
جانے وہ کون تھی؟
پرسوں شام ڈھلے، مغربی افق پہ آنا فانا گرد آلود بادل نمودار ہوئے۔ پھر آندھی نما ہوا کے تیز جھونکوں نے دستک دی۔ پھر بارش کی ننھی منی بوندوں نے زمیں پہ قدم رنجہ فرمایا جس کی بدولت ہوا میں اڑتی اور تھرکتی ریت جہاں تھی وہیں بیٹھ گئی۔ ہوا صاف اور خوش گوار ہوئی تو اولوں نے شرکت نہ کرنا غیر مناسب جانا اور بارش کے ہمراہ چنے کا وجود لیے اپنا حصہ ڈال دیا۔
اولے محدود تھے تھم گئے لیکن بارش ہوتی رہی۔ہماری علاقائی اصطلاح کے مطابق اتنی بارش ہو گئی کہ “پرنالے وُڑھ گئن” (پرنالے بہہ گئے)۔ پھر بارش بھی تھم گئی لیکن بجلیاں رات گئے تک کڑکتی رہیں۔
آندھی اولے اور بارش کو دیکھ کر سورج پتلی گلی سے کوہ خیسور کے پار اتر گیا اور رفتہ رفتہ اپنا شفق رنگ بھی سمیٹ لے گیا۔ اب رات کی سیاہی کی سلطنت میں اندھیروں کا راج تھا۔اندھیروں نے آسماں کو یوں لپیٹ لیا جیسے جاڑے میں کوئی بزرگ لحاف میں خود کو مقید کر لیتا ہے ہاں بس اس کشمکش کے جیسی کہ ٹھنڈ کہاں سے آ رہی ہے آسمانی بجلیاں اندھیروں سے بقدر استطاعت لڑتی رہیں۔
مجھے پروفیسر حماد محمود بھروں سے ملنا تھا۔ بائیک نکالی اور خانقاہ سراجیہ کی مرکزی آبادی کا رخ کیا۔ بھروں روڈ چونکہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے تو چھوٹے چھوٹے گڑھوں میں ضرورت سے زیادہ اور امید سے بڑھ کر بارشی پانی جمع تھا۔
کیچڑ اور پانی سے بچنے کے لیے میں نے بائیک کا رخ سڑک کی بجائے ریلوے ٹریک کے ساتھ ساتھ متوازی چلتے کچے راستے ، جسے ہم تو بچپن سے گئل کہتے آ رہے ہیں کی طرف کر دیا۔ سرکنڈے، کیکر اور جنگلی بیروں کے درمیان ریتلا راستہ جس پہ مغرب کے بعد آمدورفت نہ ہونے کے برابر ہو جاتی ہے؛ پر بارش کے بعد موٹرسائیکل چلانا نہایت آسان اور میرا پسندیدہ مشغلہ ہے۔
ہماری روایتی حرص کی بھینٹ چڑھ کر زرعی و رہائشی تجاوزات کے سبب گئل میں اب اتنے خم آ چکے ہیں کہ بائیک چلاتے ہوئے خود پہ مشرق وسطی کا مشہور بیلی ڈانس کرنے والی رقاصہ کا گماں ہوتا ہے۔
گیلی مٹی کی خوشبوؤں سے لیس ہوا کے خوشگوار جھونکے، فلک کی قلابیں جہاں زمیں سے جڑتی معلوم ہوتی ہیں سے جنم لیتی چار سو کڑکتی بجلیاں اور ان سے کسی آن آف، آن آف ہوتے بلب جیسی پلک چھپکتی روشنیاں، خم دار راستہ اور راستے پہ خیمہ زن جنگلی جھاڑیاں اور ریتلا رستہ جہاں کہیں کہیں پانی تھا۔ دور، کہیں بجلی چمکتی تو وہ پانی کسی آئینے کی مانند منعکس ہوتا اور پھر پل بھر میں گھپ اندھیرا اور یکبارگی سے گرفت میں لیتی تنہائی تھی اور میں تھا ۔
گرچہ فاصلہ چند سیکڑوں میٹر پہ محیط تھا لیکن مجھ پہ وہ صدیوں کی مسافت کی طرح حاوی ہونے لگا تھا۔
اسی اثناء میں آسمانی بجلی کی روشنی میں سامنے ایک سائے کا شائبہ ہوا جو میری سمت پیدل چلا آ رہا تھا۔
فاصلہ سمٹتا گیا تو شائبہ یقین میں اور سایہ عورت کے روپ میں بدل گیا۔ سیاہ چادر اوڑھے جس کا ایک پلو لٹک رہا تھا وہ دھیرے دھیرے میری مخالف سمت سے میری طرف چلی آ رہی تھی۔
دل میں خیال پیدا ہوا کہ یہ رات ڈھلے ویرانے میں بیچاری تنہا عورت حقیقت ہے یا کوئی غیرمرئی وجود جس کا عکس ابھی لمحہ بھر پہلے اترا ہے۔ نہ چاہتے ہوئے بھی دماغ نے خوف کا سگنل جنریٹ کر کے پورے جسم کو ساکت کر دیا۔ اسی خوف کی حالت میں جوں ہی میں اس عورت کے مزید قریب ہوا تو وہ رک گئی اور اپنا بازو یوں لہرا دیا جیسے کوئی مسافر لفٹ کی درخواست کرتا ہے۔
سامنے سے آتا ہوا لفٹ کیسے مانگ سکتا ہے؟؟؟ بائیک کی فرنٹ لائٹ کی زرد روشنی نے مزید اس کے چہرے کا خون چوس لیا۔ میری نگاہیں اس کی آنکھوں سےچار ہوئیں، التجا سی لیے اس کی کھلی آنکھیں گویا پتھر کی ہوں اور ابل کر باہر آتی ہوئیں، دوپٹے سے نکلے سفید بال، عمر رسیدہ چہرے پہ جھریاں اور جھریوں میں پیوستہ وحشت و افسردگی کی پوری پرت، اڑتا ہوا دوپٹے کا پلو جیسے وہ ہوا میں تیر رہی ہو اور بھاری ہوتے قدم گویا میخ کی طرح زمیں میں گڑھے ہوئے۔۔۔
میں چاہتے ہوئے بھی خوف کی مجسم تصویر بنے رکے بغیر اس کے پاس سے گزر گیا، دوسری غلطی یہ ہوئی کہ میں نے اسے پلٹ کر دیکھا تو وہ مجھے دیکھ رہی تھی اور اس کا بازو فضا میں بدستور بلند تھا۔ خوف کی جھرجھری پورے وجود میں دوڑ گئی اور کپکپی سی نے میرے تن کے رونگٹے کھڑے کر دیے۔
میں اسی رفتار سے آگے نکل گیا۔
شکوک و وسوسوں کو روند کر سوچوں کہ وہ کون تھی تو وہ کوئی غیر مرئی مخلوق نہیں تھی۔ وہ میری طرح انسان تھی۔ وقت کی بے رحم لہروں نے اسے تنہا ویرانوں میں کڑکتی بجلیوں میں جھاڑیوں کی اوٹ میں بے منزل سفر پہ لا کھڑا کیا تھا۔ وہ ایک بیٹی ہوگی جس گود کی وہ مکیں تھی وہ برسوں قبل راہ عدم کے مسافر ہو گئے ہوں گے۔ وہ سہاگن ہو گی لیکن جب وہ ہوش و حواس سے بیگانہ ہوئی ہو گی تو وفا کے نام پہ کلنک اس کے شوہر نے اس سے لاتعلقی اختیار کر لی ہو گی۔ وہ ماں ہو گی جس کی اولاد دنیا کے تعاقب میں بہت آگے نکل گئی ہو گی اور ماں کا مفلوج ذہن ان کی خودغرضی سے مات کھا گیا اور وہ ان سے بہت پیچھے رہ گئی ہو گی۔ گر کچھ بھی نہ ہو لیکن وہ ایک انسان ضرور تھی جس کو آئے یہاں کئی دہائیاں بیت چکی تھیں۔ وقت کی گرد تلے اٹے اس کے خوفزدہ اور مایوس چہرے کی تھکان کو بارش بھی دھو نہ پائی تھی اور اس کے ہی جیسا انسان خوف کی چھتری تانے اس کی بے بسی کو بھانپتے ہوئے بھی گزر گیا تھا۔
مجھے پشیمانی ہوتی رہی۔ احساس ندامت میرے خوف پہ غالب آ گیا۔ کیوں اور کون کے سوالات بالائے طاق رکھ کر میں واپسی پہ پھر اسی راستے سے پلٹا۔
مجھے لگتا تھا کہ اس کی آنکھوں میں امید باقی تھی گویا اسے لگ رہا تھا کہ میں رک جاؤں گا اور اس کی مدد کو واپس آؤں گا۔ وہ ابھی بھی وہیں کھڑی ہو گی بے جان ہوتی آنکھوں میں سوال لیے، بازو بلند کئے، بے منزل سفر کا پتا پوچھتی ہوئی، فنا ہوتی زندگی کے خون رستے زخموں کا مرہم طلب کرتی ہوئی یا پھر سانسوں کے رکنے کے انتظار میں ایک پناہ کی متلاشی، پیٹ کے دوزخ کے ایندھن کی آس لیے یا پھر زمانوں کے دیے گئے زخموں کے مندمل ہونے کی خواہش لیے کسی انسان کے روپ میں فرشتہ ڈھونڈتی اب بھی وہیں کھڑی ہو گی۔
میں تقریبا کانپتے ہوئے اپنے وجود کا بوجھ زبردستی اٹھائے چند گھڑیوں بعد اسی راہ پہ پلٹا، لیکن وہ وہاں نہیں تھی اور میں شاید اب بھی وہیں ہوں۔
اگر وہ انسان نہیں تھی تو اس نے ایک انسان کا راستہ کیوں روکا تھا؟
اور اگر وہ انسان تھی تو ہم سوچنے سمجھنے سے محروم اپنوں کو یوں در در کی خاک چھاننے کے لیے تنہا کیوں چھوڑ دیتے ہیں کہ ہمارے گلی کوچوں میں بازاروں میں لاوارث زندہ لاشیں ہوش والوں پہ ماتم کناں اکثر نظر آتی ہیں اور پھر ان کو سانسوں کی مہلت ختم ہونے پہ لاوارث سمجھ کر دفنا دیا جاتا ہے یا پھر وہی لواحقین جو زندگی بھر ان سے لاتعلق رہتے ہیں آخری رسومات کی اداکاری پہ مصر نظر آتے ہیں۔
قمرالحسن بھروں زادہ
13مئی2025
(مصنف کی اجازت سے اُن کی فیس بک وال سے منقول۔ ایڈمن تِریاق)