
میرا میانوالی
میں گورنمنٹ کالج عیسی خیل سے ٹرانسفر ہو کر گورنمنٹ کالج میانوالی آیا تو کچھ دن بعد ڈاکٹر اجمل نیازی نے میرے اعزاز میں ایک استقبالیہ تقریب کا اہتمام کیا۔ اس تقریب میں مجھ سے ٹیچرز اور سٹوڈنٹس نے بہت سے سوالات پوچھے۔
فلاسفی کے پروفیسر نذیر احمد خان نے کہا ملک صاحب، سنا ہے عشق میں ناکامی نے عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی کی آواز کو وہ سوز بخشا جس کی بنا پر وہ مقبول ترین گلوکار بن گیا۔ وہ کیا چکر تھا؟
میں نے کہا بھائی صاحب، آپ نے کبھی عشق نہیں کیا؟
شرما کر بولے ہاں کیا تو تھا۔ میں نے کہا پھر آپ عطا اللہ عیسی خیلوی کیوں نہیں بنے؟
اگر عشق سے عطا اللہ عیسی خیلوی بنتا تو پاکستان کا ہردوسرا فرد عیسی خیلوی ہوتا۔ اصل بات یہ ہے کہ لالا عیسی خیلوی کو پر سوز آواز اللہ نے عطا کی تھی۔ اپنی اس خداداد خوبی کو پہچان کر لالا نےاس پر محنت کی، درد انگیز شاعری نے اس کی آواز کو اور زیادہ مؤثر بنا دیا اور وہ اپنے وقت کا مقبول ترین گلوکار بن گیا۔ لالاخود بھی کہتا ہے کہ یہ سب کچھ صرف اللہ کی عطا ہے۔
اپنا ایک پرانا شعر یاد آگیا:
حسن تخلیق تو کرتا ہے خدا
داد انسان کو دی جاتی ہے
۔۔۔رہے نام اللہ کا ۔۔۔
۔۔۔منور علی ملک ۔۔۔
24/جولائی2025ء
(مصنف کی اجازت سے اُن کی فیس بک وال سے منقول۔ ایڈمن تِریاق)