
لاہور میں پچھلے دو دنوں میں 200 ملی لیٹر سے زیادہ بارش برس گئی ۔ اگر صرف اس ایک بارش کے زائد پانی ذخیرہ کر لیا جاتا تو واسا کو اگلے ایک مہینہ تک اپنے ٹیوب ویل چلانے کی ضرورت نہ تھی جب کہ اگست ستمبر تک اس شہرِ بے مثال میں مون سون سیزن کی مزید بارشیں ابھی متوقع ہیں۔
واسا کے 1800 سے زائد ٹیوب ویل لاہوریوں کے لیے روزانہ 400 کروڑ لٹر پانی زمین سے کھینچ رہے ہیں۔ صنعتی استعمال کے لیے 150 کروڑ لٹر پانی مزید کھینچا جارہا ہے جب کہ ہزاروں کی تعداد میں نجی واٹر پمپ اور موٹریں اس کے علاوہ ہیں۔لاہور میں پینے کے لائق پانی 600 فُٹ نیچے جاچکا جب کہ 1300 فٹ نیچے جانے پر زمینی پانی ختم ہوجائے گا۔
لاہور میں زمینی پانی کی سالانہ کھپت اور ریچارج میں فرق کو بارش کے پانی کو استعمال کرتے ہوئے پورا کیا جانا چاہیے۔ لیکن کیسے؟لاہور کے لیے لاکھوں ایکڑ فٹ کیپیسٹی کی سٹوریج دریائے راوی پر مناسب لوکیشنز پر اوپر تلے کئی ربڑ ڈیم بنا کر حاصل کی جا سکتی ہے۔
لاہور کی ایکوائفر کے ریچارج کا سب سے بڑا ذریعہ بوڑھا دریائے راوی ہے جو انڈیا کی طرف سے سنہ 2000 میں تھئین ڈیم اور سنہ 2024 میں شاہ پور کُنڈی بیراج بنائے جانے کے بعد اب خشک پڑا ہے۔ لاہور کے سارے ڈرین بارش کے پانی کو دریائے راوی میں جاکر گراتے ہیں جسے دریائے راوی پر متعدد ربڑ ڈیم بنا کر کشادہ جھیل کی شکل میں کھڑا کرکے زیرزمین پانی کو ریچارج کیا جاسکتا ہے۔ ربڑ ڈیم کی تعمیر کی ایک بہترین جگہ راوی پر ریلوے پُل سے اوپر / پہلے ہو سکتی ہے جب کہ اس کے نیچے بھی کچھ مناسب جگہیں تلاش کی جاسکتی ہیں۔
لاہور کے پاس دریائے راوی کا پیندہ ہر تین ہزار فٹ کے بعد ایک فٹ نیچے ہو جاتا ہے اس لیے سات آٹھ فٹ بلند ربڑ ڈیم سے بھی ہزاروں فٹ لمبی پانی کی سطح اوپر اٹھ آئے گی جو دریا میں کئی دن رکی رہے گی اور ریت میں جذب ہو کر لاہور کی ایکوائفر کو مسلسل ریچارج کرتی رہے گی۔
ربڑ ڈیم ایک بہت بڑی ٹیوب ہوتی ہے جسے کسی پل یا خاص طور پر ڈیم کے لیے بنائے گئے پختہ ستونوں کے ساتھ مضبوطی سے باندھ دیا جاتا ہے۔ اس ٹیوب کو ہوا/پانی یا دونوں کو اندر بھر کر مطلوبہ بلندی تک پُھلایا جاسکتا ہے اور یہ اپنے پیچھے ڈیم کی طرح پانی کو روک لیتی ہے۔ دریا میں سیلاب یا زیادہ پانی کی صورت میں اس میں سے ہوا یا پانی خارج کر کے اس کو خالی کیا جا سکتا ہے تاکہ سیلابی پانی، مٹی اور کچرہ آگے بڑھ جائے اور پانی کی روانی بہتر ہوتے ہی اس کو دوبارہ ہوا بھر کر پُھلا دیتے ہیں۔
لاس اینجلس شہر کو پانی دینے کے لیے دُنیا کا سب سے پہلا ربڑ ڈیم 1958 میں امریکا میں دریائے لاس اینجلس پر بنا تھا ۔ چائنا کہتا ہے کہ اس نے 2000 سے زیادہ ربڑ ڈیم بنا رکھے ہیں۔ بنگلہ دیش اور بھارت نے بھی کئی ربڑ ڈیم بنا رکھے ہیں ۔ بھارت کے سب سے لمبے گایاجی ربڑ ڈیم کا افتتاح تین سال پہلے ہی ریاستِ بہار میں ہوا ہے۔
تحریر: انجینیئر ظفر وٹو
12 جولائی 2024 بروز اتوار
(مصنف کی اجازت سے اُن کی فیس بک وال سے منقول۔ ایڈمن تِریاق)