0

لاہور اور پانی چوس کنوئیں (رین ہارویسٹنگ ویلز)

انجینیئر ظفر اقبال وٹو

صرف اگر لاہور کی ایک سوسائٹی ماڈل ٹاؤن کی چھتوں پر پڑنے والی بارش کا پانی ہی جمع کر لیا جائے توایک سال میں 50 کروڑ لٹر پانی اکٹھا ہوسکتا ہے جو ماڈل ٹاؤن کے ایک لاکھ سے زیادہ رہائشیوں کے ایک ماہ کے استعمال کے لیے کافی ہے۔اسی طرح ماڈل ٹاؤن کی سڑکوں سے مزید 100 کروڑ لیٹر پانی اکٹھا کیا جاسکتا ہے جوکہ ماڈل ٹاؤن کے رہائشیوں کے دو ماہ کے استعمال کے لیے کافی ہے۔ جب کہ ماڈل ٹاؤن کے کھیلوں کے میدانوں اور پارکس میں جمع ہونے والا پانی اس کے علاوہ ہے۔

یہ صرف لاہور کی ایک سوسائٹی کے سالانہ بارشی پانی کا حساب کتاب ہے۔ جس کی چھتوں کی سطح کا رقبہ صرف 1,336,270 مربع میٹر ہے۔اس شرح سے کروڑوں مربع میٹر پر پھیلے شہر لاہور سے کتنا زیادہ پانی اکٹھا کیا جاسکتا ہے۔

عالمی معیار کے مطابق رین واٹر ہارویسٹنگ کے لئے موزوں علاقہ وہ ہوسکتا ہے جہاں کم از کم سالانہ 70 ملی میٹر بارش ضرور ہونی چاہئے جب کہ لاہور میں سالانہ 600 ملی میٹر سے زیادہ بارش ہوتی ہے۔

بارشی پانی کو جمع کرکے دوبارہ استعمال کرنا یا اس سے زمینی پانی کو ریچارج کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ لاہور میں استعمال کا سارا پانی زمین سے کھینچا جاتا ہے جس کا قدرتی ریچارج دریائے راوی سے ہوتا تھا جو کہ بند ہوچکا۔

لاہور میں واسا کے 1800 ٹیوب ویلوں اور ہزاروں پرائیویٹ پمپوں کے ذریعے روزانہ تقریباً 150 کروڑ لٹر پانی زمین سے کھینچ لیا جاتا ہے جس کی وجہ سے زیرِزمین پانی کی سطح ہر سال تین فٹ نیچے گر جاتی ہے جسے بحال کرنے کا بہترین ذریعہ بارش کا پانی ہے۔

تحریر: انجینیئر ظفر وٹو

19 جولائی 2024 بروز اتوار

(مصنف کی اجازت سے اُن کی فیس بک وال سے منقول۔ ایڈمن تِریاق)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں