
میں اپریل 1987ء میں گورنمنٹ جامع ہائی سکول میانوالی میں چھٹی جماعت میں داخل ہوا تھا۔ اُن دِنوں غالباً شرابت خان صاحب پرنسپل تھے۔ اُن کے بعد جناب صوفی ملک رب نواز صاحب نے چارج سنبھالا تھا۔
ستمبر 1989ء میں جب گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد ہم سکول آئے تو معلوم ہوا کہ چودھری محمد رضی صاحب نئے پرنسپل آئے ہیں۔ اُن کے آتے ہی سکول کے اندر انقلابی اور نمایاں تبدیلیاں نظر آنا شروع ہوئیں۔ سفیدیاں، کمروں کی وائرنگ کا معیار، عمارت کی کھڑکیاں اور شیشے، عمارت کے ٹوٹے حصوں کی تعمیر، واش رومز کی صفائی، سکول میں شجر کاری بلکہ پودوں اور درختوں کی فراوانی، کھیلوں کی مناسب سہولیات، تعلیمی معیار میں نمایاں مثبت تبدیلی۔۔۔ المختصر ہر کام سے نظر آنے لگا کہ واقعی بہت اچھے پرنسپل آ گئے ہیں۔
اپریل مئی1991ء میں جب ہم دسویں پڑھتے تھے تو سکول میں ایک نئے ٹیچر آئے اور ہمیں بیالوجی پڑھانے لگے۔ کافی اچھا پڑھاتے تھے۔ ابھی کچھ ہی دن گزرے ہوں گے کہ دہم جماعت کے دو سیکشنوں کو تین سیکشنوں میں تقسیم کر دیا گیا اور ہمارے حصے میں نو قائم شدہ لیاقت سیکشن آیا۔ اس سیکشن کے انچارج وہی نئے ٹیچر قرار پائے اور اب انھوں نے ہمیں ریاضی پڑھانا شروع کر دی۔ جب معلوم ہوا کہ نئے ٹیچر ہمیں ریاضی پڑھائیں گے تو ذرا عجیب تو لگا کہ بیالوجی والا ٹیچر ریاضی کیسے پڑھائے گا لیکن ٹائم ٹیبل بنانا ہمارا کام تھوڑا ہی تھا۔ جب وہ ٹیچر ریاضی پڑھانے آئے تو ریاضی ایسے پڑھائی کہ گویا اُن سے اچھا ریاضی کا کوئی ٹیچر ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ ہم نے اُنھی ٹیچر کی منت کر کے گرمیوں کی چھٹیوں میں اُن سے ٹیوشن پڑھنا شروع کی تو معلوم ہوا کہ اُن سے اچھی فزکس اور کیمسٹری بھی کوئی نہیں پڑھا سکتا۔ پڑھاتے کیا تھے‘ وہ تو ٹاپک کو مجسم شکل میں طالب علم کے دماغ میں اُنڈیل دیتے تھے۔
آٹھویں جماعت کے سالانہ امتحان میں تینوں سیکشنز میں سے میری غالباً تیسری پوزیشن تھی لیکن میں نہم جماعت میں اچھا خاصا کمزور ہوگیا تھا۔ اس کی کئی وجوہات تھیں جن میں سے ایک بہت بڑی وجہ پچھلے ڈیسکوں پر بیٹھنا تھا اور مجھ میں سارا سال اتنا حوصلہ پیدا نہ ہو سکا تھا کہ اساتذہ کو کہہ سکتا کہ مجھے پچھلے ڈیسکوں پر بورڈ کی تحریر نظر نہیں آتی اور آپ مجھے کسی اگلی نشست پر بٹھا دیں۔
ڈیسکوں پر استحقاق کا اُن دنوں فارمولا یہ تھا کہ کلاس کے آغاز میں پہلے دن جو جلدی جلدی جس جگہ پر بیٹھ گیا وہ ڈیسک پورے سال کے لیے اُسی کا ہو رہا۔ نہم دہم کی کلاسز کے آغاز والے دن میں جلد سکول نہ پہنچ سکا تھا کیونکہ ہم پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کرتے تھے اور سکول ہمارے گھر سے کم و بیش 20 کلومیٹر دور تھا۔ اب جبکہ دہم میں ہماری کلاس کو دورانِ سکول اوقات دو سے تین سیکشنوں میں تقسیم کیا جارہا تھا اور ہمارے حصے میں نیا سیکشن آیا تو اُدھر ہی ٹیچرز کی نگرانی میں کہا گیا کہ آپ لوگ فلاں کمرے میں بیٹھ جائیں۔ میں چونکہ سوا سال سے غلط ڈیسک کی سزا بھگت رہا تھا اس لیے باقی تمام لڑکوں سے پہلے بھاگتا ہوا اُس نئے کلاس روم کے درمیان والی قطار کے سب سے پہلے ڈیسک پر بیٹھ گیا۔
نیا ٹیچر، نیا سیکشن، نئی سیٹ اور ریاضی کا نیا چیپٹر۔۔۔ یہ “تبدیلی” مجھے بہت راس آئی (معلوم نہیں پاکستان کو ”تبدیلی” کیوں راس نہیں آرہی) اور میں نے نئے ٹیچر کے ساتھ اُن کے لیکچرز میں بھرپور شرکت کی اور انھوں نے بھی میری کمال حوصلہ افزائی کی۔ انھیں کیا پتا تھا کہ پچھلے سوا سال سے اِس کی تعلیمی پراگریس کیا ہے۔ اگر دیکھ لیتے تو شاید میری حوصلہ افزائی والی ”فضول خرچی“ کے متحمل نہ ہوتے۔ وہ تو میری موجودہ حالت دیکھ رہے تھے جو زبردست تھی۔
کلاس میں تو میں بھرپور ریسپانس دے رہا تھا لیکن گھر میں پڑھنے کا معمول گزشتہ سوا سال والا ہی تھا۔ مجال ہے جو کبھی گھر آ کر کتاب کھولنے کا مجھ سے ”گناہ“ سرزد ہوتا۔ اُدھر نئے ٹیچر تھے کہ سچ مچ ہمیں پڑھانے کا ارادہ لے کر آئے تھے لہٰذا انھوں نے پہلی ہی مشق کے اختتام پر ٹیسٹ لے لیا۔ ریاضی تو ریاضت کا نام ہے۔ میں گھر میں تو پڑھا نہیں تھا لہٰذا جب ٹیسٹ پر بیٹھا تو مجھے چیزوں پر اُس طرح گرفت نہ ہوئی جیسے کلاس میں لیکچرز کے دوران ہوتی تھی۔ جیسے تیسے ٹیسٹ دیا۔ مارکنگ ہوئی تو میرے 30 میں سے 13 نمبر تھے۔ بہت خوش ہوا کہ چلو پاس تو ہو گیا۔ اب سزا کا مرحلہ تھا۔ سب فیل شدگان کو سزا ہو رہی تھی۔ استادِ محترم لڑکوں سے نمبر پوچھتے اور حسب ِ کارکردگی کسی کو دو ڈنڈے تو کسی کو تین لگاتے جا رہے تھے۔ جب مجھ سے نمبر پوچھے تو میں نے انتہائی فاخرانہ انداز میں کہا کہ 13۔ مجھے اطمینان تھا کہ مجھے سزا نہیں ہوگی کیونکہ 9 نمبر سے کم والوں کو سزا ہو رہی تھی۔ میرے تو 9 نمبروں سے بھی 4 نمبر زیادہ تھے۔ مجھے بھی چھڑی کے اشارے سے کھڑا ہونے کو کہا گیا اور مجھ پر بھی ڈنڈے برسنے لگے۔ ایک۔ دو ۔ تین۔ چار۔ پانچ۔ چھ۔
یہ میری زندگی کا پہلا (اور الحمد للہ آخری) موقع تھا جب مجھے 6 ڈنڈے لگے تھے۔ اس سے قبل پورے تعلیمی کیریئر میں مجھے صرف ایک بار چار ڈنڈے لگے تھے۔ اور اب چھ۔ اور وہ بھی جبکہ میں پاس تھا۔
کئی دنوں تک میرے ہاتھوں میں اُن ڈنڈوں کی تکلیف رہی بالخصوص جب میں گھاس کاٹنے کے لیے درانتی پکڑتا تھا تو کافی درد ہوتا تھا۔ مجھے اپنی غلطی کا بھی احساس ہو رہا تھا کہ اگر لیکچرز کو میں گھر پر دہراتا تو آج مجھے یہ دن نہ دیکھنے پڑتے۔ میں شدت سے اگلے ٹیسٹ کا انتظار کرنے لگا۔ اگلا ٹیسٹ ہوا تو میرے 30 میں سے 30 نمبر تھے۔ استادِ محترم نے میرے اُس پرچے پر لکھا تھا:
A nod for the wise and a rod for the fool.
اُس وقت تو مجھے اس فقرے کی سمجھ نہ آئی بہر حال بہت دیر سے معلوم ہوا کہ اُس کا مطلب تھا:
”عقل مند کے لیے اشارہ ہی کافی ہوتا ہے۔“
میرے استادِ محترم کی سادگی دیکھیے کہ چھ ڈنڈوں کو ”اشارہ“ قرار دیا۔ اگر اشارے کے بجائے سزا کا آپشن استعمال کرتے تو پھر میرا کیا بنتا۔ خیر یہ تو ایک جملہء معترضہ ہے۔ بعد ازاں اُس ٹیچر کو ہم نے اپنا آئیڈیل جانا اور اپنی ٹیچنگ لائف میں اُنھی کے دیے سبق کو کہ لائق طلبا کو زیادہ سزا ملنی چاہیئے‘ ہم نے بھی اپنایا اور اِس طرح کئی ذہین نوجوانوں کو ضائع ہونے سے بچایا۔
میرے اُس آئیڈیل ٹیچر کا نام سر محمد اقبال خان آف موسیٰ خیل ہے۔ حال ہی میں گورنمنٹ ہائی سکول پائی خیل ضلع میانوالی سے ریٹائرڈ ہوئے ہیں اور اِن دنوں مسلم کالونی میانوالی میں رہائش پذیر ہیں.
