وہیں بے جا طور پر دوچار کی جبینوں پر شکنیں بھی پڑ گئی ہیں۔ ہم چونکہ ہوا کا رُخ دیکھ کر چلتے ہیں اور اکثریت کے ساتھ ہی چلتے ہیں۔ اِس لیے ہم پہلے یہ بتائیں گے کہ ایوارڈ کی خبر پر خوش ہونے والے کیا کہتے ہیں۔ وہ جو کچھ کہتے ہیں نمبروار سن لیجئے:

1۔        نقوش ایک وقیع ادبی رسالہ ہے۔ اس نے ادب کی جتنی مخلصانہ خدمت کی ہے، اتنی کسی دوسرے رسالے نے

نہیں کی۔

2۔        نقوش کا ہر شمارہ ادبِ عالیہ کا شاہکار ہوتا ہے۔

3۔        نقوش نے صحت مندادب کے فروغ کے لیے بڑا کام کیا ہے۔

4۔         نقوش نے اپنے خاص نمبر شائع کرکے ادب کی تاریخ کو محفوظ کردیا ہے۔

5۔        نقوش کو تمام اہم لکھنے والوں کا تعاون حاصل ہے۔ا س کا تعلق کسی ادبی گروہ سے نہیں ہے۔

6۔        نقوش نے کتابت و طباعت کا اعلیٰ معیار قام کیا ہے۔

یہ ساری باتیں ہمارے دل کولگتی ہیں لیکن بعض ایسے ادیب جو ہر وقت ماتھے پر شکنیں سجائے رکھتے ہیں۔ انھیں یہ باتیں پسند نہیں آئیں۔ انھوں نے بھی نمبر وار اِن باتوں کا جواب دیا ہے۔ وہ بھی سُن لیجئے:

1۔        نقوش یقینا ایک اچھا رسالہ ہے، لیکن اس کی خدمات جتنی مخلصانہ ہیں، اتنی ہی تاجرانہ بھی ہیں۔ جتنی ادب کی خدمت کی جاتی ہے۔ اسی قدر تجارتی اونچ نیچ کا خیال بھی رکھا جاتا ہے۔ جتنی اس کی ادبی قیمت ہوتی ہے، اس سے کہیں زیادہ وہ قیمت ہوتی ہے جس کا تعلق سکّہ رائج الوقت سے ہے۔ اگر ادب کی مخلصانہ خدمت کاتصوّر کیا جائے تو ذہن میں صرف مولانا صلاح الدین احمد کا نام آتا ہے۔ کوئی دوسرانام کیوں نہیں آتا، یہ سوچنے کی بات ہے۔

2۔        نقوش کا ہر شمارہ اس لیے ادبِ عالیہ کا شاہکار ہوتا ہے کہ ہر شمارے کے اداریے میں اعلان کیا جاتا ہے کہ اسے ادبِ عالیہ کا شاہکار سمجھ کر پڑھاجائے۔

3۔        یہ کہنا درست ہے کہ نقوش نے صحت مندادب کے فروغ کے لیے بڑا کام کیا ہے بشرطیکہ صحت مندی سے مراد ضخامت ہو۔ نقوش نے موٹے تازے نمبر شائع کرکے عالمی ریکارڈ قائم کیا ہے اور اس میدان میں اس کا کوئی حریف نہیں۔

4۔        یہ بات بھی درست ہے کہ نقوش نے اپنے خاص نمبروں کے ذریعے ادب کی تاریخ کو محفوط کردیا ہے لیکن یہ خاص نمبر ہمیشہ ہوا کا رُخ دیکھ کر نکالے گئے ہیں۔ منٹو مرگیا تو منٹو نمبر نکال دیا۔ شوکت تھانوی اور پطرسؔ مرگئے تو ان کے نمبر بھی نکال ڈالے۔ ان مرنے والوں نے زندگی بھر اپنی تحریروں سے اتنا نہیں کمایا تھا جتنا ادبی پسماندگان نے ان نمبروں سے کمالیا۔

5۔        یہ درست نہیں ہے کہ نقوش کا کوئی ادبی گردہ نہیں ہے۔ نقوش دراصل ایک گروہ ہی کا رسالہ ہے اور اِس گروہ میں ہر دور میں چند ایسے ”ادیب“ ضرور شامل رہے ہیں جو اعلیٰ سرکاری مناصِب پر فائز ہوں۔رہی یہ بات کہ اسے تمام اہم لکھنے والوں کا تعاون حاصل ہے تو یہ دعویٰ اس وقت تک تسلیم نہیں کیا جاسکتا جب تک یہ ثابت نہ کردیا جائے کہ جن بہت سے ادیبوں نے نقوش میں کبھی نہیں لکھا وہ غیر اہم ہیں۔

6۔        یہ بات درست ہے کہ نقوش نے کتابت و طباعت کا اعلیٰ معیا ر قائم کیا ہے اس کا سبب یہ ہے کہ کسی دوسرے رسالے کا ایڈیٹر کتابت کے اسرار و رموز سے ذاتی طور پر واقف نہیں ہے اور وہ ایک عدد پریس کا مالک بھی نہیں ہے۔

معترضوں کے ارشادات ہم نے بادلِ ناخواستہ دررج کئے ہیں معاملہ اگر صرف رشک تک رہتا تو کوئی مضائقہ نہیں تھا۔ لیکن اِن باتوں سے بوئے حَسد آتی ہے۔ جو لوگ نقوش کی ادبی خدمات سے انکار کرتے ہیں، وہ حقیقت پر پردہ ڈالتے ہیں۔ خدا ان حاسدوں کو سیدھا راستہ دکھائے گا۔

یہاں تک تو نقوش کی بات تھی۔ اب آئیے نقوش ایوارڈ کی طرف:  پچاس ہزار روپے کی رقم اِن ادیبوں میں تقسیم کی جائے گی جو نقوش میں لکھتے ہیں۔ ہمارے ناقص خیال میں ادب کے فروغ کے لیے یہ ایک نہایت مناسب اقدام ہے۔ اس قسم کے انعامات لکھنے والو ں میں حوصلہ پیدا کرتے ہیں اور وہ ایک دوسرے سے بہتر تخلیقات پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اس کا کیا علاج کہ بعض ادیب اِس اعلان سے خوش نہیں ہوئے۔ انھوں نے اپنی ناخوشی کا اظہار جس طرح کیا ہے، اس کا اندازہ کرنے کے لیے انھیں کے خیالات انھیں کی زبان میں پیش کئے جاتے ہیں:

1۔        ”نقوش“ ایک شخص کی ذاتی ملکیت ہے۔ اس کے تعلق سے کسی ایوارڈ کا حکومت کی طرف سے قائم ہونا بہت اچھی بات ہے، لیکن ادب کی خدمت صرف نقوش ہی نے نہیں کی۔ دوسرے رسالوں نے بھی کی ہے۔ خصوصاً ماہنامہ”افکار“ کی خدمات”نقوش“ کی خدمات سے کہیں زیادہ ہیں۔ یہ رسالہ گذشتہ24برس سے ہر ماہ باقاعدگی کے ساتھ شائع ہورہا ہے اور اس کے شائع شدہ تمام شماروں کی ضخامت نقوش کے تمام شماروں کی ضخامت سے کہیں زیادہ ہے۔ ”افکار“ نے ایک ایسی صحت مند روایت کی داغ بیل ڈالی ہے جس کی پہلے سے کوئی مثال موجود نہیں تھی۔کسی ادیب کے مرنے کے بعد تعزیتی نمبر نکالنا کوئی بڑا کام نہیں ہے بڑا کام یہ ہے کہ ادیبوں کی خدمات کا اعتراف ان کی زندگی میں کیا جائے۔ جوش،حفیظ، فیض اور ندیم سے متعلق ”افکار“ نے جو خاص نمبر شائع کئے ہیں وہ اردو کی ادبی صحافت کی آبرو ہیں۔ ”افکار“ ہی کی طرح اور اق، فنون، ادبِ لطیف، نیا دور، سیپ، تخلیق، سویرا اور سیّارہ کی خدمات بھی اپنی اپنی جگہ لائقِ تحسین ہیں۔ اگر پاکستان کے نمائندہ ادب کا انتخاب کیا جائے تو سارا مواد انھیں رسالوں سے دستیاب ہوگا۔ ”نقوش“ سے شاید ایک فیصد چیزیں بھی نہ مل سکیں۔ اگر کوئی ایوارڈ قائم کرنا ہی تھا تو اس کا نام”ادبی رسائل ایوارڈ“ ہونا چاہیے تھاتاکہ اِنعام کے مستحق وہ تمام ادیب ہوتے جو پاکستان کے مختلف رسالو ں میں لکھتے ہیں۔

2۔        پچاس ہزار روپے کی خطیر رقم صرف نقوش میں لکھنے والوں میں تقسیم کرنے کی بات ناقابلِ فہم ہے۔”نقوش“ کا گذشتہ کئی برس سے اپنے عہد کے تخلیقی ادیبوں سے رابطہ ٹوٹ چکا ہے اور وہ ایسے نمبر شائع کررہا ہے جن میں ماضی کے ادیبوں کی، تخلیقات ہوتی ہیں۔ غالب نمبر(بیاضِ غالب) اور میر نمبر کی مثالیں تازہ ہیں۔ ان میں غالب اور میر کا ”نودریافت“ کلام ہے اور وہ بھی ایسا جو ہندوستان میں پہلے ہی چھپ چکا تھا۔ کوئی عام ناشر ہندوستانی کتابیں شائع کرے تو اسے مطعون کیا جاتا ہے لیکن جب نقوش ہندوستانی کتابوں کو خاص نمبروں میں ڈھال دیتا ہے تو ادب فروغ پانے لگتا ہے۔ ادبی معرکہ نمبر کا حال یہ ہے کہ اس میں سرے سے کوئی غیر مطبوعہ چیز شامل ہی نہیں ہے۔ مختلف رسائل میں چھپے ہوئے مضامین کو اس نمبر میں یکجا کردیا گیا ہے۔ اگر انعام کے مستحق یہی مصنف ہیں تو پھر انھیں نقوش کے حوالے سے انعام کیوں دیا جائے، ان رسالوں کے حوالے سے انعام ملنا چاہیے جن میں یہ مضامین پہلی بار بار چھپے تھے۔

3۔        پاکستان کے نمائندہ ادیبوں کی ایک بڑی تعداد نے نقوش میں کبھی کچھ نہیں لکھا۔ یہ سب ادیب نقوش ایوارڈ سے اس لیے فیض یاب نہیں ہوسکیں گے کہ انھوں نے نقوش میں کبھی کچھ نہیں لکھا۔

4۔        نقوش کی روایت یہ رہی ہے کہ پاکستانی ادیبوں سے زیادہ ہندوستانی ادیبوں کی تخلیقات کو اہمیت دی جاتی ہے۔ نقوش کے شمارے اٹھا کر دیکھ لیے جائیں، ان میں ایک بڑی تعداد ہندوستانی ادیبوں کی ملے گی۔ آئندہ بھی لازماً ایساہوگا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہندوستانی ادیب بھی نقوش ایوارڈکے مستحق ہوں گے۔

5۔        نقوش کاروباری نقطۂ نظر سے ایک کامیاب اور بامراد رسالہ ہے۔ اس کے مالک نے نقوش کے اجرا کے بعد جتنی ادبی ترقی کی ہے،ا س سے کہیں زیادہ مادی ترقی کی ہے لیکن اِس ترقی کے باوجود نقوش میں لکھنے والوں کو کبھی ان کی تخلیقات کا معاوضہ نہیں دیا گیا۔ اگر دیا بھی گیا ہوگا تو خاص خاص ادیبوں کو لیکن عام ادیبوں کو بھی معاوضہ نہیں ملا۔ اِس کے برعکس اِس صدی کی چوتھی دہائی میں حکیم یوسف حسن ”نیرنگ ِخیال“ میں چھپنے والی ہر تحریر کا معاوضہ دیتے تھے۔ ایک ایسارسالہ جس نے مستحکم مالی حیثیت کے باوجود ادیبوں کو کبھی معاوضہ نہیں دیا، اس کے نام پر ایوارڈ قائم کرنے سے بہتر ہوگا کہ فی الحال ادیبوں کے واجبات انھیں دلوادئیے جائیں۔

یہ ساری باتیں، جیسا کہ ہم پہلے عرض کرچکے ہیں، ہم نے بادلِ ناخواستہ درج کی ہیں تاکہ ہمیں کوئی یہ الزام نہ دے کہ ہم جانب دار ہیں۔ بہر حا ل اب اِن باتوں پر ہمیں ٹھنڈے دِل سے غور کرنا چاہیے۔ ایوارڈ کے نام کے سلسلے میں جوتجویز پیش کی گئی ہے، وہ معقول معلوم ہوتی ہے۔ اسے ”ادبی رسائل ایوارڈ“ کا نام دیا جاسکتا ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اسے مولانا صلاح الدین احمد یا حکیم یوسف حسن کے نام سے منسوب کردیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں