ہمارے لہجے میں یہ توازن بڑی صعوبت کے بعد آیا
(ہماری ادارتی پالیسی)
اللہ پاک کے فضل سے ہم نے ”تِریاق” کے نام سے اپنی ویب سائیٹ لانچ کر دی ہے۔ ہم نے اِس ویب سائیٹ کانام بہت سوچ سمجھ کر رکھا ہے۔ اِس ویب سائیٹ کے اِس نام سے کہیں زیادہ خوب صورت دیگر نام رکھے جا سکتے تھے۔ِ ہم نے مگر اِس خوش فہمی اور خواہش پر یہ نام رکھا کہ چونکہ اس وقت دنیا کا کوئی شعبہ ایسا نظر نہیں آتا جہاں زہر سرایت نہ کر چکا ہو، تعلیم زہر آلود، خوراک زہر آلود، فضا زہر آلود، سیاست زہر آلود، رویے زہر آلود، مذاہب اور عقائد زہر آلود(بنیادی طور پر نہیں؛جاہل پیروکاروں کی وجہ سے)، محبت زہر آلود، جملے زہر آلود، تقاریر و بیانات زہر آلود۔۔۔ لہٰذا کوئی ہو جو ردِ زہر کا کام کرے، ”تِریاق” کا کام کرے۔ یہ ہے اِس نام کی وجہ تسمیہ۔
معیاری اُردو لکھنے والے ہر مرد و عورت کے لیے اِس ویب سائیٹ کے صفحات حاضر ہیں۔ فقط چند گزارشات کے ساتھ کہ:
آپ اگر مسلمان لکھاری ہیں تو قرآن و سنت کے واضح، بین، دو ٹوک اور متعین موضوعات کو مشکوک بنا کر پیش نہ کریں۔ اِن دو مآخذ کے علاوہ آپ جس ماخذ، جس نظریے اور جس فکر پر مکالمہ و مباحثہ کریں، نقد و انتقاد کریں، اُس سے اتفاق کریں یااختلاف کریں؛ آپ کو کوئی نہیں روکے گا۔ غیر مسلم لکھاری پر یہ پابندی نہیں ہو گی۔
آپ کو اِختلافِ رائے اختیار کرتے وقت اِختلاف رائے اور مخالفت کے درمیان موجود باریک فرق کو بھی ملحوظِ خاطر رکھنا ہو گا۔ اختلافِ رائےاور تنقید جس قدر خوب صورت اور قابلِ برداشت عمل ہے مخالفت، تضحیک اور استہزا اُسی قدر قابلِ نفرت عمل ہے۔ اِس مناسبت سے ہم اپنے لکھاری خواتین وحضرات سے یہ حسنِ ظن رکھتے ہیں کہ ہمارے صفحات پر لکھنے والے اِس فرق کو بخوبی جانتے ہوں گے۔
ہمارا اداریہ دائیں بازو کی نمائندگی کرے یا بائیں کی مگر لکھنے والوں میں کبھی تمیز نہیں کرے گا کہ دائیں بازو والے لکھاری بائیں بازو والے لکھاریوں پر فائق یا بائیں بازو والے لکھاری دائیں بازو والے لکھاریوں پر فائق ہیں۔ ہر رنگ، ہر نسل، ہر مذہب، ہر علاقے اور ہر سیاسی وابستگی رکھنے والے لکھاریوں کو خوش آمدید کہا جائے گا۔ حتیٰ کہ ہم اُن لکھاریوں کو بھی خوش آمدید کہیں گے جو لکھاری براہِ راست ہماری اپنی تحریروں یا نقطہء نظر سے اختلاف رکھتے ہوں گے۔
اِس وقت تک کی آخری بات یہ کہ ہم نے بغیر کسی قانونی و صحافتی مشاورت کے اپنی ادارتی پالیسی کا اعلان کر دیا ہے۔ جامع اور تفصیلی پالیسی کے وضع ہونے تک اِس پالیسی کو ہماری پالیسی کے مرکزی خیال کے طور پر لیا جائے۔ اور ویسے بھی انسان کی تخلیق وقت کے ساتھ ساتھ ہمیشہ ترمیم و اضافے کی متقاضی رہتی ہے۔
9/جون2025ء
مجیب اللہ خان نیازی