
فیس بُک کے اہل قلم میں وہ لوگ مقبولیت کے لحاظ سے نمایاں ہیں جو میری طرح اپنے ماضی کی یادیں شیئر کرتے ہیں۔ آج کل فیروزاحمد خان ترین، سید عقیل شاہ، اور عبد المجید تلوکر صاحب یہ کام بہت خوب صورت انداز میں کر رہے ہیں۔ فیروز احمد ترین صاحب نے مرحوم پروفیسر محمد فیروز شاہ کی صحبت میں رہ کرلکھنے کا ہنر سیکھا۔ آج کل اپنے بچپن کی یادیں بہت دل نشیں انداز میں لکھ رہے ہیں۔
نورنگہ کے سید عقیل شاہ فرانسیسی سفارت خانے میں اہم منصب پر فائز ہیں۔ نورنگہ کی مردم خیز سر زمین نے علم و ادب کی کئی قد آور شخصیات کو جنم دیا۔ سید عقیل شاہ ان شخصیات کے بارے میں لکھتے ہیں: ہر شخصیت اپنی جگہ باکمال ہے۔
دریائے سندھ کی دست درازیوں کے باعث نورنگہ کی بستی کا تو اب نام و نشان بھی باقی نہیں۔ محکمہ مال کے کاغذات میں ایسی بستیوں کو بے چراغ لکھا جاتاہے۔ مگر علم و ادب کے حوالے سے نورنگہ بے چراغ نہیں۔ گلزار بخاری، ستار سید، علی اعظم بخاری، خاورنقوی جیسے درجنوں چراغ لازوال روشنی ملک بھر میں بکھیر رہے ہیں۔
عبد المجید تلوکر صاحب ریٹائرڈ اعلی سرکاری افسر ہیں۔ کندیاں کے نواحی علاقے ڈنگ کھولہ کی بے چراغ بستی کے روشن چراغ ہیں، جو اپنی معدوم بستی کے دریا برد آثار سے خوب صورت موتی چن چن کر فیس بُک کی زینت بنا رہے ہیں۔ دل کو چھو لینے والا انداز تحریر سیدھا دل میں اتر جاتا ہے۔
سید عقیل شاہ اور ملک عبد المجید تلوکر صاحب کا دکھ مشترک ہے۔ دونوں حضرات دریا کے ہاتھوں اپنی اپنی اجڑی بستیوں کی یادیں فیس بُک کی وساطت سےمنظر عام پر لا رہے ہیں۔ ان کی تحریریں پڑھتے ہوئے اپنا یہ شعر بار بار یاد آتا ہے:
دریا نے رخ بدلا تو اک گاؤں اجڑا
مل نہ سکے پھر دو ہمسائے اس سے کہنا
فیس بُک کے قلم کاروں کا تذکرہ ابھی دو تین دن مزید چلے گا۔ میری لسٹ میں ابھی دس نام موجود ہیں جن کا ذکر ضروری ہے۔ نہ کروں تو بد دیانتی ہوگی۔
رہے نام اللہ کا ۔۔۔
منور علی ملک ۔۔۔
9/اگست2025ء
(مصنف کی اجازت سے اُن کی فیس بک وال سے منقول۔ ایڈمن تِریاق)