0

جامع ہائی سکول کے اساتذہ، دوسری و آخری قسط… مجیب اللہ خان نیازی

Mujeeb Niazi

محمد اکرم خان صاحب آف موچھ نے ہمیں فزکس اور ریاضی پڑھائی۔ آپ کی اپنے مضمون پر بہت زیادہ گرفت تھی اس لیے باتوں باتوں میں ہی اپنا ٹاپک سمجھا لیتے تھے۔ دل چسپ اور مزاحیہ انسان تھے۔ دورانِ لیکچر طلبا سے خوب مذاق بھی کرتے رہتے تھے لیکن جب غصہ آتا تو وہ بھی دیکھنے والا ہوتا۔ آپ کا چونکہ موچھ سے تعلق تھا اس لیے میرے والد صاحب سے بہت اچھا تعارف تھا۔ اس نسبت سے میں ان کے غصے کی زد میں الحمدللہ کبھی نہ آیا تھا۔ دورانِ تدریس اکثر اساتذہ کمرۂ جماعت کا دروازہ بند رکھتے ہیں تاکہ لیکچر میں یکسوئی رہے لیکن اکرم خان صاحب دروازہ کھلا رکھتے تھے۔ اکرم خان صاحب تختۂ سیاہ پر لکھتے وقت اکثر اس پر ٹیک لگا کر لکھتے۔ مجھے یاد ہے کہ پرنسپل ادارہ، چودھری محمد رضی صاحب جب کبھی سکول کے راؤنڈ پر نکلتے تو اکثر اساتذہ کے پڑھانے اور اُٹھنے بیٹھنے کا انداز تبدیل ہو جاتا تھا جس سے معلوم ہوجاتا تھا کہ پرنسپل صاحب راؤنڈ پر ہیں لیکن اکرم خان صاحب کے پڑھانے اور اُٹھنے بیٹھنے کے انداز میں سرِ مُو بھی تبدیلی نہ آتی تھی۔ مجھے سر کی یہ بات بہت اچھی لگتی تھی۔

اکبر خان صاحب دراز قامت انسان تھے اور ہمیشہ سر پر کلف لگی سفید پگڑی پہنتے تھے اور ایک ہاتھ پر مستقل دستانہ پہنے رکھتے تھے۔ پانچ سال پڑھنے کے باوجود ہم اس راز کو نہ پا سکے تھے کہ اکبر خان صاحب ایک ہاتھ پر دستانہ کیوں پہنے رکھتے تھے۔ اقبال کا خصوصی مطالعہ کرتے تھے۔ ہمارے سکول کی گیلری میں کئی معلوماتی بورڈز میں سے ایک بورڈ اقبالیات کے لیے مخصوص تھا اور اکبر خان صاحب روزانہ اُس بورڈ پر اقبال کا کوئی نہ کوئی قطعہ لکھا کرتے تھے۔

ڈرائنگ ماسٹر عبدالحمید صاحب ایک بھلے انسان تھے۔ سر جب کلاس میں ہوتے تو کسی قسم کی سختی یا کلاس ڈسپلن کی پروا سے بے نیاز رہتے تھے۔ اکثر لڑکے اُن سے اونٹ کی ڈرائنگ بنانے کی فرمائش کرتے اور سر اتنے شفیق اور مہربان تھے کہ کبھی کسی طالب علم کو انکار نہ کرتے تھے۔ مجھے یاد ہے ایک بار میں نے بھی ان سے اونٹ کی ڈرائنگ کی فرمائش کی تھی جو سر نے پوری کی تھی۔ اونٹ کی اُن سے بہتر ڈرائنگ میں نے کسی اور کو بناتے نہیں دیکھا۔

اقبال خان صاحب آف موسیٰ خیل نے اپریل/مئی 1991ء میں جامع ہائی سکول میانوالی کو جوائن کیا تھا۔ آپ نے سکول میں ہمیں کچھ دنوں کے لیے بائیالوجی اور بعد میں ریاضی پڑھائی جبکہ ٹیوشن پر ہم آپ سے سے ریاضی، فزکس اور کیمسٹری پڑھتے تھے۔ بعض افراد کو اللہ تعالیٰ پیدا ہی پڑھانے کے لیے کرتا ہے اس لیے ان کا پڑھانے کا فطری انداز ایسا ہوتا ہے کہ لیکچر کے آغاز اور اختتام کے درمیانی وقت کا اندازہ ہی نہیں ہوتا۔ یوں لگتا ہے کہ ابھی لیکچر شروع ہوا اور ابھی ختم بھی ہو گیا۔ ان کے پڑھانے سے مشکل سے مشکل ٹاپک بھی دماغ میں ایسے سرایت کرتا ہے کہ اُس سے آسان ٹاپک کوئی لگتا ہی نہیں۔ سر اقبال خان بھی انھی فطری ٹیچرز میں سے ایک تھے۔ آپ کی ٹیچنگ سے میں اور میرے کلاس فیلو اس قدر متاثر ہوئے کہ انھوں نے گرمیوں کی چھٹیاں ہوتے ہی سر کو ٹیوشن پڑھانے پر راضی کیا۔

مجھے یاد ہے کہ میں سر کے لیکچر کے لیے بے تاب رہتا کہ کب سر کسی نئے ٹاپک پر ہمیں لیکچر دیں اور میں اس سے لطف اندوز ہوں۔ آپ فزکس اور کیمسٹری کے مشکل ترین ٹاپکس کو اس آسانی سے کلیئر کرتے کہ بندہ آپ کے لیکچر سے ٹاپک کے بنیادی تصور کو بہت آسانی سے سمجھ جاتا۔ فزکس میں پانی کا بے قاعدہ پھیلاؤ، حرارتِ مخصوصہ، حرکت کی مساواتیں، روشنی کا انعطاف، انعکاس ایسے موضوعات ہیں جن کے لیکچرز کی بلیک بورڈ پر پیش کاری(Presentation) کو ہم آج بھی چشمِ تصور سے دیکھ سکتے ہیں۔ کیمسٹری کے بہت سے ٹاپکس میں سے کیمیائی صنعتوں کے باب میں چینی اور صابن بنانے کے کارخانوں کی ورکنگ، پٹرولیم کی مصنوعات کو ریفائن کرنے کے عمل پر دیئے گئے لیکچرز آج بھی ہماری سماعتوں سے ٹکراتے اور آنکھوں کے سامنے متحرک ہوجاتے ہیں۔

میں نے صرف میٹرک تک سائنس پڑھی ہے لیکن اس کے باوجود جب اپنے سکولز سسٹم کے اساتذہ سے کسی سائنسی ٹاپک پر بات ہوتی تو اکثر اساتذہ اس غلط فہمی کا شکار ہوجاتے کہ شاید میں ایف ایس سی یا بی ایس سی ہوں۔ اس کی وجہ صرف اور صرف یہ ہے کہ سر اقبال خان سے میں نے جو بھی پڑھا تھا اُس پر میری گرپ شاندار تھی۔ میری ایک شاگرد ہیں جو ایم ایس سی میتھس ہیں اور اِن دنوں ایک کالج میں پوسٹ گریجوایٹ کلاسز کو پڑھا رہی ہیں، اس سے قبل میرے سکول بھی پڑھا چکی ہیں۔ ایک بار میں دہم جماعت کی بچیوں سے بات کررہا تھا تو ضمناً حرکت کی مساواتوں کا ذکر آیا تو جو مجھے یاد تھا میں نے اس بنیاد پر بچیوں سے بات کی تو وہ ایم ایس سی میتھس ٹیچر بھی گفت گو سن رہی تھی۔ اُس نے مجھ سے پوچھا کہ سر آپ سائنس کے ٹیچر ہیں یا آرٹس کے۔ میں نے اُسے بتایا کہ میں صرف میٹرک تک سائنس پڑھا ہوں تو کہنے  لگیں کہ آپ کی گفت گو سن کر تو نہیں لگتا کہ آپ صرف میٹرک سائنس ہیں۔ اس پر میں نے اُسے کہا کہ بیٹا میرے میٹرک کے سائنس ٹیچر ایک مثالی ٹیچر تھے۔ انھوں نے مجھے جو پڑھایا وہ مجھے نہیں بھولتا۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میرے میٹرک کے کیمسٹری کے پرچے سے ایک دن پہلے ورلڈ کپ 1992ء  میں پاکستان اور آسٹریلیا کا میچ تھا۔ اُن دنوں میری دادی جان بیمار تھیں اور چشمہ ہاسپٹل میں داخل تھیں۔ والد صاحب صبح سویرے چشمہ چلے جاتے تھے۔ اُس دن بھی وہ چشمہ تھے لہٰذا مجھے میچ دیکھنے کے لیے کوئی روک ٹوک نہ تھی۔ میں نے سارا دن میچ دیکھا اور اگلے دن کیمسٹری کا پرچہ دیا جس میں میرے71 نمبر تھے۔ اُن دنوں 71 نمبر بہت اچھے اور زیادہ تصور ہوتے تھے۔ یہ سب کچھ اقبال خان کی کمال درجے کی تدریس کے بل بوتے پر ممکن ہوا تھا۔

محمد اقبال خان

عموماً ٹیچرز پر یہ الزام ہوتا ہے کہ وہ اپنے ٹیوشن والے بچوں کے ساتھ امتیازی سلوک کرتے ہیں۔ اقبال خان کے اندر ایسی کوئی خامی نہ تھی۔ آپ ڈسپلن اور بچوں کی تربیت کے معاملے میں عدم برداشت(Zero Tolerance) کے فلسفے کے قائل تھے۔ ایک بار میری کسی شکایت پر مجھے کلاس سے نکال دیا تھا (”مجھے کلاس سے کیوں نکالا“پر ان شاء اللہ ایک دن الگ سے لکھا جائے گا)۔ وہ مجھے پتا ہے کہ پھر کس طرح میں نے پہلےبھائی ساجد اللہ خان ننڈھ گھریا کے توسط سے ملک قادر کلرک محکمہ تعلیم اور بعد ازاں کزن سمیع اللہ خان نواز خیل کی وساطت سے طاہر غنی خان اور طاہر غنی خان کی وساطت سے عبد الغنی خان مرحوم و مغفور تک رسائی حاصل کی تھی اوراُن کی سفارش پر دوبارہ کلاس میں بیٹھا تھا۔

آپ کے جامع سکول میں آتے ہی آپ کو سکول کی کرکٹ ٹیم کا انچارج بنا دیا گیا اس سے پہلے شاید امیر نواز صاحب کرکٹ کے انچارج تھے۔ وہ پہلا سال تھا جب ہم بورڈ کے انٹر سکولز مقابلوں میں سیمی فائنل تک پہنچے تھے اور ایک ڈرامائی مقابلے کے بعد آخری گیند پر سنٹرل ماڈل سکول سے سیمی فائنل ہارگئے تھے۔ یہ میچ5 نومبر1991ء  بروز منگل سنٹرل ماڈل سکول کے گراؤنڈ پر کھیلا گیا تھا۔ اُس میچ کے ہیرو میرے بہترین دوست مقرب خان غلبلی تھے۔ اس سے پہلے جامع سکول کی کرکٹ ٹیم کو کبھی اتنا سنجیدہ نہ لیا گیا تھا۔ پورے ضلع بلکہ ڈویژن میں سنٹرل ماڈل سکول کی کرکٹ ٹیم کو وہ حیثیت حاصل تھی جو 1999ء سے آج تک آسٹریلیا کو عالمی کرکٹ میں حاصل ہے۔

اقبال خان صاحب کم گو مگر دل چسپ اور مختصرگفت گو کرنے والی شخصیت ہیں۔ آپ انتہائی زندہ دل، بہادر، دوستوں کے دوست، کام سے لگن  رکھنے والے اور سخی مزاج شخص ہیں۔ آپ نے اپنی پوری زندگی کو جس انداز سے برتا ہے اس سے صاف نظر آتا ہے کہ آپ کی زندگی میں پیسے کو ہمیشہ ثانوی حیثیت حاصل رہی ہے۔ ایک بار سرِ راہ میری سر اقبال خان سے اڈا خواجہ آباد، کالا باغ روڈ پر ملاقات ہوئی تو میں نے انھیں کہا کہ سر آپ نے ٹیوشن پڑھانا کیوں چھوڑی۔ میں نے بطورِ طالب علم بھی کئی اساتذہ دیکھے ہیں اور جب سے خود پرائیویٹ سکولز کی اونر شپ والا معاملہ ہوا ہے تو اب اور زیادہ اساتذہ کو بطورِ پرنسپل اور بطورِ رفیقِ کار(کولیگ) بھی دیکھنے کا موقع ملا ہے۔ اس لیے میں دعویٰ سے کہہ سکتا ہوں کہ آپ سے بہتر سائنس ٹیچر میں نے کبھی نہیں دیکھا۔ آپ کے اس فیصلے سے ہزاروں طلبا ایک اعلیٰ سائنس ٹیچر سے محروم ہو گئے۔ سر کا کہنا تھا کہ ٹیوشن سنٹر ہماری دکان کا درجہ رکھتا ہے۔ اُس دکان کو اگر وقت نہ دیں تو گاہکوں کا بھی نقصان ہوتا ہے اور ہماری بھی دکانداری خراب ہوتی ہے۔ میں ایک سوشل آدمی ہوں مجھے لوگوں کی غمی خوشی پر بھی جانا ہوتا ہے اس لیے مجھے دکان اور سوشل لائف میں سے ایک کا انتخاب کرنا تھا اور میں نے سوشل لائف کا انتخاب کر لیا۔ بہر حال میں سر اقبال خان کے اس استدلال سے مطمئن نہیں ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ وقت کی بہتر تقسیمِ کار سے دونوں کاموں کو احسن انداز سے انجام دیا جا سکتا تھا۔ آپ نے ٹیوشن نہ پڑھا کر میانوالی کے ہزاروں سائنس طلبا کو ایک عظیم سائنس ٹیچر سے محروم کیا ہے۔

جون1991ء میں ہم نے اقبال خان سے مسلم کالونی میانوالی میں ٹیوشن پڑھنا شروع کی تھی جبکہ چھٹیوں کے بعد ٹیوشن کی جگہ تبدیل ہوگئی اورہم ریلوے سٹیشن میانوالی کے جنوب میں ریلوے کے کوارٹرز میں سے ایک کوارٹر میں ٹیوشن پڑھنے لگے۔ ایک دن ہم اُس کوارٹر میں پہنچے تو کوارٹر کی حویلی کے بیرونی دروازے اور اندر والے کمرے کے تالے ٹوٹے ہوئے تھے لیکن کوارٹر پر موجود تھوڑا بہت سامان جوں کا توں پڑا تھا۔ اس صورتِ حال پر سر نے ایک انتہائی دلچسپ تبصرہ فرمایا تھا جسے فی الحال صیغہئ راز میں رکھا جاتا ہے۔

جب ہم سر کے پاس ٹیوشن پڑھتے تھے توایک دن ٹیوشن پر آئے تو مٹھائی کا دور چل رہا تھا۔ معلوم ہوا کہ سر کا بیٹا پیدا ہوا ہے۔ اب سر کا وہ بیٹا ماشاء اللہ 27-28سال کا ہوگا۔ سر کا وہ بیٹا اِن دنوں کہاں ہے اور کیا کرتا ہے ہمیں معلوم نہیں۔ المختصر‘ اقبال خان کو پڑھانے کی فراواں خوبیوں کا مالک ہونے، ایک اچھے منتظم ہونے اور مہربان دل کا حامل معلم ہونے کے ناطے میں اپنا بہترین استاد قرار دیتا ہوں۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ میرا بہترین استاد صحت و سلامتی، ایمان، مالی تنگی سے پاک اور خوشیوں والی زندگی گزارے۔آمین!

چودھری محمد رضی صاحب ویسے تو میرے ٹیچر نہ تھے مگر میں جس مادرِ علمی میں پڑھتا تھا وہاں پرنسپل تھے۔ مجھے سر رضی صاحب سے ہم کلام ہونے یا انھیں سننے کاانتہائی کم وقت اور انتہائی قلیل مواقع میسر ہو سکے تھے لیکن اُن انتہائی کم وقت اور کم مواقع میں بھی اُس شخص کی جادو بھری سنجیدہ باتوں اور اُن کے اندر چھپے ایک کامل معلم نے اتنے گہرے نقوش چھوڑے کہ آج بھی نہیں بھولے۔ اس لیے اساتذہ کا ذکر ہو اور اُس ”جادوگر“ کا ذکر نہ ہو‘ یہ ناممکن ہے۔

پہلی بارآپ کو ہم نے ستمبر1989ء  میں اُس وقت دیکھا تھا جب ہم گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد سکول آئے تھے۔ آپ کے چارج سنبھالتے  ہی ہمارے سکول نے ہر شعبے میں کمال حاصل کیا۔رضی صاحب کے آنے سے سکول کے اندر کیا کیا مثبت تبدیلیاں رونما ہوئی تھیں ان کا ذکر میں پہلے کر چکا ہوں۔یہاں صرف اتنا کہوں گا کہ سکول کا کوئی ایسا شعبہ نہ تھا جس میں رضی صاحب کے آنے کے بعد اعلیٰ پیمانے پر مثبت تبدیلی رونما نہ ہوئی ہو۔

میرا بڑا بھائی سنٹرل ماڈل سکول میں پڑھتا تھا ا ور میری اور میرے والدین کی شدید خواہش تھی کہ میرا بھی وہیں داخلہ ہو لیکن ایسا نہ ہو سکا تھاکیونکہ سنٹرل ماڈل سکول میں اُس سال چھٹی جماعت میں داخلے کا میرٹ 106.5نمبر تھا ا ور یار لوگوں کے نمبر 105 تھے۔ یہ بات میرے لیے اور میرے والدین کے لیے بے حد تکلیف کا باعث تھی لیکن جب پانچ سالوں کے اختتام پر میں جامع سکول کو خیر باد کہہ رہا تھا تو اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کر رہا تھاکہ میرا سنٹرل ماڈل سکول کے بجائے جامع سکول میں داخلہ ہوا تھا۔اس لیے نہیں کہ میں سنٹرل ماڈل سکول کو کم تر سمجھتا تھا بلکہ اس لیے کہ جامع سکول میں جس بلند کردار و صلاحیت کے پرنسپل مجھے ملے تھے میں نہیں سمجھتا تھا کہ سنٹرل ماڈل میں اُس وقت اُن کے پائے کا کوئی پرنسپل موجود تھا۔

1991-92ء کے سیشن میں بورڈ کی طرف سے ادبی مقابلہ جات میں اردو مباحثے‘ ”جمہوریت ہی ہمارے تمام مسائل کا حل ہے“ کے لیے میں نے موافقت جبکہ میرے ایک کلاس فیلو جاوید اقبال(اِن دنوں ریڈیو پاکستان میانوالی سے بھی وابستہ ہیں۔ وکالت بھی کر رکھی ہے)نے اُسی مباحثے کے لیے مخالفت میں اپنے سکول کی نمائندگی کی تھی۔ میں نے اس کے علاوہ پنجابی مباحثے، ”پڑھائی نالوں وائی چنگی“ کے لیے بھی موافقت میں اپنے سکول کی نمائندگی کی تھی۔ اوراسی طرح انگریزی تقریر کے لیے ہمارے ہی ایک کلاس فیلو حمید اللہ خان آف گولے والی (ضلع خوشاسب) نے اپنے سکول کی نمائندگی کی تھی۔ حسنِ اتفاق دیکھیے کہ اُس سال بورڈ کی اِن ادبی سرگرمیوں میں ہمارے سکول نے مذکورہ بالا چاروں مقابلوں میں ضلع بھر میں پہلی پوزیشن لی تھی۔ ضلعی سطح پر مقابلوں میں پہلی پوزیشن کے بعد اب ہم نے ڈویژن لیول کے مقابلوں میں سکول کی نمائندگی کرنی تھی۔ اس لیے ایک بار رضی صاحب نے اپنی نگرانی میں سب لڑکوں کی تقریریں سننے کے لیے سکول میں ایک اکٹھ کیا تھا اور اس میں ہماری تقاریر سننے کے بعد ایک مختصر سی تقریر میں اُن پر تبصرہ کیا تھا۔ اُس تبصرے میں انھوں نے ہماری تقریر کرنے کی رفتار میں کمی لانے کے علاوہ اردو مباحثے کی تقاریر کے مواد پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ مواد موضوع کا حق ادا نہیں کرتا۔اس لیے اس میں ترمیم و اضافہ کیا جائے۔ تقریر کے بیان کی رفتار پر اُن کا کہنا تھا کہ اس کی رفتار ٹیلی ویژن پر خبریں پڑھنے والوں کی رفتار کے برابر ہونی چاہیئے۔تقریروں میں مزید رہنمائی کے لیے طے پایا تھا کہ ہمیں کمرشل کالج میں کسی ٹیچر سے رہنمائی لینے کے لیے بھیجا جائے گا۔ واضح رہے کہ اردو مباحثے میں مخالفت والے لڑکے جاوید اقبال کے والد صاحب‘ جناب پروفیسر عمر حیات صاحب اُن دنوں کمرشل کالج کے انچارج پرنسپل تھے۔

ایک دن ہم کمرشل کالج میں پہنچے تو میرے کلاس فیلو جاوید اقبال کی وجہ سے ہمیں وی آئی پی مہمان کا درجہ ملا اور ہماری چائے پکوڑوں سے تواضع کی گئی اوراس کے بعد ہمیں ایک کلاس میں بھیج دیا گیا۔ سردیوں کے دن تھے اور وہ کلاس کمرشل کالج کے صدر دروازے سے داخل ہوتے ہی بائیں ہاتھ پر واقع لان میں کھلے آسمان تلے لگی ہوئی تھی۔ کلاس میں موجود ٹیچر اپنی کلاس کو جنریشن گیپ پر لیکچر دے رہے تھے۔ اُن کے لیکچر کے اختتام تک مجبوراً ہمیں بھی وہ لیکچر سننا تھا۔ وہ ٹیچر کیا کمال بولتے تھے۔ میں توایک ہی لیکچر میں اُن کی علمیت اور اندازِ بیاں کا معترف ہو گیا۔ اپنے لیکچر کے اختتام پر اُنھوں نے ہماری تقاریر بھی دیکھیں اور سنیں اور چند ہدایات بھی دیں تاہم جس قدر رہنمائی اور وقت دیے جانے کی ہم توقع کرر ہے تھے ہمیں بوجوہ وہ نہ مل سکا۔ یہ جان کر آپ کو خوشگوار حیرت ہو گی کہ اُس کلاس کو پڑھانے والی ہستی اردو ادب کے ماتھے کا جھومر جناب پروفیسر ڈاکٹر غفور شاہ قاسم تھے جو اِن دنوں ایف سی کالج یونیورسٹی لاہور میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ اپنے شاگردوں کی اس قدر فکر کہ اُن کی تقریروں کو غور سے سنا جائے، اُن کا تجزیہ کیا جائے، اُنھیں کچھ فوری رہنمائی دے دی جائے اور مزید رہنمائی کے لیے اُنھیں غفور شاہ قاسم جیسی عظیم ہستی کے پاس بھیجا جائے یہ یقیناً چودھری محمد رضی صاحب کا ہی خاصہ ہو سکتا تھا۔

چودھری محمد رضی صاحب کی سادگی کا یہ عالم تھا کہ وہ سائیکل پر سکول تشریف لاتے تھے۔آپ ایک باوقار، با رعب اور خوش لباس شخصیت تھے۔ گھنے بال جن میں سفیدی غالب تھی‘آپ کے وقار میں بے پناہ اضافے کا سبب بنتے تھے۔ طلبا کے ساتھ ہمیشہ حسنِ اخلاق سے پیش آتے۔ میں نے انھیں کبھی کسی طالب علم کو ڈانٹتے ہوئے بھی نہ دیکھا تاہم  تاہم ایک بار ہمارے ایک کلاس فیلو کو چہرے پر زور سے تھپڑ مارا تھا۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ اسمبلی میں ایک دن آپ نے فرمایا کہ آج آپ کے نظم و ضبط کا امتحان ہے۔ آج آپ کلاسوں میں جائیں گے تو دس سے پندرہ منٹ تک کوئی ٹیچر آپ کی کلاس میں نہیں آئے گا۔ ہم آپ سے توقع رکھتے ہیں کہ آپ کلاس میں جا کر نظم وضبط کا مظاہرہ کریں گے اور کلاسوں میں خاموشی سے بیٹھیں گے۔ میں خود دس پندرہ منٹ اس عمل کی نگرانی کروں گا۔ آپ کے فرمان کا پورے سکول نے بھرم رکھا ا ور مجموعی طور پرپورے سکول میں کامل خاموشی(Pin Drop Silence) چھائی رہی۔ ہمارے ایک کلاس فیلو زبیر(پی ایچ ڈی فزکس، سابق چیئرمین شعبہ فزکس وفاقی اردو یونیورسٹی اسلام آباد) کی بدنصیبی دیکھیے کہ جیسے ہی رضی صاحب ہماری کلاس میں داخل ہوئے وہ بیچارا اپنی نشست سے اٹھ کر کسی دوسرے لڑکے کے پاس کھڑا تھا۔ رضی صاحب نے اُسے کمرہئ جماعت میں کھڑا دیکھا تو اُس کے چہرے پر زناٹے دار تھپڑ رسید کیا۔اگرچہ وہ لڑکا اپنی نشست پر نہیں بیٹھا تھا تاہم وہ شور نہیں کر رہا تھا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں اُس وقت اپنے کام میں یکسو تھا اور کلاس میں مکمل خاموشی تھی۔ مجھے رضی صاحب کی آمد کا بھی پتا نہ چلا۔ اُن کی طرف میری توجہ اُس وقت گئی جب میں نے زبیر کو زوردار تھپڑ رسید ہونے کی آواز سنی تھی۔ اُس دن مجھے زبیر سے بہت ہمدردی ہو رہی تھی۔ وہ تو جب بہت بعد میں ہم خود ایڈمنسٹریشن میں آئے تو معلوم ہوا کہ نظم و ضبط کے قیام کے لیے بعض اوقات تلخ اور نا پسندیدہ فیصلے بھی کرنا پڑتے جس میں کبھی کبھار گندم کے ساتھ گھن بھی پِس جاتا ہے۔

مندرجہ بالاایک واقعہ کے علاوہ چودھری محمد رضی صاحب کو میں نے ہمیشہ طلبا کے لیے بہت مہربان پایا۔ میں نے ذاتی طور اُن کے سامنے دو پیشیاں بھگتیں (اُن کا ذکر بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا۔ ان شاء اللہ کسی مناسب وقت پر بیان کیا جائے گا) جن سے مجھے یہ ادراک ہوا کہ وہ بلا کے نفسیات دان، طلبا کی عزت نفس کا لحاظ رکھنے والے، اپنے طلبا میں اعلیٰ اخلاقی اقدار پروان چڑھانے والے، اُن کی حوصلہ افزائی کرنے والے اور اُن کے ساتھ شفیق ا ور مہربان رہنے والے تھے۔

رضی صاحب کی آخری باضابطہ گفت گو جو مجھے سننے کو ملی تھی وہ ہماری الواداعی پارٹی کی تقریر تھی۔ تقریر کیا تھی زندگی گزارنے کا ایک جامع، واضح اور رہنما اعلامیہ تھا جس میں آپ نے قرآن پاک کی وہ آیات پڑھی تھیں جن کا مفہوم ہے کہ ہر شخص نے اپنا بوجھ خود اٹھانا ہے۔ اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ جو لوگ زندگی میں دھونس دھمکی اور اسلحے کی روِش اختیار کرتے ہیں وہ لوگ دراصل بہت بزدل ہوتے ہیں۔ اگر آپ ان کے اندر جھانک کر دیکھ سکتے تو آپ کو نظر آجاتا کہ وہ اندر سے کتنے ڈرے ڈرے اور خوف زدہ ہوتے ہیں۔ شاید وہ کہنا چاہتے تھے:

جس ہاتھ میں خنجر ہے

اُس ہاتھ کی کمزوری

ہر وار سے ثابت ہے

(فہمیدہ ریاض)

سر کی اُس تقریر کا بیشتر حصہ میرے پاس ایک آڈیو کیسٹ میں ریکارڈڈ ہے۔ اگر فرصت نصیب ہوئی اور مجھے کیسٹ آسانی سے مل گئی تو ان شاء اللہ میں سر کی اُس تقریر کی ریکارڈنگ کو کیسٹ سے دیگر ذرائع میں منتقل کروا کر دستیاب سوشل میڈیاز پر اپ لوڈ کروں گا۔

اللہ پاک چودھری محمد رضی صاحب کو کروٹ کروٹ جنت عطا فرمائے۔ آمین!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں