0

ڈوبتے کو تنکے کا سہارا… سلسلہء خود نوِشت؛ میں تو جیسے پتھر تھا!

Mujeeb Niazi

اکتوبر 2006ء میں ہم نے اپنے سکولوں کے سابق طلبا کے لیے سالانہ اکٹھ کا بندوبست کیا۔ اس کا پہلا پروگرام 26 اکتوبر 2006ء کو بستی شاہ گل محمد میں منعقد ہوا تھا جس کے مہمانانِ خصوصی لیفٹیننٹ عارف اللہ خان (ماشاءاللہ اب میجر ہیں) اور سی ایس پی افسر سلیم اللہ خان مندی خیل (ان دنوں ترکی ہوتے ہیں) تھے۔ اُس پہلے پروگرام میں سلیم اللہ خان تو اپنی کسی مصروفیت کی بنا پر نہ آسکے تھے تاہم عارف اللہ خان نے شرکت کی تھی۔ یہ سلسلہ کافی پسند کیا گیا اور اسے ہر سال منعقد کرنے کا فیصلہ ہوا۔
اگلے سال یعنی2007ء سے اس پروگرام کے انعقاد میں آسانی کی غرض سے اس کا مقام بستی شاہ گل محمد سے دلیوالی میں تبدیل کردیا گیا۔ 2007ء کے پروگرام کے مہمانان میں نیسکام کے ایڈمن آفیسر عمران احمد خان اور میجر جنرل ریٹائرڈ رفیع اللہ خان تھے۔ 2008ء کے پروگرام کے مہمانانِ خصوصی میں سے ایک انجینئر محمد ثاقب توقیر شاہ تھے جبکہ دوسرے مہمان کا نام فی الحال مجھے یاد نہیں آرہا۔ اور 2009ءکے پروگرام کے مہمانانِ خصوصی میں سے ایک لیفٹیننٹ عاقب نواز خان (یہ بھی ماشاءاللہ اب میجر ہیں) تھے جبکہ دوسرے مہمان کا نام فی الحال مجھے یاد نہیں آرہا۔
2009ء کے پروگرام کی تیاری جاری تھی جس کے لیے مجھے زیادہ تر وقت دلیوالی سکول کے دفتر میں کمپیوٹر ورک کو دینا پڑ رہا تھا۔ رمضان، گرمی اور لوڈ شیڈنگ نے برا حال کر رکھا تھا۔ دفتر کے بالکل سامنے نہر تھل بہتی تھی۔ جب بھی گرمی ناقابلِ برداشت ہوجاتی تو میں اُس نہر میں جا کر نہا لیتا تھا۔
ایک دن بعد از ظہر جب لائیٹ گئی اور گرمی سے برا حال ہو رہا تھا تو میں نہر پر نہانے چلا گیا۔ اس بات کا خیال رکھے بغیر کہ آج نہر کا پانی ذرا سا کم ہے اور روزانہ نہر جس لیول پر بہتی ہے آج اُس سے ذرا نیچے ہے‘ میں نے نہر میں چھلانگ لگادی۔ نہر میں کچھ دیر تیرنے کے بعد جب کنارے کے قریب آیا اور نہر سے باہر آنا چاہا تو اُس وقت احساس ہوا کہ روزانہ ہم نہر سے نکلنے کے لیے جس پلیٹ فارم پر آسانی سے چڑھ جاتے ہیں آج تو پانی اُس سے کافی نیچے ہے۔ اس بات کے احساس نے ہی ایک بار تو مجھے ادھ موا کر دیا۔ خیر! میں نے اس کے باوجود کنارے کے پلیٹ فارم پر چڑھنے کی کوشش کی لیکن بے سود۔ وہاں تک ہاتھ پہنچا اور نہ ہی کسی چیز کا سہارا ملا کہ جسے پکڑ لیا جاتا‘ جبکہ نہر پر نہانے والا ہر فرد نہر کے پانی کی سپیڈ سے واقف ہے۔ وہ بندے کو کسی طور بغیر سہارے کے رکنے نہیں دیتی۔
میجر عاقب نواز خان نیازی
میں جس وقت نہا رہا تھا اُس وقت کوئی بھی فرد نہر پر موجود نہ تھا جو میری مدد کر سکتا۔ میں نے ہمت نہیں ہاری اور ایک بار پھر کنارے کے پلیٹ فارم تک پہنچنے کی کوشش کی لیکن اس بار بھی نہر کی سپیڈ اور کسی سہارے کی عدم دستیابی نے مجھے ناکام کر دیا۔ نہر اتنی نیچے بہہ رہی تھی کہ پلیٹ فارم پر پہنچنے کے لیے ضروری تھا کہ آپ کو سہارے کے طور پر پکڑنے کے لیے کوئی چیز ملے۔ پے درپے کوششوں کے بعد میں تھکنے لگا تھا اور بار بار کنارے کے فرش کو پکڑنے کی کوشش میں میرے بائیں ہاتھ کی تمام انگلیاں ہلکی ہلکی زخمی ہوتی جارہی تھیں(اُس وقت انگلیوں کے زخمی ہونے کا احساس نہیں ہو رہا تھا تاہم جب باہر آیا تھا تو دیکھا کہ میری انگلیاں زخمی تھیں)۔
اب مجھ میں ہمت نہیں تھی کہ باہر آنے کی مزید کوئی کوشش کرتا۔ میں خود کو موت کے لیے آمادہ کرنے لگا۔ اس طرح کی کیفیات میں اگرچہ ہوتے تو لمحے ہیں لیکن آپ اُن لمحوں میں بھی صدیوں کی باتیں سوچ لیتے۔ انھی ہزاروں سوچوں میں سے اچانک ایک یہ سوچ بھی آئی کہ بھلا یہ کون سی مردانگی ہے کہ تم خود کو موت کے لیے تیار کر رہے ہو۔ اگر خود کو تیار کرنا ہی ہے تو زندگی کے لیے کرو۔ ہمت نہ ہارو۔ ابھی کچھ بھی تو نہیں گیا۔ ابھی تو تم تیر رہے ہو۔ شاباش۔ دل کو بڑا کرو اور ایک اور کوشش کرو لیکن میں اس لیے بھی مزید کوئی کوشش کرنے سے گھبرا رہا تھا کہ اگر یہ کوشش بھی ناکام ہوتی ہے تو میرے اعتماد میں مزید کمی ہوگی تو پھر اُس وقت میں کیا کروں گا۔
بہر حال کوشش کرنے اور نہ کرنے کے تذبذب کے باوجود میں نے ہمت کر کے کوشش کر ہی ڈالی لیکن اس بار کا رزلٹ بھی پچھلی کوششوں سے مختلف نہ تھا۔ اس کوشش کے بعد ظاہر ہے تھکاوٹ کی زیادتی اور اعتماد کی کمی کی بنا پر میں نے موت کو دل سے تسلیم کر لیا تھا۔ اب میں صرف موت ہی کو دیکھ رہا تھا۔ میں اب اُن تمام ڈوبنے والوں کو یاد کرنے لگا جنہیں میں جانتا تھا اور جو اِسی نہر کے پانی میں ڈوبے تھے۔ اب میرے سامنے اس سوال کا بھی جواب آگیا تھا کہ کس طرح ہم سنتے آئے ہیں کہ تیراکی جاننے والے بھی ڈوب جاتے ہیں۔ اب مجھ پر اُس کیفیت کا بھی بھید کھل رہا تھا جس کے بارے میں اکثر سوچتا تھا کہ جب بندہ ڈوب رہا ہوتا ہوگا تو کس طرح اس کا پانی میں ڈوبتے ہوئے دم گھٹتا ہوگا۔ وہ خود کو کتنا بے بس محسوس کرتا ہوگا۔ کس بے بسی سے موت کو دیکھتے’ جانتے خود کو اُس کے حوالے کرتا ہوگا۔۔۔
لیکن یہ کیا۔ مجیب اللہ! تم تو ایک ٹیچر ہو۔ تمہیں تو سینکڑوں بچے اور اُن کے والدین پیار کرتے ہیں۔ تم انھیں ہمیشہ ہمت نہ ہارنے اور حالات کا مقابلہ کرنے کا درس دیتے ہو۔ لوگ تمہیں سٹیج فراہم کرتے ہیں۔ تمہیں بولنے کا موقع دیتے ہیں۔ تم اُن کے حوصلے بڑھاتے ہو۔ اور تمہاری شخصیت میں قول و فعل کا یہ تضاد کہ تم ہمت ہار بیٹھے ہو۔ نہیں۔ ابھی تم نے نہیں مرنا۔ ابھی تم نے زندہ رہنا ہے۔ یہ ذرا سی ہی تو مشکل ہے۔ اگر تم کنارے پر نہیں بھی پہنچ پا رہے تو تیرنے میں کتنی ہمت درکار ہوتی ہے۔ تم آرام آرام سے تیرتے رہو۔ بہت خفیف محنت سے تیرتے رہو (تیراک جانتے ہیں کہ چلتے پانی میں انتہائی کم محنت سے بھی تیرتے رہنا ممکن ہے)۔ ممکن ہے کہ کوئی فرد تمہاری مدد کے لیے آجائے۔ شاباش ہمت کرو۔ تیرتے رہو۔ اُس وقت تک تیرنا نہیں چھوڑنا جب تک تمہارا اپنے بازوﺅں پر کنٹرول ختم نہیں ہو جاتا۔ پھر تم پر کوئی دوش نہ ہوگا۔ اپنے آپ سے یہ موٹیویشنل لیکچر سن کر اعتماد میں اِضافہ ہوا اور اب کی بار شکست کا خوف دل سے نکال کر ایک اور کوشش کا ارادہ کیا۔ اب کی بار جیسے ہی کنارے کے فرش کو پکڑنے کی کوشش کی اُس کوشش کے نتیجے میں میرا ہاتھ اس جگہ پر فرش کے ٹوٹے ہونے کی وجہ سے اُس معمولی گڑھے میں اٹک گیا۔ اور مجھے تو بس ہلکا سا سہارا چاہیے تھا۔ میں نے خود کو اُس گرپ جو مجھے دستیاب ہوگئی تھی‘ کی مدد سے سنبھالا اور پلیٹ فارم پر آگیا۔ اُسی وقت مجھے اِس مشہور ضرب المثل: ”ڈوبتے کو تنکے کا سہارا “ کی بھی مکمل سمجھ آگئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں