
کالم نمبر:14
مطبوعہ روزنامہ ”جسارت” کراچی، 11/ دسمبر 1981ء
سُخن دَرسُخن۔۔۔خامہ بگوش کے قلم سے
انعام برائے حسنِ طباعت
رائٹرز گلڈ کو انعامات کے لیے ڈھائی سو سے زیادہ کتابیں داخل کی گئی تھیں۔ ان میں سے بعض ایسی کتابیں بھی نظر انداز کردی گئی ہیں جنھیں انعام ملنے کی صد فیصد توقع تھی۔ ادبی حلقوں میں اس پر حیرت کا اظہار کیا گیا ہے کہ امجد اسلام امجد، انیس ناگی، پروین شاکر اور شبنم رومانی کو انعام کیوں نہیں دیا گیا جب کہ یہ چاروں مصنفین اپنے اپنے انداز میں اور اپنے اپنے معیار کے مطابق ادب کی بے مثال خدمت کر رہے ہیں۔ امجد اور ناگی نے تو ایک سے زیادہ تصانیف انعام کے لیے پیش کی تھیں لیکن قسمت نے یاوری نہیں کی۔ واضح رہے کہ ان چاروں مصنفوں کی کتابیں طباعت کے اعتبار سے نہایت اعلےٰ درجے کی ہیں۔ سننے میں آیا ہے کہ نیشنل بک کونسل ان مصنفین کے نقصان کی تلافی کی فکر میں ہے۔ توقع ہے کہ عنقریب ان کی کتابوں کو حسنِ طباعت کے انعام سے نوازا جائے گا۔
گِلڈ کے آئین میں ترمیم
با وثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ بعض ادبی طفیلیے رائٹرز گِلڈ کے آئین میں ایک ترمیم کے ذریعے موجودہ سیکریٹری جنرل کو تاحیات سیکریٹری جنرل بنانے کا منصوبہ تیار کر رہے ہیں۔ پچھلے دنوں گِلڈ کی مجلسِ عاملہ کا جوا جلاس لاہور میں ہوا تھا۔ اِس میں اِس تجویز پر غور کیا گیا۔ ایک رکن نے کہا کہ جب کوئی ڈاکٹر کسی مریض کا تسلی بخش علاج کررہا ہو تو ایسی صورت میں ڈاکٹر کو بدلنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ موجودہ سیکرٹری جنرل اپنے فرائض نہایت عمدگی سے انجام دے رہے ہیں لہٰذ اِس کی ضرورت نہیں ہے کہ کسی دوسرے شخص کو اِس عہدہ کا اہل سمجھا جائے۔ اس پر ایک اور رکن نے اعتراض کیا اور کہا کہ رائٹرز گلڈ کو بیمار اور سیکریٹری جنرل کو ڈاکٹر کہنا بجائے خود بیمار ذہنیت کی غمازی ہے۔ گِلڈ ادیبوں کی برادری ہے۔ بیماروں اور معذروں کا کوئی گروہ نہیں۔
مجلسِ عاملہ کے اجلاس میں سیکریٹری جنرل سے کچھ سوال بھی کئے گئے جن کے انھوں نے تشفی بخش جواب دئیے۔ چند سوال اور ان کے جواب آپ بھی ملاحظہ کیجئے:
سوال: کیا آپ رائٹرز گِلڈ کو ایک مریض سمجھتے ہیں؟
جواب: جی نہیں! یہ تو ایک ہسپتال ہے جس میں بے شمار مریض ہیں۔
سوال: کیا آپ اپنے آپ کو ڈاکٹر سمجھتے ہیں؟
جواب: جی ہاں، میں نے ایک زمانے میں ہومیوپیتھی کی دوچار کتابیں پڑھی تھیں۔
سوال: کیا آپ گِلڈ کے تاحیات سیکریٹری جنرل بننا چاہتے ہیں؟
جواب: اگر آپ لوگ اِس قسم کا کوئی فیصلہ کریں گے تو مجھے اعتراض نہیں ہوگا۔
سوال: اگر ہم اِس قسم کا کوئی فیصلہ نہ کریں تو؟
جواب: پھر مجھے اعتراض ہوگا۔
سوال: آخر آپ یہ عہدہ چھوڑنے پر آمادہ کیوں نہیں۔ اس کی کوئی معقول وجہ ہونی چاہیئے؟
جواب: جب میں نے یہ عہدہ سنبھالا تھا تو اس وقت بھی کوئی معقول وجہ موجود نہیں تھی۔ اب یہ سوال کیوں اٹھایا جارہا ہے؟
انعامی رقم کا مَصرف
افسانہ نگار سلطان جمیل نسیم نے ان ادیبوں کو مبارک باد دی ہے جنھوں نے گِلڈ کے انعامات قبول کرنے سے انکار کردیا ہے۔ سلطان جمیل نسیم نے یہ تجویز پیش کی ہے کہ قبول نہ کئے جانے والے انعامات کی رقم ان ادیبوں میں تقسیم کردی جائے جو اپنی کتابیں چھپوانا چاہتے ہیں۔ نسیم صاحب نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر گِلڈ نے ان کی تجویز منظور کرلی تو وہ کم از کم پچیس ادیبوں کو اِنعام واپس کردینے پر آمادہ کرلیں گے۔ ان پچیس ادیبوں میں امراؤ طارق بھی شامل ہیں جنھیں یہ انعام پہلی مرتبہ ملا ہے۔ حالانکہ یہی اِنعام میرزا ادیب کو آٹھ مرتبہ مل چکا ہے۔ امراؤ طارق نے کہا ہے کہ میں انعام تو واپس نہیں کروں گا لیکن سلطان جمیل نسیم کے افسانوی مجموعے کی طباعت کے لیے مالی مدد کرنے کو تیار ہوں بشرطیکہ وہ اپنے مجموعے کی اشاعت کا ادبی اور اخلاقی جواز پیش کرسکیں۔
مشہور نقاد عتیق احمد سے جب سلطان جمیل نسیم کی تجویز پر تبصرہ کرنے کے لیے کہا گیا تو انھوں نے فرمایا کہ میں صرف کتابوں پر تبصرہ کرتا ہوں، تجویزوں پر نہیں۔ تاہم انھوں نے اتنا ضرور کہا کہ ”تجویز معقول ہے بشرطیکہ اس پر عمل کرنے کے نتیجے میں میرے مضامین کا مجموعہ شائع ہوسکے۔“
سحر انصاری نے بھی اِس تجویز کو پسند کیا ہے، البتہ رقم کے مصرف کے بارے میں ان کی رائے یہ ہے کہ ”اس پر صرف ان ادیبوں کا حق ہونا چاہیے جو پہلے ہی اپنی کتابیں چھپواچکے ہیں۔ آخر ان کے نقصان کی تلافی بھی تو ہونی چاہیے۔
صیغۂ راز کی باتیں
کراچی کے ایک اخبار کے ادبی صفحے پر صرف شعری نشستوں کی رودادیں شائع ہوتی ہیں اور وہ بھی ان نشستوں کی جن کی صدارت خود، روداد نویس فرماتے ہیں۔ ایک شاعر نے مذکورہ اخبار کے ایڈیٹر سے شکایت کی کہ روداد نویس، جانب داری سے کام لیتے ہیں اور پھر یہ پوچھا: ”آپ کے ادبی صفحے کا معیار روز بروز گِرتا کیوں جارہا ہے؟“
ایڈیٹر نے جواب دیا: ”ہم صیغۂ راز کی باتیں کسی کو بتایا نہیں کرتے۔“
دو مراد آبادیوں میں
راغب مراد آبادی نے بزرگ شاعر اقبال عظیم کی ادبی ولسانی غلطیوں پر ایک طویل مقالہ لکھا ہے جسے راز مراد آبادی ایک اخبار کے ادبی صفحے پر قسط وار شائع کررہے ہیں۔ جب اقبال عظیم سے اِس صورتِ حال پر تبصرہ کرنے کے لیے کہا گیا تو انھوں نے فرمایا: ”خدا خیر کرے، میری شاعری دو مراد آبادیوں کے درمیان ہے۔“ مجھے اپنی شاعری کی نہیں، ان دونوں کی زیادہ فِکر ہے۔ کاش یہ دونوں میری شاعری کی بجائے اپنی شاعری پر توجہ کرتے تو انھیں معلوم ہو جاتا کہ شعر کہنا کتنا مشکل کام ہے۔“
ضروری تصحیح
محسن بھوپالی ایک اخبار میں کالم لکھتے ہیں جس کا نام تو ”انجمن“ ہے لیکن اِس میں معاملات خِلوتوں کے ہوتے ہیں۔ ایک ایسے ہی معاملے پر انھوں نے اپنے تازہ کالم میں یہ لکھا ہے:
”برادرم محمد علی صدیقی کو ان کی موضوع اور مواد کے لحاظ سے منفرد کتاب ”کروچے کی سرگزشت“ پر ایک ہزار روپے اِنعام ملا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اِس رقم سے موجودہ زمانے میں ایک ہزار کیا پانچ سوکتابوں کی بھی جِلد سازی نہیں کرائی جا سکتی۔“
اِس مختصر سے اقتباس میں دو فاش یا فاحش غلطیاں ہیں۔ پہلی غلطی یہ ہے کہ انعام محمد علی صدیقی کو نہیں، کروچے کو ملا ہے جس کی یہ تصنیف ہے۔ دوسری غلطی یہ ہے کہ انعام کتاب کی جِلد بندی کے لیے نہیں۔ مصنف کی حوصلہ افزائی کے لیے ہے۔ حوصلہ افزائی کے لیے ملنے والی رقم کو جلد بندی پر صرف کرنا اخلاقاً نا مناسب ہے۔ اگر کسی مجبوری کے تحت اِس رقم کو جلد بندی پر ہی صرف کرنا ہے تو ہمارا مشورہ یہ ہے کہ فی الحال سو کتابوں کی جِلد بندی کرالی جائے۔ جب یہ کتابیں فروخت ہوجائیں تو مزید سو کتابیں مجلّد کرائی جاسکتی ہیں۔ اس طرح رفتہ رفتہ یعنی پچیس تیس برس میں ہزار کتابیں مجلّد ہوسکتی ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں کتابوں کو مجلد کرانے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ اس سوا ل کا جواب ہم کروچے سے طلب کرتے مگر، سنا ہے کہ اس کا انتقال ہو چکا ہے۔ یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ انتقال انعام ملنے سے پہلے ہوا یا بعد میں۔
فیض بنام قتیل شفائی
لاہور کے ایک روزنامے میں قتیل شفائی نے فیض احمد فیض کا ایک خط چھپوایا ہے جو انھیں حال ہی میں بیروت سے موصول ہوا ہے۔ اِس خط میں فیض صاحب لکھتے ہیں: ”صابر دت کے لیے کچھ لکھو کہ مسرّت ہوگی۔ جب ان کے نمبر کی کوئی صورت نکل آئے تو مطلع کرنا۔“ بعض لوگوں نے پوچھا ہے کہ صابر دت کون ہیں اور ان کے نمبر کا کیا معاملہ ہے۔ اطلاعاً عرض ہے کہ صابر دت بمبئی کے صہبا لکھنوی ہیں۔ یعنی زندہ ادیبوں پر اپنے رسالے کے خاص نمبر نکالتے ہیں۔ رسالے کا نام ”فن اور شخصیت“ ہے۔ اس رسالے کی خصوصیت یہ ہے کہ جس ادیب کا نمبر نکلتا ہے۔ اس کے مصارف بھی وہی ادیب برداشت کرتا ہے۔ مضامین کی فراہمی بھی اسی ادیب کے ذمّے ہوتی ہے۔
صابر دت آج کل فیض نمبر کی تیاریاں کررہے ہیں۔ فیض صاحب نے اپنے خط میں اسی نمبر کا ذِکر کیا ہے۔ ممکن ہے بعض لوگ یہ اعترا ض کریں کہ فیض صاحب اپنے بارے میں شائع ہونے والے ایک نمبر کے لیے مضمون کیوں لکھوا رہے ہیں۔ ایسے لوگوں کی خدمت میں عرض ہے کہ فیض صاحب اس سے پہلے بھی ایک رسالے کا ”فیض نمبر“ مرتب کرچکے ہیں۔ اگر کسی کو ہماری بات کا یقین نہ ہو تو وہ رسالہ ”غالب“ کراچی کا فیض نمبر دیکھ لے جس کے سرورق پر جلی حروف میں لِکھا ہے۔ ”مدیرِ اعلیٰ۔ فیض احمد فیض“۔