
سندھ کے ڈیلٹا کو پانی کی ضرورت
اِرسا کے ڈیٹا کے مطابق صرف پچھلے تین سالوں میں اوسطاً ہر سال 15-20 ملیئن ایکڑ فٹ پانی سندھ کے ڈیلٹا میں بہہ کر جاتا رہاہے۔ سنہ 2022 ء کے فلڈ میں تو 40 ملیئن ایکڑ فٹ پانی ڈیلٹا سے بہا ہے۔حالانکہ صوبہ سندھ کی دریائے سندھ کے ڈیلٹا کے لیے پانی کی زیادہ سے زیادہ ڈیمانڈ صرف 10 ملیئن ایکڑ فٹ سالانہ ہے (سنہ 1991کے آبی معاہدے کی شِق 7 ملاحظہ کریں )۔
ڈیلٹا میں سالانہ ضرورت (5-10 ملیئن ایکڑ فٹ) سے زیادہ پانی بہنے کے باوجود بھی دریائے سندھ کا ڈیلٹا اس وقت بہت سے ماحولیاتی مسائل کا شکار ہے اور ہر طرف خاک اُڑتی نظر آتی ہے۔
آخر اس کی وجہ کیا ہے؟
فرض کریں کہ ایک شخص روزانہ 2 کِلو خوراک کھاتا ہے تو سال میں کُل 730 کلو کھانا کھا جائے گا لیکن اِسی صورت میں جب وہ 2 کلو روزانہ یا اِس سے کچھ کم یا کچھ زیادہ کھائے۔لیکن اگر اِسی شخص کو پورےسال کی730 کِلو خوراک صرف سات دنوں میں 100, 100 کِلو کرکے کھانے کے لیے دے دی جائے تو وُہ زیادہ سے زیادہ کتنی کھا لے گا؟ بقیہ کے 358 دن وہ کیا کرے گا؟
ہاں اگر اُس شخص کے پاس کولڈ سٹوریج ہوتو وہ اس خوراک کو سٹور کرکے روزانہ کی بنیاد پر 2 کلو سے کچھ کم یا کچھ زیادہ نکال کر سارا سال کھاتا رہے گا۔
دریائے سندھ کے ڈیلٹا کے ساتھ بھی یہی ہورہا ہے کہ ہم اس کی ضرورت کا سارا پانی برسات کے چھے سات سیلابی ریلوں میں بہا دیتے ہیں اور پھر سارا سال ڈیلٹا میں خاک اڑتی نظر آتی ہے۔

اگر کوٹری بیراج سے14,000 کیوسک پانی دریائے سندھ میں روزانہ چھوڑا جاتا رہے تو یہ سالانہ 10 ملیئن ایکڑ فٹ بنے گا۔
ڈیلٹا میں روزانہ کی بنیاد پر پانی مسلسل تب ہی چھوڑا جا سکتا ہے جب سیلاب کے دنوں میں زائد پانی کو کسی جگہ ڈیم بناکر ذخیرہ کر لیا جائے جسے بعد ازاں خُشک موسم میں ڈیلٹا کے لیے مستقل طور پر 14 ہزار کیوسک سے کچھ کم یا زیادہ کرکے روزانہ چھوڑا جائے۔
سندھ اور پنجاب اسی طریقے سے روزانہ کی بنیاد پر پانی اپنی اپنی نہروں میں حاصل کرتے ہیں اور پانی کی کمی کی صورت میں برابر تقسیم کر لیتے ہیں۔
5/جولائی 2025ء
(مصنف کی اجازت سے اُن کی وال سے منقول۔ ایڈمن تِریاق)