0

جوانی سنبھال جوانی … افضل عاجز

افضل عاجز

اے میرے صاحب!

ابھی کل ہی تو بتایا تھا گرمی قہر برسا رہی ہے۔ میں زیادہ تر اماں کے لگائے ہوئے بکائین کے درخت کے نیچے پڑا رہتا ہوں۔ تین سے چار چڑیاں بھی اس کے پتوں کے درمیان اونگھتی رہتی ہیں۔ ایک نِگوڑا چڑا کہیں سے آکے اِن کے آرام میں خلل ڈالتا رہتا ہے۔ میرا اندازہ ہے اِن میں سےایک چڑیا ابھی جوانی کی پہلی سیڑھی پہ ہے اور چڑا اسی کےلیے آتا ہے۔ جوں ہی یہ چڑا آتا ہے تو نوخیز سی چڑیا دھیرے دھیرے پروں کو پھڑپھڑاتی ہے۔ چڑا سمجھتا ہے سبھی سو گئے ہیں مگر ایک بزرگ سا چڑا اچانک گرجنے لگتا ہے۔ اس کی گرج کو سنتے ہی چڑا بھاگ نکلتا ہے۔ پھر یہ بزرگ چڑا نوخیز چڑیا کو ڈانٹتا ہے جیسے کہہ رہا ہو:

”جوانی سنبھال جوانی!”

جوانی بہت زبردست شئے ہے۔ یہ انسان پہ آئے یا چڑیا پہ، اپنا رنگ ضرور دکھاتی ہے۔ یہی گرمی ہوتی تھی۔ گھر میں بجلی ہوتی تھی نہ پنکھا ہوتا تھا۔ آنگن  کے ایک کونے میں” وِچھنو”  ہوتا تھا۔ نیچے ککی ریت بچھا کے اوپر پانی چھڑک دیا جاتا۔ اُسی وچھنو کے نیچے ہم لوگ سوتے تھے۔ نوری لوگوں کا اپنا وچھنو تھا مگر وہ ہمارے وچھنو کے نیچے زیادہ پرسکون رہتی مگر نوری کا ابا یوں سمجھیں بزرگ چڑا تھا۔ اِدھر نوری وِچھنو کے نیچے آئی اُدھر بڑے میاں دھاڑتے ہوئے کہتے:

”جوانی سنبھال جوانی!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

جوانی سنبھال جوانی … افضل عاجز“ ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں