
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
ہمارے ساتھ عجیب طرح کا مسئلہ ہے۔ اس مسئلے کو آپ شخصیت کی ناقابلِ یقین خامی بھی کہہ سکتے ہیں۔ ایک طرف توبچپن سے ہماری عادت رہی ہے کہ ہتھیلی پر سرسوں جمائی جائے تو دوسری طرف انتہائی اہم کاموں کو منیر نیازی کی طرح کئی کئی سال تک زیرِ التوا رکھ دیتے ہیں۔ اللہ اس عیب سے ہمیں چھٹکارا دے۔

فروری 2010ء میں جیل یاترا کے وقت دو دن تھانہ صدر میانوالی کی حوالات میں رہنا پڑا۔ وہاں پر قتل کے ملزم بھی ہمارے ساتھ تھے جن پر قتل کی دیگر دفعات کے علاوہ 7ATA کی دفعہ بھی لاگو ہوچکی تھی. ملزمان سے بات چیت کے دوران معلوم ہوا کہ دہشت گردی کی یہ دفعات اس بنیاد پر لگائی گئی ہیں کہ مذکورہ وقوعہ کے دوران ایک مسجد کی دیوار پر بھی کچھ فائر لگے تھے۔ دفعات لگانے والوں کا موءقف تھا کہ چونکہ مسجد ایک اجتماعی سماجی مقام ہے اور اِس کی دیوار سے فائر ٹکرانے کا مطلب یہ ہے کہ ملزمان نے ایک سماجی مقام پرواردات کی ہے جس سے عین اندیشہ ہے کہ لوگوں کے اندر دہشت پھیلی ہو اور عین ممکن تھا کہ اس فائرنگ کی زد میں کوئی غیر متعلقہ آدمی (باالفاظ دیگر راہ گیر) بھی آجاتا۔
ملزمان سے بات چیت کے بعد اِس ایکٹ پر ہم نے غوروفکر کرنا شروع کیا تو اِس کے اندر بہت سے سقم نظر آئے اس لیے اسی وقت ہم نے یہ تہیّہ کر لیا تھا کہ اس پر لکھ کر ملک کی اعلیٰ عدالتوں اور سیاسی جماعتوں کے سربراہان اور اپنے قریبی اسمبلی ممبران کو تحریر دیں گے۔ ڈاکٹر صلاح الدین خان نیازی (سابق ایم پی اے) اور ڈاکٹر سید وسیم اختر صاحب مرحوم و مغفور (سابق ایم پی اے) سے اس بارے بات بھی ہوئی تھی اور دونوں احباب نے کہا تھا کہ آپ ہمیں تحریری شکل میں اپنی تجاویز دیں تو ان شاءاللہ ہم انھیں اسمبلی میں پیش کریں گے۔ اور ہم تھے کہ ہمیشہ دیر کر دیتے ہیں۔ تاہم اب کی بار تحریر کا محرک واقعہ ء جلال پور پیر والا‘ ملتان اور میانوالی کے کئی درجن واقعات بنے جن میں کئی راہ گیروں کی موت واقع ہوئی۔
معزز قارئین! فرض کریں اگر عوامی، سماجی یا مقدس عمارت کو فائر لگ جائے تو اُس سے یہ مراد لیا جائے گا کہ وہاں انسانوں پر دہشت طاری ہوئی ہوگی اس لیے یہ دفعہ لگا دی جائے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر مذکورہ عمارت کسی ویرانے میں ہو اور وقوعے کے وقت دور دور تک فریقین کے علاوہ وہاں کوئی فرد موجود نہ ہو تو بھی اس قانون کی روح پوری ہوگی؟ کیا محض مذکورہ عمارت کی دیوار سے فائر کا ٹکرانا ہی اس دفعہ کے اطلاق کا سبب ہونا چاہیے جبکہ وہاں نا تو کوئی انسان ہو اور نہ ہی کوئی اُس مذکورہ دہشت کا شکار ہوا ہو؟
ایک دوسری مثال لے لیں کہ جس میں متحارب فریقین یا کسی ایک فریق نے دوسرے پر فائرنگ کی اور عملاً اُس میں دشمن کے علاوہ کوئی غیر متعلقہ آدمی/راہ گیر زخمی یا قتل ہوا تو پہلی مثال کے برعکس اس میں تو سو فیصد اس بات کا ثبوت فراہم ہوگیا کہ اس وقوعے میں انتہائی سفاکی اور دہشت کا مظاہرہ کیا گیا اور دشمن کو مارنے میں اس بات کی قطعاً کوئی پروا نہیں کی گئی کہ کتنے غیر متعلقہ آدمی/راہ گیر فائر کی زد میں آرہے ہیں۔
ہماری معلومات کے مطابق ایسے واقعات میں اگر فریقین میں سے کوئی با اثر ہو اور وہ مخالف فریق پر دہشت گردی کی دفعات کا اطلاق کروا لے تو ٹھیک ورنہ ہمارا قانون شریف فرماتا ہے کہ ذاتی دشمنی میں دہشت گردی کی دفعہ نہیں لگائی جا سکتی۔
اِن صفحات پر مناسب نہیں لگتا کہ نام لے لے کر مثالیں دی جائیں کہ فلاں قتل کیس میں فلاں راہ گیر زخمی ہوا/ہوئے اور فلاں قتل ہوا/ہوئے۔ صرف اپنے ضلع کی حد تک جائیں تو بھی اس کی کئی درجن مثالیں موجود ہیں۔
یہ کیسا اندھا قانون ہے کہ ایک طرف امکان کی صورت میں حرکت میں آجاتا ہے اور دوسری طرف وقوع پذیر ہوجانے، اُس کے ناقابلِ تردید ثبوت مل جانے کی صورت میں بھی آنکھوں پر پٹی باندھ لیتا ہے۔ ایسے تمام واقعات میں ریاست کیوں خاموش تماشائی بنی رہتی ہے؟ وہ خود کیوں نہیں مدّعی بن کر مذکورہ دفعات کا اطلاق کرتی؟ بھئی ذاتی دشمنی ہے تو اُس پر ذاتی دشمنی کی دفعات کے لیے فریقِ مخالف مدّعی بنے لیکن جہاں ریاست کے شہریوں کے لیے مسئلہ بنا وہاں فریق مخالف کے ساتھ ساتھ ریاست بھی مدّعی بنے۔
ہمارے معاشرے کی ایک اچھی یا بری روایت کہہ لیں کہ اِس میں عموماً ایسے قتل کی جلدی صلح ہوجاتی ہے اور اکثر تو یہ صلح فی سبیل اللہ ہو جاتی ہے۔ اس روایت کا وقت کے ساتھ ساتھ ناجائز فائدہ اُٹھایا جانے لگا ہے اور قتل کرنے والا اب اس بات کی قطعاً پروا نہیں کرتا کہ دشمن کو مارنے میں کتنے راہ گیر قتل ہو رہے ہیں۔ اُسے اطمینان ہے کہ جتنے بھی افراد مارے جائیں سب کے ساتھ میری آسانی کے ساتھ صلح ہوجائے گی کہ معاشرے کا ہر بندہ میرے حق میں یہ کہہ رہا ہو گا کہ:
”یار! وہ اُنھیں تھوڑا ہی قتل کرنا چاہتا تھا۔ وہ تو اپنے دشمنوں کو مار رہا تھا اور یہ بیچارے۔۔۔ یار اُس کی نیت تو نہیں تھی۔۔۔“
ضرورت اس امر کی ہے کہ انسانی جانوں کی قدر کی جائے اور ذمہ دار افراد اللہ کے سامنے جواب دہی کو تھوڑا ہی سہی یاد کرلیں اور اس طرح کی قانون سازی کرنا اپنے اولین فرائض میں سے ایک فرض سمجھیں اور اس سمت قدم اُٹھائیں تاکہ آئندہ جلال پور پیر والا جیسے سانحے نہ ہوں اور اس معاشرے کو انسانی معاشرہ کہا اور سمجھا جا سکے۔اسی طر ح خوراک و ادویات میں ملاوٹ کرنے والوں کہ جن کی وجہ سے لوگ جان لیوا امراض کا شکار ہورہے ہیں؛ اور بچوں سے جنسی تشدد کرنے والوں اور ڈرائیورز‘ جن کے لائسنس ڈرائیونگ لائسنس سے زیادہ قتل کے اجازت نامے کا کام کر رہے ہیں‘کے لیے بھی سخت قوانین بنائے جائیں۔
یہاں محض اشارات سے کام لیا گیا ہے۔ اس پر تفصیلی بحث کی گنجائش موجود ہے کہ کس جرم کے لیے کس نوعیت کا سخت قانون بنایا جائے۔ مثال کے طور پر اگر کسی ڈرائیور سے کسی انسانی جان کا ضیاع ہوجائے تو مروجہ قانون میں محض اتنی سی ترمیم کر دی جائے کہ متاثرہ فریق کے علاوہ ریاست مدّعی ہو گی جو محض اس بات کا تعین کرے گی کہ آیا ڈرائیور کی غلطی ہے یا نہیں اور اگرغلطی پائی جائے تو کم سے کم یہ سزا ہو کہ بندہ تا حیات کسی قسم کی کوئی گاڑی نہ چلا سکے اور یہ سزا اس کے شناختی کارڈ کی انفارمیشن میں ایڈ کر لی جائے اور اگر دوبارہ وہ بندہ گاڑی چلانے کا مرتکب ہو تو عمر قید کر دیا جائے۔ پھر آپ دیکھیے کہ کون اپنے آپ کو اتنے بڑے خطرے سے دوچار کرتا ہے۔
محمود احمد ہاشمی نے تو اپنے رب کو کہا تھا لیکن ہم اپنے حکمرانوں کو کہیں گے کہ:
آئین میں ترمیم کر
پھر نئی تقسیم کر
جلال پور پیر والا کے اندوہناک واقعہ کے تناظر میں جون 2019ء میں لکھی گئی تحریر