
ہماری ویب سائیٹ کیسی ہو گی؟
ہماری ویب سائیٹ کیسی ہو گی یا پھر ہم اسے کیسا دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہماری ویب سائیٹ سے کسی بھی حوالے سے وابستہ ہر شخص کے لیے یہ ایک بنیادی اور اہمیت کا حامل سوال ہو سکتا ہے۔ اس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ بجائے اس کے کہ ہم ہر دوسرے چوتھے دن وضاحتیں پیش کرتے پھریں کیوں نہ یک بارگی حالِ دل آپ کے سامنے رکھ دیا جائے۔
ہم چاہتے ہیں کہ ہماری ویب سائیٹ خواہ کتنے ہی خفیف درجے کے اثرات کی حامِل کیوں نہ ہو؛ مگر اس کا شمار اور اِس کی پہچان معاشرے اور انسانیت کی نظر میں خیر، بھلائی اور مثبت اقدار، مثبت رویوں، مثبت طرزِ فکر اور اُمید کی شمعیں جلانے والی کی سی ہو۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ خوش فہمی کاہے کو! معاشرے میں اسی سوچ اور اسی بیانیے کی حامل سینکڑوں نہیں شاید ہزاروں ویب سائیٹس ایسی ہی ہوں۔ دوسرا سوال یہ بھی ہو سکتا کہ معاشرے میں شر اور خیر یا بناؤ اور بگاڑ کے درمیان جو نسبت ہے اُس نسبت کے کارفرما ہوتے ہوئے آپ کی ویب سائیٹ تو محض نقار خانے میں طوطی کی آواز کے مصداق ہو گی۔ ہمارا جواب یہ ہو گا کہ اگر خیر کے لیے ہم سے پہلے ہزاروں نہیں لاکھوں ویب سائیٹس ہی موجود کیوں نہ ہوں مگر ہمارے لیے کیا یہ اعزاز کم ہو گا کہ جب تاریخ لکھی جائے گی تو ہمارا شمار درست سمت میں کھڑے ہونے والے لوگوں میں ہو گا! اور جہاں تک دوسرے سوال کا تعلق ہے ، اُس کے لیے ہم ایک مختصر سی کہانی کا سہارا لیں گے۔ کہانی کچھ یوں ہے کہ:
ایک مرتبہ سمندر کی کسی بے رحم لہر نے لاکھوں مچھلیوں کو سمندر کے کنارے پڑی ریت کے سپرد کر دیا تو کوئی ہم جیسا ”دیوانہ” ایک ایک مچھلی کو پکڑ کر سمندر میں پھینکنے لگا۔ اِس موقع پر کوئی ”دانا” آیا اور اُس نے کہا کہ مچھلیوں کی تعداد ہزاروں میں نہیں لاکھوں میں ہے اور تم ہو کہ اکیلے ایک ایک مچھلی کو پکڑ کر سمندر میں پھینک رہے ہو۔ تمھارے اِس عمل سے مچھلیوں کی اتنی بڑی تعداد پر کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔ اُس دیوانے نے شاید طارق حبیب کی مشہورِ زمانہ غزل پڑھ رکھی تھی جس میں وہ کہتے ہیں:
پاؤں میں ساری دنیا بچھا دی گئی
دل نے دیکھا، ہنسا اور کہا معذرت
وہ دیوانہ بھی ایک لمحے کے لیے رکا، اُس نے دانا کو دیکھا اور دوبارہ جھک کر ایک مچھلی پکڑی اور اُسے سمندر میں پھینکنے کے بعد دانا سے کہا کہ اِس ایک مچھلی پر تو فرق پڑ گیا ہے نا! ۔۔۔ بالکل اِسی طرح ہم سمجھتے کہ اگر ہماری اس ویب سائیٹ یا ہماری اس کوشش سے اُسی مچھلی کی طرح کسی ایک انسان کی زندگی پر بھی مثبت فرق پڑتا ہے تو ہم مذکورہ دیوانے کی مانند خوش اور مطمئن۔
ویب سائیٹ کی موضوعات کے تحت تحریروں کی کئی جہتیں ہوں گی جیسے: بلاگ، کالم، انٹرویوز، افسانے، آپ بیتی، سوانح، سفرنامہ، کلاسیکی دور کے اُردو اساتذہ کی تخلیقات کا انتخاب، سیاست، مذہب، شاعری، تبصرۂ کتب، خطوط، سماجی مسائل، صحت، تعلیم، معیشت، نوجوانوں کی تربیت، بہ حیثیتِ شہری حقوق و فرائض سے آگاہی، رواداری، مکالمے کی اہمیت، حالاتِ حاضرہ پر دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز یا ویب سائیٹس پر شائع ہونے والے مواد کو اُن ویب سائیٹس کی اجازت اور شکریے کے ساتھ اشاعتِ مکرر کے طور پر پیش کرنا؛ یہ سبھی ان شاء اللہ آپ کو ”تِریاق” پر ملے گا۔
اُردو ادب سے دِل چسپی رکھنے والے احباب کو جہاں اُردو کی دیگر قد آور شخصیات کی تخلیقات کا انتخاب، تلخیص، تفہیم اور اُن پر تبصرے ملیں گے وہاں اُردو ادب کے نام ور مصنف جناب ”مشفق خواجہ” کے 113 ہفتہ وار ادبی کالموں کا مکمل متن اور اُن پر مختصر حواشی و تعلیقات بھی ایک گوشے میں قسط وار ملتے رہیں گے۔ یہ تمام کالم 1981ء تا 1983ء روزنامہ ”جسارت” کراچی میں شائع ہوتے رہے ہیں اور راقم کے ایم فل مقالے کا موضوع انھی 113 کالموں کی تدوین و مختصر حواشی و تعلیقات سے متعلق تھا۔
انسانی زندگی میں خوشی اور غم، محبت اور نفرت، غصہ اور رحم، فیاضی اور کنجوسی، بہادری اور بُز دلی الغرض ہر طرح کے احساسات کار فرما رہتے ہیں۔ ”تِریاق” پر شائع ہونے والی تحریریں بھی اگرچہ اِن تمام احساسات کی کفایت کریں گی لیکن ”تِریاق” کی کوئی تحریر ان شاء اللہ آپ کو مایوسی اور نا اُمیدی کا شکار نہیں کرے گی بلکہ ہمیشہ اُمید کے چراغ جلاتی نظر آئے گی۔
ہم تسلیم کرتے ہیں کہ پوری دنیا میں بالعموم اور ملکِ عزیز میں بالخصوص انسانیت سے جڑی کوئی شے مثالی تو کجا اطمینان بخش بھی نہ ہے لیکن بقولِ فراز ہمارا کام ہے:
شکوہ ء ظلمتِ شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے
معاشرے میں سرایت کردہ زہر کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ آپ کسی تہوار پر سیر و تفریح کے لیے کسی پارک میں جائیں تو وہاں مار کٹائی، ہاتھا پائی، کھینچا تانی اور بعض اوقات تو آپ کو بندے زخمی ہوتے اور جانیں لیتے اور دیتے بھی نظر آئیں گے۔ گویا آپ پارک میں طبیعت کو خوش کرنے کے لیے نہیں بلکہ بوجھل کرنے کے لیے گئے تھے۔ سوشل میڈیا پر نظر دوڑائیں تو گالم گلوچ، دھمکی، استہزا، للکار، نرگسیت، فرعونیت، احساسِ تفاخر، دکھاوا، فحاشی اور نہ جانے کیا کیا زہر آلود مواد نظر آئے گا۔ روڈ پر سفر کریں تو عدم آگاہیء ٹریفک قوانین کی وجہ سے یا پھر ضد، ہٹ دھرمی، انا اور عدم برداشت کی وجہ سے ایک طرف ڈرائیور تو دوسری طرف سواریاں اور راہ گیر اِسی زہر کے تابع ایک دوسرے کو لتاڑتے اور بھنبوڑتے نظر آئیں گے۔ ہسپتالوں میں جائیں تو مریض اور مسیحا دست و گریبان نظر آئیں گے۔ اِس زہر کا جادو دیکھیں کہ مسجدوں میں نمازی، گلیوں بازاروں میں گاہک اور دکان دار ایک دوسرے کو جوتے مارتے نظر آئیں گے۔ کان ہیں کہ اچھی خبر سننے کو ترستے ہیں جب کہ بری اور زہر آلود خبریں آئے روز ہمارے کان پکا رہی ہوتی ہیں۔ ملک کے سب سے بڑے ایوانِ قانون سازی کو دیکھیں یا پھر ملک کے سب سے بڑے ایوانِ انصاف کو، کسی کی حالت قابلِ رشک نہیں۔ یہاں بھی اِس زہر کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہوتا۔ اِس زہر کی ہولناکی دیکھیں کہ ملک کے سب سے بڑے اور معتبر پلیٹ فارمز جنہیں آپ قومی ٹیلی ویژن چینلز کہتے ہیں؛ اُن پر مکالمہ کرنے کے لیے بلائے گئے ملک کی ”کریم، امام اور رائے ساز” کہلانے والے عوامی نمائندے مکالمے کے بجائے آپ کو ایک دوسرے کے کپڑے چیرتے پھاڑتے نظر آتے ہیں۔
عالمی منظر نامے پر نظر دوڑائیں تو بندہ کہتا کہ کبھی انسانی تاریخ اِس سے بدتر دور سے دوچار ہوئی ہو گی۔ جب ہم ازمنہ ء قدیم میں انسانوں کو لاشیں گراتا دیکھتے ہیں تو ایک بات یاد رکھیں کہ اُس وقت انسانیت اتنی ”تعلیم و تربیت یافتہ” نہ تھی جس قدر اب دعوے دار ہے۔ اُس دور میں اِس طرح لاکھوں تعلیمی ادارے، مزاج کو کنٹرول کرتی سائنسی تربیت گاہیں، امن اور محبت کا پیغام دینے کی دعوے دار جامعات، لوگوں کی زندگیوں میں انقلاب برپا کرنے کے داعی یہ موٹیویشنل سپیکرز، یہ عالمی ادارۂ انصاف، یہ عالمی عدالتیں، یہ اجتماعی دانش کا دعویٰ کرتے ایوان ہائے زیریں و بالا، یہ ہماری غربت کو ختم کرنے والے دعووں کے حامل (در اصل) ہمارا ہی خون چوستے مالیاتی ادارے، یہ دنیا کو پُر امن رکھنے کا دعویٰ کرنے والی اقوامِ متحدہ۔۔۔ الغرض اِن میں سے کچھ بھی نہ تھا۔
آج مگر یہ سب اپنی آب و تاب سے موجود ہیں۔ اس کے باوجود جھوٹے بیانیے بنا کر گزشتہ تین چار عشروں میں یہ نام نہاد مہذب دنیا لاکھوں لوگوں کو موت کی نیند سلا دیتی ہے اور اس کے باوجود مذکورہ سبھی لوگ ہمیں انتہائی اطمینان سے اپنی پرانی تنخواہ پر کام کرتے نظر آتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ یہ کسی زہر کی کارستانی نہیں تو کیا ہے؟ کیا دنیا کا یہ نظام واقعی کسی ایسی بنیاد پر چل رہا ہے جو انصاف پر مبنی ہو؟ یقیناً ایسا نہیں۔ اور اگر ایسا نہیں تو کیا اس نظام کو اسی طرح چلتے رہنا ہے اور چلتے رہنا چاہیے یا پھر اس زہر آلود نظام کے لیے کسی ”تِریاق” کی بھی ضرورت ہے؟ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر آج بھی درست سَمت میں یعنی مرض کی درست تشخیص کے ساتھ علاج شروع کر دیا جائے تو تبدیلی ممکن ہے۔
درست تشخیص سے ہمیں یاد آیا کہ ایک مرتبہ کسی تنظیم نے معاشرے میں بڑھتی ہوئی قتل و غارت کے اسباب اور اُس کی روک تھام کے اقدامات پر ایک سیمینار کروایا۔ ہمیں بھی اُس سیمینار میں مہمان مقرر کے طور پر مدعو کیا گیا تھا۔ اُس تقریب کے آٹھ دس مقررین سمیت تیس چالیس شرکا تھے۔ اُن شرکا میں صحافی، ڈھلتی جوانیوں کے اساتذہ، مذہبی رہنما اور انتہائی معتبر اور سنجیدہ افراد موجود تھے۔ ہم نے انتظامیہ سے عرض کی کہ اول تو اِس طرح کے سیمینارز ہوتے نہیں ہیں جب آپ نے یہ ”بدعتِ حسنہ” کر ہی دی تھی تو اِس کے درست سامعین کا تو انتخاب کرنا تھا۔ موجودہ سامعین میں سے کوئی بھی اُس ایج گروپ کا فرد نہیں جس ایج گروپ کے نوجوان بالعموم اِس بھیانک عمل کےمرتکب ہوتے ہیں۔ جو افراد یہاں موجود ہیں اِن میں سے الحمد للہ کسی نے قتل کیا ہے نہ ہم اِِن سے قتل کی توقع رکھتے ہیں۔ اِس تکلیف دہ عمل پر مبنی واقعات زیادہ تر تیس سال سے کم عمر افراد سے ہی سر زد ہوتے ہیں۔ اس لیے ہمیں اس طرح کے سیمینارز کو ہائی سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبا کے درمیان منعقد کرنا چاہیے۔ اور اِن اداروں میں بھی خاص طور پر مڈل اور ہائی سکولوں میں کرنا چاہیے کیونکہ مڈل اور ہائی سکولز کے بعد بہت سے نوجوان کالجوں اور یونیورسٹیوں کا رخ نہیں کرتے۔ جب کہ ہماری خواہش تو یہ ہونی چاہیے کہ ہمارا پیغام زیادہ سے زیادہ نوجوانوں تک پہنچے۔ مزید یہ کہ ہمیں سنجیدہ اور اِس مشن سے متفق اساتذہ کی ایسی کھیپ تیار کرنی چاہیے جو اِس سیمینار کے کانٹینٹ کو تعلیم ہی کا حصہ سمجھیں اور اُسے تعلیم اور کورس ہی کی طرح روزانہ بچوں کے دماغوں میں راسخ اور منتقل کریں۔ ہم نے سیمینار انتظامیہ سے زور دے کر یہ بات بھی کہی کہ اساتذہ اِس وقت ہمارے معاشرے کی سب سے طاقت ور اکائی ہیں۔ ہمارے معاشرے میں نوجوان والدین کی بات نہیں سنتا، مسجد میں وہ نہیں جاتا اور اگر غلطی سے چلا بھی جائے تو مساجد کے اکثر امام وقت کے تقاضوں اور نوجوانوں کی فکری ضرورت سے بالکل عدم مطابق اور بعض اوقات تو متصادم تقریر کی جگالی کر رہے ہوتے۔۔۔ اس لیے اگر ہم اپنے سامعین کے معاملے میں زیادہ سنجیدہ اور متفکر ہیں تو ہمیں ایسے اساتذہ تیار کرنے چاہییں جو وقت اور نوجوان کی نبض پر ہاتھ رکھ کر تعلیم دیں۔
ہم سمجھتے ہیں کہ اگر ہم اِس بات کا درست تعین کر لیں کہ کون سی بات کس کو کہنی اور کس کو نہیں کہنی ہے۔ اور کون سی بات کس جگہ کرنی اور کس جگہ نہیں کرنی ہے تو اِس سے ہمارے کانٹینٹ کی افادیت کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔
ہمارے خیال میں دنیا کا ہر وہ نظام جس کی بنیاد انصاف اور انسانی حقوق کا تحفظ نہ ہو اُسے چلنے کا کوئی حق نہیں۔ اُس نظام کا راستہ روکنے کی ضرورت ہے۔ اِسی ضرورت کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے ہر زہر کی مناسبت سے تِریاق کا بندوبست کرنا ہماری اولین ذمہ داری۔ اِس ذمہ داری میں آئیں اور قلم کو اپنی طاقت بناتے ہوئے قلم کے محاذ کو سنبھالیں اور پہلا قدم اُٹھائیں۔ اور آپ سبھی ہم سے بہتر جانتے ہیں کہ سفر خواہ کتنا ہی طویل کیوں نہ ہو اس کا آغاز پہلے قدم سے ہی ہوتا ہے۔ آئیں مل کر درست سَمت میں اپنا پہلا قدم اُٹھائیں۔اور ہر زہر کے لیے تِریاق کا بندوبست کریں اور ”تِریاق” کے دست و بازو بنیں!
آپ سے صرف اتنی درخواست کہ آپ کی ہر تحریر مرض کی درست تشخیص سے شروع ہو، اُس کا بہترین علاج تجویز کرے اور مایوس اور اندھیروں میں بھٹکتی قوم کو اُمید اور روشنی دلاتے ہوئے ختم ہو۔
مجیب اللہ خان نیازی
ڈیرہ نجیب اللہ، موچھ، میانوالی، پنجاب، پاکستان
11/جون2025ء