0

میرا نام ڈاکٹر کاشف ہے… سلسلہء خود نوشت؛ میں تو جیسے پتھر تھا!

Mujeeb Niazi

ہماری والدہ فروری 2006ء سے اپنی وفات‘ 25 فروری 2012ء تک تقریباً بستر پر رہیں۔ یہ سارا عرصہ انھوں نے گردوں کی مشینی صفائی (ڈائیلاسس) اور علاج میں گزارا۔ مائیں تو پھر مائیں ہوتی ہیں۔ جب معلوم ہوجائے کہ اُن کی رفاقت اب آپ کے ساتھ ختم ہونے والی ہے اور آپ کو یہ احساس بھی ہو کہ ابھی آپ نے اپنی والدہ کے آرام و سکون کے لیے کچھ نہیں کیا اور اب وہ دن آنے لگے ہیں جن میں آپ اپنے والدین کے لیے کچھ کرنے کے قابل ہو رہے ہیں تو پھر یقیناً ڈاکٹروں کا یہ کہنا کہ اب وہ آپ کے پاس چند ماہ کی مہمان ہیں‘ بہت زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے۔
اپریل 2006ء میں کئی ایسے دن آئے جب انھیں آپریشن تھیٹر لے جایا گیا لیکن عین موقع پر آپریشن کا آپشن استعمال کرنے کے بجائے عارضی علاج کا راستہ اپنایا گیا۔ اس کے بعد ہماری والدہ کی بیماری کے چھ سالوں میں کئی ایسے لمحے آئے جب یہ لگا کہ یہ عظیم رشتہ ہم سے روٹھنے لگا ہے۔ آج ہم آپ کو 20 اور 21 دسمبر 2009ء کی درمیانی رات کے ایک ایسے ہی لمحے کا احوال سناتے ہیں۔
20 دسمبر کو عصر کے وقت عبید نور ہسپتال میانوالی میں ہماری والدہ کا ڈائیلاسس جاری تھا کہ اچانک اُن کی طبیعت بگڑ گئی اور وہ کومے میں چلی گئیں۔ انھیں ڈائیلاسس روم سے ایمر جنسی منتقل کر دیا گیا۔ ہماری ایمر جینسی روم تک رسائی روک دی گئی اور ہم ایمر جینسی کے باہر گیلری میں انتظار کرنے لگے۔ ایمر جینسی دو کمروں پر مشتمل تھی اور اُن دو کمروں کے درمیان میں سٹاف کا چھوٹا سا لاﺅنج تھا اور اُس کے بالکل سامنے ایمر جینسی کا مرکزی دروازہ تھا۔ گیلری کی کرسیاں ایمر جینسی کے مرکزی دروازے کے بالکل سامنے تھیں۔ دروازہ ایلومینیم سے بنا تھا اور اُس کے نچلے حصے پر شیشہ تھا۔ گیلری کی اُن کرسیوں پر بیٹھے ہوئے آپ کو ایمر جینسی کا لاﺅنج مکمل نظر نہیں آتا تھا تاہم دروازے کے نچلے حصے پر لگے شیشے سے سٹاف کی نقل و حرکت کے وقت اُن کے پاﺅں نظر آتے تھے۔ ہماری والدہ ایمر جینسی کے شرقی روم میں تھیں۔ جیسے ہی سٹاف کا کوئی فرد شرقی روم کی طرف جاتا ہوا نظر آتا ہمارا دل بیٹھ جاتا۔
رات ساڑھے نو بجے کے قریب میرے پاس ایک ڈاکٹر آئے اور مجھ سے مخاطب ہوئے: ”میرا نام ڈاکٹر کاشف ہے۔ اِن خاتون کے اگر کوئی بیٹے کسی دوسرے شہر میں ہیں تو انھیں بلوا لیں۔ ہمارے پاس صرف تین گھنٹے ہیں۔ اگر آپ کی والدہ ان تین گھنٹوں میں ہوش میں آگئیں تو ٹھیک ورنہ ان کی موت یقینی ہے۔ “میں نے کہا ڈاکٹر صاحب اِن کے تینوں بیٹے الحمدللہ اِدھر ہی ہیں بس آپ کسی طرح سے ہماری والدہ کو ہوش میں لانے کو یقینی بنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے طور پر انتہائی کوششیں کر رہے ہیں لیکن ہوگا وہی جو اللہ چاہے گا۔ یہ باتیں کر کے ڈاکٹر صاحب چلے گئے جبکہ میں گیلری کے اختتام پر مغرب میں ایک کھڑکی کے ساتھ کھڑا ہوکر اُن لمحوں کو سوچنے لگا جو ہمیں والدہ کے بغیر گزارنے پڑ سکتے تھے۔ اُن لمحوں میں رمضان اور عیدین کی مبارک گھڑیاں بھی تھیں اور شام کا کھانا بھی تھا جو ہم بچپن سے پورے اہتمام کے ساتھ والدہ کے ساتھ بیٹھ کر کھاتے آ رہے تھے۔ وہ رات کی گپ شپ۔ وہ ہنسی مذاق۔ وہ نفاست اور صفائی کے ساتھ ساتھ لذیذ کھانے۔ وہ ہر وقت کی ڈانٹ ڈپٹ۔ الغرض والدہ سے جڑا زندگی کا ہر لمحہ یاد آنے لگا۔ اور بھلا زندگی کا کوئی لمحہ ماں جیسی ہستی کے بغیر بھی گزرتا ہے؟ گویا ماں کے بغیر زندگی کے ہر لمحے کا تصور ہی بھیانک لگنے لگا۔ انھی خیالات میں غلطاں نہ جانے کب اور کیسے ضبط کا بند ٹوٹا اور میں رونے لگا۔ مجھے کچھ پتا نہ تھا۔ مجھے اُس وقت اِحساس ہوا کہ میں رو رہا ہوں جب میرے ایک دوست عبدالجبار مجاہد نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ وہ میری والدہ کی بیماری کا سن کر حال احوال پوچھنے آئے تھے۔ انھوں نے میری ہمت بندھائی اور میری والدہ کے لیے خصوصی دعائیں کرنے کی یقین دہانی کروا کر روانہ ہوئے۔
عبدالجبار مجاہد
رات کے بارہ بجے میرے بڑے بھائی ایمر جینسی پہنچے اور مجھے کہا کہ آپ کمرے میں چلے جائیں۔ میں کمرے میں جوتے اُتارے بغیر بیڈ سے پاﺅں نیچے لٹکا کر لیٹ گیا۔ پھر وہی سوچیں پھر وہی خدشات اور پھر وہی پُر نم آنکھیں۔ انھی کیفیات میں گم نہ جانے کب میری آنکھ لگ گئی۔ اچانک دروازے پر دستک ہوئی۔ دل گھبرا گیا۔ وقت دیکھا تو رات کے ڈھائی بجے تھے۔ دماغ نے فوراً فتویٰ سنا دیا کہ جس خبر کو میں نہیں سننا چاہتا تھا گویا وہی خبر دستک دے رہی ہے۔ جس بھائی نے رات بارہ بجے کے بعد خود ایمر جینسی میں ڈیوٹی دینا شروع کی وہ قطعاً مجھے رات کے ڈھائی بجے بلانے نہیں آ سکتا۔ بس ایک ہی ممکنہ صورت مجھے نظر آرہی تھی اور وہ تھی والدہ کی موت۔ میرے لیے حقیقت کو سننا چاہے کتنا ہی مشکل اور ناگوار کیوں نہ تھا‘ مجھے بہر حال اب اُس حقیقت کا سامنا تھا۔ لرزاں ہاتھوں، لڑکھڑاتے قدموں اور تیز دھڑکنوں کے ساتھ دروازہ کھولا۔ سامنے میرا بھائی کھڑا تھا۔ اگرچہ وہ بے وقت آیا تھا تاہم اُس کے چہرے کا اطمینان بتا رہا تھا کہ ان شاءاللہ خبر وہ نہیں جس سے میں ڈر رہا تھا۔ بھائی نے خوش خبری سنائی کہ ڈاکٹر کہہ رہے ہیں اب اماں جی کی طبیعت بہت حد تک سنبھل گئی ہے۔ میں نے سوچا کہ آپ کو یہ بھی بتا دوں اور کمرے سے شال بھی اُٹھا لوں کیونکہ مجھے ذرا سردی لگ رہی تھی۔
میری والدہ اِس واقعہ کے بعد دو سال دو ماہ اور پانچ دن زندہ رہیں۔ یہ معجزہ اللہ کے فضل اور عبد الجبار مجاہد جیسے سینکڑوں خیر خواہوں کی پُرخلوص دعاﺅں کا نتیجہ تھا۔
یہ شرط ہے دستک ہو اگر دستِ یقیں سے
در چھوڑ، کہ دیوار بھی کھل جائے کہیں سے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں