
انجنئیرنگ یونیورسٹی سے فارغ ہوئے تو نوکری کی تلاش شروع ہوئی۔ ہر دوسرے دن ایک نیا ادارہ اور نیا انٹرویو۔ چونکہ انٹرنیٹ کا دور نہیں تھا اس لیے ہر جگہ خود جاکر “سی وی “ ڈراپ کرنا پڑتا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ جس دن کسی سائیٹ والی جاب کے لیے انٹرویو دینے جانا ہوتا تھا تو ہم جینز اور جاگرز پہن کر اور ساتھ تھوڑا بہت خرچہ لے کر جاتے کہ مبادہ انٹرویو میں کامیابی کے بعد سیدھا سائیٹ پر ہی نہ بھیج دیں۔
پہلی نوکری کا ایک سال گزارنے کے بعد ایسے لاہور سے نکلے کہ بارہ سال بعد ہی دوبارہ 2009ء میں ہی لاہور واپس آنا نصیب ہوا اور ان بارہ سالوں کے دوران ہم نے ڈیرہ اسمعیل خان، واہ کینٹ، ہالینڈ، ملائیشیا، ناروے اور بلوچستان گھوما۔ گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا اورلاہور واپسی پر خوب لیول ہو چکے تھے۔بلوچستان میں کام کے دوران کبھی بھی ہم نے زور زبردستی سے لاہور واپس آنے کی کوشش نہیں کی بلکہ ہر چیلنج کو بخوشی قبول کیا اور ہر قسم کے حالات کا سامنا کیا۔ اس سے ہمیں پروفیشنل کیرئیر میں بہت فائدہ ہوا۔
تاہم آج کل کے پروفیشنلز کو دیکھتے ہیں تو حالات کافی گھمبیر نظر آتے ہیں۔ ہم اپنی کمپنی کے انٹرویو بورڈ پر ہیں اور ہفتے میں دو چار انٹرویوز میں بیٹھنا پڑتا ہے۔ پچھلے ہفتے دو بچوں کا انٹرویو کیا جو اپنے کام میں مہارت رکھتے تھے لیکن ان کے فرمائشی پروگرام سن کر طبیعت انتہائی مکدر ہوئی۔
ایک بچہ ایم ایس سی تھا اور سات سال کام کرنے کا تجربہ رکھتا ہے۔ کورونا کی وجہ سے بے روزگار پھر رہا تھا۔ ہمیں اس کا کام پسند آگیا اور اس کے معاشی مسائل اور ذمہ داریاں سن کر دل بے حد اداس بھی ہوا۔ ہم نے اس سے کہا کہ بے شک کل سے ہی دفتر آکر جاب جائن کرلو۔ اس پر وہ کہنے لگا کہ میں تو دس پندرہ دن سے پہلے نہیں آ سکتا کیونکہ ابھی میں نے گھر جانا ہے (لاہور سے باہر) اور کچھ دن وہاں گزار کر آؤں گا۔
دوسرا بچہ ہماری فیلڈ ٹیم میں کام کرہا تھا اور اچھا تجربہ کار انجینیئر تھا۔ ایک جگہ ایک اس سے اچھی پوزیشن خالی ہوئی تو اس نے کافی لوگوں سے کہلوانا شروع کردیا کہ مجھے ادھر پوسٹ کیا جائے۔ میں نے اپنے ایچ آر والوں سے کہا کہ اسے لاہور بلوا کر شخصی انٹرویو کروا دو کیونکہ پوزیشن سینئر لیول کی ہے اور ذمہ داری مانگتی ہے۔ اس لیے اس بندے کو ٹھونک بجا کر چیک کرنا ہوگا۔ اس پر وہ انجینیئر صاحب آیئں بائیں شایئں کرنے لگے کہ ادھر میری سائیٹ پر کام کا نقصان ہوگا۔ ہم نے کہا جب سائیٹ سے فارغ ہوں اور حالات اجازت دیں تب آ جانا ہم انتظار کر لیتے ہیں۔ انجینیئر صاحب نے کہا کہ وہ لاہور آنے جانے کا خرچ نہیں برداشت کر سکتا۔ کمپنی نے اس کو آنے جانے کا ٹکٹ، ہوٹل کی رہائش اور ٹی اے ڈی اے بھی آفر کر دیا لیکن صاحب بضد رہے کہ میں انٹرویو کے لیے لاہور نہیں آسکتا آپ آن لائن انٹرویو کرلیں۔ بادلِ ناخواستہ ہم نے “ذووم “ پر انٹرویو کر کے انھیں پاس تو کر دیا لیکن اس شرط پر کہ آپ کام سے فارغ ہوکر ہیڈ آفس پہنچ کر کمپنی کے معاملات پر ٹریننگ ضرور لیں۔ دیکھتے ہیں انھیں کب وقت ملتا ہے۔
سوچتا ہوں آج کل کے ایسے بچے مستقبل کے لیڈر کیسے بنیں گے۔
تحریر: انجینیئر ظفراقبال وٹو
22/اکتوبر2021
(مصنف کی اجازت سے اُن کی وال سے منقول۔ ایڈمن تِریاق)