0

میرا میانوالی، ساون کی بارشیں اور گندم… منور علی ملک

منور علی ملک

میرا میانوالی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بارانی علاقے میں گندم کی فصل کے لیے ساون کی بارشیں بہت اہم ہوتی تھیں۔ آبپاشی کا کوئی اور ذریعہ تو تھا نہیں ۔ اس لیے ساون کی بارشوں کے پانی کی نمی کو زیر زمین محفوظ کر کے اسی میں گندم کاشت کی جاتی تھی ۔ زمین کی سطح کے قریب زیر زمین نمی کو وتر کہتے تھے۔ وتر کو دو تین ماہ کے لیے اس طرح محفوظ کیا جاتا تھا کہ یہ اکتوبر نومبر میں گندم کی فصل کی کاشت تک برقرار رہتا تھا۔

ساون کی بارشوں سے پورا پورا فایدہ حاصل کرنے کے لیے بارش شروع ہوتے ہی کسان اپنے اوزار لے کر کھیتوں کا رخ کرتے تھے۔ تیز بارش سے بچنے کے لیے سر پر خالی بوری لپیٹ لیتے تھے۔

وتر کو محفوظ کرنے کے لیے ان کی اپنی سائنس تھی ۔ ساون کا مہینہ شروع ہونے سے پہلے کھیتوں میں ہل چلا کر زمین کی سطح کو نرم کر دیتے تھے تاکہ یہ زیادہ پانی جذب کر سکے۔ بارشوں کے بعد لکڑی کے تختے سے زمین کو ہموار کر دیتے تھے ۔ اس عمل کو پھلا مارنا کہتے تھے ۔ اس سے زیر زمین نمی محفوظ ہو جاتی تھی ۔

سال بھر تمام ضروریات زندگی گندم بیچ کر خریدی جاتی تھیں، اس لیے زیادہ سے زیادہ گندم پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔ کھاد وغیرہ تو اس زمانے میں ہوتی نہیں تھی صرف پانی ہی کی مدد سے زیادہ فصل حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔

گذر گیا وہ زمانہ، چلے گئے وہ لوگ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔ منور علی ملک ۔۔۔۔۔۔

7/جولائی 2025ء

مصنف کی اجازت سے اُن کی فیس بک وال سے منقول

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

میرا میانوالی، ساون کی بارشیں اور گندم… منور علی ملک“ ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں