
بلا شبہ مال و زر کی محبت بعض اوقات انسانوں کی آنکھوں پر پٹی باندھ دیتی ہے اور وہ اپنے قریبی رشتوں تک کو پامال کر دیتا ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے انسانوں کو اندر سے توڑ دینے والی محبت مال و زر کی محبت نہیں ہوتی بلکہ وہ صرف انسانوں کی انسانوں سے محبت ہی ہوتی ہے۔ اس محبت میں محبوب ایک ”روایتی محبوب“ بھی ہو سکتا ہے اور آپ کا کوئی بھائی بہن، اولاد یا والدین بھی ہو سکتے ہیں۔ ان رشتوں سے محبت کے حوالے سے کسی قسم کا حادثہ انسان کو اندر سے توڑ ڈالتا ہے۔ وقت کے عظیم پیغمبر کو جب اولاد کا صدمہ اُٹھانا پڑتا ہے تو وہ کم و بیش چالیس سال گزرنے کے باوجود بھی اپنے بیٹے کی یاد اور صدمے سے باہر نہیں آتا اور اپنے دوسرے بیٹوں سے کہتا ہے کہ مجھے ہواؤں سے یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو آ رہی ہے۔ اس کے علاوہ بھی انھی محبتوں کے غم کے درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں ثبوت ہمیں اپنے معاشرے میں جابجا بکھرے نظر آتے ہیں۔
محبتوں کے اِن رشتوں میں سے ایک رشتہ بھائی کا رشتہ ہے۔ بھائی دراصل ہمہ جہت اور ہر لمحہ خیر خواہی اور قربانی کا دوسرا نام ہے۔ سرائیکی، اردو اور ہندی ادب میں نا صرف اس کے حوالے سے آپ کو درجنوں تحریریں اور ضرب الامثال ملتی ہیں بلکہ قرآن بھی اپنے ایک جلیل القدر پیغمبر (حضرے موسیٰ ؑ) کو اس کے بھائی کے ذریعے طاقت فراہم کرنے کے ذکر سے خالی نہیں۔ گویا بھائی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہوتی ہے۔ اس کی اہمیت جاننی ہو تو کسی ایسی عورت یا مرد سے ملیں جو اس نعمت سے محروم ہو۔ آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ اس نعمت سے محرومی کا اُسے کس قدر دکھ اور احساس ہے۔ اور اگر کسی کو یہ نعمت اللہ کی طرف سے عطا ہونے کے بعد اُسی کے حکم سے چھن جائے تو اُس کی کیا حالت ہوگی، اس کا اندازہ لگانا بھی مشکل نہیں ہے۔
میں نے اپریل 1999ء میں الصفہ ماڈل سکول موچھ میں باقاعدہ پڑھانا شروع کیا۔ اُسی سال نہم جماعت میں موچھ کے نواحی علاقہ خان محمد والا سے دو انتہائی ذہین طالب علم بھی سکول میں داخل ہوئے۔ صفدر رضا خان اور اصغر رضا۔ دونوں کے والد اساتذہ تھے۔ دونوں ہی نے خاندان کی طرف سے کمال تربیت پائی تھی۔ اساتذہ کا احترام اور تابع داری گویا ان کی گھٹی میں تھی۔ وہ جس سکول اور جن اساتذہ سے پڑھ کر آئے تھے وہ بھی اپنے علاقے میں ایک منفرد مقام رکھتے تھے۔ دونوں نے امتیازی نمبروں سے میٹرک کی۔ اُن کی میٹرک کے بعد ہمیں بھی غم دوراں اور غم روزگار نے کہیں سے کہیں بھیج دیا اور وہ بھی اپنی اپنی زندگیوں میں گم ہو گئے۔ اُن دونوں طالب علموں میں سے ایک انجینئر بن گیا اور دوسرے نے شعبہ تدریس کو اپنایا۔
ہمارا چونکہ ایک ہی علاقہ ہے اس لیے ہم کبھی کبھار شادی بیاہ اور دوسری تقریبات میں دونوں طلبا اور اُن کے والدین سے مل لیتے تھے۔ ایک بار مجھے الصفہ سکول کو چھوڑے طویل عرصہ گزر چکا تھا کہ وہاں جانے کا موقع ملا۔ مجھے کسی کلاس میں لیکچر کے لیے کہا گیا۔ میں جیسے ہی کلاس میں گیا وہاں میری نظر ایک انتہائی خوب صورت نوجوان پر پڑی۔ میں نے اُسے کہا کہ آپ صفدر رضا خان کے بھائی ہیں تو اس نے کہا کہ جی سر میں صفدر رضا خان کا بھائی ہی ہوں۔
یہ کاظم سے میری پہلی ملاقات تھی۔ اپنے بھائی صفدر اور گل حمید کی طرح (صفدر سے زیادہ مشابہہ) مسکراتا چہرہ۔ بعد میں اگر کبھی سکول جانا ہوتا تو اس جوان سے بھی سلام دعا ہوتی رہتی۔ 4 /فروری 2018ء کو الصفہ سکول میں اولڈ سٹوڈنٹس کا اجتماع کیا گیا۔ میں بھی وہاں مدعو تھا۔ میں وہاں پہنچا تو دیکھا کہ کاظم انتظامیہ کے چند بچوں میں شامل ہے۔ معلوم ہوا کہ اچھا اور قابلِ اعتماد منتظم بھی ہے۔ اور اُس وقت تو میں خوشگوار حیرت میں ڈوب گیا جب محفل کے مہمانِ خصوصی سکوارڈن لیڈر (ر) جناب محمد زمان ناصر صاحب کو پروگرام کے اختتام پر ریفریشمنٹ کی جگہ تک لے جانا کاظم کی ہی ذمہ داری تھی۔

وہ گھڑی بھی کس قدر تکلیف دہ تھی جس میں ہمیں علم ہوا تھا کہ ایک ”خاموش قاتل“ کاظم کا پیچھا کر رہا ہے۔ ہمیں بہت پریشانی ہوئی کہ ہم نے اس قاتل سے کسی ایک آدھ بندے کو ہی بچتے دیکھا ہے۔ غریب سے غریب والدین بھی ایسی جان لیوا بیماری سے حتمی شکست کھانے سے پہلے اپنا سب کچھ لٹا دیتے اور پھر اپنے لختِ جگر کو لحد میں اُتارتے ہیں۔ اور اگر معاملہ کچھ باوسائل والدین اور بھائیوں کا ہو تو وہ اُس قاتل سے اتنی جلدی کب شکست مانتے ہیں۔ کاظم کے والدین اور بھائیوں نے بھی کاظم کی صحت کے لیے بے پناہ ترلے کیے۔ اپنی حیثیت سے بڑھ کر اس کا علاج کروایا۔ صفدر ایک اچھی پوسٹ پر کام کر رہا ہے۔ اس نے دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک میں اپنے بھائی کی رپورٹس بھجوا کر ماہرین سے رہنمائی لی اور بھائی کو وہاں لے جانے کی خواہش کا اظہار کیا لیکن ہر طرف سے ایک ہی جواب تھا کہ آپ کو اللہ کی مرضی کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا ہوگا۔
کاظم ایک با ہمت اور صالح نوجوان تھا۔ وہ مسلسل اپنی بیماری سے بھی لڑتا رہا۔ اُس نے اپنے رب کو راضی رکھنے کے لیے اپنی عبادات کو بھی پورے انہماک سے سر انجام دیا۔ بیماری کے دوران (اذیت ناک کیمو تھراپی کے دوران) اپنی تعلیم کو بھی امتیازی حیثیت میں جاری رکھا اور کارکردگی کی بنا پر حکومت سے لیپ ٹاپ لینے کا حق دار ٹھہرا۔ اپنے والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن کر رہا۔ بیماری ہی کے دوران ٹیکنیکل کالج میں بطور وزٹنگ فیکیلٹی ذمہ داریاں نبھائیں۔ وہ کم و بیش ساڑھے تین سال تک اس خاموش قاتل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بہت جرات کے ساتھ زندگی جینے کا سلیقہ سکھاتا رہا اور بالآخر 19/جون 2019ء کو کینسر جیت گیا اور جرت و صبر کا کوہِ ہمالیہ سر ہو گیا۔
کاظم کی موت کے بعد میں صفدر کا بہت گہری نظر سے مشاہدہ کرتا رہا۔ اس سے ملاقاتوں اور اس کی فیس بک آئی ڈی کے مشاہدہ سے اندازہ ہوا کہ واقعی اللہ نے جو خونی رشتے بنائے ہیں اُن کی جدائی کا صدمہ انسان کو توڑ کر رکھ دیتا ہے۔ چاہے وہ انسان وقت کا پیغمبر یعقوب ؑ ہو یا آج کے دور کا ایک عام مسلمان صفدر رضا خان ہو۔
(ستمبر 2019ء میں فیس بک اور روزنامہ ”نوائے شرر” میانوالی کے لیے لکھی جانے والی ایک تحریر)