0

ڈیم سیلاب کو کیسے روکتے ہیں؟

انجینیئر ظفر اقبال وٹو

آج کل کچھ آبی ماہرین ڈیموں کی سیلاب کو روکنے کے حوالے سے افادیت کو بہت کم ترین بنا کر پیش کررہے ہیں حالانکہ ڈیم سیلاب سے نپٹنے کا ایک بہترین ٹُول ہیں۔ ڈیم کا بنیادی مقصد پانی کو ذخیرہ کرنا ہے۔ یہ آپ کو ایک کُشن، بفر یا گنجائش دیتا ہے جہاں آپ پانی کو ذخیرہ کرسکتے ہیں۔ سیلاب کے دنوں میں یہ بفر زائد پانی کو ذخیرہ کرکے سیلابی پانی کی شدت کو کم کرتے ہیں۔ بفر جتنا زیادہ ہوگا سیلاب کی شدت اتنی ہی کم کی جاسکتی ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال یہ ہے کہ اس وقت دریائے جہلم پر منگلا ڈیم کی جھیل 25% خالی ہے۔ لہذا کشمیر سے آنے والے بارشی یا سیلابی پانی کو منگلا ڈیم میں روکا جارہا ہے۔

پنجاب کے سارے بیراجوں پر اس وقت سیلاب کا دباؤ ہے لیکن دریائے جہلم پر واقع رسول بیراج بند ہے اور یہاں سے نیچے دریائے جہلم میں پانی نہیں چھوڑا جارہا تاکہ دریائے چناب میں چلنے والا 1 ملین کیوسک کا سیلابی ریلہ ہیڈ تریموں سے گزر جائے جہاں دریائے جہلم آکر دریائے چناب میں ملتا ہے۔

اگر منگلا ڈیم کی جھیل سے یہ بفر، کُشن یا گنجائش نہ ہوتی تو دریائے جہلم سے بھی سیلابی پانی آکر تریموں میں چناب کے پانی کے ساتھ مل رہا ہوتا اور اگر دونوں ریلے اکٹھے ہوتے تو سیلاب کی شدت بڑھ جاتی۔

اوپر بتائے گئے اصول پر ڈیم فلڈ مینیجمنٹ کرتے جس سے سیلابی ریلے ایک دوسرے سے ٹکرانے کی بجائے آگے پیچھے چلتے ہیں اور ان کی شدت ٹوٹ جاتی ہے اور وہ بڑے ریلے کی شکل اختیار نہیں کرتے۔ بفر، کُشن  یا ڈیموں کی گنجائش جتنی بڑھتی جاتی ہے اتنا ہی سیلاب کمزور پڑتے جاتے ہیں اور سیلابی ریلے کم ہوتے جاتے ہیں۔

ٍتربیلا ڈیم کی جھیل اس وقت مکمل بھری ہوئی ہونے کی وجہ سے اس میں صفر گنجائش یا کُشن ہے جس کی وجہ سے دریائے سندھ میں آنے والا کوئی بھی بڑا ریلہ بغیر شدت کم ہوئے آگے بڑھ جائے گا۔ اس لیے آبی ماہرین کو نئے ڈیم بنانے کی مخالفت کرنے کی بجائے ڈیموں کا فلڈ مینیجمنٹ آپریشن بہتر بنانے کے لیے آواز اُٹھانی چاہیے۔

اس اصول پر سختی سے عمل کیا جائے کہ مون سون کے موسم میں ہر ڈیم میں آدھی گنجائش سیلابی ریلے کو روکنے اور اس کی شدت توڑنے کے لیے ہمیشہ رکھی جائے گی۔

نوٹ: یہ پوسٹ صرف ڈیم کی مدد سے فلڈ مینیجمنٹ کے حوالے سے لکھی ہے۔ ڈیم اس کے علاوہ زراعت، بجلی، زیر زمین پانی کے ری چارج اور ماحولیات کو بہتر بنانے میں بھی کام آتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ ستلج، راوی اور چناب میدانی دریا ہیں جن پر پنجاب اور سندھ میں ڈیم نہیں بن سکتے۔

انجینیئر ظفر اقبال وٹو

29 /اگست 2025ء

(مصنف کی اجازت سے اُن کی فیس بک وال سے منقول۔ ایڈمن تِریاق)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں